سِگرٹ کو کہاں سے سُلگائیں ؟ ___________از ضراب حیدر

مترجم:سدرتہ المنتہی

دریائے سندھ ٹھٹہ کی بیرونی سرزمین کی تہہ پر ریت دھکیلتا ہوا پشت پر پھینکتا چنگھاڑتا ہوا سمندر کی اور جارہا تھا۔ سمندر کی لہروں سے برابر کھیلتی ٹھٹھرتی ہوئی ہوائیں پورے جوش سے ابھرتی ہوئی سفید کالے بادلوں کو شمال کی جانب گھسیٹتی ہوئیں جارہیں تھیں۔
کینجھر کی نیلی لہریں نوری کی قبر کے گول اطراف کو چھونے لگی تھیں٬ ایک کشتی بان٬ موٹر بوٹ کی سی اسپیڈ سے اپنی کشتی کو کینجھر کے سینے کی سطح پر تیراتا ہوا جارہا تھا٬کینجھر کی شوخ اور شریر، پاگل اور بدمست لہریں کشتی کے گذرنے سےاس قدرسطح ابھر کر آگئیں٬ جیسے ایک ہی جست میں کئی ڈولفن مچھلیاں پانی پر چھلانگیں بھرتی ہوئیں٬ اپنا مخصوص ناچ ناچتی ہوئیں ڈولتی ہیں اور اگلے ہی لمحے پانی کی نچلی سطحوں تک اترجاتی ہیں٬ لہریں بھی اپنی طرز کا ناچ ناچتی ہیں۔ نظر کے حصار سنہری جھیل کے پانیوں پر ایک ٹامے کے پھولے ہوئے گھڑے کی پشت پر کوئی سانولے رنگ کا نوجوان تیرتا ہوا کنارے کی سمت جارہا تھا۔ یہ سنہری پانیوں والی جھیل کے ساتھ شرط لگائے ہوئے تیرتا٬ وہ سانولا نوجوان جو یقیناََ ملاح قبیلے سے تعلق رکھتا ہوگا سنہری جھیل کی رنگت اور ٹامے کے برتن کی دمکدار آہنگ کے ساتھ کالے کبوتر کی سی رنگت لئیے ہوئے ، جیسے سونے کی انگوٹھی میں کالے نگینے کا سا روپ لیے ہوئے تھا۔
ٹھٹھ شہرکے گِرد نواع زندگی کی موجودگی کے تمام احساس زندہ تھے٬سوائے سونڈا کےپرانے قبرستان اور مکلی کے ماحول پر جیسے چپ کی چادرتنی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔درگاہیں،مقبرے،گنبد، بھی عمومی طور پر سنسان ہی تھے جو سال کے مخصوص ایام میں ہی چہکتے تھےچہکتے یا پھر مہکتے۔ افراد کی ایک ہی جگہ کثرت سے موجودگی کا احساس ہی تنہائیوں کو چھانٹنے کا سامان کرلیتا تھا۔
فی الوقت تو کسی مقبرے کی چوکھٹ پر کوئی قدم آدم نہ لگا٬ نہ ہی قدموں کی دور سے سنی گئی کوئی چاپ ہی تھی۔ سوائے سلطان ابراھیم بن مرزا عیسیٗ خان بیگ کے مقبرے کے احاطے پر جہاں سے ایک ہی وقت میں دو افراد ہیروئن پی کر نکلے تھے۔ اس کے علاوہ خاموش قبرستان میں قبروں کے سرہانے کی جگہ پر دھرے توانا پتھر اپنے سخت وجود کے بند خول میں ذکر کرتے پائے گئے٬ یا کہ ہوائوں نے ہی محسوس کیا، یا پھر قبروں پر بوجھ کی طرح لدے ہوئے خود انہیں پتھروں نے ہی جب ثوابوں کا کارواں عرش معلی’ کی طرف گامزن کہیں خلائوں کے درمیان ہی مدغم ہوجاتا تھا۔ پتھروں سے مزین مقبروں کے اندر مدفون قبروں کے خدائی ذکر کی گونج کسی زندہ انسان کے کانوں تک نہ پہنچی خال کہ پہنچتی۔ اسی شب مکلی کے ایک مقبرے کے احاطے سے لیکر قبر کے اطراف تک افراد کی موجودگی کی وجہ سے خول چھٹتا ہوا محسوس ہوا، یہ خول جو خاموش تنہائیوں میں نمایاں تھا٬ اور کئی افراد کی چیخ و پکار یا پھر واویلا۔ کہیں کوئی عورت ہی تھی٬خود سے اپنا وجود چھڑانے کی کوشش میں بے خود اور بدحواس عورت٬
”اصحابی چھوڑدو ظالم، اصحابی تو نے تو مارہی دیا قاتل!
چھوڑدو ”
”نہیں چھوڑوں گا میں اس عورت کو۔ ہاں، چاہے تو مجھے مارہی دے”
اگلے پل یہ مردانہ آواز کی پکار تھی جو عورت کے منہ سے نکلی اور یکلخت گونجی٬
”اصحابی میں کوئی معمولی ہستی نہیں ہوں، میرا مقابلہ تمہیں مہنگا پڑے گا” وہ للکاری٬عورت پھر سے مردانہ آواز میں للکاری٬اور کوئی ایک ہی نہیں، کئی عورتیں۔۔ نہ صرف عورتیں بلکہ کچھ مرد بھی جتنے تھے افراد انکا اسی قدر اژدہام مچا ہوا تھا٬ ان میں سے کوئی بھرپور توانا آدمی بھی اصحابی کے مزار کے گرد طواف کرنے لگا تھا٬ تو صحن کے احاطے میں ایک آدمی زنانہ آواز میں اسی احتجاج میں ملوث تھا٬ جیسے یہ جملہ متاثرہ افراد کا پسندیدہ ہوچکا ہو۔
”اصحابی میں اس کونہیں چھوڑوں گی، نہیں کبھی نہیں۔۔”
نفی میں ہلتی گردنوں کے درمیان چیختی آوازوں میں یہی ضد نمایاں تھی اور مزید تو ہوئی کہ صحن میں پھیریاں لگاتی ہوئی عورتوں کے کرتب قلابازیوں کے انداز ہی اور تھے۔ جذباتی طور پراصحابی کے مقبرے کے صحن میں لوٹتی عورتیں اور مرد فرشی ارتعاش کی ضد میں فطری گناہ کرلینے کی اجازت کے خواہاں تھےاور اسی ارتعاش سے جو بنی آدم نے دھرتی کے سینے پر سسکاری بھرتے ہوئے مطالبہ داغ تھا٬ وہی ارتعاش جو اصحابی کے صحن کے مغموم فرش پر افراد کی دھانگا مشتی نے مچا رکھا تھا۔ یہ ایک شور و غوغا٬ یہ ایک احتجاجی ہلہ تھا جو بویا گیا اور فرش نے لرز کر معصوم التجائی نگاہوں سے عرش کے آسمان کو دیکھا اور رو دیا۔
یہ اسی رات کا معمہ تھا۔جب درگاہ کے سرکاری رکھوالے نے انہیں متاثرہ افراد کی فہرست میں نمایاں آسیہ نامی عورت کی جذباتی ضروریات کا مزاق اڑاتے ہوئے ادھورا چھوڑا تھا۔ آسیہ کے پاس شکار ہوئے شکاری کی بے کار بے مدھ کوششوں نے فقط اپنی لذت کی چاشنی چکھ کر آسیہ کی چاہ کی کھڑکیوں کو بغیر کھولے بند ہی رکھا٬ جیسے وہ اپنی طاقتیں کہیں گنوا آیا ہو، جیسے وہ کوئی بے سدھ گدھ کی نما۔۔ یا پھر بے خبر سوتا ہے٬ نہ تو چنگھاڑتا ہوا قہر برپا کردینے والا طوفان تھا٬ نہ پھر اس عورت کے تن من کی کھڑکیوں کو آراستہ کرکے پرسکون کردینے کا سا پرجوش جذبات کا ریلہ تھا٬ نہ ہی ارغونوں اور ترخانوں کی سی ہمت کا بل بوتا تھا۔ وہ تو بس ایک ملازم٬ ایک عام سا بے خبر، بے سدھ اپنی ہی کمزوری محسوس کرگیا تو پھیکا سا مسکرادیا۔ لوگ جس عمل کو گناہ سمجھتے تھے، وہ اس عمل پر پوری طرح نہ اترنے کے گناہ پر شرمندہ تھا٬ تبھی اٹھا۔۔۔اور اپنی راہ لی۔ اور آسیہ۔اسے دل ہی دل میں گالیاں دیتی مزاروں کے درمیان بنی پتھریلی روش پر اپنے بے گناہ و بے لذت قدموں سے چلتی ہوئی مکلی کی حدود سے باہر نکل گئی تھی۔۔
شام کی سرخی نے شاھ بندر سے لیکر چوھڑ جمالی٬ شاھ عقیق اور جلالی بابا کے مقبروں کے اوپر تنی ہوئی آنے والی رات کے مدھم۔ غبار سے کالی پڑتی جارہی تھی۔ یہ وہی رات تھی٬ وہی ساعت جب ہر ایک آدھ گھنٹے کے بعد کراچی سے سڑک پر گزرکر کر آتی سواریوں کے آخری پڑائو کا٬ مرکز شاھ عقیق یا پھر جلالی بابا کے دربار ہی ٹہرے تھے۔ بسوں کی کھڑکیوں سے جھانکتی صورتوں کی آنکھوں کی امید دیدنی تھیں جو سواری کو بریک لگنے کے بعد دروازوں سے اترتے ہوئے مستند ہوگئیں۔ تھکی گزرگاہوں سے گزرے ہوئے بدحواس قدموں نے اٹی ہوئی سرزمین کی مٹی میں لوٹتے ہوئے مقبرے کی اور ٹھانی ہوئی تھی٬ سب سے آخر میں اترتی ہوئی آسیہ بس کے پچھلے گیٹ سے اپنے رتجگوں بھرے پائوں مٹی کی کنکریوں سے لڑتی ہوئی کئی ناکام حسرتوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے اسی ٹولے کے پیچھے ہولی٬ اور گزرتے ہوئے وہاں کے مقیم کالونائیز ہوئے افراد دہشت گردوں غنڈہ گردوں نسواروں اور پان کی پیک سے پر زبانوں کے سرخ منہ والے مکار چہروں کو تکتی ہوئی بازار کے اندر گھس آئی۔ اسکی نظر سب سے پہلے مین گیٹ کے پاس بیٹھے موچی پر پڑی جس کی نظریں دو افغانی نوجوان بچیوں کی البیلی ہنسی پر بظاہر مسکراتے اور درپردہ انکے بے خیال سراپے سے نمایاں نئے آتے جوبن پر ٹہرجاتی تھیں جو بظاہر انکی چپلوں کو سینے کے بہانے اپنے ناکام ہوتے دل کے ادھڑے ٹانکے بھی جوڑتا رہا تھا۔
آسیہ کے بے وچین اور پیاسے وجود کے اندر وہی مخصوص سرسراہٹ پوری طاقت سے ابھر آئی تھی اور کوٹ کی دیواروں تک فضا کے اندر مغموم ہوکر گھل گئی۔ اسے لگ رہا تھا ہر طرف اسکی ناکام حسرتوں کا بین ہے٬ اسکی نامکمل سیرابی کے ماتم کناں ہیں۔ یہ تمام جذبے اور انسے مزین افراد٬ اور وہ درگاہ کے اوپن ائیر مسافر خانے کی طرف انہی افراد کی طرف بڑھ گئی جن میں عورتیں بچے بوڑھے گھر کا سا ماحول جوڑکر بیٹھے ہوئے تھے۔ چارپائیوں اور بستروں کی بولی لگانے والے پٹھان گاہکوں کی تلاش میں پھر رہے تھے٬ تو کچھ سیمینٹ کے بنے تنگ مسافر خانوں کی سہولیات کو گنواتے مسافروں کو ظاہری آرام کا لالچ دینے میں مصروف تھے۔ اور نئے آنے والے بے خبر لوگوں کو اس بہانے قائل کرلیتے کہ کجا کمروں کی بکنگ کے بعد دوبارہ اتنی آرام دہ جگہ مشکل سے مل پائے گی۔ کجا کہ ہر قاتل اپنی طرز کا مقتول بنانے کا ہنر گھڑلیتا تھا٬ یہ عام ذہنوں کی سوچوں میں ابھرتی ہوئیں ترکیبات کا حاصل تھا۔
آسیہ نے شاھ عقیق کے مزار کی حاضری دئیے بغیر ہی جلالی بابا کے مقبرے کے احاطے کا رخ کردیا اور اس کے ساتھ ساتھ ایک درمیانی عمر کی عورت بھی تھی جو اسکی سگی بہن تھی۔ آسیہ کے اختیاری اٹھتے ہوئے قدم ان راستوں کی شناسائی کے گواہ تھے۔
جلالی بابا کا مقبرہ شاھ عقیق کے مقبرے سے کچھ ہی فاصلے پر تھا۔ دونوں درگاہوں کے بیچ گندم کی فصل تھی اور ساتھ میں ہی ایک نالے کے نکلتے ہوئے پانی جس کے اندر برساتی پانی کی آمیزش بھی تھی جو مل کر ایک چھوٹی سی جھیل نما ندی کی شکل اختیار کرگئی تھی۔ جس کی تہہ سے پہلے ہی منڈیکیوں نے سرچھپائے ہوئے تھے۔ اس نالے کے درمیان تین فٹ کی مختصر سی روش تھی جو سیدھی جلالی بابا کی درگاہ کی چوکھٹ پر جاکر رکتی تھی٬ جہاں بھیک مانگنے والے بچوں اور عورتوں اور بوڑھوں کی خاطر خواہ تعداد نے لوگوں کو بوکھلادیا تھا٬ جو انکی طرف گزرتا کنی کتراکر بے دلی سے گزرتا تھا۔
