زیرِنقاب (1)____________غضنفر کاظمی

تعارف:غضنفر کاظمی

میں 29 اکتوبر 1946ءکو انبالہ میں پیدا ہوا، تشکیل پاکستان کے بعدمیرے والدین پاکستان آگئے، انبالہ میں میرے والد سید مبشرحسین کاظمی کا ایک بجلی کا کارخانہ ، ایک باغ اور کنواں تھا لیکن جب پاکستان کی آزادی کا اعلان ہوا تو سب کچھ چھوڑ کر پاکستان کی جانب عازم ہوئے، پاکستان آئے تو والد کے پاس وہی دولت تھی جو آنے سے قبل زیور فروخت کرکے حاصل کی تھی یا وہ رقم تھی جو پہلے سے گھر میں موجود تھی، پاکستان آکر پہلے جہلم چلے گئے جہاں مشین محلہ نمبر تین میں ایک مکان کرایہ پر لے کروہاں رہائش اختیار کی اور خود کاروبار جمانے کی کوشش کی لیکن دال نہ گلی چنانچہ وہاں سے لاہور آگئے اور شام نگر میں اپنی والدہ کے ہمراہ شام نگر میں رہنے لگے ، وہ مکان اصل میں میرے پھوپھا یعنی مبشر کےبہنوئی نذر حسین کا تھا جہاں مبشر کی والدہ بھی رہتی تھیں، وہاں انہیں گیراج رہنے کے لئے دے دیا گیا۔ میرے والد مبشر حسین بیماری کا شکار ہوگئے جو آہستہ آہستہ ٹی بی میں بدل گئی، ابتدا میں ان کا علاج راج گڑھ میں ایک ڈاکٹر نجمی سے ہوتا رہا، پھر وہاں سے رہائش تر ک کرکے راج گڑھ میں ایک مکان کرائے پر لے کروہاں چلے گئے، جہاں میری ایک خالہ بھی ہمارے پاس آکر رہنے لگیں، جنہیں آزادی سے قبل ہی ان کے شوہر نے علیحدہ کردیا تھا۔

کچھ عرصہ وہاں رہنے کے بعد ہم شیش محل روڈ پر ایک ایسے مکان میں آگئے جو ایک ہندو کی ملکیت تھا اور اس نے وہ ایک مسلمان کے پاس گروی رکھا تھا، ہم نے وہ مکان بیس روپے ماہانہ کرائے پر حاصل کیایی، یہاں آکر میرے والد نے نیلا گنبد میں سائیکلوں کی ایک دکان شروع کردی اور پاکستان میں پہلی مرتبہ ولائتی سائکل ریلے متعارف کرائی پھر جاپانی سائیکل پرنس بھی انہوں نے متعارف کرائی لیکن بیماری کے سبب ان کا زیادہ وقت گھر یا ہسپتال میں گزرتا جبکہ دکان کا سارا انتظام ایک پارٹنر کے ہاتھ میں ہوتا جس سے اس بنیاد پر پارٹنر شپ ہوئی تھی کہ پیسہ میرے والد کا تھا اور محنت ان کے دوست محمد حسین کی۔ اسی طرح بیماری کی حالت میں وہ موت سے لڑتے رہے اور آخر کار 29 دسمبر 1963 ءکو اس دارفانی سے رخصل ہوگئے۔ان کی موت کے وقت میں میٹرک میں تھا لیکن ان کی بے وقت موت کی بنا پر تعلیم جاری نہ رکھ سکا اور مجھے ملازمت کرنا پڑ گئی کیونکہ میرے والد کے شراکت دار نے پورے کاروبار پر قبضہ کرلیا اور جب میں والد کی وصیت کے مطابق ان سے حساب کرنے گیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ میرے والد ان کے مقروض تھے حالانکہ اس وقت پوری مارکیٹ نے ان کی لعنت ملامت کی اور کہا کہ تم ایک یتیم اور سید کا حق غصب کررہے ہو یہ اتنی آسانی سے ہضم نہ کر سکوگے لیکن ان پر اس وقت شیطان سوار تھا لہذا انہوں نے کسی کی نہ سنی اور میں مایوس و ناکام گھر لوٹ آیا۔

میں نے عملی زندگی میں قدم رکھا اور قدم قدم آگے بڑھتا رہا، چپراسی، سیلز مین، فلم میں ایکسٹرا کے طور پر اور بے شمار کام کئے اسی طرح ترقی کرتا رہا جبکہ ساتھ میں تعلیم بھی جاری رکھی اور ترقی کی منازل طے کرتا رہا، 29 جنوری 1971ءکو میری والدہ نے میری شادی اپنی ایک دوست کی بیٹی شگفتہ سے کرادی، میری والدہ اور ساس دونوں اکٹھی دینی محافل میں شرکت کیا کرتی تھیں، بہرحال میں ترقی کی منازل طے کرتا رہا اور پھر ایک روز اس مقام پر پہنچ گیا جب ایرانی قونصلیٹ میں آفیسر تعلقات عامہ کے طور پر کام شروع کیا پھر خانہ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران میں آقای صادق گنجی نے بطور ڈائریکٹر جنرل کام شروع کیا تو انہوں نے مجھے خانہ فرھنگ میں کام کرنے کی دعوت دی اور میں نے خانہ فرہنگ میں اسی حیثیت میں یعنی بطور آفیسر تعلقات عامہ کام شروع کردیا 19 دسمبر 1990ءکو آقای صادق گنجی کو سروسزانٹرنیشنل ہوٹل کے گیٹ پر ان کو شہید کردیا گیا ان کے بعد تین سال میں مزید وہیں کام کرتا رہا اور پھر وہاں سے کام چھوڑدیا اور روزنامہ جرات میں کام شروع کردیا، اس دوران میں روزنامہ دن میں بطور سب ایڈیٹر اور روزنامہ آج کل میں بطور ایڈیٹوریل اسسٹنٹ کام کرتا رہا لیکن جب وہاں سے کام چھوڑا تو ہمیشہ روزنامہ جرات میں ہی گیا اور جرات کے مالک اور چیف ایڈیٹر جمیل اطہر قاضی نے ہمیشہ مجھے قبول کیا اور اب تک اسی اخبار سے منسلک ہوں۔

