گمشدہ آواز_______ارشد معراج

———————————

تمہارے واسطے میں ان گنت صدیوں سے بھٹکا ہوں

جہاں لامنتہا کے پاؤں سے سورج نکلتا تھا

فرشتے سجدہ کرتے تھے

تمہیں میں نے وہاں سوچا

جہاں جیون پنگھوڑے میں پڑے بچے کی صورت اونگھتا رہتا

انگوٹھا چوستا رہتا

تمہیں میں نے وہاں ڈھونڈا

جہاں شیشم کے پیڑوں پر

پڑے جھولوں پہ بیٹھی لڑکیاں ہجرت بھرے نغمے سناتی تھیں

تمہیں میں نے وہاں چاہا

جہاں چوپال میں بیٹھے ہوۓ بوڑھے

کسی برگد کی آسودہ غنودہ چھاؤں جیسے تھے

تمہاری گوری رنگت پر

کئی نظمیں تراشیں اور سمندر میں بہائ تھیں

دھنک کے سات رنگوں اور

سروں کے سات پوروں پر

کئی پیغام بھیجے تھے

تمہیں مل تو گئے ہوں گے

_________________۔

کلام: ارشد معراج

فوٹوگرافیو کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

ماڈل : وجاہت

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.