آسیہ کے نزدیک سے گزرتے ہوئے تین نوجوان بھی اسی طرح نظر انداز کرکے آگے گزرگئے تھے٬ جیسے وہ انہیں سائلوں میں شمار ہوتی ہو۔ اس نے بھی سر جھٹک کر آگے جانے والوں کی صف میں تیز نکلنے کے لئے قدموں کی رفتار بڑھائی جس کا توازن مسلسل تھکن کی وجہ سے قائم نہ رکھ سکی اور دھیمی رفتار سے چلتے ہوئے اس کے ذہن نے اسے کہیں بھول بھلیوں میں الجھانا بھی چاہا تھا٬ مگر وہ باوجود تھکن کے اپنے پورے پرکشش وجود کی حیثیت سے باخبراپنی ہی حسرتوں اور ضرورتوں کے درپے کچھ افسردہ ضرور تھی٬ لیکن مایوس ہرگز نہ تھی۔
یہ تین نوجوان جو جگہ کی کمی کے باعث تینوں ایک ہی ساتھ گزرتے ہوئے پورا رقبہ لے چکے تھے٬ اور وہ اسی تنگی کی وجہ سے آگے گزرجانے کی خواہش کو رد کرکے ان ہی کے پیچھے پیچھے چلنے لگی٬ نہ صرف چلنے بلکہ اس کی توجہ بھی ان تینوں کی گفتگو پر مرکوز تھی۔ اور ویسے بھی ایک عرصے سے وہ اس خطے کے بزرگوں کے مزاروں کی حاضری کے درمیان مسافرین اور علاقائی لوگوں کی زبانوں کی طرز و طور اور انداز و اطوار نہ صرف بھانپنے لگی بلکہ کافی حد تک سمجھنے بھی لگی تھی۔ ان تین نوجوانوں میں سے ایک مسعود نامک نوجوان اپنے دوستوں کو بتارہا تھا کہ وہ بچپن سے ہی اپنے والدین کے ہمراہ اس مقبرے پر حاضری دینے آتا تھا۔ اور اس جھیل میں تارکا کنڈھا ڈال کر دیگر بچوں کے ساتھ چھوٹی چھوٹی مچھلیاں پکڑتا تھا۔
ساحر جو ایک کھاتے پیتے گھر کا سیر سپاٹے کرنے والا خوش طبع سا نوجوان تھا اور تینوں کے گروپ میں قدر جاذب نظر اور تازہ دم نظر آرہا تھا٬ مسعود کو آنکھ مار کر پوچھنے لگا٬
”تو اب کس کے لئے آتے ہو؟”
”اب۔۔” مسعود ایک لمحے کے لئے سوچ میں پڑگیا تھا
”اب بھی جلالی بابا بلاتے ہیں۔” اسے اگلے لمحے ہی جواب سوجھا
”کیونکہ یہاں جلالی بابا جنات کے غلبے میں جکڑی ہوئیں اورزندگی کے تالاب میں تڑپتی ہوئیں بے چین مچھلیاں مجھے عنایت کرتے ہیں٬ اور میں ان جنات کے غلبے میں جکڑی ہوئیں عورتوں کے پاگل جنات کے ساتھ بڑا ٹھیک ٹھاک سلوک کرتا ہوں۔” تیسرے ہی لمحے مسعود کا لہجہ معنی خیز بھی تھا اور برابر شوخ بھی٬
”اور اس تالاب میں مچلتی ہوئی وہ مچھلیاں پھنسانے کا اپنا ہی ایک مزا ہے٬ جو بار بار ہاتھوں سے پھسل تو جاتی ہیں مگر نکل نہیں پاتی، مرنے سے بچ جاتی ہیں” مسعود کی بات پر ایک قہقہہ ساحر کا لگا اور ایک ساتھ والے کا پیچھے آتی آسیہ کے چہرے پر ایک معنی خیز مسکراہٹ ابھرآئی۔
”سنا ہے یار کہ جلالی بابا اپنے نزدیک کسی بھی مردے کو دفن کرنے نہیں دیتا اگر کوئی دفنا بھی دے تو اگلے ہی روز مردہ قبر سے باہر پڑا ہوا ملتا ہے٬ یا پھر کسی درخت کی اوٹ میں پھنکاوایا ہوا، البتہ قبر خالی رہ جاتی ہے۔” تیسرے کو تشویش ہوئی اور دوسرے مسعود نے ہلکا سا قہقہہ لگایاعجیب پراسرار قہقہہ تھا٬
”میں نے بھی یہی سنا ہے٬ مگر ساحر دیکھو تو بھلا زندہ لوگوں پر تو کوئی اعتراض ہی نہیں جلالی بابا کو اور مردہ بھلا کسی کو کیا تکلیف دیتا ہوگا۔” ساحر اسکی بات پر ترحم سے مسکرایا٬
”بالکل ہی پاگل ہو تم تو مسعود ذرا عقل نہیں تم میں۔”
”بھئی اب جلالی بابا کوئی ہر وقت ادھر ہی تھوڑاہی پائے جاتے ہیں٬ مجھے تولگتا ہے کہ انہیں اپنی قبر چھوڑکر گئے ہوئے ایک عرصہ ہوچکا ہے٬ جنات سمیت لوگوں سے بھی پناہ مانگتے ہونگے۔” مسعود نے ساحر کی بات پر مسکراہٹ تو پھینکی مگر شرارتاگویا ہوا۔
”اچھا تو پھر جنات میں جکڑے لوگوں کی حاضری کون لگواتا ہے، بھلاکون انہیں بیدار کرکے بھاگ جانے کی تلقین کرتا ہوگا؟ کون انہیں کڑوی سزائیں دیتا ہوگا جس پر وہ اس قدر آہ و زاری پیٹتے ہیں٬ اب زرا ملاحظہ کرنا کہ اندر متاثرہ لوگوں کا کیا حال ہوگا اور ان پر جوتا برسائی ہورہی ہوگی چیخیں نہیں رکتیں لوگوں کی منتیں کرتے رہ جاتے ہیں۔”
”ارے بھئی مسعود یہ سارے کام افراد میں چھپا جلالی بابا خود کرلیتا ہوگا۔” شہزاد جو اتنی دیر سے خاموشی سے ان دونوں کو سن رہا تھا ساحر کی بات کی ہمایت میں ہنس پڑا٬ مگر وہ مسعود ہی کیا جو باز آجائے٬ اور ساحر سے سوال نہ کرے٬
”اچھا یہ تو بتائو ساحر، کہ لوگوں کو اپنے اندر کسی جلالی بابا کا قیام کیوں کرنا پڑجاتا ہے۔” ساحر نے یکلخت ہی مسعود کی بات پر اسے دیکھا مگر دوسرے ہی لمحے اپنی پشت پر نگاہوں کی تپش محسوس کرتے ہوئے مڑکر دیکھا تو جیسے اسے آسیہ کی آنکھوں میں کئی سوالوں کے جواب یکدم ہی مل گئے تھے٬
”شاید اپنے وجود کی ہمایت میں اور وجود کی ضروریات کی ہمایت میں لوگ ایسا کرتے ہونگے، اپنی ذات کی self Expression خود کو اظہارنے کی خاطر ہی۔۔۔” مسعود کو اب مزا آنے لگا تھا ساحر کی طرف شوخ انداز میں دیکھ کر بولا،
”ساحر! لوگ self Expression کی طلب کے لئے ایسی جگہوں پر ہی کیوں آتے ہیں؟” ساحر پہلی بار اسکی بات پر ایک لمبی سانس بھرکر سر جھٹک کر آگے بڑھا تھا٬ مسعود نے اسکی ٹال مٹول کو اعتراض میں نہ لاکر پھر سے اسے مخاطب کیا۔
”بتائو نا ساحر! میری بات کا جواب تو دو” اس کے لہجے میں تقرار تھی٬
”جانے دو اب مسعود! خود تو جیسے جانتے ہی نہیں ہو، جو سوال پوچھ رہے ہو، اس کا جواب مجھ سے پہلے تمہیں خود معلوم ہے۔”
”ارے نہیں یار! میں واقعی ذرا بے خبر سا بندہ ہوں تم ہی بتائو کہ کیا خاصیت ہے؟” وہ باتیں کرتے ہوئے اندر کے احاطے میں داخل ہوچکے تھے٬
”اچھا بھئی میرے بے خبرے! صبح دوں گا تمہیں اس بات کا جواب۔”
ساحر نے یہ کہتے ہوئے پیچھے مڑکر دیکھا تو جیسے آسیہ کی مبھم مسکراہٹ میں کوئی راز بھانپ لیا تھا٬اور یہی لمحہ تھا جب فی الفور ایک جھٹکے کے تحت ہی آسیہ کے منہ سے ایک کراہ بھری چیخ بلند ہوئی اور وہ ہذیانی انداز میں ان تینوں کو دھکیل کراس نے دیوانہ وار مقبرے کے احاطے کی جانب دوڑ لگادی تھی۔ اس کا اچانک ہذیان دیکھ کر ساحر لمحے کے لئے بوکھلا گیا تھا،
”اب اسے کیا ہوگیا؟”
”ذہن میں موجود جلالی بابا کی حاضری ہوگئی۔” اس بار شہزاد کہتے ہوئے مسکرادیا تو وہ دونوں تائیدی انداز میں ہنس پڑے۔
آسیہ مقبرے کے اندر نہیں گئی تھی البتہ مقبرے کی دیواروں میں چاروں جانب جو کھڑکیاں بنائی گئی تھیں ان میں سے ایک کھڑکی کی سلاخوں کو وہ مضبوطی سے پکڑ کر کھڑی ہوگئی اور اس پر صدمے کی سی کیفیت دکھنے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے اگلے چند لمحوں میں اسکی آنکھوں کی پتلیاں رنگ بدلنے لگیں اور وہ اپنی گردن کو دائیں بائیں گھماتے ہوئے مکمل طور پر ہذیان میں داخل ہوتے ہوئے چیخ و پکار کرنے لگی٬
”او جلالی بابا!جلا۔۔۔۔ للا۔۔۔لی۔۔او جھوٹے۔۔او فریبی دغاباز جلالی۔۔۔۔! تو نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا۔۔نہیں کیا۔” اس کا سر تیزی سے نفی میں ہلنے لگا تھا اور دیکھتے دیکھتے وہ مقبرے کے چبوترے پر چکر کاٹنے لگی اس کی دیکھا دیکھی باقی عورتوں نے بھی دیوانہ وار یہ طرز عمل دہرانا شروع کردیا تھا۔ تیز تیز بھاگتی ہوئیں بھاگتے ہوئے ٹہرتیں۔۔ صدماتی کیفیت میں گھرجاتیں اور پھر یکلخت ہی انکی چیخ و پکار اور آہ بکا فرش کے پر بنے مقبرے کی چھت کا عرش ہلادیتیں تھیں۔
”او جلالی، تو نے ماردیا! بے درد اتنا نہ ستائو۔ او ظالما، اتنا تو جلال نہ دکھائو، قہر نہ کرو۔” آہ فغاں کے اندر التجائی آہ بکا ڈوبنے،چڑھنے اور کراہنے کا عمل تا دیر رہتا تھا٬ پاگل پن کے عروج کو چھونے والے عوامل جاگ اٹھتےدیواروں اور کھڑکیوں سے سر ٹکراتی ہوئیں عورتوں نے فرش کے چبوترے پر ایک قہر بپا کر ڈالا تھا۔ یہ دہشت ناک منظر ماحول کے خوف کو جہاں دوبالا کرتا تھا۔ وہاں زائرین تماشائیوں کو ایک خاص قسم کی تفریح مہیا ہوجاتی تھی۔ اور ان متاثرہ عورتوں میں آسیہ کا پاگل پن کچھ زیادہ ہی جان لیوا دکھ رہا تھا وہ پھر سے کراہنے لگی تھی۔ اپنے دونوں ہاتھ ناف کی جگہ سے کچھ نیچے رکھ کر وہی کراہ دہرانے لگی٬اور فضا میں٬
”او جلالی۔۔چھوڑدو جلالی ماردیا جلالی۔۔توڑدیا جلالی٬ابے او ظالم جلالی” جیسے فقرے گردش کرنے لگے تھے٬ جن سے چبوترے کا فرش بھی جیسے غصے میں ہولناک دکھنے لگا تھا٬ ہر جگہ ایک جلال اور ہیبت کی سی عبرت ناک صورتحال چھائی ہوئی تھی٬ اور اسی دوران آتش نے زور پکڑا تو آسیہ نے دیکھتے ہی دیکھتے خود کو پیٹنا شروع کردیا تھا۔ اس کے بے اختیاری میں بال کھل گئے تھے٬اور وہ پاگل پن کی ایک مکمل تصویر لگنے لگی تھی۔ ساحر نے بغور اسکی جانب دیکھا اور سوچنے لگا۔
”کس قدر دلیرانہ انداز ہے۔۔self expression کا، خود اپنی ذات کو ازیت دینا sadist اس قدر ازیت پسندی بھی کس قدر بڑی دلیری کی ضامن ہوتی ہے۔” آسیہ نے پھر سے دیوانہ وار چکر کاٹنے والا عمل دہرانا شروع کردیا تھا اور ساحر اسے دیکھتا ہی رہا تھا۔ مسعود نے ساحر کو کہنی ماری تھی،