میری زندگی میں مختلف رنگ ہیں میری زندگی کا گراف عجیب و غریب ہے کبھی پاتال میں گیا اور کبھی اوج ثریا پر پہنچا، اسی اتار چڑھاﺅ میں زندگی بسر کرتا اب زندگی کے آخری ایام بسر کررہا ہوں۔ سانس کا مریض ہوں اور ہر وقت آکسیجن لگائے رکھتا ہوں اس کے بغیر سانس نہیں آتا اور اب بھی روزنامہ جرا¿ت میں اداریہ نویس کے طور پر کام کرتا ہوں اور گھر سے ہی اداریہ کمپوز کرکے دفتر میل کردیتا ہوں اور یہ جمیل صاحب کی مہربانی ہے کہ وہ اس پر بھی مجھے پوری تنخواہ دے رہے ہیں جس سے میں اپنا علاج اور دیگر ضروریات پوری کرتا ہوں۔

اللہ تعالی نے مجھے دو بیٹے اور تین بیٹیاں عطا فرمائیں۔ بڑا بیٹا موسی رضا روزنامہ جرا¿ت میں ہی سرگودھا ایڈیشن کا انچارج ہے جبکہ اس سے چھوٹا بیٹا عمران عباس ٹیکسٹائل ڈیزائیننگ کا کام کرتا ہے، تین بیٹیوں میں سب سے بڑی جویریا ایم اے کے پہلے سال میں تھی کہ اس کی شادی ہوگئی اور وہ اپنے شوہر عمار کے ساتھ جبکہ اس سے چھوٹی بیٹی سکینہ عباس (سیبا) اپنے شوہر ساجد کے ساتھ اور سب سے چھوٹی بیٹی قراة العین ( اینی) اپنے شوہر سروش کاظمی کے ساتھ گوجرانوالہ میں زندگی گزار رہی ہیں۔ میرے ہم زلف غلام حیدر نے اپنا گھر جوہر ٹاﺅن میں تعمیر کرایا تھا اور میری خواہر نسبتی عروسہ نے اپنے گھر میں ایک کمرہ دے دیا ہے، جس کا کوئی کرایہ نہیں دینا پڑتا اور نہ ہی بجلی یا گیس وغیرہ کا بل دینا پڑتا ہے مجھے جو تنخواہ ملتی ہے اس سے اپنی دواﺅں اور غذا کاخرچہ پورا کرتا ہوں میری دوائیں بہت مہنگی ہیں اصل میں دس گیارہ ہزار کی تو آکسیجن گیس آتی ہے جبکہ چھ سات ہزار کی ادویات ہیں باقی خوراک کے اخراجات جو اللہ پاک کا شکر ہے کہ باعزت طریقے سے پورے ہورہے ہیں۔

اب آپ میری زندگی کی داستان پڑھئے جو میں نے صوفیہ کاشف کی فرمائش پر ابھی تحریر کی ہے جب کہ میری یاد داشت بھی کمزور ہے اور بے شمار واقعات جو میرے ذہن سے اتر گئے وہ نہیں لکھ سکا، بلکہ اگر یہ کہوں کہ یہ میری ادھوری زندگی ہے تو غلط نہ ہوگا بہرحال میں محترمہ صوفیہ کاشف کا ممنون ہوں جو اب میری بیٹی ہی ہیں کہ انہوں نے مجھ سے یہ واقعات تحریر کرائے اور یہ انہی کا حوصلہ اور محنت ہے کہ میں یہ سب لکھ پایا اس لئے اس تمام کا سہرا میری منہ بولی بیٹی صوفہ کاشف کے سر ہے اب آپ میری زندگی کی رنگین و سنگین کہانی پڑھیں اور پھر اپنی رائے سے نوازیں۔

آپ کا اپنا

غضنفر کاظمی

———————————————–

زیرِنقاب

باب 1

غضنفر کاظمی

آسمان پرسیاہ بادلوں نے ڈیرے جما رکھے تھے، بجلیاں بار بار رقص کرتی نظر آتیں، کبھی کبھی تو بجلی اس قوت کے ساتھ چمکتی کہ اوپر سے نیچے تک ایک لکیر بن جاتی اور ایسا محسوس ہوتا گویا کوئی ناگن تڑپ رہی ہو، پھر اچانک بجلی اتنی زور سے کڑکی کہ کڑک سننے والوں کے دل دہل گئے اور اس کے ساتھ ہی جل تھل شروع ہوگئی، بادل بڑے زور سے پانی برسا رہے تھے، چند ہی منٹ میں زمین کا ماحلو جل تھل ہوگیا، گلیوں اور بازاروں میں پانی جمع ہوگیا، شریر بچے اس پانی میں اچھل کود کرنے لگے، میں کمرے کی کھڑکی کھولے بیٹھا آسمان سے برستے پانی کا نظارہ کررہا تھا، نہ جانے کیوں سوچ کا دھارا ماضی میں سفر کرنے لگا ایسا ہی سماں تھا، دھواں دھار بارش برس رہی تھی، میں شائد سات آٹھ سال کاہوں گا، میں ایک نیکر پہنے اپنی ایک سالہ خالہ زاد بہن کو گود میں اٹھائے بارش کے پانی میں اچھلتا ہوا اس کو ہنسارہا تھا اور جب میں پانی میں چھلانگ لگاتا اور پانی اچھل کر ہم پر پڑتا تو میری بہن قہقہ لگا کرہنستی، اسی طرح کھیلتے ہوئے میں اپنی گلی کے آخری گھر کے دروازے پر پہنچا اس میں میری امی کی ایک دوست رہتی تھیں جن کے گھر میں اکثر جاتا رہتا تھا اس دن بھی میں نے سوچا کہ چلو تھوڑی دیر ان کے گھر بیٹھتے ہیں میں جیسے ہی دروازے میں داخل ہونے لگا اچانک مجھ پر بھڑکی ہوئی بھڑوں نے حملہ کردیا ۔ اصل میں وہاں پر بھڑوں کا ایک چھتہ تھا جو تیز بارش کی بنا پر گیلا ہورہا تھا بارش سے بھڑیں بھڑک کر وہیں پر بھنبھنا رہی تھیں، میری ان پر نظر نہ پڑسکی تھی ، بس پھر کیا تھا میں چیختا ہوا واپس گھر کو بھاگا، شکر یہ ہوا کہ میں نے اپنی بہن کو نہیں پھینکا اس کو اسی طرح اٹھائے ہوئے گھر گیا، ہم دونوں بری طرح رو رہے تھے کیونکہ مجھے پندرہ سے زیادہ اور میری بہن کو سات سے زیادہ بھڑوں نے پیار کیا تھا، چند ہی منٹ میں ہم دونوں بہن بھائی ورم سے موٹے ہونے لگے ان دنوں میرے تایا زاد بھائی آج کے پروفیسر حسن عسکری کاظمی ان دنوں ایم اے کررہے تھے اور ہمارے ہی گھر میں رہتے تھے، انہوں نے مشورہ دیا کہ فوراً جہاں جہاں بھڑوں نے کاٹا ہے وہاں مکھی پکڑ کر مل دو، اس کے ساتھ ہی وہ خود بھی مکھیاں پکڑنے لگے اور میرے بڑے بھائی شبر کاظمی بھی ان کے ساتھ مکھیاں پکڑنے میں شامل ہوگئے، بہرحال قصہ مختصر انہوں نے ہمارے جسموں پر مکھیاں ملیں اور حیرت انگیز طور پر مکھیوں کے ملنے سے جادوئی اثر ہوا ایک تو ٹیسیں فوری ختم ہوگئیں دوسرے ورم بھی رک گئی اور پھر کچھ دیر کے بعد جو ورم ہوچکی تھی وہ بھی ختم ہوگئی اور ہمارے بدن نارمل ہوگئے۔

