نیکی————زارا رضوان

کہتے ہیں کہ نیکی کر دریا میں ڈال۔۔ اور صدقہ ایک ایک ہاتھ سے دو تو دوسرے ہاتھ تک کو پتہ نہ چلے۔۔ لیکن آجکل عجیب ہی نظام چل پڑا ہے۔۔  یہاں نیکی کرکے دریا میں ڈالنے کی بجائے آٹے کا تھیلا دے کر فوٹو بناتے وقت غریب اِنسان کی عزت کو ہی پانی میں بہا دیا جاتا ہے۔ دوسرے ہاتھ کو خبر کیا ہونی پورے معاشرے میں اُس کی پہچان کروا خبر دی جاتی ہے کہ آؤ اور دیکھو میں نے اسکے ساتھ نیکی کی۔۔ کسی کی مدد کی جاتی ہے تو تصاویر لیکر اُسکی جگہ جگہ تشہیر کرنا فرض سمجھا جاتا ہے بناء یہ سوچے کہ جانے کیسے وہ غریب اپنی عزتِ نفس کو مار کر تصویر بنوا رہا ہے تاکہ تھوڑا سا راشن مل سکے اور دو وقت کی روٹی سے بچوں کا پیٹ بھرسکے۔۔

 

یہ نیکی ہوئی نہ اللہ کو ایسی نیکی چاہیے جس میں کسی کی عزتِ نفس کا کا گلا گھونٹ کر بھوک مٹانے کا سامان کیا جائے۔۔ اللہ کو ایسی نیکی سے کوئی غرض نہیں جو جذبات و احساسات کا قتل کر کے کی جائے۔۔


میں نے ایسے کئی لوگ دیکھے ہیں جو صرف اور صرف اللہ کی خوشنودی کیلئے دِل کھول کر اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، اِنسانی جذبے کے تحت کئی لوگوں کی امداد کرتے ہیں۔۔ صدقہ خیرات کرتے ہیں مگر کسی سے ذکر بھی کیا ہو، دیکھا نہ سنا۔۔۔


اِسلام غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کا درس دیتا ہے جو ایک بہت بڑی نیکی ہے لیکن یہ نہیں کہتا کہ اُس نیکی کو نشر کرو کیونکہ وہ خالصتاً اللہ کا اور تمہارا معاملہ ہے۔ لہذٰا مدد کریں، ضرور کریں لیکن ایسے کہ کسی کو خبر ہو نہ اُس غریب کی عزتِ نفس مجروح ہو۔ سفید پوش لوگوں کی سفید پوشی کا بھرم رکھیں۔ تصاویر بنا بنا کر اپنی نیکی کی تشہیر کرکے اُنکو، اُنکے اہل و عیال خصوصاً بچوں کو دوست احباب، عزیزواقارب میں شرمندہ نہ کروائیں کہ کوئی اُنکو ایسے لقب سے پکارے جس سے اُن کے سر جھک جائیں۔

 

اللہ سوہنا ہم سب کو ہدایت دے اور نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا ! آمین

__________________

تحریر:زارا رضوان

فوٹوگرافی:عرفان زاہد

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

Advertisements