گہر ہونے تک———لعل خان

مجھے کچھ دن پہلے صوفیہ کاشف صاحبہ کی طرف سے “گہر ہونے تک” کی شکل میں ایک خوبصوت کتاب تحفے میں ملی ،میں نے تین چیزوں سے متاثر ہو کر صوفیہ صاحبہ سے ڈائریکٹ اس کتاب کی فرمائش کی تھی ایک اس کتاب کا ٹائٹل دو اس کا موضوع اور تین اس کتاب پر دیئے گئے ریویوز …میں رائٹر صاحبہ کو الف کتاب کے سلسلے “شاہکار سے پہلے” کی حد تک جانتا تھا مگر اس کتاب کے بعد اب میں انہیں بحیثیت بلاگر ،فوٹوگرافر اور صوفیہ لاگ کی وجہ سے بھی جانتا ہوں آپ کبھی ان کا نام گوگل سرچ کر کے دیکھیں ،آپ کو متعدد لنکس پر ان کے بلاگز مل جائیں گے،بلاشبہ یہ لفظوں کی جادوگری بخوبی جانتی ہیں ،میں نے کتاب کے حوالے سے ان کی لائیو وڈیو بھی دیکھی ہے ،یہ جتنا اچھا لکھتی ہیں اتنا ہی اچھا بولتی بھی ہیں

“گہر ہونے تک” دراصل ایک تحریک کا نقطہ آغاز ہے ،اس تحریک کا کوئی نام نہیں ہے،یہ ایک جذبہ ہے جو کتاب شروع کرتے وقت جنم لیتا ہے اور کتاب ختم ہونے تک پھل پھول کر جوان ہو جاتا ہے ،کتاب کو اب تک جس نے بھی پڑھا ہو گا وہ میری طرح اس تحریک کا حصہ بن چکا ہو گا جسے صوفیہ کاشف نے شروع کیا ہے … یہ کتاب عام لوگوں کے لیے بالعموم اور لکھاریوں کے لیے بالخصوص ایک بہت بڑا پیغام بھی ہے کہ صفر سے شروع کرتے وقت آپ کی نیت آگے بڑھتے رہنے کی ہے تو پھر آپ کی ترقی کی کوئی حد نہیں …آپ جیتے رہیں گے اور آگے بڑھتے رہیں گے …جہاں حوصلہ ہاریں گے وہیں سفر کا احتتام ہو جائے گا ….سڈنی شیلڈن ،والٹ ڈزنی ،ولیم شکسپئر ،اورحان پاموک اور ممتاز مفتی جیسے لوگ کسی تعارف کے محتاج نہیں مگر “گہر ہونے تک ” میں یہ سب آپ کو نئے زاویے سے پڑھنے کو ملیں گے ….رائٹر نے پوری کوشش کی ہے کہ آپ انہیں پڑھتے وقت یہ جان سکیں کہ اس دنیا میں چیزیں حددرجہ مشکل ضرور ہوتی ہیں مگر ناممکن کچھ بھی نہیں ہوتا…مجھے بحرحال سب سے زیادہ ساغر صدیقی نے متاثر کیا ہے ….میں نے اس عظیم شاعر کے اوپر اتنی تفصیل سے پہلی مرتبہ کچھ پڑھا ہے ….میں پڑھتے وقت اپنے آنسو نہیں روک پایا ….اللہ جانے لکھتے وقت صوفیہ جی کا کیا حال ہوا ہو گا ….کتاب کے آخر میں ناولز پر رائٹر صاحبہ کے تبصرے ہیں جو بہت زبردست اور متاثر کن ہیں ….کل ملا کر یہ کتاب ایک گریٹ موٹیویشن ہے ،ایک تحریک ہے جو دھیرے دھیرے پھیل رہی ہے اور یہ مایوسیوں کے صحرا میں بارش کا پہلا قطرہ بھی ہے جس کا باعث صوفیہ کاشف صاحبہ کا قلم ہے …..انہوں نے اپنا کام کر دیا ہے اب یہ آپ پر ہے کہ آپ اس قطرے کو اپنی مٹھی میں بند کر کے آسمان کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھتے ہیں یا پھر اسے صحرا کی ریت میں دفن کر کے اپنے دفن ہونے کا انتظار کرتے ہیں…….فیصلہ آپ کا اپنا ہے

مجھے ایک اور بات بھی کہنی ہے ….کسی رائٹر کی کوئی کتاب پبلش ہو اور وہ آپ کے سرکل میں ہو تو ڈائریکٹ اسے کہنے کی بجائے پبلشنگ گروپ سے رابطہ کریں تا کہ کتاب کا حق ادا ہو سکے اور آپ بعد میں میری طرح یہ سوچ کر شرمندہ نہ ہوں کہ اتنی اچھی کتاب آپ نے رائٹر کی مروت کا فائدہ اٹھا کر “مفت” میں پڑھ لی….کتاب لکھاری اور قاری کے بیچ میں ہوتی ہے اور اسے بیچ میں لانے والا صرف لکھاری ہوتا ہے …اب قاری کا فرض ہے کہ وہ قدم بڑھائے اور کتاب تک پہنچے ….نہ کہ اس بات کا انتظار شروع کر دے کہ کتاب کو اس کی جھولی میں ڈالنا بھی لکھاری کا فرض ہے ….پڑھتے رہیے

______________________

تحریر۔لعل خان

Advertisements