اسی وقت بادل زور سے گرجے اور میں یادوں کے عذاب سے نکل آیا ، گرج کے ساتھ ہی بجلی زبردست طریقے سے چمکی ساتھ ہی کڑکڑاہٹ گونجی، میں نے سوچا یقینایہ بجلی کہیں گری ہے، میں نے کھڑکی سے سر باہر نکال کر گلی میں جھانکا وہاں اب بچے ایک دوسرے پر پانی اچھال رہے تھے، میں نے ٹھنڈی سانس لے کر کھڑکی بند کی اور آکر بستر پر بیٹھ گیا، میری کمر دکھنے لگی تھی اس لئے میں لیٹ گیا اور لیٹ کر آنکھیں بند کرلیں…….. اب میں ایک بار پھر ماضی میں سفر کررہا تھا ، نہ جانے کیوں میرے خیالوں میں ایک خوبصورت چہرہ آگیا، ہاں یہ پروین تھی میری پہلی محبت، ان دنوں میرے خالہ زاد بھائی نزہت بخاری نے سمن آباد میں ایک کوٹھی کرائے پر لے کر وہاں رہائش رکھی ہوئی تھی، ہمارے سکول میں موسم گرما کی تعطیلات تھیں اور میں ان کے گھر گیا ہوا تھا، ایک روز شام کو نہا دھوکر میں گیٹ پر آکر کھڑا ہوگیا ہمارے سامنے والے بنگلے میں کوئی فلم ڈائریکٹر رہائش پذیر تھے، ان کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں بڑی بیٹی تھی جس کا نام پروین تھا، میں اپنے گیٹ کھڑا ادھر ادھر دیکھ رہا تھا اچانک مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میرے سامنے دو پریاں آئی ہوں میں یک ٹک ان کی جانب دیکھنے لگا، نہیں معلوم کتنا وقت گزرا ، وہ دو پریاں کچھ دیر بعد واپس گھر کے اندر چلی گئیں، مجھے احساس نہیں کہ کتنا وقت گزرا تھا البتہ اتنا ضرور یاد ہے کہ بڑی بہن کا قاتل چہرہ میرا دل چیر گیا تھا، پھر میں نے پتہ لگایا کہ اس کا نام پروین ہے چھوٹی کا یاسمین اور اس کے بھائیوں کے نام اشرف اور کمال ہیں۔ میری اٹھتی عمر تھی اس عمر میں عشق کا روگ بہت خطرناک ہوتا ہے، میں گھنٹوں اس کے انتظار میں گیٹ پر کھڑا رہتا، نہ دھوپ دیکھتا نہ گرمی، آخری میرا جنوں رنگ لایا اور اس نے مجھ سے گفتگو شروع کی، وہ ایک نجی سکول میں آٹھویں کلاس میں پڑھتی تھی ، جب اس سے دوستی ہوئی تو میں ہر روز اس کو سکول چھوڑنے جانے لگا، جب بے تکلفی ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ چاہے جانے کے قابل نہیں تھی بلکہ حد سے زیادہ آزادخیال اور …….. بس۔ چھوٹی بہن اس کی عمر سے آدھی تھی لیکن پھر بھی دونوں ہم راز تھیں، میری ایک عادت بچپن سے ہے کہ میں لڑکیوں سے ایک حد تک تعلقات رکھتاہوں اور کبھی حد سے آگے نہیں بڑھا، جب وہ حد سے گزرنے لگی تو میں نے ان سے ناطہ توڑلیا اور سمن آباد سے واپس اپنے گھر آگیا، میں کئی روز بجھا بجھا سا رہا ، اس بارے میں میری امی جان نے، شبر بھائی جان نے مجھ سے کئی بار پوچھا بھی کہ میں بجھا بجھا کیوں رہتا ہوں لیکن میرے پاس ان کے لئے کوئی جواب نہیں تھا لیکن بہرحال آہستہ آہستہ میں ذہنی طور پر بحال ہونے لگا اور پھر سے وہی شوخ وچنچل باتیں شروع کردیں۔