”یہ دیکھ مرغا۔۔” ساحر شہزاد اور مسعود کی توجہ مقبرے کے احاطے میں جلالی کے مزار کی چاردیواری کے دروازے کے عین سامنے بیٹھا مرغ کی سی آواز نکال کر بازو مرغے کے پروں کی طرح بغلوں میں مارنے پھڑپھڑانے لگا تھا۔
”کیا کمال تھیٹر ہے لوگوں کے ساتھ جانور بھی اپنی حیثیت سمیت موجود ہیں حد ہوگئی معلوم پڑتا ہے کہ مرغا اگلے جنم میں کوئی کمال کا مسخری ہوا کرتا ہوگا۔”
مگر ساحر کی توجہ تو بارہا آسیہ کی طرف پلٹ جاتی تھی وہ ابھی تک اپنے مخصوص کرتب کی کلابازیاں کھاتے ہوئے مصروف عمل تھی، اسکی دیکھا دیکھی دوسری عورتوں نے بھی میدان گرما رکھا تھا۔ عورتوں اور مردوں کے یہ انداز و اطوار درد بھرے سوز اور کراہیں، ماحول اور افراد میں خاصی گرماگرمی تھی۔
ساحر کو اچانک ہی کسی نئی فکر نے گھیر لیا کہ اسے لگا یہ ماتم دنیا کے تمام مردوں کی نامردی (Mental importance) ذھنی نامردی کے سبب وجود میں آرہا ہے٬
”مسعود یار۔۔یہ کیسا ظلم ہے کس قسم کا واہیات تماشا لگا ہوا ہے٬ میں تو ذہنی طور پر مزید ڈپریسڈ ہوتا جارہا ہوں۔” وہ مسعود کی طرف دیکھتے بے چارگی سے کہنے لگا تھا٬
”ارے رہنے دے یار! بیٹھ جا، بیٹھ کر تماشا دیکھ۔ چاند کی چودھویں رات میں جنات کو بھرپور مستی چڑھتی ہے۔”
”کون کہتا ہے کہ جنات کو چودھویں چاند کی مستی چڑھتی ہے؟” ساحر نے مسعود کی طرف بیزاری سے دیکھتے کہا۔
”ارے بھئی میں کیا کہوں گا۔ درگاہ کے مجاور نے بتایا ہے۔”
”حد ہوگئی یعنی کہ۔۔” ساحر کو غصہ آگیا
”چاندکی چودھویں کو جنات کو نہیں عورتوں اور سانپوں اور سمندروں کو مستی چڑھتی ہوگی۔” شہزاد جو اکثر کہ نہیں بولتا تھا مگر جب بھی بولتا سوچ سمجھ کر بولتا تھا٬
”رہنے دو یار! یہ سارا مرض ہسٹیریا ئی ہے٬ھسٹیریا کی بھی کچھ مختلف قسمیں ہیں۔ جن کی مختلف حالات میں مختلف قسم کی تکلیفیں اور کیفیات ہیں۔ زیادہ تر کا خیال ہے کہ یہ مرض صرف عورتوں کے اندر پایا جاتا ہے٬ جس کا سبب عضوو خاص کی خرابی ہے جو ھسٹیریا کا سبب بنتی ہے۔ مگر میرا خیال ہے کہ ھسٹیریا کا مرض مردوں میں بھی اسی طرح جنم لیتا ہے۔ جنہیں پہلے اپنے پیٹ کے اندر کوئی گولہ سا ابھرتا ہوا محسوس ہوتا ہے٬ اور پھر اسکی کڑواہٹ گلے کی طرف بڑھنے لگتی ہے٬ اور فورا ہی محسوس ہوتا ہے کہ کوئی انہیں پھانسی دے رہا ہے۔ یہ گولے کبھی چھوٹے مائنر تو کبھی میجر سطح پر چلے جاتے ہیں٬ اسی کیفیت میں مریض پر پاگل پن کے دورے پڑنے لگتے ہیں۔ خاص طور پر اکثر عورتیں بچہ پیدا کرنے کے بعد کمزور ہوجاتی ہیں۔ اور پھر انکے اندر ایک شدید قسم کی حرکت محسوس ہونے لگتی ہے جس کی مکمل سیرابی نہ ہونے کی صورت میں بھی یہ بیماری جنم لینے لگتی ہے۔ اس کے علاوہ اکثر بالغ ہوتے ہوئے بچوں میں لڑکیوں کے اندر جنسی خود سپردگی کے جذبات ابھرنے لگ جاتے ہیں جس کی سیرابی نہ ہونے کی صورت وہ لڑکیاں اسی طرح لڑکے بھی کئی چھوٹی موٹی مصنوعی اشیاء کا سہارا لیتے ہوئے مصنوعی خود ساختہ تعلق سے خود کو کچھ فرحت دینے لگتے ہیں۔ جن میں جانوروں کا سہارا لینے والے لڑکوں کے عوامل کو (zoophile) اور عورتوں کے کچھ طریقے کار کے ذریعے نفسی خواہش کی تسکین کے لئے (onionism)ا جاتا ہے٬ اور یہ طرز عمل جنسی فرسٹریشن کے شکار افراد میں بلوغت کے ساتھ ہی بڑھ چکا ہوتا ہے۔ جس میں ناآسودہ مردوں کے اندر (Masturbation)کرنےکا عمل بڑھ جاتا ہے۔ جسے کچھ ڈاکٹرز اور حکیم درست بھی قرار دیتے ہیں۔ مگر دونوں طرف سے یہ عوامل خطرناک ہی ہوتے ہیں٬ ادھوری خواہش کے ہاتھوں مجبور عورتیں کبھی کنوارے پن میں ہی بچہ ایکسپیکٹ کرجاتی ہیں اور بظاہر کنوارے پن کی وجہ سے کسی سےذکر بھی نہیں کرپاتیں۔اس کے علاوہ شریف پردہ دار خاندانوں کی بچیاں اس خواہش کو دبانے کی ہر ممکن کوشش میں کسی روگ میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔ جن میں سر فہرست نیند میں بولنا (Delirium) یا پھر ھذیان (Hallucination) وھم اور اضافی خواہشات (Chorea) کپکپی یا مرگھی(Nymphomania) کے دورے پڑنے لگتے ہیں نفسانی خواہش کی زیادتی میں بڑھنے لگتے ہیں٬ جس مریض کو یا تو (Nymphomaniac) یا پھر(Insanity Melancholia) پاگل پنے یا جنونی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ مسئلہ فقط اتنا ہے کہ ہمارے ہاں سیکس کو ضرورت نہیں بلکہ گناھ سمجھا جاتا ہے ٬سیکس ایجوکیشن اور انفارمیشن نہ ہونے کی صورت میں کئی پیچیدگیاں ابھرنے لگتی ہیں۔”
شہزاد اپنی تفصیلی بات مکمل کرکے چپ ہوا توساحر کی توجہ پھرسے آسیہ کی طرف اٹھنے لگی تھی اس نے سوچا شاید آسیہ بھی ان میں سے کسی ایک بیماری کا شکار ہوگی۔ اور اس نے پہلی نظر اس پر ترحم بھری ڈالی تو دوسری نگاہ میں آسیہ کے جن کو آنکھ مارنے لگا ٬آسیہ نے اسی کیفیت میں خود کو پیٹنا شروع کردیا تھا۔ جن کروٹیں بدلتا چبوترے پر لوٹتا ہوا ہانپتا کانپتا ساحر سے ٹکراکر آگے بڑھتے کچھ بڑبڑایا اور احاطے کا طواف کرنے لگا تھا،
”ساحر ادھر تو دیکھ، مرغا اب پشتو بول رہا ہے”
”ہاں بھئی جلالی بابا سے اب پشتو میں Conversation کرنے لگے ہیں۔” ساحر نے آسیہ سے نظر ہٹائے بغیر ہی کہتے ہوئے فی الفور ایک قہقہہ مارا تھا۔
”جلالی بابا کون سے آرگیومینٹس کریں گے بھئی، انکا جلال تو فقط مردوں پر ہی برستا ہے٬ جنات پڑے لوگوں پر نہیں۔” ساحر کے لہجے میں یکلخت تلخی ابھری تھی۔
”ارے بھئی بدعتی، منکر مت بول ایسا مت بول۔ جلالی بابا کو اگر جلال آگیا تو تیرا بھی صفایا کردے گا۔” مسعود نے اسے دھمکاتے ہوئے کہا،
”پہلے اس مرغے کا تو صفایا ہو، جو پشتو میں بابا جی کو گالیاں بک رہا ہے، پھر میرا بھی ہوجائے تو خیر ہے۔” وہ سر جھٹک کر ہنسا تھا۔
”توبہ ہے توبہ، کبھی نہ کوئی ولی ہو، نہ کوئی بزرگ بنے، لوگ جیتے جی تو نہیں بخشتے مگر مرنے کے بعد بھی جان نہیں چھوڑتے، قبر میں تو سکون سے سونے دیں۔”
شہزاد نے کف افسوس ملا اور مسعود دوبارہ مرغا بنے آدمی کو دیکھتے حظ لینے لگا٬
”ارے دیکھ لو اب جب پشتو کسی نے نہ سنی تو، پنجابی شروع کردی اور اب اردو میں بولنے لگا ہے۔” مسعود نے ساحر کی توجہ پھر مرغے کی طرف مبزول کروائی تھی
”ابھی رک! ابھی کہاں، ابھی تو مرغا انگریزی بھی بولے گا اور اس کے بعد دیکھنا عربی میں بھی طبع آزمائی کرے گا۔” ساحر مسعود کی بات کے جواب میں کہتے ہنس دیا۔
مقبرے کا دروازہ بند ہورہا تھا۔ آسیہ سمیت تمام عورتیں اپنے اپنے کرتب دکھاکر تھکی ہوئیں نڈھال انداز میں چبوترے پر بیٹھتی گئیں تھیں۔ اور مرغا اپنی شاندار اداکاری کے آخری مراحل میں تھا٬ کسی بوڑھے پریشان حال سے مخاطب ہوتے بولا٬
”بڈھے! تیرا بیٹا صحیح سالم حالت میں تجھے صرف نورانی سرکار کی دربار میں ملے گا۔ وہیں جاکر وہ ان تعویذات سے آزاد ہوپائے گا٬ جو اس پر اپنے ہی رشتے داروں نے تھوپے ہیں۔” بڈھا جو پہلے ہی بیچارگی کے عالم میں عاجز تھامرغے کی بات سن کر اس کے نزدیک آکر دو زانوں بیٹھ گیا،
”فقیر سائیں! میرا بیٹا نورانی پر جاکر ٹھیک ہوجائے گا نا۔۔؟؟”
”ہاں ہوجائے گا۔۔۔۔۔۔ مگر یاد کر وہ اس حال کو تیری وجہ سے پہنچا ہے۔ جہاں چاہتا تھا وہاں تو شادی نہیں کروائی تو نے اسکی، بڑا ہی ظلم کیا ہے تو نے اس پربتا بھلا کیا میں نے کچھ غلط کہا؟”
”نہ فقیر سائیں سولہ آنے سچ کہا۔ پر کیا کرون مجھ سے تو غلطی ہوگئی، اب کیا ہوسکتا ہے۔” بڈھا شرمسار ہوا تھااور دیکھتے ہی دیکھتے مرغے کے نزدیک لوگوں کا مجمعہ جمع ہوچکا تھا اور اب لوگ مرغے سے اپنے مسائل کے حل پوچھنے لگے تھے، مرغا پہنچی ہوئی روح کی طرح سب پر اپنا خود ساختہ علم جھاڑنے لگا اور لوگ بشارتیں سمیٹتے ہوئے جارہے تھے٬ مرغا لوگوں پر بشارتیں وار کر تھکا تو دعا کے لئے ہاتھ اٹھانے لگا٬
”یا اللہ اپنے اس گناھگار بندے کو نہ دیکھ، جلالی بابا جیسے ولی کے صدقے سب کی مشکلیں حل کر۔ مجھے بے شک عذاب دے دے مگر ان سب پر رحم کر۔”
ساحر اس جملے پر سر جھٹک کر ہنسا تھا اسے اس جملے کی باریکی کا علم تھا٬ مسعود ساحر کے کان کے نزدیک اپنا منہ لے جاکر پوچھنے لگا٬
”ساحر! بتا یہ عورتوں پر جن کیوں چڑھتے ہیں؟”
”یہ کچھ دیر پہلے جو بکواس شہزاد کرچکا تجھے سمجھ نہیں آئی کیا؟” وہ چھوٹا سا منہ بنا کر رہ گیا ساحر کے جواب پر
”وہ تو شہزاد نے کہا مگر میں نے تو، تم سے تمہاری سوچ ہی پوچھی ہے نا؟”
”بتائوں گا، جب سوچوں گا تو بتائوں گا٬ فی الحال تو میں رفع حاجت کے لئے جارہا ہوں۔” ساحر نے بے دلی سے مسعود کو ٹالا اور آسیہ کو آنکھ کا اشارہ دیکر مزار کے احاطے سے باہر نکل گیا٬ اور درختوں کی چھوٹی ٹہنیوں کے جھنڈ میں جاکر فارغ ہوکر کچھ فاصلے پر کھڑا ہوا، تو سامنے سے قدم تول کر اطراف میں نظر ڈالتی سنبھل سنبھل کر آتی آسیہ پر پڑی اور وہ باغ و بہار ہوگیا٬
”کدھر سے آئی ہو؟” وہ اسے نزدیک آتا دیکھ کر پوچھنے لگا
”پنڈی سے آئی ہوں۔” اسکے لہجے میں اک ادا تھی٬
”کس لئے آئی ہو؟” وہ ذرا شوخ ہوا٬
”یہ میں کیوں بتائوں”؟ وہ اُکھڑی
