گرہن__________فرح دیبا چنگیزی

ترجمہ: سدرت المنتہی،

_______________
اسے پہلے بار یونیورسٹی میں دیکها تها
پہلی بار میں ہی اس کی آنکهیں میگهہ ملہار لگیں تهیں
آنکهیں میگهہ ملہار…پہلی جهلک میں ہی کهوجانے والی کیفیت طاری تهی
وہی جو شروع سے سادہ اور سلجهی ہوئی سی..
وہی جو تحمل اور فکر سے مزین..
وہی جو شعور کی پہلی دستک پر کان دهرنے والی..
وہی کهوگئی
جس نے اب تک خود کو کتابوں کے اندر ہی گم پایا تها
کبهی بهولے سے بهی کسی نظر کے عتاب میں نہ آسکی تهی
اور اب مسکراتی ہوئیں آنکهیں..
چہرے پر بشاشت..رونق سی زندگی کی..ہل چل..لئے ..جس نظر نے کبهی چاہ کا جام نہ پیا تها
وہ کهوگئی..
پہلی ہی بار میں جب وہ سلجهی ہوئی سسی یونیورسٹی پہنچی تهی اور گیٹ کے اندرونی احاطے کے ساتهہ اس مسکراتے چہرے کو کهویا ہوا دیکها..
پایا..اور خود کو کهو بیٹهی
..جب وہ گیٹ کی پشت سے ٹیک لگاکر بیٹها اپنی بڑے شیشوں والی عینک کو صاف کررہا تها
سیما نے اک لمحے میں جن آنکهوں کے دریچوں میں اپنا عکس دیکها تها
اور اس کی آنکهوں کے اندر پلتے ہوئے سپنوں کے تمام بند ٹوٹ کر بکهر گئے..
دل کی دهڑکنوں کی رفتار تیز ترین ردهم میں آگئی تهی..
تبهی راہداریاں عبور کرتے ہوئے
اس نے خود بے دریغ ہونے سے سمجهایا تها
یہی کہ کچهہ خوابوں کے بوجهہ بہت بهاری ہوتے ہیں..
انہیں آنکهوں کے دریچوں کے اندر پناہ دینے کے بعد دنیا چاہے رنگین نظر آئے مگر مگر سود و زیاں کا حساب کتاب زندگیاں تیاگ دینے کی کشمکش رکهتا ہے
تمام شب ہاسٹل کے روم میں..بستر پر لیٹے لیٹے چهت کو چت گهورے ہوئے..خود سے کئی لڑائیاں لڑلیں..
مگر کہاں..جب دل بس سے باہر ہوکہ بس اک ہی صدا الاپے تو آنکهوں کے دریچے بهی سو بار بهیگتے ہوئے اک ہی خواب کی حسرت میں اڑان بهرتے ہیں خواہش کی..
اور صبح رت جگے سے تهکی آنکهیں..کلاس کے کهلی کهڑکیوں میں کهوئی رہیں..تب بهی اس نے خود کی اور بارہا دل کی نفی کی تهی
..مگر بے سود..
وہ اپنی تمام ہستی جیسے کہیں کهوبیٹهی تهی
دوسرے روز بهی اسے دیکهنے کی تمنائی رہی..مگر وہ کلاس سے باہر بیرونی دروازے کے اندرونی احاطے میں موجود نہ تها.
اور جب کلاس سے باہر احاطے میں نکلی تو سنگی بینچ پر وہی شخص..وہی پرسکون چہرہ اور مدهم مسکراہٹ..
وہ یک ٹک دیکهے گئی..
وہ بهی جیسے اسی میں تو کهویا تها.آخر یے مسکراہٹ کسی راز کا تو پتہ دیتی ہی تهی
اس کی گود میں کتابیں دهری تهیں جن پر ہلکے سے اس کے ہاتهوں کی پڑتی دستک کوئی ہلکا سا ساز عجب طرح کا چهیڑتی تها
اور اس کے بعد جب بهی سیما نے اسے دیکها تها
یونہی کتابوں پر دستک دیتے یا پهر بنسری بجاتے ہونٹ..
جیسے وہ کائنات کے رنگوں سے کوئی رنگ چرانے کی کوشش کرتا اور خواہش رکهتا ہو.
کالے شیشوں کے پیچهے چهپی آنکهیں..
چہرے پر مدهم مسکراہٹ..اور اس قدر زندگی کا اطمینان
اسے بس وہ نگاہیں ہر طرف سے خود پر ہی محسوس ہوتی تهیں..جانے کیوں..
وہ میگهہ ملہار سی آنکهیں..
جب اس نے عینک اتارکر صاف کی تو وہ گیلی آنکهیں..
اسے لگا اسی کو تو دیکهنے آتا ہے..
خدا جانے خوش فہمی ہی تهی کہ آس..جو نراس بننے لگی تهی
وہ مدهم چپ میں تهی..مگر منتظر..
اسے نے کبهی کلاس کے اندر آتے ہوئے نہ دیکها تها اسے..
بس یونہی..کبهی دروازے پر..کبهی راہداری..تو کبهی سنگی بینچ پر بیٹها..کهویا ہوا..
کون تها وہ..
اس کی پہنچ سے دور..
اور اسی کے ڈپارٹمنٹ کے پاس کیا لینے آتا تها.خود سے کئی سوال..