اس کے بعد کئی ایک لڑکیوں سے محبت ہوئی لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑتی رہیں، کبھی کسی لڑکی نے بے وفائی کردی کبھی میں نے بے وفائی کی اس طرح رشتے بندھتے اور ٹوٹتے رہے۔ پھر ایک روز ایسا ہوا کہ میری رشتے کی ایک خالہ کی بیٹی شازی سے سنجیدہ نوعیت کی محبت ہوگئی ، لیکن یہ بھی راستے میں ہی دم توڑ گئی، اگر راستے میں دم نہ توڑتی تو شائد اس کا انجام شادی پر منتج ہوتا لیکن وہ قسمت میں نہیں تھی۔ ہوا یہ کہ ایک روز میں اپنے دوست کے ساتھ شالیمار باغ جارہا تھا ابھی شالیمار باغ کا داخلی دروازہ کچچھ فاصلے پر تھا کہ میری نظر سامنے سے آتی اس رشتے کی خالہ کی بیٹی شازی پر پڑی جو اپنی ایک دوست کے ساتھ سکول سے آرہی تھی، شازی وہیں ایک گورنمٹ گرلز ہائی سکول میں زیر تعلیم تھی، اس کو دیکھ کر میں رک گیا اور اس کو اشارہ کیا، اس دوران اس نے بھی مجھے دیکھ لیا تھا اور اس نے اپنی ساتھی لڑکی سے کچھ کہتے ہوئے میری جانب اشارہ کیا، بہرحال ہماری ملاقات ہوئی تو باتوں باتوں میں میں نے اس کو دعوت دیتے ہوئے کہاکہ شازی آﺅ شالیمار باغ میں کچھ دیر بیٹھ کر باتیں بھی کریں گے اور وہاں چائے بھی پی لیں گے، وہ مان گئی اور اپنی دوست کے ساتھ ہمارے ہمراہ چل پڑی، شالیمار کے اندر آکر ہم کنٹین کے قریب ایک سایہ دار درخت کے سائے میں بیٹھ گئے اور بیرے کو چار کپ چائے لانے کو کہا کیونکہ میرا دوست اور شازی کی دوست بھی ہمارے ساتھ ہی تھے، ہماری بدقسمتی کہ اس وقت وہاں سے کوئی بھارتی جاسوس ٹرانسمیٹر پر پیغام رسانی کررہا تھا اور شالیمار کے باہر سے گزرنے والی ایک فوجی گاڑی نے وہ سگنل پکڑ لئے جس پر فوج کے حکم پر پولیس نے آکر شالیمار کو گھیرے میں لے وہاں موجود تمام افراد کو پکڑ لیا اور قریب ہی تھانے کی عمارت میں لے گئے، وہاں وہ ایک ایک شخص کی تلاشی لینے لگے اور چند افراد کی تلاشی کے بعد ایک شخص کے پاس سے ٹرانسمیٹر برآمد ہوگیا، فوجی جوان اس شخص کو اپنے ہمراہ لے روانہ ہوگئے اور پولیس کو باقی تمام افراد کو رہا کرنے کا حکم دے گئے۔ لیکن پولیس نے ہمیں آزاد کرنے کے بجائے تحقیق شروع کردی کہ کون کس کے ساتھ وہاں کیا کر رہا تھا، پولیس اہل کار ایک ایک شخص کو بلا کر اس سے تفتیش کررہا تھا کہ ساتھ کون ہے اس سے کیا رشتہ ہے، جب میری باری آئی تو میں نے بتایا کہ شازی میری خالہ کی بیٹی ہے اور اس طرح ہماری اتفاقیہ ملاقات ہوگئی اور ہم چائے پینے کے لئے شالیمار گئے تھے لیکن پولیس نے ہمیں چھوڑنے کے بجائے دو مشکوک جوڑوں کی صورت میں روک لیا، انہوں نے میرا اور شازی کا جوڑا بنایا اور میرے دوست اور شازی کی دوست کا دوسرا جوڑا بنادیا پھر ہم سے گھروں کا ایڈریس لے کر وہاں کانسٹیبل روانہ کردئیے، شازی کی دوست کے بھائیوں نے آکر تھانے میں ہی اپنی بہن کو اس بری طرح مارا کہ وہ لہو لہان ہوگئی، وہ میرے دوست کو بھی تشدد کا نشانہ بنانا چاہتے تھے لیکن میں نے انہیں یقین دلایا کہ ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں میں اور شازی کزن ہیں میرا دوست میرے ساتھ جبکہ شازی کی دوست اس کے ساتھ تھی۔ بہرحال وہ ہماری آخری ملاقات ثابت ہوئی اس وقت شازی کے چچا آکر اس کو لے گئے اور ہم بھی گھر آگئے لیکن اس کے بعد میں شازی کی صورت بھی نہ دیکھ سکا۔ اس طرح میری پہلی معصوم محبت کا انجام ہوگیا۔

…. اچانک بادل بہت زور سے گرجے او رمیں واپس اپنی دنیا میں آگیا، اب بارش تھم گئی تھی صرف ہلکی ہلکی پھوار پڑ رہی تھی، میں ایک بار پھر سے سوچ میں کھوگیا…….. مجھے وہ زمانہ یاد آگیا جب میں ایرانی قونصلیٹ میں آفیسر تعلقات عامہ کے طور پر فرائض انجام دے رہا تھا….