”چل نہ بتا، تمہاری مرضی۔”
”تمہارے ساتھ جو دوسری تھی وہ کون تھی؟”
”بہن ہے میری بڑی۔۔” عام سی بات بھی ادا سے کرتی تھی، سر جھٹک کر لاپرواہی سے
”اس بچاری کو کس جرم کی سزا میں دربدر کیا ہے؟”
”تیرا کیا جاتا ہے؟میری مرضی۔” اس نے دوپٹے کا پلو پشت پر جھٹک دیا
”کچھ تو میرا بھی لگتا ہے۔۔” ساحر کا لہجہ شوخ تھا٬
” بڑے حرامی ہو۔۔۔۔” وہ ایک شوخی سے مسکرائی
”نہ نہ۔۔وہ تو میرے بچے ہونگے”
”بیوی ہوتے ہوئے بھی ایسے کام کرتے ہو؟” شوخی سے جتاتی، مصنوعی خفگی سے بولی
”بیوی کہاں سے آئے گی۔ بس تم جیسی حسینائوں پر جہاں چلتا ہے۔”
”چل چھوڑ بھگتادے بھی۔” وہ سخت عجلت میں تھی
”تمہارا شوہر کیا کرتا ہے؟” ساحر کے سوالات بڑھ رہے تھے
”ٹرک ڈرائیور ہے”
”اور تمہارے باقی رشتہ دار؟”
”بس زندہ ہیں وہ بھی۔ سر نہ کھا، میرا ٹیم (ٹائم )نہ ضایع کرچل نزدیک آ۔۔” اس نے کھینچ کر آسیہ کو نزدیک کیا٬ اور خاص تحسینی انداز میں اسے ٹٹولنے لگا٬ گردن سے لیکر سینے تک آتا ہاتھ مچل گیا
”جسم تو قیامت ہے تیرا”
”جگہ تو کوئی مناسب دیکھتے! مسافر خانے میں چارپائی تک کہ پیسے نہیں تھے تیرے پاس؟” وہ ارد گرد دیکھتے آہستگی سے بولی٬
”یہاں تو ہر جگہ نجاست بھری ہے لوگوں کی۔”
”بھئی اب! اوقاف کھاتے والے یہان بیت الاخلا نہیں بنواتے تو میرا کیا قصور ہے بھلا، یا تو جلالی بابا خود ہی انٹرسٹڈ نہیں ہیں یہاں واش رومز بنوانے میں۔” وہ اسے ساتھ لگائے بے تکی باتوں کے جواب دینے لگا
”تو پھر کیا ہوگا؟” وہ اس کے ساتھ ہی لگی بے تکے سوال داغ رہی تھی
”تو پھر کیا!؟یہاں جتنے بھی افراد آئیں گےوہ گنے کے کھیتوں میں گھسیں گے، لوٹے لیکر۔ تو کھیتوں کا رکھوالا ڈنڈا لیکر پیچھا کرے گا دوسری طرف جاکر گند کرو٬ ادھر نہیں آؤ٬ بچارہ کھیت اگاکر ہی پچھتاتا ہوگا۔ اب کھیتوں میں بھی نجاست کا گند ہوگا تو بچے گا کیا۔۔۔”
”سچ کہتے ہو” وہ اس کہ بات پر ہنس پڑی اور ساحر کی طرف سے ملی توجہ میں کھوگئی وہ دونوں اپنی نوجوانی کے کھیتوں میں نئے بیج بونے لگے تھےاور جب پوری طرح جی بھرگیا اور وہ سیدھی ہوئی تو پوچھنے لگا کہ٬
”کل کا کیا پروگرام ہے؟”
”کل ہم شاھ موسانی کے مزار پر جارہے ہیں٬ اس دفعہ کوئی حاضری نہیں چھوڑنی۔”
”لگتا ہے ابھی تک پیٹ نہیں بھرا تیرا۔ تیرے پیٹ میں یہ جو بائوگولہ ہے نا، بڑا رُلائے گا تجھے، یہ لکھ کہ رکھ لے۔” آسیہ نے آخری بار اس سے لپٹ کر چُھڑاتے ہوئے کہا اور ایک لمبا الوداعی بوسہ لیکر چھوڑدیا،
”چلو! چلتی ہوں چکنے۔۔” ساحر چاہتے ہوئے بھی اسے مزید روک نہ سکا تھا۔ ساحر واپس آیا مرغا اب بھی درد بھری دعائوں میں مشغول تھا
”اے خدا! کل انبیا کے صدقے، کل اولیا کے صدقے۔۔۔” اس نے اپنی اداکاری کی زبان سے سارے اہم حوالے دے دئیے٬
”ابے سونے کا کیا ہوگا۔ اس مرغے کی دعائیں تو گھنٹہ بھرسے پوری نہیں ہوتیں٬ خدا ہی جانے کیا مرضی ہے اسکی۔۔” ساحر نے جمائیاں روکتے ہوئے سامنے سے گزرکر اتی آسیہ کے اطمینان بھرے چہرے کو دیکھا تو معنی خیز مسکرادیا،
”لوگ تو اپنی دعائیں بھی قبول کروا آئے۔۔” مسعود نے ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے کہا
”رہنے دو اس مرغے کی دعا ہمارے اور ہم جیسے اور اس جیسوں کے لئے بجائے دعا کے بددعاہی بن جائے گی٬ چل یار چل بستر خریدتے ہیں باہر کہیں۔” مسعود بھی تھک چکا تھا
”نہیں یار! بستر کیوں لیں یہیں پر لیٹ جاتے ہیں، اتنے سارے لوگ جو بیٹھے ہیں٬ کوئی لیٹا ہے۔” شہزاد نے انکی مشکل آسان کردی
”ابے او! چبوترے پر ہی سوجاتے ہیں نا،جلالی بابا کی پائنتی کی طرف۔” آسیہ کی پوری توجہ ان کی گفتگو پر تھی وہ آواز نہ بھی سنتی تو ان کی بات سے جیسے لہجے کے طرز سمجھ رہی تھی٬
”چل جب تک جاکر کسی ہوٹل پر چائے پی کر آتے ہیں۔ تب تک ہوسکتا ہے کہ اس مروان مرغے کی تقریر بھی کچھ اختتام کو پہنچے٬دماغ ہی چاٹ گیا ہے کب سے۔” وہ تینوں اٹھ کر چائے پینے کے لئے باہر ہوٹل کی طرف روانہ ہوگئے٬ مسعود کو پھر سے تائو آیا٬
”بےسن۔ساحر ۔یہ تو بتا کہ عورتوں کو جن کیوں آتے ہیں؟”
”پہلے چل کر چائے پی لو پھر واپس آکر بتائوں گا کہ عورتوں پر جن کیوں چڑھتے ہیں۔”ساحر ہنستے ہوئے کہنے لگا
”ٹالا نہ کر٬ ساحر یار تجھے تو پتہ ہے کہ اب میں بڑا ہوگیا ہوں۔”
”اور یہ تمہیں کس نے کہا کہ تو بڑا ہوگیا؟”
”بھئی میرا باپ کہتا ہے کہ تو اب بالغ ہوگیا ہے۔” وہ خود بھی ہنس رہا تھا یہ کہتے ہوئے
”اچھا تمہارا باپ بالغ ہوا ہے؟”ساحر بھی اسے چھیڑنے لگا
”وہ تو تب ہی ہوگئے تھے جب میری پیدائش ہوئی تھی۔”
بڑی سادگی سے کہتے ہوئے اس نے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی تو تینوں ہنس دیے
”چپ کر٬ لوگ یسوع بناکر ٹانگ دیں گے تجھے پھانسی پر۔” شہزاد نے اسے ٹوکا٬وہ تینوں باتیں کرتے چائے خانہ تک گئے ۔چائے پیتے ہوئے بھی ساحر کو آسیہ کے خیالات ہی آرہے تھے۔
شوہر ٹرک ڈرائیور ہے مہینے میں کتنے روز گھر آتا ہوگا،آتا بھی ہوگا تو رہتا کتنا ہوگا اس کے پاس۔اس کے وقت سے وقت کب ملاتا ہوگا۔۔شمال قطب ۔۔جنوب قطب۔۔کو کھینچتا ہے۔۔مخالف قطب میں اٹریکشن ہوتی ہے۔عورتیں کس حد تک برداشت کرتی ہیں کتنا سہتی ہیں۔۔عورت اور دھرتی کے اندر کس قدر اتفاق ہے٬اپنے سینے پر ہر طرح کے مظالم برداشت کرتی ہیں تو پناہ بھی خود ہی دیتی ہیں۔
وہ سوچتا ہی رہااورمسعود اور شہزاد مسافر خانی کے کمرے کے بیرونی حصے کی طرف کھڑے تھے۔کمرے کی دیوار میں جگہ جگہ سوراخ اور درزیں تھیں وہ دونوں ایک سوراخ سے لگ کر کھڑے ہوئے تو منظر نمایاں ہوگیا تھا٬کمرے کے اندھیرے سے جنگ کرتی ہوئی چاندنی بمشکل روشنی کی ننھی ننھی لکیروں کی طرح اپنی پوری جست سے کچھ حصوں میں بٹ کر بھی کمر مبھم ماحول میں غیر واضح منظر کو کچھ واضح کردیا تھا٬ایک پٹھان اپنی بیوی کے ساتھ پچھلی طرف سے سوئر کی طرح لپٹا ہوا تھا٬
”ابے۔۔او۔۔ادھر کیا نائیٹ شو دیکھ رہے ہو دونوں؟؟” ساحر کو اچانک اکیلے پن کا احساس ہوا تو اس طرف نکل آیا اور دور سے دونوں کو دیوار کے ساتھ لگے کھڑے دیکھ کر کہنے لگا٬ مسعود اور شہزاد منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسی دباتے ہوئے اس کی طرف آئےمسعود نے چہرے پر مصنوعی رعب پیدا کرنے کی کوشش کی٬
”کچھ نہیں ہے بھئی ساحر۔۔بچوں کے دیکھنے کی چیز نہیں ہے یہ۔۔”
”ارے۔۔میں تو پھر دیکھوں آخر ہوکیا رہا ہے وہاں۔” ساحر آگے بڑھا تو شہزاد نے اسے کلائی سے پکڑ کر آنکھ مارتے ہوئے کہا کہ٬
”نہیں بھئی وہاں تو بالغوں کی اصل تعلیم کا پروگرام چل رہا ہے۔اور تم ابھی نابالغ ہو۔۔”
”ابے بتائو نا! کیا ہوا جو میری بلوغت میں ابھی مہینہ ڈیڈھ باقی ہےبتائو تو ہو کیا رہا ہے۔” ساحر انہیں کے انداز میں کہتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کرنے لگا٬
”بچو صبح پوچھنا ہم سے۔۔ابھی چل کر ٹافی کھاکر سونے کی کر۔۔۔” مسعود نے اسے اسی کے انداز میں پچکارا٬اور تینوں آگے بڑھ گئےاور جلالی بابا کے صحن کے چبوترے پر جاکر بیٹھےجہاں کچھ ہی فاصلے پر آسیہ بھی سورہی تھی٬اور حقیقت میں اس کا بازو اپنی بہن کے اوپر دراز تھا البتہ خیالوں میں یا تو ٹرک ڈرائیور پریا تو ساحر پر یا پھر کسی اور چکنے پر٬ وہ سوچتے ہوئے دراز ہوا تو ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں نے نیند کو آ لیا۔۔
اور یہ وہی کوئی رات کا آخری پہر تمام ہونے کو آیا تھا٬ پہلی پو پھٹنے سے کچھ پہلے کی بات تھی کہ جب مقبرے کے اندر سے پانی کی تیز دھار لہر کسی سیلابی ریلے کی طرح سوئے ہووں کے درمیان سے گزرکر، بھونچال مچاکر آگے چلی گئی اور کئیوں کو بھگوگئی٬ ساحر مسعود شہزاد کو یہ جلالی بابا کی ناراضگی کا اظہار لگا٬ تینوں ایسے بوکھلاکر اٹھے کہ چبوترے کی دوسری جانب سوئے لوگ انکی اچانک اس افتاد پر ہنس پڑے تھے۔مسعود نے لوگوں پر اک اچٹتی سی نگاہ ڈال دی اور ساحر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسی شرارت سے گویا ہوا٬
”بے او۔۔ساحر ۔یہ تو بتاکہ عورتوں پر جن کیوں چڑھتے ہیں؟”
ساحر جو اپنی پیچھے چپکی ہوئی شلوار سے چپکی قمیص کو بمشکل درست کرتے اپنی کھسیاہٹ پر قابو پاتےجیب سے سگرٹ کا پیکٹ نکال کر ایک سگرٹ سلگانے لگا٬
”عورتوں پر جن اس لئے چڑھتے ہیں کہ ان کے شوہر اُن کے ترسے ہوئے وجود کے سگرٹ کو فلٹر کی طرف سے سلگاتے ہیں۔” شہزاد اور مسعود کو گزری ہوئی رات میں اس پٹھان کا کھیل یاد آیا تو دونوں ہاتھ پہ ہاتھ مارکر ہنس دئیے٬ باقی افراد بھی جنہوں نے ساحر کی بات کا مطلب اچھے طریقے سے نہیں سمجھا تھاوہ بھی بس انکی دیکھا دیکھی بے مقصد ہنسنے لگے٬ اور ایک اکیلی آسیہ تھی جس کے چہرے پر چپ کوئی چغلی کھارہی تھی٬جس وجہ سے وہ آدھے چہرے کو دوپٹے کے پلو کو بے دھیانی سے چھپاتے ہوئے ساتھ بیٹھی عورتوں کی اوٹ میں کھسکنے لگی تھی٬ اور ساحر کے چہرے کی مسکراہٹ رہ گئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔افسانہ
