لائٹ ہاؤس————فاطمہ شیروانی

تحریر:فاطمہ شیروانی

کچھ کتابیں محض کتابیں نہیں ہوتیں یہ زندگی بچانے والے ہاتھ ہوتے ہیں۔لاٸٹ ہاٶس کی مانند روشنی دکھانے والے مینار ہوتے ہیں یا پھر لاٸف بوٹس کہلانے والی وہ کشتیاں جن کا کام ہی ڈوبتے ہوے لوگوں کو کنارے پر لے جانا ہوتا ہے۔صوفیہ کاشف کی کتاب گہر ہونے تک کا شمار بھی ایسی ہی کتابوں میں ہوتا ہے جو مایوسی کے اندھیروں میں روشنی کا کام کرتی ہیں۔کتاب کا سرورق نہایت عمدہ ہے۔کتاب کھول کر ابھی میں ایک متاثر کن پیش لفظ پڑھ کر فہرست کا جاٸزہ لے ہی رہی تھی کہ اچانک سے سڈنی شیلڈن میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اس دنیا میں لے جاتا ہے جہاں جگہ جگہ اس کے آنسو اور مسکراہٹیں بکھرٸی ہوٸی ہیں۔ابھی میں سڈنی شیلڈن کا دیا ہوا حوصلہ سمیٹ رہی تھی کہ اوپرا نفرے میرے سامنے آن کھڑی ہوٸی اور مجھ سے کہنے لگی بھلا اوپرا سے زیادہ ہمت والی کوٸی خاتون ہو سکتی ہے۔اوپرا نے امید سے بھرے چند مزید ستاروں سے میرا دامن بھر دیا۔اوپرا کے آگے کھڑے پاٶلو کوٸیلو اور ولیم شکسپٕر اپنی داستان حیات کے ساتھ میرٕے سامنے موجود تھے۔وہ جتنی بار گر کر سنبھلتے تھے میرا حوصلہ مزید بڑھتا تھا۔میں صوفیہ کے لکھے ہوے لفظوں کے سحر میں گم تھی۔والٹ ڈزنی کے خوابوں کے ساتھ ساتھ چلتے ہوے میں اوخان پاموک کے پاس جا کربیٹھ گٸی جو قلم کے ساتھ دوستی نبھانے کے گر سکھا رہا تھا۔میرا قلم پھر سے رواں ہو رہا تھا۔وہ مایوسی کے اندھیروں سے نکل کر ستاروں کے ساتھ چلنے لگا تھا۔ساغر صدیقی کے آنسوٶں نے میری آنکھوں کو نم کر دیا تھا۔ممتاز مفتی سے ملاقات میں کچھ تشنگی رہی۔کتابوں پر تبصرہ خوب رہا۔کتاب مکمل کرتے ساتھ ہی میں حوصلے اور امید سے بھرے چند ستارے میرٕے وجود کے اندر دوڑنے لگے تھے۔میری آنکھیں پھر سے خواب دیکھنے لگی تھیں۔گو کہ میں نے ایک ہی نشست میں کتاب ختم کر لی تھی۔مگر امیدوں بھرے ستارے ابھی بھی میرٕٕے وجود کے اندر دوڑ رہے ہیں اور ایک اچھی کتاب کی یہی خوبی ہوتی ہے کہ وہ ختم ہونے کے بعد ختم نہیں ہوتی۔گہر ہونے تک بھی ایک ایسی ہی کتاب ہے۔

__________________

ہم سبپر پڑھیں

Advertisements