میں سوچنے لگا …. میرا وہ ایسا سنہری دور تھا جسے فراموش کرنا ممکن نہ تھا، جب میں نے وہاں ملازمت حاصل کی اس وقت قونصل جنرل آقای ابوالفضلی تھے لیکن چند ہی روز میں وہ ایران چلے گئے اور ان کی جگہ آقای احمد نغمہ نے چارج سنبھال لیا، آقای نغمہ کا دور میری زندگی کا سنہرا دور تھا، ہوا یہ کہ ایک تقریب منعقد ہوئی میری ملازمت کے دوران یہ پہلی تقریب تھی، اس تقریب کا انعقاد 4 مین گلبرگ میں خانہ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران کے دفتر میں کیا گیا اس کے عقبی لان میں شامیانے لگادئیے گئے سٹیج تیار کیا گیا اور اس کے سامنے تقریباً پانچ سو کرسیاں لگا دی گئیں پھر بسیں اور ویگنیں بھیج کر مختلف مدارس سے طلبا اور اساتذہ کی بلوایا گیا جب تمام طلبا آگئے تو انہی مدارس کے پرنسپل حضرات میں سے چند کو مہمان خصوصی کے طور پر بٹھا دیا گیا اور پھر تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا تلاوت کی سعادت قاری صداقت کو نصیب ہوئی پھر علمائے کرام یکے بعد دیگرے آکر خطاب کرتے رہے تقریباً دو گھنٹے یہ تقریب جاری رہی پھر حاضرین نے کھانا کھایا اور سب رخصت ہوگئے۔ اگلے روز صبح آقای احمد نغمہ نے اپنے دفتر میں میٹنگ طلب کی جس میں تمام ایرانی و پاکستانی عملہ شریک ہوا، آقای نغمہ نے تقریب کے بارے میں سوال کیا کہ کیسی رہی، اور سب سے یکے بعد دیگرے رائے لی، سب نے تقریب کی بہت تعریف کرتے ہوئے اسے کامیاب قرار دیا میں چونکہ نیا ملازم ہوا تھا اس لئے مجھ سے نہیں پوچھا گیا جب سب نے اپنی رائے دے لی تو آخر میں آقای نغمہ نے مجھ سے پوچھا کہ آقای کاظمی تمہارے خیال میں تقریب کیسی رہی؟ میں نے جواب دینے کے بجائے الٹا سوال کردیا کہ اس تقریب پر کتنے پیسے خرچ ہوئے، وہاں پر اکاونٹس انچارج آقای راست گو بھی بیٹھے تھے، مجھے چونکہ اس وقت فارسی کا ایک لفظ بھی نہیں آتا تھا اس لئے میں نے سوال اردو میں کیا تھا جس کا ترجمہ وہاں بیٹھی خانم ثمینہ نے کیا تھا جو میرے برابر بیٹھی تھیں وہ خانہ فرھنگ میں حساب دار تھیں، انہوں نے آقای راست گو کا جواب دہراتے ہوئے مجھے بتایا کہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے خرچ ہوئے، میں نے کہا آقای نغمہ آپ نے یہ ڈیڑھ لاکھ روپے ضائع کردئیے، میری بات سن کر خانم ثمینہ نے مجھے گھورتے ہوئے کہا کہ کیا ملازمت سے باہر ہونا ہے، یہ کیا بات کررہے ہو سوچ سمجھ کر جواب دو، میں نے کہا کہ میرا یہی جواب ہے آپ ترجمہ کردیں، ہمارے درمیان اس بحث کو آقای نغمہ نے بھی محسوس کرلیا اور خانم ثمینہ سے پوچھا، کہ یہ کیا کہہ رہا ہے، خانم ثمینہ نے کہا کچھ نہیں جناب یہ بھی تعریف کررہا ہے، فارسی میں خانم ثمینہ نے جواب دیا تھا کہ ”این گفت کو برنامہ خوب بود“ یہ جملہ میری سمجھ میں آگیا کہ یہ کہہ رہی ہیں کہ میں نے تقریب کی تعریف کی ہے، میں نے فوری نفی میں سرہلاتے ہوئے کہا، کہ نہیں میں نے یہ نہیں کہا، میں نے کہا ہے کہ آپ نے یہ رقم ضائع کردی، میری یہ بات سن کر خانم ثمینہ نے غصے سے مجھے گھورتے ہوئے کہا کہ اگر تم یہاں سے ذلیل ہوکر نکلنا ہی چاہتے ہوتو تمہاری مرضی، اس کے ساتھ ہی انہوں نے میری بات کا ترجمہ کردیا، اس پر آقای نغمہ نے سنجیدگی سے پوچھا کہ اس رقم کے ضائع ہونے کی کوئی دلیل؟ میں نے جواب دیا کہ جناب مقررین بھی ہمارے دوست تھے اور سامعین بھی ہمارے دوست تھے، اور اس تقریب میں مقررین نے جو باتیں کیں وہ ہر روز اپنے طلبا سے مدارس میں کرتے رہتے ہیں پھر اتنی رقم ضائع کرنے کا فائدہ؟ میری بات سن کر آقای نغمہ نے پوچھا کہ میں کیا چاہتا ہوں کہ کیسی تقریب ہو؟ میں نے کہا کہ تقریب ایسی کریں جس میں انقلاب اور ایران کے مخالفین کو بلائیں انہیں قائل کریں کہ انقلاب ایک درست اقدام ہے اگر کسی تقریب میں ہم نے اپنے دو چار مخالفین کی حمایت بھی حاصل کرلی تو پانچ لاکھ بھی خرچ ہوں گے تو کارآمد ہوں گے، ضائع نہیں ہوں گے۔ میری بات پر آقای نغمہ کچھ دیر سوچتے رہے پھر سوال کیا کہ اگر مخالفین کو بلاکر ان کو بولنے کا موقع دیا اور وہ ہمارے خلاف بولے تو یہاں تمام اخبارات کے نمائندے ہوتے ہیں وہ زبردست رپورٹنگ کریں گے کہ ایرانی قونصلیٹ کےے پلیٹ فارم سے ایران مخالف باتیں کی گئیں، میں نے جواب میں کہ کہ آقای نغمہ اتنی ہمت کسی میں نہیں ہوگی کہ ہم اسے بلاکر خطاب کی دعوت دیں اور وہ پھر بھی ہمارے خلاف بولے کیونکہ وہ سمجھتا ہوگا کہ سامعین ہمارے دوست ہیں لہذا وہ کبھی ہمارے خلاف بات کرنے کی جرا¿ت نہیں کرے گا اور اگر کوئی خلاف بات کہے گا بھی تو وہ دلیل کے ساتھ ہوگی آپ اس کا جواب دے سکتے ہیں، آقای نغمہ تھوڑی دیر سوچتے رہے پھر پوچھا کہ میں کیا چاہتا ہوں،میں نے کہا کہ محفل مشاعرہ منعقد کریں اس میں امریکہ کے حامی تمام شعراءکو دعوت دوں گا اور آپ دیکھیں گے کہ وہ امریکہ کے دوست شعرا یہاں آکر ایران کی حمایت میں شاعری کریں گے، یہ سن کر انہوں نے کہا کہ آقای کاظمی آئندہ جو تقریب ہوگی وہ تمہارے چارج میں ہوگی تم جو چاہو کرو لیکن اگر وزارت خارجہ سے کوئی سوال کیا گیا تو اس کا جواب بھی تم ہی دو گے، میں نے یہ سن کر حامی بھرلی، اس کے بعد میٹنگ برخواست ہوگئی۔ باہر نکل کر سب مجھے برا بھلا کہنے لگے وہاں ایک لڑکا آفتاب بھی تھا جو تھا تو الیکٹریشن لیکن استقبالیہ پر بھی ہوتا تھا، بعد میں وہ میرا بہترین دوست بن گیا تھا، اس نے کہا، ”یار کاظمی صاحب مجھے لگتا ہے آپ کو پنگے لینے کی عادت ہے، اب آپ نے پنگا لے لیا ہے تو سمجھو کہ پھنس گئے اگلا فنکشن کروگے تو عقل ٹھکانے آجائے گی”، میں نے اس کی بات پر مسکراتے ہوئے کہا کہ ہاں یار مجھے پنگے لینے کی عادت ہے لیکن حقیقت میں میں کبھی چمچہ گیری نہیں کرتا غلط بات کو غلط ہی کہتا ہوں، میں نے جو محسوس کیا تھا وہ اندر کہہ دیا اب چاہے جو بھی ہو، اس وقت خانم ثمینہ نے مجھے کہا کہ کاظمی صاحب میں بہن ہونے کے ناطے آپ کو سمجھا رہی ہوں کہ یہاں ایسی بات کبھی نہ کرو جس سے ذمہ داری آپ پر ہی آ پڑے، یہاں تو وہی حساب ہے کہ جو بولے وہی کنڈی کھولے، اب آپ پھنس گئے ہیں نا، میں نے کہا خانم ثمینہ میں زندگی میں اگر عزت کرتا ہوں تو صرف استاد کی باقی سب کو انگلیوں پر نچاتا ہوں اگر آپ چاہتی ہیں کہ میں آپ کی عزت کروں تو مجھے اپنی شاگردی میں لے کر فارسی سکھادیں انہوں نے مسکراتی نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا کہ میں استاد بہت سخت ہوں، غلطی پر پٹائی بھی کرتی ہوں کیا تمہیں یہ منظور ہے؟ میں نے کچھ دیر سوچا پھر حامی بھرلی انہوں نے کہا کہ آج شام سے ہی آجاﺅ، اور میں نے اسی روز چھٹی کے بعد ان سے فارسی کا درس لینا شروع کردیا۔ اصل میں میری عادت تھی کہ ہر ایک سے مذاق کرتا رہتا اس میں تذکیر و تانیث کی کوئی تمیز نہیں تھی اور خانم ثمینہ میرے مذاق سے بہت تنگ آئی ہوئی تھیں، میری استاد بن کر انہوں نے اپنے گن گن کر بدلے لینا شروع کردئیے وہ مجھے کافی زیادہ پڑھاتیں اور اگلے روز سارا سنتیں ، ظاہر ہے کہ میرے لئے فارسی ایک نئی زبان تھی اس لئے غلطی ہوجاتی اور جہاں میں غلطی کرتا وہ چٹاخ سے میرے منہ پر تھپڑ جڑ دیتیں اور میں ان سے بڑی عاجزی کے ساتھ کہتا ثمینہ باجی معاف کردیں پلیز کل یاد کرلوں گا۔