سِگرٹ کو کہاں سے سُلگائیں
؟
مصنف: ضراب حیدر
مترجم: سدرت المنتہی’

دریائے سندھ ٹھٹہ کی بیرونی سرزمین کی تہہ پر ریت دھکیلتا ہوا پشت پر پھینکتا چنگھاڑتا ہوا سمندر کی اور جارہا تھا۔ سمندر کی لہروں سے برابر کھیلتی ٹھٹھرتی ہوئی ہوائیں پورے جوش سے ابھرتی ہوئی سفید کالے بادلوں کو شمال کی جانب گھسیٹتی ہوئیں جارہیں تھیں۔
کینجھر کی نیلی لہریں نوری کی قبر کے گول اطراف کو چھونے لگی تھیں٬ ایک کشتی بان٬ موٹر بوٹ کی سی اسپیڈ سے اپنی کشتی کو کینجھر کے سینے کی سطح پر تیراتا ہوا جارہا تھا٬کینجھر کی شوخ اور شریر، پاگل اور بدمست لہریں کشتی کے گذرنے سےاس قدرسطح ابھر کر آگئیں٬ جیسے ایک ہی جست میں کئی ڈولفن مچھلیاں پانی پر چھلانگیں بھرتی ہوئیں٬ اپنا مخصوص ناچ ناچتی ہوئیں ڈولتی ہیں اور اگلے ہی لمحے پانی کی نچلی سطحوں تک اترجاتی ہیں٬ لہریں بھی اپنی طرز کا ناچ ناچتی ہیں۔ نظر کے حصار سنہری جھیل کے پانیوں پر ایک ٹامے کے پھولے ہوئے گھڑے کی پشت پر کوئی سانولے رنگ کا نوجوان تیرتا ہوا کنارے کی سمت جارہا تھا۔ یہ سنہری پانیوں والی جھیل کے ساتھ شرط لگائے ہوئے تیرتا٬ وہ سانولا نوجوان جو یقیناََ ملاح قبیلے سے تعلق رکھتا ہوگا سنہری جھیل کی رنگت اور ٹامے کے برتن کی دمکدار آہنگ کے ساتھ کالے کبوتر کی سی رنگت لئیے ہوئے ، جیسے سونے کی انگوٹھی میں کالے نگینے کا سا روپ لیے ہوئے تھا۔
ٹھٹھ شہرکے گِرد نواع زندگی کی موجودگی کے تمام احساس زندہ تھے٬سوائے سونڈا کےپرانے قبرستان اور مکلی کے ماحول پر جیسے چپ کی چادرتنی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔درگاہیں،مقبرے،گنبد، بھی عمومی طور پر سنسان ہی تھے جو سال کے مخصوص ایام میں ہی چہکتے تھےچہکتے یا پھر مہکتے۔ افراد کی ایک ہی جگہ کثرت سے موجودگی کا احساس ہی تنہائیوں کو چھانٹنے کا سامان کرلیتا تھا۔
فی الوقت تو کسی مقبرے کی چوکھٹ پر کوئی قدم آدم نہ لگا٬ نہ ہی قدموں کی دور سے سنی گئی کوئی چاپ ہی تھی۔ سوائے سلطان ابراھیم بن مرزا عیسیٗ خان بیگ کے مقبرے کے احاطے پر جہاں سے ایک ہی وقت میں دو افراد ہیروئن پی کر نکلے تھے۔ اس کے علاوہ خاموش قبرستان میں قبروں کے سرہانے کی جگہ پر دھرے توانا پتھر اپنے سخت وجود کے بند خول میں ذکر کرتے پائے گئے٬ یا کہ ہوائوں نے ہی محسوس کیا، یا پھر قبروں پر بوجھ کی طرح لدے ہوئے خود انہیں پتھروں نے ہی جب ثوابوں کا کارواں عرش معلی’ کی طرف گامزن کہیں خلائوں کے درمیان ہی مدغم ہوجاتا تھا۔ پتھروں سے مزین مقبروں کے اندر مدفون قبروں کے خدائی ذکر کی گونج کسی زندہ انسان کے کانوں تک نہ پہنچی خال کہ پہنچتی۔ اسی شب مکلی کے ایک مقبرے کے احاطے سے لیکر قبر کے اطراف تک افراد کی موجودگی کی وجہ سے خول چھٹتا ہوا محسوس ہوا، یہ خول جو خاموش تنہائیوں میں نمایاں تھا٬ اور کئی افراد کی چیخ و پکار یا پھر واویلا۔ کہیں کوئی عورت ہی تھی٬خود سے اپنا وجود چھڑانے کی کوشش میں بے خود اور بدحواس عورت٬
”اصحابی چھوڑدو ظالم، اصحابی تو نے تو مارہی دیا قاتل!
چھوڑدو ”
”نہیں چھوڑوں گا میں اس عورت کو۔ ہاں، چاہے تو مجھے مارہی دے”
اگلے پل یہ مردانہ آواز کی پکار تھی جو عورت کے منہ سے نکلی اور یکلخت گونجی٬
”اصحابی میں کوئی معمولی ہستی نہیں ہوں، میرا مقابلہ تمہیں مہنگا پڑے گا” وہ للکاری٬عورت پھر سے مردانہ آواز میں للکاری٬اور کوئی ایک ہی نہیں، کئی عورتیں۔۔ نہ صرف عورتیں بلکہ کچھ مرد بھی جتنے تھے افراد انکا اسی قدر اژدہام مچا ہوا تھا٬ ان میں سے کوئی بھرپور توانا آدمی بھی اصحابی کے مزار کے گرد طواف کرنے لگا تھا٬ تو صحن کے احاطے میں ایک آدمی زنانہ آواز میں اسی احتجاج میں ملوث تھا٬ جیسے یہ جملہ متاثرہ افراد کا پسندیدہ ہوچکا ہو۔
”اصحابی میں اس کونہیں چھوڑوں گی، نہیں کبھی نہیں۔۔”
نفی میں ہلتی گردنوں کے درمیان چیختی آوازوں میں یہی ضد نمایاں تھی اور مزید تو ہوئی کہ صحن میں پھیریاں لگاتی ہوئی عورتوں کے کرتب قلابازیوں کے انداز ہی اور تھے۔ جذباتی طور پراصحابی کے مقبرے کے صحن میں لوٹتی عورتیں اور مرد فرشی ارتعاش کی ضد میں فطری گناہ کرلینے کی اجازت کے خواہاں تھےاور اسی ارتعاش سے جو بنی آدم نے دھرتی کے سینے پر سسکاری بھرتے ہوئے مطالبہ داغ تھا٬ وہی ارتعاش جو اصحابی کے صحن کے مغموم فرش پر افراد کی دھانگا مشتی نے مچا رکھا تھا۔ یہ ایک شور و غوغا٬ یہ ایک احتجاجی ہلہ تھا جو بویا گیا اور فرش نے لرز کر معصوم التجائی نگاہوں سے عرش کے آسمان کو دیکھا اور رو دیا۔
یہ اسی رات کا معمہ تھا۔جب درگاہ کے سرکاری رکھوالے نے انہیں متاثرہ افراد کی فہرست میں نمایاں آسیہ نامی عورت کی جذباتی ضروریات کا مزاق اڑاتے ہوئے ادھورا چھوڑا تھا۔ آسیہ کے پاس شکار ہوئے شکاری کی بے کار بے مدھ کوششوں نے فقط اپنی لذت کی چاشنی چکھ کر آسیہ کی چاہ کی کھڑکیوں کو بغیر کھولے بند ہی رکھا٬ جیسے وہ اپنی طاقتیں کہیں گنوا آیا ہو، جیسے وہ کوئی بے سدھ گدھ کی نما۔۔ یا پھر بے خبر سوتا ہے٬ نہ تو چنگھاڑتا ہوا قہر برپا کردینے والا طوفان تھا٬ نہ پھر اس عورت کے تن من کی کھڑکیوں کو آراستہ کرکے پرسکون کردینے کا سا پرجوش جذبات کا ریلہ تھا٬ نہ ہی ارغونوں اور ترخانوں کی سی ہمت کا بل بوتا تھا۔ وہ تو بس ایک ملازم٬ ایک عام سا بے خبر، بے سدھ اپنی ہی کمزوری محسوس کرگیا تو پھیکا سا مسکرادیا۔ لوگ جس عمل کو گناہ سمجھتے تھے، وہ اس عمل پر پوری طرح نہ اترنے کے گناہ پر شرمندہ تھا٬ تبھی اٹھا۔۔۔اور اپنی راہ لی۔ اور آسیہ۔اسے دل ہی دل میں گالیاں دیتی مزاروں کے درمیان بنی پتھریلی روش پر اپنے بے گناہ و بے لذت قدموں سے چلتی ہوئی مکلی کی حدود سے باہر نکل گئی تھی۔۔
شام کی سرخی نے شاھ بندر سے لیکر چوھڑ جمالی٬ شاھ عقیق اور جلالی بابا کے مقبروں کے اوپر تنی ہوئی آنے والی رات کے مدھم۔ غبار سے کالی پڑتی جارہی تھی۔ یہ وہی رات تھی٬ وہی ساعت جب ہر ایک آدھ گھنٹے کے بعد کراچی سے سڑک پر گزرکر کر آتی سواریوں کے آخری پڑائو کا٬ مرکز شاھ عقیق یا پھر جلالی بابا کے دربار ہی ٹہرے تھے۔ بسوں کی کھڑکیوں سے جھانکتی صورتوں کی آنکھوں کی امید دیدنی تھیں جو سواری کو بریک لگنے کے بعد دروازوں سے اترتے ہوئے مستند ہوگئیں۔ تھکی گزرگاہوں سے گزرے ہوئے بدحواس قدموں نے اٹی ہوئی سرزمین کی مٹی میں لوٹتے ہوئے مقبرے کی اور ٹھانی ہوئی تھی٬ سب سے آخر میں اترتی ہوئی آسیہ بس کے پچھلے گیٹ سے اپنے رتجگوں بھرے پائوں مٹی کی کنکریوں سے لڑتی ہوئی کئی ناکام حسرتوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے اسی ٹولے کے پیچھے ہولی٬ اور گزرتے ہوئے وہاں کے مقیم کالونائیز ہوئے افراد دہشت گردوں غنڈہ گردوں نسواروں اور پان کی پیک سے پر زبانوں کے سرخ منہ والے مکار چہروں کو تکتی ہوئی بازار کے اندر گھس آئی۔ اسکی نظر سب سے پہلے مین گیٹ کے پاس بیٹھے موچی پر پڑی جس کی نظریں دو افغانی نوجوان بچیوں کی البیلی ہنسی پر بظاہر مسکراتے اور درپردہ انکے بے خیال سراپے سے نمایاں نئے آتے جوبن پر ٹہرجاتی تھیں جو بظاہر انکی چپلوں کو سینے کے بہانے اپنے ناکام ہوتے دل کے ادھڑے ٹانکے بھی جوڑتا رہا تھا۔
آسیہ کے بے وچین اور پیاسے وجود کے اندر وہی مخصوص سرسراہٹ پوری طاقت سے ابھر آئی تھی اور کوٹ کی دیواروں تک فضا کے اندر مغموم ہوکر گھل گئی۔ اسے لگ رہا تھا ہر طرف اسکی ناکام حسرتوں کا بین ہے٬ اسکی نامکمل سیرابی کے ماتم کناں ہیں۔ یہ تمام جذبے اور انسے مزین افراد٬ اور وہ درگاہ کے اوپن ائیر مسافر خانے کی طرف انہی افراد کی طرف بڑھ گئی جن میں عورتیں بچے بوڑھے گھر کا سا ماحول جوڑکر بیٹھے ہوئے تھے۔ چارپائیوں اور بستروں کی بولی لگانے والے پٹھان گاہکوں کی تلاش میں پھر رہے تھے٬ تو کچھ سیمینٹ کے بنے تنگ مسافر خانوں کی سہولیات کو گنواتے مسافروں کو ظاہری آرام کا لالچ دینے میں مصروف تھے۔ اور نئے آنے والے بے خبر لوگوں کو اس بہانے قائل کرلیتے کہ کجا کمروں کی بکنگ کے بعد دوبارہ اتنی آرام دہ جگہ مشکل سے مل پائے گی۔ کجا کہ ہر قاتل اپنی طرز کا مقتول بنانے کا ہنر گھڑلیتا تھا٬ یہ عام ذہنوں کی سوچوں میں ابھرتی ہوئیں ترکیبات کا حاصل تھا۔
آسیہ نے شاھ عقیق کے مزار کی حاضری دئیے بغیر ہی جلالی بابا کے مقبرے کے احاطے کا رخ کردیا اور اس کے ساتھ ساتھ ایک درمیانی عمر کی عورت بھی تھی جو اسکی سگی بہن تھی۔ آسیہ کے اختیاری اٹھتے ہوئے قدم ان راستوں کی شناسائی کے گواہ تھے۔
جلالی بابا کا مقبرہ شاھ عقیق کے مقبرے سے کچھ ہی فاصلے پر تھا۔ دونوں درگاہوں کے بیچ گندم کی فصل تھی اور ساتھ میں ہی ایک نالے کے نکلتے ہوئے پانی جس کے اندر برساتی پانی کی آمیزش بھی تھی جو مل کر ایک چھوٹی سی جھیل نما ندی کی شکل اختیار کرگئی تھی۔ جس کی تہہ سے پہلے ہی منڈیکیوں نے سرچھپائے ہوئے تھے۔ اس نالے کے درمیان تین فٹ کی مختصر سی روش تھی جو سیدھی جلالی بابا کی درگاہ کی چوکھٹ پر جاکر رکتی تھی٬ جہاں بھیک مانگنے والے بچوں اور عورتوں اور بوڑھوں کی خاطر خواہ تعداد نے لوگوں کو بوکھلادیا تھا٬ جو انکی طرف گزرتا کنی کتراکر بے دلی سے گزرتا تھا۔
