ایندھن____________احمد نعیم

__________وہ کون تھا……..!

کیا تھا…….!

مجھے کچھ پتا نہ تھا -!

مجھے تو بس وہ آوازوں کا سوداگر لگ رہا تھا – میرے پاس بیچنے کو کچھ بچا تو تھا نہیں……..! سو

میں نے سوچا آواز ہی بیچی جائے – مگر میری تو آواز بھی نہیں نکل رہی تھی –

میں نے خود کو اُسکے پاس رہین کرکے کے ایندھن لے لیا – اور اُس بھٹی میں ڈال دیا جو لاشعوری سے ہی میرے پیٹ میں جڑ دی گئی تھی –

میری آواز نکلنے لگی – میں چلایاّ….!

خوب جم کر نعرے بازی کی میرا گلا بیٹھ گیا –

وہ “مجھ سے متاثر ہوا – اور کہنے لگا

” خوب کل مل لینا ”

میرا مقصد پورا نہیں ہوسکا تھا _

مجھے آس تھی تھی آج نہ سہی کل دیوالی ،میں گھر کی طرف بڑھنے لگا میری آواز کے ساتھ میرے قدم بھی بوجھل تھے ،

گھر قریب آنے لگا – مجھے ڈر پیدا ہونے لگا – ماں چلاّے گی بیوی چلاّے گی ،

اتنے …….. میں” گھر”

آگیا _____گھر کے اندر داخل ہوا تو ،”اندر” کے لوگ

بپھرے ہوئے تھے وہ چلاّنا تو چاہ رہے تھے مگر چلاّ نہیں پارہے تھے ،

شاید انھیں بھی ایندھن کی ضرورت تھی ___⚫

_____________

تحریر: احمد نعیم،انڈیا

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

Advertisements