وقت گزرتا رہا میں فارسی ازبر بولنے لگا لیکن چونکہ خانم ثمینہ میری استاد تھیں اس لئے میں اب بھی ان کی عزت کرتا تھا اور ان کی ہر زیادتی برداشت کرلیتا تھا، ایک روز ایک تقریب ہورہی تھی میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دے رہا تھا اس وقت کے وزیر تعلیم بیرسٹر عثمان ابراہیم مہمان خصوصی تھے، آخری مہمان اظہار خیال کررہے تھے، کہ خانم ثمینہ نے سٹیج کے پاس آکر مجھے اشارے سے بلایا میں کرسی سے اٹھ کر ان کے قریب گیا تو انہوں نے کہا کہ ابھی تقریب ختم نہیں کرنا کھانے میں کچھ دیر ہے جب کھانا لگ جائے گا تو میں اشارہ کروں گی اس وقت تقریب ختم کرنا، میں نے کہا خانم ثمینہ یہ کیا کہہ رہی ہیں یہ آخری مقرر ہیں ان کے بعد میں کیسے تقریب کو کھینچوں گا، انہوں نے ڈانٹتے ہوئے کہا، ” یہ سب میں نہیں جانتی، جو آپ کو کہا ہے ویسا کرو“ یہ کہہ کروہ چلی گئیں میرے پاس اخبارات کے نمائندے کھڑے تھے میری تمام صحافیوں ، رپورٹروں اور پریس فوٹو گرافروں سے اچھی دوستی تھی، میرے پاس کھڑے رپورٹروں نے مجھ سے حیرت سے پوچھا، ” کاظی صاحب یہ خاتون کون ہیں اور کیا آپ سے سینئرہیں، “ ۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا کہ ہاں یہ میری استاد ہیں اور میری زندگی میں یہ واحد خاتون ہیں جو مجھے ڈانٹ ہی نہیں بلکہ مار بھی لیں تو بھی میں برداشت کرتا ہوں، یہ کہہ کر میں سٹیج پر آگیا کیونکہ اسی وقت مقرر اپنے آخری کلمات ادا کرکے واپس ہورہے تھے، اب میرے لئے مسئلہ تھا، تقریب کو اس وقت تک چلانے کا جب تک کہ خانم ثمینہ اشارہ نہ دیں، میں آکر حاضرین سے مخاطب ہوا اور اب تک جتنے مقرر آکر اظہار خیال کرچکے تھے ان کے خطاب کا تجزیہ کرنے لگا تقریباً آدھے گھنٹے بعد خانم ثمینہ نے اشارہ کیا اور میں نے سچ بولتے ہوئے سامعین کو حقیقت بتادی کہ میں کیوں ان کی سمع خراشی کررہا تھا ساتھ ہی میں نے انہیں کھانے کی دعوت بھی دی ، یہ میری زندگی کا کافی مشکل فنکشن تھا۔

اچانک میرے خیالات کا سلسلہ ٹوٹ گیا، میری والدہ مجھے کھانا کھانے کے لئے بلارہی تھیں لیکن میں نے یہ کہہ کر منع کردیا کہ ابھی مجھے بھوک نہیں۔ میں ایک بار پھر خیالات کی رو میں بہہ گیا۔ اب میں اس وقت کے بارے میں سوچ رہا تھا جب والد کی بے وقت وفات کی بنا پرمجھے سکول چھوڑ کر ملازمت کرنا پڑی، اس وقت میں میٹرک میں تھا جب تعلیم کو خیر

