غموں کے بغیر زندگی__________احمد نعیم

کئ دہائیوں سے اس کے بدن میں یہ کیلیں نہ جانے کیسے بار بار اگ آتیں :ہر کیل میں نیا کرب,کیلیں اگتیں اور گر جاتیں ، پھر انہی جگہوں پر یہ دوبارہ اگ آتیں ، اسے کچھ خبر نہ ہوتی __

وہ تو بس کئی دہائیوں سے کسی طرح بیدار کھڑا تھا کسی کیل سے درد کم ہوتا کسی سے بہت زیادہ.،، کچھ تو وہ برداشت کرلیتا اور کچھ اسے بے حال کردیتیں…… مگر اسے کچھ خبر نہ ہو پاتی کیونکہ اس کی پوری توجہ صرف کھڑے رہنے پر ہوتی،، کھڑے رہنے کی اذیت میں وہ ان کربناک کیلوں سے ہونے والے درد، ٹھیس، کرب، غم ، تکلیف، ، دکھ صدمہ؛ رنج و الم، پریشانی سے بے خبر ہی رہتا حالانکہ درد کی شدت اس کے وجود میں کچوکے مار رہی ہوتی.. کھڑے رہنا شاید اس کے مقدر میں “ٹھونک” دیا گیا تھا، حالانکہ ان عرصوں میں وہ کئی مرتبہ بیٹھا؛ پر بیٹھنا اسے کب راس آتا!

برسوں سے اس کی یہی تمنا رہی کہ وہ بیٹھ جائے…

آج ہر کیل سے نکلنے والے درد کی شدت کچھ زیادہ ہی شدید تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنی کہ وہ برداشت نہ کرپاتا، مگر کئی دنوں سے اس کے اعصاب میں دفاعی طاقت کم لگ رہی تھی وہ بدستور بیداری کے ساتھ بے خبری میں کھڑا تھا مگر آج درد کے کچوکے ہتھوڑے کی مار کی طرح لگ رہے تھے۔۔۔۔۔۔ آج وہ درد سے با خبر ہوا بیٹھنے کی تمنا اب اسے زندگی کی ضرورت محسوس ہورہی تھی حالانکہ کھٹرے رہنا بھی زندہ رہنے اور رکھنے کیلئے ضروری تھا، مگر آج وہ بیٹھنے کا شدید خواہش مند تھا….

جب کبھی وہ بیٹھتا تو وہ کیلیں اس کے بدن سے غائب ہو جاتیں،، کھڑا ہوتا تو یہی کیلیں درد کے ساتھ دوبار نمودار ہو جاتیں _ بیٹھنے پر نہ کیلیں ہوتیں نہ درد۔ وہ بیٹھنے کے کم وقفے میں بھی کئی دہائیاں خوشحالی سے جی لیتا!

آج بھی وہ کچھ دیر کے لئے خوشحال زندگی کا لطف لینا چاہتا تھا..، آج وہ برسوں بعد شدید چاہت لے کر بیٹھ ہی گیا، مگر پہلے کی طرح اس کے بیٹھنے پر اسے کوئی لطف نہیں آرہا تھا _ہاں مگر ____________غم بھی نہیں تھے نہ ہی کیلیں, وہ اب غموں کی بجائے خوشی اور مسرت سے بے خبر تھا خوشی پر تو اس کی توجہ نہیں گئی ۔۔۔۔ ہاں مگر اسے غموں کا خیال ضرور آیا۔وہ خوشی کے بغیر تو برسوں سے جی رہا تھا ، مگر آج اسے غموں کے بغیر بیٹھنے کے لمحات بے چین کر رہے تھے۔وہ اپنی بیٹھنے کی تمنا بھول گیا اور ایک ہی جھٹکے میں کھڑا ہوگیا، اسے انتظار……. ان کیلوں کا ان سے ہونے والے درد کا ۔

*******

احمد نعیم

مالیگاؤں ناسک مہاراشٹر انڈیا

فوٹوگرافی وکور ڈیزائن:صوفیہ کاشف؛

Advertisements

2 Comments

Comments are closed.