آسیہ کے نزدیک سے گزرتے ہوئے تین نوجوان بھی اسی طرح نظر انداز کرکے آگے گزرگئے تھے٬ جیسے وہ انہیں سائلوں میں شمار ہوتی ہو۔ اس نے بھی سر جھٹک کر آگے جانے والوں کی صف میں تیز نکلنے کے لئے قدموں کی رفتار بڑھائی جس کا توازن مسلسل تھکن کی وجہ سے قائم نہ رکھ سکی اور دھیمی رفتار سے چلتے ہوئے اس کے ذہن نے اسے کہیں بھول بھلیوں میں الجھانا بھی چاہا تھا٬ مگر وہ باوجود تھکن کے اپنے پورے پرکشش وجود کی حیثیت سے باخبراپنی ہی حسرتوں اور ضرورتوں کے درپے کچھ افسردہ ضرور تھی٬ لیکن مایوس ہرگز نہ تھی۔
یہ تین نوجوان جو جگہ کی کمی کے باعث تینوں ایک ہی ساتھ گزرتے ہوئے پورا رقبہ لے چکے تھے٬ اور وہ اسی تنگی کی وجہ سے آگے گزرجانے کی خواہش کو رد کرکے ان ہی کے پیچھے پیچھے چلنے لگی٬ نہ صرف چلنے بلکہ اس کی توجہ بھی ان تینوں کی گفتگو پر مرکوز تھی۔ اور ویسے بھی ایک عرصے سے وہ اس خطے کے بزرگوں کے مزاروں کی حاضری کے درمیان مسافرین اور علاقائی لوگوں کی زبانوں کی طرز و طور اور انداز و اطوار نہ صرف بھانپنے لگی بلکہ کافی حد تک سمجھنے بھی لگی تھی۔ ان تین نوجوانوں میں سے ایک مسعود نامک نوجوان اپنے دوستوں کو بتارہا تھا کہ وہ بچپن سے ہی اپنے والدین کے ہمراہ اس مقبرے پر حاضری دینے آتا تھا۔ اور اس جھیل میں تارکا کنڈھا ڈال کر دیگر بچوں کے ساتھ چھوٹی چھوٹی مچھلیاں پکڑتا تھا۔
ساحر جو ایک کھاتے پیتے گھر کا سیر سپاٹے کرنے والا خوش طبع سا نوجوان تھا اور تینوں کے گروپ میں قدر جاذب نظر اور تازہ دم نظر آرہا تھا٬ مسعود کو آنکھ مار کر پوچھنے لگا٬
”تو اب کس کے لئے آتے ہو؟”
”اب۔۔” مسعود ایک لمحے کے لئے سوچ میں پڑگیا تھا
”اب بھی جلالی بابا بلاتے ہیں۔” اسے اگلے لمحے ہی جواب سوجھا
”کیونکہ یہاں جلالی بابا جنات کے غلبے میں جکڑی ہوئیں اورزندگی کے تالاب میں تڑپتی ہوئیں بے چین مچھلیاں مجھے عنایت کرتے ہیں٬ اور میں ان جنات کے غلبے میں جکڑی ہوئیں عورتوں کے پاگل جنات کے ساتھ بڑا ٹھیک ٹھاک سلوک کرتا ہوں۔” تیسرے ہی لمحے مسعود کا لہجہ معنی خیز بھی تھا اور برابر شوخ بھی٬
”اور اس تالاب میں مچلتی ہوئی وہ مچھلیاں پھنسانے کا اپنا ہی ایک مزا ہے٬ جو بار بار ہاتھوں سے پھسل تو جاتی ہیں مگر نکل نہیں پاتی، مرنے سے بچ جاتی ہیں” مسعود کی بات پر ایک قہقہہ ساحر کا لگا اور ایک ساتھ والے کا پیچھے آتی آسیہ کے چہرے پر ایک معنی خیز مسکراہٹ ابھرآئی۔
”سنا ہے یار کہ جلالی بابا اپنے نزدیک کسی بھی مردے کو دفن کرنے نہیں دیتا اگر کوئی دفنا بھی دے تو اگلے ہی روز مردہ قبر سے باہر پڑا ہوا ملتا ہے٬ یا پھر کسی درخت کی اوٹ میں پھنکاوایا ہوا، البتہ قبر خالی رہ جاتی ہے۔” تیسرے کو تشویش ہوئی اور دوسرے مسعود نے ہلکا سا قہقہہ لگایاعجیب پراسرار قہقہہ تھا٬
”میں نے بھی یہی سنا ہے٬ مگر ساحر دیکھو تو بھلا زندہ لوگوں پر تو کوئی اعتراض ہی نہیں جلالی بابا کو اور مردہ بھلا کسی کو کیا تکلیف دیتا ہوگا۔” ساحر اسکی بات پر ترحم سے مسکرایا٬
”بالکل ہی پاگل ہو تم تو مسعود ذرا عقل نہیں تم میں۔”
”بھئی اب جلالی بابا کوئی ہر وقت ادھر ہی تھوڑاہی پائے جاتے ہیں٬ مجھے تولگتا ہے کہ انہیں اپنی قبر چھوڑکر گئے ہوئے ایک عرصہ ہوچکا ہے٬ جنات سمیت لوگوں سے بھی پناہ مانگتے ہونگے۔” مسعود نے ساحر کی بات پر مسکراہٹ تو پھینکی مگر شرارتاگویا ہوا۔
”اچھا تو پھر جنات میں جکڑے لوگوں کی حاضری کون لگواتا ہے، بھلاکون انہیں بیدار کرکے بھاگ جانے کی تلقین کرتا ہوگا؟ کون انہیں کڑوی سزائیں دیتا ہوگا جس پر وہ اس قدر آہ و زاری پیٹتے ہیں٬ اب زرا ملاحظہ کرنا کہ اندر متاثرہ لوگوں کا کیا حال ہوگا اور ان پر جوتا برسائی ہورہی ہوگی چیخیں نہیں رکتیں لوگوں کی منتیں کرتے رہ جاتے ہیں۔”
”ارے بھئی مسعود یہ سارے کام افراد میں چھپا جلالی بابا خود کرلیتا ہوگا۔” شہزاد جو اتنی دیر سے خاموشی سے ان دونوں کو سن رہا تھا ساحر کی بات کی ہمایت میں ہنس پڑا٬ مگر وہ مسعود ہی کیا جو باز آجائے٬ اور ساحر سے سوال نہ کرے٬
”اچھا یہ تو بتائو ساحر، کہ لوگوں کو اپنے اندر کسی جلالی بابا کا قیام کیوں کرنا پڑجاتا ہے۔” ساحر نے یکلخت ہی مسعود کی بات پر اسے دیکھا مگر دوسرے ہی لمحے اپنی پشت پر نگاہوں کی تپش محسوس کرتے ہوئے مڑکر دیکھا تو جیسے اسے آسیہ کی آنکھوں میں کئی سوالوں کے جواب یکدم ہی مل گئے تھے٬
”شاید اپنے وجود کی ہمایت میں اور وجود کی ضروریات کی ہمایت میں لوگ ایسا کرتے ہونگے، اپنی ذات کی self Expression خود کو اظہارنے کی خاطر ہی۔۔۔” مسعود کو اب مزا آنے لگا تھا ساحر کی طرف شوخ انداز میں دیکھ کر بولا،
”ساحر! لوگ self Expression کی طلب کے لئے ایسی جگہوں پر ہی کیوں آتے ہیں؟” ساحر پہلی بار اسکی بات پر ایک لمبی سانس بھرکر سر جھٹک کر آگے بڑھا تھا٬ مسعود نے اسکی ٹال مٹول کو اعتراض میں نہ لاکر پھر سے اسے مخاطب کیا۔
”بتائو نا ساحر! میری بات کا جواب تو دو” اس کے لہجے میں تقرار تھی٬
”جانے دو اب مسعود! خود تو جیسے جانتے ہی نہیں ہو، جو سوال پوچھ رہے ہو، اس کا جواب مجھ سے پہلے تمہیں خود معلوم ہے۔”
”ارے نہیں یار! میں واقعی ذرا بے خبر سا بندہ ہوں تم ہی بتائو کہ کیا خاصیت ہے؟” وہ باتیں کرتے ہوئے اندر کے احاطے میں داخل ہوچکے تھے٬
”اچھا بھئی میرے بے خبرے! صبح دوں گا تمہیں اس بات کا جواب۔”
ساحر نے یہ کہتے ہوئے پیچھے مڑکر دیکھا تو جیسے آسیہ کی مبھم مسکراہٹ میں کوئی راز بھانپ لیا تھا٬اور یہی لمحہ تھا جب فی الفور ایک جھٹکے کے تحت ہی آسیہ کے منہ سے ایک کراہ بھری چیخ بلند ہوئی اور وہ ہذیانی انداز میں ان تینوں کو دھکیل کراس نے دیوانہ وار مقبرے کے احاطے کی جانب دوڑ لگادی تھی۔ اس کا اچانک ہذیان دیکھ کر ساحر لمحے کے لئے بوکھلا گیا تھا،
”اب اسے کیا ہوگیا؟”
”ذہن میں موجود جلالی بابا کی حاضری ہوگئی۔” اس بار شہزاد کہتے ہوئے مسکرادیا تو وہ دونوں تائیدی انداز میں ہنس پڑے۔
آسیہ مقبرے کے اندر نہیں گئی تھی البتہ مقبرے کی دیواروں میں چاروں جانب جو کھڑکیاں بنائی گئی تھیں ان میں سے ایک کھڑکی کی سلاخوں کو وہ مضبوطی سے پکڑ کر کھڑی ہوگئی اور اس پر صدمے کی سی کیفیت دکھنے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے اگلے چند لمحوں میں اسکی آنکھوں کی پتلیاں رنگ بدلنے لگیں اور وہ اپنی گردن کو دائیں بائیں گھماتے ہوئے مکمل طور پر ہذیان میں داخل ہوتے ہوئے چیخ و پکار کرنے لگی٬
”او جلالی بابا!جلا۔۔۔۔ للا۔۔۔لی۔۔او جھوٹے۔۔او فریبی دغاباز جلالی۔۔۔۔! تو نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا۔۔نہیں کیا۔” اس کا سر تیزی سے نفی میں ہلنے لگا تھا اور دیکھتے دیکھتے وہ مقبرے کے چبوترے پر چکر کاٹنے لگی اس کی دیکھا دیکھی باقی عورتوں نے بھی دیوانہ وار یہ طرز عمل دہرانا شروع کردیا تھا۔ تیز تیز بھاگتی ہوئیں بھاگتے ہوئے ٹہرتیں۔۔ صدماتی کیفیت میں گھرجاتیں اور پھر یکلخت ہی انکی چیخ و پکار اور آہ بکا فرش کے پر بنے مقبرے کی چھت کا عرش ہلادیتیں تھیں۔
”او جلالی، تو نے ماردیا! بے درد اتنا نہ ستائو۔ او ظالما، اتنا تو جلال نہ دکھائو، قہر نہ کرو۔” آہ فغاں کے اندر التجائی آہ بکا ڈوبنے،چڑھنے اور کراہنے کا عمل تا دیر رہتا تھا٬ پاگل پن کے عروج کو چھونے والے عوامل جاگ اٹھتےدیواروں اور کھڑکیوں سے سر ٹکراتی ہوئیں عورتوں نے فرش کے چبوترے پر ایک قہر بپا کر ڈالا تھا۔ یہ دہشت ناک منظر ماحول کے خوف کو جہاں دوبالا کرتا تھا۔ وہاں زائرین تماشائیوں کو ایک خاص قسم کی تفریح مہیا ہوجاتی تھی۔ اور ان متاثرہ عورتوں میں آسیہ کا پاگل پن کچھ زیادہ ہی جان لیوا دکھ رہا تھا وہ پھر سے کراہنے لگی تھی۔ اپنے دونوں ہاتھ ناف کی جگہ سے کچھ نیچے رکھ کر وہی کراہ دہرانے لگی٬اور فضا میں٬
”او جلالی۔۔چھوڑدو جلالی ماردیا جلالی۔۔توڑدیا جلالی٬ابے او ظالم جلالی” جیسے فقرے گردش کرنے لگے تھے٬ جن سے چبوترے کا فرش بھی جیسے غصے میں ہولناک دکھنے لگا تھا٬ ہر جگہ ایک جلال اور ہیبت کی سی عبرت ناک صورتحال چھائی ہوئی تھی٬ اور اسی دوران آتش نے زور پکڑا تو آسیہ نے دیکھتے ہی دیکھتے خود کو پیٹنا شروع کردیا تھا۔ اس کے بے اختیاری میں بال کھل گئے تھے٬اور وہ پاگل پن کی ایک مکمل تصویر لگنے لگی تھی۔ ساحر نے بغور اسکی جانب دیکھا اور سوچنے لگا۔
”کس قدر دلیرانہ انداز ہے۔۔self expression کا، خود اپنی ذات کو ازیت دینا sadist اس قدر ازیت پسندی بھی کس قدر بڑی دلیری کی ضامن ہوتی ہے۔” آسیہ نے پھر سے دیوانہ وار چکر کاٹنے والا عمل دہرانا شروع کردیا تھا اور ساحر اسے دیکھتا ہی رہا تھا۔ مسعود نے ساحر کو کہنی ماری تھی،