باد کہا اور کوئینز روڈ پر نوائے وقت مینشن میں ”فرینڈ شپ انٹرنیشنل“ نامی کمپنی میں بطور چپراسی کام شروع کردیا۔یہاں یہ بتادوں کہ پانچویں جماعت تک میں مدرسة البنات میں انگلش میڈیم میں پڑھا تھا اس لئے جب چھٹی جماعت میں اردو میڈیم سکول میں گیا تو انگریزی میں بہت ہوشیار تھا جبکہ حساب میں میری حالت بہت بری تھی۔

وہ کمپنی اعجاز لغاری چلارہے تھے اور ربرپیچرول کا کام کرتے تھے، میں وہاں کام کرتا رہا ایک روز اعجاز لغاری کے پی اے نے ایک خط ٹائپ کرکے مجھے دیا کہ ”صاحب“ کو دے دوں میں نے اعجاز لغاری صاحب تک جاتے ہوئے راستے میں اس خط پر ایک نظر ڈالی اور لغاری صاحب کو دیتے ہوئے ان سے اس خط کے متن کے بارے میں کہا کہ اگر اس کی جگہ یہ عبارت لکھ دیں تو بہتر نہ ہوگا، انہوں نے میرے چہرے کی جانب دیکھا اور پھر مجھے کہا کہ جاکر ٹائپ کرکے لے کر آﺅ میں وہاں فارغ وقت میں شوقیہ ٹائپ رائٹر پر پریکٹس کرتا رہتا تھا اور ایک جملہ جس میں اے سے زیڈ تک تمام حروف آتے ہیں ٹائپ کرتا رہتا اور وہ جملہ یہ ہے A quivk brown fox jumps over the lazy dog. ، یہ جملہ ٹائپ کرنے سے میری ٹائپنگ رفتار تیس سے پینتیس الفاظ فی منٹ ہوگئی تھی میں نے سیکرٹری سے اٹھنے کو کہا اس نے اعجاز لغاری صاحب کی جانب دیکھا جو کچھ فاصلے پر اپنی میز پر بیٹھے تھے، انہوں نے اشارہ کردیا جس پر میں وہاں بیٹھ کر ٹائپ کرنے لگا، میری انگریزی کے الفاظ پر بھرپور دسترس تھی میں نے جو خط ٹائپ کیا اس کو دیکھ کر اعجاز لغاری صاحب نے خطوط لکھنے کی ذمہ داری مجھے سونپ دی اور ساتھ ہی میٹرک کرنے کا مشورہ دیا، میں نے وہاں ٹائپ شروع کردی میری تنخواہ اسی روپے مہینہ تھی جب میں ٹائپسٹ ہوا تو انہوں نے میری تنخواہ ایک سو بیس روپے کردی، اور میں خود کو نواب سمجھنے لگا۔ اسی عمارت میں ہمار سامنے والے کمرے میں انگلش الیکٹرک کمپنی کا دفتر تھا ان کی پی اے مسز گھوش تھیں، وہ اپنے کام اکثر مجھے کہتی تھیں خاص طور پر دوپہر کے کھانے کے لئے مجھے ہی حکم دیتی تھیں، میں نے ان سے درخواست کی کہ مجھے میٹرک کی تیاری کرادیں اور وہ مان گئیں اور خود ہی کتابیں لاکر مجھے وہاں ایک گھنٹہ پڑھانا شروع کردیا۔

ایک روز وہاں میرا ایک مدرسة البنات کے زمانے کا دوست آگیا اور مجھے وہاں بطور چپراسی کام کرتے دیکھ کر اس نے بہت دکھ کا مظاہرہ کیا جس پر میں نے وہ ملازمت چھوڑ دی، پھر کچھ روز بعد میرے تایا نے مجھے واپڈا کے شاہدرہ پاور ہاﺅس میں مزدور کی حیثیت سے کام دلادیا، اب مجھے یہ یاد نہیں کہ وہاں میری تنخواہ کیاتھی لیکن وہاں میں ایک ماہ سے زیادہ کام نہیں کرسکا کیونکہ وہاں مزدوروں کو بھاری بھرکم مشینیں ادھر ادھر کرنا پڑتی تھیں اور وہ بھاری کام میرے بس کا نہیں تھا اس لئے پہلی تنخواہ لے کر گھر گیا پھر وہاں واپس نہیں گیا۔ اس کے بعد شاہ عالمی میں رحمن ایجنسیز میں سیلز مین بھرتی ہوگیا یہ لوگ تبت کاسمیٹکس کی سپلائی کرتے تھے میں صبح اپنی ریڑھی میں سامان لدواتا اور سارا دن لاہورکی سڑکوں پر جنرل سٹوروں پر تبت کاسمیٹکس کی سپلائی کرتا اور شام کو دفتر جاکر اپنی دن بھر کی سیل کی رقم جمع کراتا۔ اس دفتر میں میں نے اہم مقام حاصل کرلیا کیونکہ میں دیانت داری کے ساتھ سارا دن محنت کرتا اور میری سیل کی رقم باقی تمام سیلز مینوں سے زیادہ ہوتی اس لئے رحمن ایجنسیز کے مالک رحمن صاحب کا لاڈلا ملازم ہوگیا۔ یہاں تقریباً چھ ماہ ملازمت کی پھر چھوڑ دی کیونکہ اس دوران شازی سے میرا رشتہ ختم ہوگیا تھا میں مایوسی کا شکار تھا اور اسی حالت میں ایجنسی جانا چھوڑ دیا رحمن صاحب نے مجھے کام کرنے کی بہت مشورے دئیے لیکن میرا دل ہی نہ مانا اس لئے پھر وہاں نہیں گیا۔

میرے تایا زاد بھائی فخرعباس کاظمی جو ان دنوں پارک لگژری ہوٹل میں ریسیپشن مینیجر تھے انہوں نے مجھے حبسن اینڈ کمپنی کے ورکشاپ میں ایئرکنڈیشنروں کی مرمت کا کام سیکھنے پر لگادیا اور مجھے کہا کہ کمپنی مجھے بیس روپے مہینہ دے گی میں وہ کام سیکھنے لگا، ان کی ورکشاپ کوپر روڈ پر اسلامیہ کالچ فار گرلز کے ساتھ تھی جبکہ ان کا شو روم الحمرا بلڈنگ میں تھا۔ میں سارا دن وہاں کام سیکھتا اور پھر ایک ماہ کے بعد پانچ تاریخ کو پارک لگژری ہوٹل جاکر فخر بھائی جانے سے بیس روپے وصول کرتا، انہوں نے مجھے کہا تھا کہ حبسن اینڈ کمپنی کا چیف انجینئر مجید صاحب ان کے دوست ہیں اور وہ بیس روپے اپنی جیب سے مجھے دیتے ہیں اس لئے میں یہ رقم فخر بھائی جان سے لے لیا کروں۔ وہاں چند مہینے کام کیا پھر وہاں سے بھی کام چھوڑ دیا۔