اور ہر جواب..اس کا خود ساختہ..پهر وہی تهکن..وہی بوجهہ..
جسے جهیلتے ہوئے چار سال کس طرح بیتے یہ وہ خود بهی مکمل طور پر جاننے سے جیسے قاصر تهی..
بس محدود تر ہوتی گئی..
سکهی سہیلیوں سے بهی دور.اپنے دل کے جہاں اور سوچ کے تصور میں آباد..
وہی خاموش لب..اور بهیگی آنکهیں لیئے بیٹها وہ پرسکون شخص..
آخر وہ یے عینک اپنی میگهہ ملہار جیسی آنکهوں سے اتار کیوں نہیں دیتا..
آنکهوں کو اس قید کا عادی کیوں بنایا ہے..
اس کی مدهم مسکراہٹ جو کئی راز آشکار کرتی تهی.
وہ لب سلے ہی کیوں تهے.وہ اس سے کچهہ کہتا کیوں نہیں تها..
اے کاش کہ کبهی وہ اس سے گفتگو کرے..یا پهر ان گم ہوتی نظروں میں اپنا کهویا آپ دریافت کرنے میں کامیاب ہو ہی جائے
چار سال کے عرصے تک وہ بس اپنا آپ گنواتی رہی..
خود کو کهوتی رہی..
اور وہ اچانک ہی کبهی کهوجایا کرتا تها..
حالانکہ کئی نگاہیں اس طرف اٹهیں..اسے گلاب موتئے دان کئے..مگر وہ کسی کهلتے ہوئے گلاب پر کیوں نظر چڑهاتی..کہ نگاہ اور سانسوں کی مہک کسی اور مہک سے آشنا ہوچکی تهیں
وہ جو رابیل رت میں تنہا رہی تهی..
ان آنکهوں کی تمنائی بنی رہی..
اور وہ ہاتهوں کی دستک..وہ بجتی موسیقی..
وہ مدهم سر..
وہ دهیمی مسکراہٹ..
اور بس اک حیات..
یونیورسٹی کی چار بہاریں گزرچکیں..
پانچویں بہار اختتام کو تهی..
جب اسے ہمیشہ کے لئے یہاں سے الوداع لینی تهی..
اور دل جو آخری بار اسے دیکهنا چاہ رہا تها..
اس کے ہونٹوں سے کچهہ سننے کا تمنائی.کچهہ کہنے کا مدعی..
اور تبهی
وہ اپنے بقئیہ جات سمیٹتی ہوئی
.مارک شیٹس..سرٹیفکیٹ لئیے ڈپارٹمینٹ کی ہیڈ میڈم رافعہ کے آفس جب وہ پہنچی تو اسی شخص کو وہی کرسی پر براجمان پایا تو جیسے دهڑکنیں تهم سی گئیں
وہی عینک کے اندر چهپی نگاہیں..
وہی مدهم مسکراہٹ
اور وہی اطمینان بهرا انداز..
اس کا جی چاہا ایک بار تو جاتے سمے اس سے شکوہ کرے..اور جهنجهوڑدے .
گرہن زدہ سا..خاموش شخص جس نے کسی کی زندگی میں وہ خاموشیاں رہنے نہ دیں.
مگر اک اچهوتا احساس لئیے..سب ویسا
.جیسا پہلی بار دکها تها..
میڈم رافعہ نے اسے مخاطب کرکے تعارف کرایا تها..
پہلی آشنائی اور اس قدر ہولناک..
یہ میرا چهوٹا بهائی عدیل ہے..
میرے ساتهہ ہی رہتا ہے
سیما نے حیرانی سے اسے دیکها جو اب تک منجمند سا تها
میڈم رافعہ کا لہجہ یکدم اداسی میں گهر گیا تها
عدیل بچپن سے ایبنارمل ہے.
دیکهہ نہیں سکتا..اس پر سورج گرہن کا اثر ہوا تها
سیما جیسے سناٹے میں آگئی تهی.
جب تک یہاں ہوتی ہوں میرے ساتهہ ہوتا ہے..ساتهہ ہی گهر لوٹتے ہیں..
والدین کے بعد بس اک میں ہی اس کے لئیے سب کچهہ ہوں..بہن بهی اور ماں بهی..
نم آلود لہجے میں صدیوں کی تهکن تهی
وہ اب تک ایستادہ تها..منجمند تها
یک ٹک ایک ہی طرز کا تاثر..وہی مسکراہٹ جو قائم تهی
سیما کا دل کیا کائنات میں بهونچال مچادے.بمشکل قدم تیز کرتی آفس سے باہر آئی..
گلے میں کوئی آنسو اٹکا تها کہ جیسے کانٹا چبها..
دل پر کوئی بهاری پتهر..
یونیورسٹی کے احاطے کو خزاں رسید پتوں نے رنگ چڑهایا تها
اور اس کے دل پر..اک خاموش دستک جس نے طوفان کا روپ دهارلئیاہو..
جس سے اک رنگ خزاں رسیدہ اس کے وجود سے لپٹ گیا تها جیسے..
اور اس کی تمام حیات پر جیسے خزاں کے سارے اجڑے رنگ بکهرتے گئے.

۔۔۔۔۔۔

فوٹو گرافی و کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

Advertisements