”یہ دیکھ مرغا۔۔” ساحر شہزاد اور مسعود کی توجہ مقبرے کے احاطے میں جلالی کے مزار کی چاردیواری کے دروازے کے عین سامنے بیٹھا مرغ کی سی آواز نکال کر بازو مرغے کے پروں کی طرح بغلوں میں مارنے پھڑپھڑانے لگا تھا۔
”کیا کمال تھیٹر ہے لوگوں کے ساتھ جانور بھی اپنی حیثیت سمیت موجود ہیں حد ہوگئی معلوم پڑتا ہے کہ مرغا اگلے جنم میں کوئی کمال کا مسخری ہوا کرتا ہوگا۔”
مگر ساحر کی توجہ تو بارہا آسیہ کی طرف پلٹ جاتی تھی وہ ابھی تک اپنے مخصوص کرتب کی کلابازیاں کھاتے ہوئے مصروف عمل تھی، اسکی دیکھا دیکھی دوسری عورتوں نے بھی میدان گرما رکھا تھا۔ عورتوں اور مردوں کے یہ انداز و اطوار درد بھرے سوز اور کراہیں، ماحول اور افراد میں خاصی گرماگرمی تھی۔
ساحر کو اچانک ہی کسی نئی فکر نے گھیر لیا کہ اسے لگا یہ ماتم دنیا کے تمام مردوں کی نامردی (Mental importance) ذھنی نامردی کے سبب وجود میں آرہا ہے٬
”مسعود یار۔۔یہ کیسا ظلم ہے کس قسم کا واہیات تماشا لگا ہوا ہے٬ میں تو ذہنی طور پر مزید ڈپریسڈ ہوتا جارہا ہوں۔” وہ مسعود کی طرف دیکھتے بے چارگی سے کہنے لگا تھا٬
”ارے رہنے دے یار! بیٹھ جا، بیٹھ کر تماشا دیکھ۔ چاند کی چودھویں رات میں جنات کو بھرپور مستی چڑھتی ہے۔”
”کون کہتا ہے کہ جنات کو چودھویں چاند کی مستی چڑھتی ہے؟” ساحر نے مسعود کی طرف بیزاری سے دیکھتے کہا۔
”ارے بھئی میں کیا کہوں گا۔ درگاہ کے مجاور نے بتایا ہے۔”
”حد ہوگئی یعنی کہ۔۔” ساحر کو غصہ آگیا
”چاندکی چودھویں کو جنات کو نہیں عورتوں اور سانپوں اور سمندروں کو مستی چڑھتی ہوگی۔” شہزاد جو اکثر کہ نہیں بولتا تھا مگر جب بھی بولتا سوچ سمجھ کر بولتا تھا٬
”رہنے دو یار! یہ سارا مرض ہسٹیریا ئی ہے٬ھسٹیریا کی بھی کچھ مختلف قسمیں ہیں۔ جن کی مختلف حالات میں مختلف قسم کی تکلیفیں اور کیفیات ہیں۔ زیادہ تر کا خیال ہے کہ یہ مرض صرف عورتوں کے اندر پایا جاتا ہے٬ جس کا سبب عضوو خاص کی خرابی ہے جو ھسٹیریا کا سبب بنتی ہے۔ مگر میرا خیال ہے کہ ھسٹیریا کا مرض مردوں میں بھی اسی طرح جنم لیتا ہے۔ جنہیں پہلے اپنے پیٹ کے اندر کوئی گولہ سا ابھرتا ہوا محسوس ہوتا ہے٬ اور پھر اسکی کڑواہٹ گلے کی طرف بڑھنے لگتی ہے٬ اور فورا ہی محسوس ہوتا ہے کہ کوئی انہیں پھانسی دے رہا ہے۔ یہ گولے کبھی چھوٹے مائنر تو کبھی میجر سطح پر چلے جاتے ہیں٬ اسی کیفیت میں مریض پر پاگل پن کے دورے پڑنے لگتے ہیں۔ خاص طور پر اکثر عورتیں بچہ پیدا کرنے کے بعد کمزور ہوجاتی ہیں۔ اور پھر انکے اندر ایک شدید قسم کی حرکت محسوس ہونے لگتی ہے جس کی مکمل سیرابی نہ ہونے کی صورت میں بھی یہ بیماری جنم لینے لگتی ہے۔ اس کے علاوہ اکثر بالغ ہوتے ہوئے بچوں میں لڑکیوں کے اندر جنسی خود سپردگی کے جذبات ابھرنے لگ جاتے ہیں جس کی سیرابی نہ ہونے کی صورت وہ لڑکیاں اسی طرح لڑکے بھی کئی چھوٹی موٹی مصنوعی اشیاء کا سہارا لیتے ہوئے مصنوعی خود ساختہ تعلق سے خود کو کچھ فرحت دینے لگتے ہیں۔ جن میں جانوروں کا سہارا لینے والے لڑکوں کے عوامل کو (zoophile) اور عورتوں کے کچھ طریقے کار کے ذریعے نفسی خواہش کی تسکین کے لئے (onionism)ا جاتا ہے٬ اور یہ طرز عمل جنسی فرسٹریشن کے شکار افراد میں بلوغت کے ساتھ ہی بڑھ چکا ہوتا ہے۔ جس میں ناآسودہ مردوں کے اندر (Masturbation)کرنےکا عمل بڑھ جاتا ہے۔ جسے کچھ ڈاکٹرز اور حکیم درست بھی قرار دیتے ہیں۔ مگر دونوں طرف سے یہ عوامل خطرناک ہی ہوتے ہیں٬ ادھوری خواہش کے ہاتھوں مجبور عورتیں کبھی کنوارے پن میں ہی بچہ ایکسپیکٹ کرجاتی ہیں اور بظاہر کنوارے پن کی وجہ سے کسی سےذکر بھی نہیں کرپاتیں۔اس کے علاوہ شریف پردہ دار خاندانوں کی بچیاں اس خواہش کو دبانے کی ہر ممکن کوشش میں کسی روگ میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔ جن میں سر فہرست نیند میں بولنا (Delirium) یا پھر ھذیان (Hallucination) وھم اور اضافی خواہشات (Chorea) کپکپی یا مرگھی(Nymphomania) کے دورے پڑنے لگتے ہیں نفسانی خواہش کی زیادتی میں بڑھنے لگتے ہیں٬ جس مریض کو یا تو (Nymphomaniac) یا پھر(Insanity Melancholia) پاگل پنے یا جنونی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ مسئلہ فقط اتنا ہے کہ ہمارے ہاں سیکس کو ضرورت نہیں بلکہ گناھ سمجھا جاتا ہے ٬سیکس ایجوکیشن اور انفارمیشن نہ ہونے کی صورت میں کئی پیچیدگیاں ابھرنے لگتی ہیں۔”
شہزاد اپنی تفصیلی بات مکمل کرکے چپ ہوا توساحر کی توجہ پھرسے آسیہ کی طرف اٹھنے لگی تھی اس نے سوچا شاید آسیہ بھی ان میں سے کسی ایک بیماری کا شکار ہوگی۔ اور اس نے پہلی نظر اس پر ترحم بھری ڈالی تو دوسری نگاہ میں آسیہ کے جن کو آنکھ مارنے لگا ٬آسیہ نے اسی کیفیت میں خود کو پیٹنا شروع کردیا تھا۔ جن کروٹیں بدلتا چبوترے پر لوٹتا ہوا ہانپتا کانپتا ساحر سے ٹکراکر آگے بڑھتے کچھ بڑبڑایا اور احاطے کا طواف کرنے لگا تھا،
”ساحر ادھر تو دیکھ، مرغا اب پشتو بول رہا ہے”
”ہاں بھئی جلالی بابا سے اب پشتو میں Conversation کرنے لگے ہیں۔” ساحر نے آسیہ سے نظر ہٹائے بغیر ہی کہتے ہوئے فی الفور ایک قہقہہ مارا تھا۔
”جلالی بابا کون سے آرگیومینٹس کریں گے بھئی، انکا جلال تو فقط مردوں پر ہی برستا ہے٬ جنات پڑے لوگوں پر نہیں۔” ساحر کے لہجے میں یکلخت تلخی ابھری تھی۔
”ارے بھئی بدعتی، منکر مت بول ایسا مت بول۔ جلالی بابا کو اگر جلال آگیا تو تیرا بھی صفایا کردے گا۔” مسعود نے اسے دھمکاتے ہوئے کہا،
”پہلے اس مرغے کا تو صفایا ہو، جو پشتو میں بابا جی کو گالیاں بک رہا ہے، پھر میرا بھی ہوجائے تو خیر ہے۔” وہ سر جھٹک کر ہنسا تھا۔
”توبہ ہے توبہ، کبھی نہ کوئی ولی ہو، نہ کوئی بزرگ بنے، لوگ جیتے جی تو نہیں بخشتے مگر مرنے کے بعد بھی جان نہیں چھوڑتے، قبر میں تو سکون سے سونے دیں۔”
شہزاد نے کف افسوس ملا اور مسعود دوبارہ مرغا بنے آدمی کو دیکھتے حظ لینے لگا٬
”ارے دیکھ لو اب جب پشتو کسی نے نہ سنی تو، پنجابی شروع کردی اور اب اردو میں بولنے لگا ہے۔” مسعود نے ساحر کی توجہ پھر مرغے کی طرف مبزول کروائی تھی
”ابھی رک! ابھی کہاں، ابھی تو مرغا انگریزی بھی بولے گا اور اس کے بعد دیکھنا عربی میں بھی طبع آزمائی کرے گا۔” ساحر مسعود کی بات کے جواب میں کہتے ہنس دیا۔
مقبرے کا دروازہ بند ہورہا تھا۔ آسیہ سمیت تمام عورتیں اپنے اپنے کرتب دکھاکر تھکی ہوئیں نڈھال انداز میں چبوترے پر بیٹھتی گئیں تھیں۔ اور مرغا اپنی شاندار اداکاری کے آخری مراحل میں تھا٬ کسی بوڑھے پریشان حال سے مخاطب ہوتے بولا٬
”بڈھے! تیرا بیٹا صحیح سالم حالت میں تجھے صرف نورانی سرکار کی دربار میں ملے گا۔ وہیں جاکر وہ ان تعویذات سے آزاد ہوپائے گا٬ جو اس پر اپنے ہی رشتے داروں نے تھوپے ہیں۔” بڈھا جو پہلے ہی بیچارگی کے عالم میں عاجز تھامرغے کی بات سن کر اس کے نزدیک آکر دو زانوں بیٹھ گیا،
”فقیر سائیں! میرا بیٹا نورانی پر جاکر ٹھیک ہوجائے گا نا۔۔؟؟”
”ہاں ہوجائے گا۔۔۔۔۔۔ مگر یاد کر وہ اس حال کو تیری وجہ سے پہنچا ہے۔ جہاں چاہتا تھا وہاں تو شادی نہیں کروائی تو نے اسکی، بڑا ہی ظلم کیا ہے تو نے اس پربتا بھلا کیا میں نے کچھ غلط کہا؟”
”نہ فقیر سائیں سولہ آنے سچ کہا۔ پر کیا کرون مجھ سے تو غلطی ہوگئی، اب کیا ہوسکتا ہے۔” بڈھا شرمسار ہوا تھااور دیکھتے ہی دیکھتے مرغے کے نزدیک لوگوں کا مجمعہ جمع ہوچکا تھا اور اب لوگ مرغے سے اپنے مسائل کے حل پوچھنے لگے تھے، مرغا پہنچی ہوئی روح کی طرح سب پر اپنا خود ساختہ علم جھاڑنے لگا اور لوگ بشارتیں سمیٹتے ہوئے جارہے تھے٬ مرغا لوگوں پر بشارتیں وار کر تھکا تو دعا کے لئے ہاتھ اٹھانے لگا٬
”یا اللہ اپنے اس گناھگار بندے کو نہ دیکھ، جلالی بابا جیسے ولی کے صدقے سب کی مشکلیں حل کر۔ مجھے بے شک عذاب دے دے مگر ان سب پر رحم کر۔”
ساحر اس جملے پر سر جھٹک کر ہنسا تھا اسے اس جملے کی باریکی کا علم تھا٬ مسعود ساحر کے کان کے نزدیک اپنا منہ لے جاکر پوچھنے لگا٬
”ساحر! بتا یہ عورتوں پر جن کیوں چڑھتے ہیں؟”
”یہ کچھ دیر پہلے جو بکواس شہزاد کرچکا تجھے سمجھ نہیں آئی کیا؟” وہ چھوٹا سا منہ بنا کر رہ گیا ساحر کے جواب پر
”وہ تو شہزاد نے کہا مگر میں نے تو، تم سے تمہاری سوچ ہی پوچھی ہے نا؟”
”بتائوں گا، جب سوچوں گا تو بتائوں گا٬ فی الحال تو میں رفع حاجت کے لئے جارہا ہوں۔” ساحر نے بے دلی سے مسعود کو ٹالا اور آسیہ کو آنکھ کا اشارہ دیکر مزار کے احاطے سے باہر نکل گیا٬ اور درختوں کی چھوٹی ٹہنیوں کے جھنڈ میں جاکر فارغ ہوکر کچھ فاصلے پر کھڑا ہوا، تو سامنے سے قدم تول کر اطراف میں نظر ڈالتی سنبھل سنبھل کر آتی آسیہ پر پڑی اور وہ باغ و بہار ہوگیا٬
”کدھر سے آئی ہو؟” وہ اسے نزدیک آتا دیکھ کر پوچھنے لگا
”پنڈی سے آئی ہوں۔” اسکے لہجے میں اک ادا تھی٬
”کس لئے آئی ہو؟” وہ ذرا شوخ ہوا٬
”یہ میں کیوں بتائوں”؟ وہ اُکھڑی
”چل نہ بتا، تمہاری مرضی۔”
”تمہارے ساتھ جو دوسری تھی وہ کون تھی؟”
”بہن ہے میری بڑی۔۔” عام سی بات بھی ادا سے کرتی تھی، سر جھٹک کر لاپرواہی سے
”اس بچاری کو کس جرم کی سزا میں دربدر کیا ہے؟”
”تیرا کیا جاتا ہے؟میری مرضی۔” اس نے دوپٹے کا پلو پشت پر جھٹک دیا
”کچھ تو میرا بھی لگتا ہے۔۔” ساحر کا لہجہ شوخ تھا٬
” بڑے حرامی ہو۔۔۔۔” وہ ایک شوخی سے مسکرائی
”نہ نہ۔۔وہ تو میرے بچے ہونگے”
”بیوی ہوتے ہوئے بھی ایسے کام کرتے ہو؟” شوخی سے جتاتی، مصنوعی خفگی سے بولی
”بیوی کہاں سے آئے گی۔ بس تم جیسی حسینائوں پر جہاں چلتا ہے۔”
”چل چھوڑ بھگتادے بھی۔” وہ سخت عجلت میں تھی
”تمہارا شوہر کیا کرتا ہے؟” ساحر کے سوالات بڑھ رہے تھے
”ٹرک ڈرائیور ہے”
”اور تمہارے باقی رشتہ دار؟”
”بس زندہ ہیں وہ بھی۔ سر نہ کھا، میرا ٹیم (ٹائم )نہ ضایع کرچل نزدیک آ۔۔” اس نے کھینچ کر آسیہ کو نزدیک کیا٬ اور خاص تحسینی انداز میں اسے ٹٹولنے لگا٬ گردن سے لیکر سینے تک آتا ہاتھ مچل گیا
”جسم تو قیامت ہے تیرا”
”جگہ تو کوئی مناسب دیکھتے! مسافر خانے میں چارپائی تک کہ پیسے نہیں تھے تیرے پاس؟” وہ ارد گرد دیکھتے آہستگی سے بولی٬
”یہاں تو ہر جگہ نجاست بھری ہے لوگوں کی۔”
”بھئی اب! اوقاف کھاتے والے یہان بیت الاخلا نہیں بنواتے تو میرا کیا قصور ہے بھلا، یا تو جلالی بابا خود ہی انٹرسٹڈ نہیں ہیں یہاں واش رومز بنوانے میں۔” وہ اسے ساتھ لگائے بے تکی باتوں کے جواب دینے لگا
”تو پھر کیا ہوگا؟” وہ اس کے ساتھ ہی لگی بے تکے سوال داغ رہی تھی
”تو پھر کیا!؟یہاں جتنے بھی افراد آئیں گےوہ گنے کے کھیتوں میں گھسیں گے، لوٹے لیکر۔ تو کھیتوں کا رکھوالا ڈنڈا لیکر پیچھا کرے گا دوسری طرف جاکر گند کرو٬ ادھر نہیں آؤ٬ بچارہ کھیت اگاکر ہی پچھتاتا ہوگا۔ اب کھیتوں میں بھی نجاست کا گند ہوگا تو بچے گا کیا۔۔۔”
”سچ کہتے ہو” وہ اس کہ بات پر ہنس پڑی اور ساحر کی طرف سے ملی توجہ میں کھوگئی وہ دونوں اپنی نوجوانی کے کھیتوں میں نئے بیج بونے لگے تھےاور جب پوری طرح جی بھرگیا اور وہ سیدھی ہوئی تو پوچھنے لگا کہ٬
”کل کا کیا پروگرام ہے؟”
”کل ہم شاھ موسانی کے مزار پر جارہے ہیں٬ اس دفعہ کوئی حاضری نہیں چھوڑنی۔”
”لگتا ہے ابھی تک پیٹ نہیں بھرا تیرا۔ تیرے پیٹ میں یہ جو بائوگولہ ہے نا، بڑا رُلائے گا تجھے، یہ لکھ کہ رکھ لے۔” آسیہ نے آخری بار اس سے لپٹ کر چُھڑاتے ہوئے کہا اور ایک لمبا الوداعی بوسہ لیکر چھوڑدیا،
”چلو! چلتی ہوں چکنے۔۔” ساحر چاہتے ہوئے بھی اسے مزید روک نہ سکا تھا۔ ساحر واپس آیا مرغا اب بھی درد بھری دعائوں میں مشغول تھا
”اے خدا! کل انبیا کے صدقے، کل اولیا کے صدقے۔۔۔” اس نے اپنی اداکاری کی زبان سے سارے اہم حوالے دے دئیے٬
”ابے سونے کا کیا ہوگا۔ اس مرغے کی دعائیں تو گھنٹہ بھرسے پوری نہیں ہوتیں٬ خدا ہی جانے کیا مرضی ہے اسکی۔۔” ساحر نے جمائیاں روکتے ہوئے سامنے سے گزرکر اتی آسیہ کے اطمینان بھرے چہرے کو دیکھا تو معنی خیز مسکرادیا،
”لوگ تو اپنی دعائیں بھی قبول کروا آئے۔۔” مسعود نے ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے کہا
”رہنے دو اس مرغے کی دعا ہمارے اور ہم جیسے اور اس جیسوں کے لئے بجائے دعا کے بددعاہی بن جائے گی٬ چل یار چل بستر خریدتے ہیں باہر کہیں۔” مسعود بھی تھک چکا تھا
”نہیں یار! بستر کیوں لیں یہیں پر لیٹ جاتے ہیں، اتنے سارے لوگ جو بیٹھے ہیں٬ کوئی لیٹا ہے۔” شہزاد نے انکی مشکل آسان کردی
”ابے او! چبوترے پر ہی سوجاتے ہیں نا،جلالی بابا کی پائنتی کی طرف۔” آسیہ کی پوری توجہ ان کی گفتگو پر تھی وہ آواز نہ بھی سنتی تو ان کی بات سے جیسے لہجے کے طرز سمجھ رہی تھی٬
”چل جب تک جاکر کسی ہوٹل پر چائے پی کر آتے ہیں۔ تب تک ہوسکتا ہے کہ اس مروان مرغے کی تقریر بھی کچھ اختتام کو پہنچے٬دماغ ہی چاٹ گیا ہے کب سے۔” وہ تینوں اٹھ کر چائے پینے کے لئے باہر ہوٹل کی طرف روانہ ہوگئے٬ مسعود کو پھر سے تائو آیا٬
”بےسن۔ساحر ۔یہ تو بتا کہ عورتوں کو جن کیوں آتے ہیں؟”
”پہلے چل کر چائے پی لو پھر واپس آکر بتائوں گا کہ عورتوں پر جن کیوں چڑھتے ہیں۔”ساحر ہنستے ہوئے کہنے لگا
”ٹالا نہ کر٬ ساحر یار تجھے تو پتہ ہے کہ اب میں بڑا ہوگیا ہوں۔”
”اور یہ تمہیں کس نے کہا کہ تو بڑا ہوگیا؟”
”بھئی میرا باپ کہتا ہے کہ تو اب بالغ ہوگیا ہے۔” وہ خود بھی ہنس رہا تھا یہ کہتے ہوئے
”اچھا تمہارا باپ بالغ ہوا ہے؟”ساحر بھی اسے چھیڑنے لگا
”وہ تو تب ہی ہوگئے تھے جب میری پیدائش ہوئی تھی۔”
بڑی سادگی سے کہتے ہوئے اس نے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی تو تینوں ہنس دیے
”چپ کر٬ لوگ یسوع بناکر ٹانگ دیں گے تجھے پھانسی پر۔” شہزاد نے اسے ٹوکا٬وہ تینوں باتیں کرتے چائے خانہ تک گئے ۔چائے پیتے ہوئے بھی ساحر کو آسیہ کے خیالات ہی آرہے تھے۔
شوہر ٹرک ڈرائیور ہے مہینے میں کتنے روز گھر آتا ہوگا،آتا بھی ہوگا تو رہتا کتنا ہوگا اس کے پاس۔اس کے وقت سے وقت کب ملاتا ہوگا۔۔شمال قطب ۔۔جنوب قطب۔۔کو کھینچتا ہے۔۔مخالف قطب میں اٹریکشن ہوتی ہے۔عورتیں کس حد تک برداشت کرتی ہیں کتنا سہتی ہیں۔۔عورت اور دھرتی کے اندر کس قدر اتفاق ہے٬اپنے سینے پر ہر طرح کے مظالم برداشت کرتی ہیں تو پناہ بھی خود ہی دیتی ہیں۔
وہ سوچتا ہی رہااورمسعود اور شہزاد مسافر خانی کے کمرے کے بیرونی حصے کی طرف کھڑے تھے۔کمرے کی دیوار میں جگہ جگہ سوراخ اور درزیں تھیں وہ دونوں ایک سوراخ سے لگ کر کھڑے ہوئے تو منظر نمایاں ہوگیا تھا٬کمرے کے اندھیرے سے جنگ کرتی ہوئی چاندنی بمشکل روشنی کی ننھی ننھی لکیروں کی طرح اپنی پوری جست سے کچھ حصوں میں بٹ کر بھی کمر مبھم ماحول میں غیر واضح منظر کو کچھ واضح کردیا تھا٬ایک پٹھان اپنی بیوی کے ساتھ پچھلی طرف سے سوئر کی طرح لپٹا ہوا تھا٬
”ابے۔۔او۔۔ادھر کیا نائیٹ شو دیکھ رہے ہو دونوں؟؟” ساحر کو اچانک اکیلے پن کا احساس ہوا تو اس طرف نکل آیا اور دور سے دونوں کو دیوار کے ساتھ لگے کھڑے دیکھ کر کہنے لگا٬ مسعود اور شہزاد منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسی دباتے ہوئے اس کی طرف آئےمسعود نے چہرے پر مصنوعی رعب پیدا کرنے کی کوشش کی٬
”کچھ نہیں ہے بھئی ساحر۔۔بچوں کے دیکھنے کی چیز نہیں ہے یہ۔۔”
”ارے۔۔میں تو پھر دیکھوں آخر ہوکیا رہا ہے وہاں۔” ساحر آگے بڑھا تو شہزاد نے اسے کلائی سے پکڑ کر آنکھ مارتے ہوئے کہا کہ٬
”نہیں بھئی وہاں تو بالغوں کی اصل تعلیم کا پروگرام چل رہا ہے۔اور تم ابھی نابالغ ہو۔۔”
”ابے بتائو نا! کیا ہوا جو میری بلوغت میں ابھی مہینہ ڈیڈھ باقی ہےبتائو تو ہو کیا رہا ہے۔” ساحر انہیں کے انداز میں کہتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کرنے لگا٬
”بچو صبح پوچھنا ہم سے۔۔ابھی چل کر ٹافی کھاکر سونے کی کر۔۔۔” مسعود نے اسے اسی کے انداز میں پچکارا٬اور تینوں آگے بڑھ گئےاور جلالی بابا کے صحن کے چبوترے پر جاکر بیٹھےجہاں کچھ ہی فاصلے پر آسیہ بھی سورہی تھی٬اور حقیقت میں اس کا بازو اپنی بہن کے اوپر دراز تھا البتہ خیالوں میں یا تو ٹرک ڈرائیور پریا تو ساحر پر یا پھر کسی اور چکنے پر٬ وہ سوچتے ہوئے دراز ہوا تو ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں نے نیند کو آ لیا۔۔
اور یہ وہی کوئی رات کا آخری پہر تمام ہونے کو آیا تھا٬ پہلی پو پھٹنے سے کچھ پہلے کی بات تھی کہ جب مقبرے کے اندر سے پانی کی تیز دھار لہر کسی سیلابی ریلے کی طرح سوئے ہووں کے درمیان سے گزرکر، بھونچال مچاکر آگے چلی گئی اور کئیوں کو بھگوگئی٬ ساحر مسعود شہزاد کو یہ جلالی بابا کی ناراضگی کا اظہار لگا٬ تینوں ایسے بوکھلاکر اٹھے کہ چبوترے کی دوسری جانب سوئے لوگ انکی اچانک اس افتاد پر ہنس پڑے تھے۔مسعود نے لوگوں پر اک اچٹتی سی نگاہ ڈال دی اور ساحر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسی شرارت سے گویا ہوا٬
”بے او۔۔ساحر ۔یہ تو بتاکہ عورتوں پر جن کیوں چڑھتے ہیں؟”
ساحر جو اپنی پیچھے چپکی ہوئی شلوار سے چپکی قمیص کو بمشکل درست کرتے اپنی کھسیاہٹ پر قابو پاتےجیب سے سگرٹ کا پیکٹ نکال کر ایک سگرٹ سلگانے لگا٬
”عورتوں پر جن اس لئے چڑھتے ہیں کہ ان کے شوہر اُن کے ترسے ہوئے وجود کے سگرٹ کو فلٹر کی طرف سے سلگاتے ہیں۔” شہزاد اور مسعود کو گزری ہوئی رات میں اس پٹھان کا کھیل یاد آیا تو دونوں ہاتھ پہ ہاتھ مارکر ہنس دئیے٬ باقی افراد بھی جنہوں نے ساحر کی بات کا مطلب اچھے طریقے سے نہیں سمجھا تھاوہ بھی بس انکی دیکھا دیکھی بے مقصد ہنسنے لگے٬ اور ایک اکیلی آسیہ تھی جس کے چہرے پر چپ کوئی چغلی کھارہی تھی٬جس وجہ سے وہ آدھے چہرے کو دوپٹے کے پلو کو بے دھیانی سے چھپاتے ہوئے ساتھ بیٹھی عورتوں کی اوٹ میں کھسکنے لگی تھی٬ اور ساحر کے چہرے کی مسکراہٹ رہ گئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.