اس کے بعد میں نے فلموں میں ایکسڑا کے طور پر کام شروع کیا وہاں ایکسٹرا سپلائر رفیق صاحب تھے اور لطیف صاحب ان کے ساتھ کام کرتے تھے رفیق صاحب سٹوڈیو میں ہوتے تھے جبکہ لطیف صاحب لکشمی چوک میں ایک فٹ پاتھ چھاپ ہوٹل کی کرسی پر بیٹھے رہتے تمام ایکسٹرا کام کرنے والے لڑکے وہیں ان سے رابطے میں رہتے اور وہ کسی شوٹنگ کے سلسلے میں انہیں وہیں پر بتاتے اور لڑکے شوٹنگ والی جگہ پہنچ جاتے، وہاں مجھے دو روپے شفٹ کے ملتے جبکہ آٹھ آنے کھانا اور آٹھ آنے کرائے کے ملتے یہنی کل دیہاڑی تین روپے اور وہ بھی تب جب شوٹنگ ہوتی جبکہ ہم آٹھ دس دن بے کار رہتے تھے۔ وہاں میری دوستی فیضان سے ہوئی وہ میٹرک پاس تھا اور ایف ایس سی کرنا چاہتا تھا لیکن وسائل نہیں تھے، اس کے ساتھ وہاں ایک اور دوست بنی وہ رانی تھی جو بہت شریف لڑکی تھی اور رانی کا بھائی یوسف تھا اس سے بھی دوستی ہوگئی، یوسف عمل رمل کا ماہر تھا جب اس نے بتایا تو میں نے اس سے علم رمل سیکھنے کی خواہش ظاہر کی اور وہ سکھانے لگا۔ فلموں میں تقریباً دو سال کام کیا پھر ایک مارچ میں مجھے میٹرک کا امتحان دینے کا خیال آیا اور میں نے امی جان سے کہا، ان دنوں شائد بیس یا پچیس روپے داخلہ فیس تھی، میرے پاس ایک پیسہ بھی نہیں تھا امی جان نے مجھے کئی عزیزوں کے پاس بھیجا کہ پچاس روپے ادھار لے آﺅں لیکن کہیں سے کچھ نہیں ملا، اس روز داخلے کا آخری دن تھا میں پارک لگژری ہوٹل میں فخر بھائی جان کے پاس پیسے مانگنے گیا لیکن وہاں سے بھی جواب ملا، وہیں مجھے معلوم ہوا کہ حبسن اینڈ کمپنی

میں جب میں فریج اور ایئر کنڈیشنر کاکام سیکھ رہا تھا تو بیس روپے مہینہ مجھے فخر بھائی جان اپنی جیب سے دیتے تھے، بہرحال انکار سن میں نے گھر جاکر داخلہ پیپر امی جان کی قدموں میں پھینک کرکہا کہ امی جان میری قسمت میں میٹرک کرنا نہیںلکھا جب قسمت میں ہوگا تب کروں گا یہ سن کر امی جان اٹھیں اور سٹور میں گئیں تھوڑی دیر بعد وہ آئیں تو ان کے ہاتھ میں سونے کا گلو بند تھا انہوں نے مجھے دے کر کہا کہ اسے بیچ کر داخلہ جمع کرادوں میں جانتا تھا کہ یہ ابا کی آخری نشانی ہے میں نے انکار کرنا چاہا لیکن امی جان نے سختی سے کہا کہ میں پڑھ لوں گاتو ایسے کئی زیور انہیں بنواکے دے سکتا ہوں، بہرحال ان کے زور دینے پر میں وہ لے گیا اور سوہا بازار میں ایک سو پنتالیس روپے کا بیچا پھر سیدھا بورڈ کے دفتر گیا وہاں فیس جمع کرائی اور باقی پیسے لاکر امی جان کو دے کر کہاکہ امی جان ابھی امتحان میں ایک مہینہ باقی ہے پھر نتیجہ آنے میں بھی ڈیڑھ دو ماہ لگیں گے اتنے دن کے لئے یہ پیسے کچن چلانے کے کام آئیں گے، بہرحال پھر میں نے تیاری شروع کردی اتفاق دیکھیں کہ فیضان حساب میں بہت ہوشیار جبکہ انگریز میں کمزور تھا، جس دن حساب کا پیپر تھا اس تمام رات فیضان مجھے حساب سکھاتا رہااس نے مجھے تجارت، اوسط، نسبت تناسب اور تقویم کے طریقے رٹا دئیے اور کہنے لگا کہ میں اگر یہ سوال ٹھیک کرآیا تو پاس ہونے کے نمبر تو آہی جائیں گے، میں نے امتحان دیا اور پھر میٹر ک میں کامیاب ہوگیا۔ جب یہ خبر میرے تایا زاد بھائی حسن عسکری کاظمی کو ملی وہ ان دنوں گورنمنٹ کالج جہلم میں اردو کے پروفیسر تھے،انہوں نے مجھے جہلم آنے کی دعوت دی اور میں جہلم چلا گیا جہاں انہوں نے مجھے اپنے کالج میں داخلہ دلادیا وہیں میری ملاقات حس رضوی سے ہوئی جو حسن بھائی جان کا بھانجا تھا، وہاں ہم نے شاعری اکٹھے شروع کی حسن رضوی وہاں جابر آزاد سے اصلاح کراتا جو اس وقت اٹھتے ہوئے شاعر تھے اور بعد میں جہلم کے نامور شعرا میں شامل ہوئے۔ کالج میں میں نے ایک ہیرو کی سی زندگی بسر کی ہر پیر کو سٹیج پر پرفارم کرنا اور خاص طور پر بینجو پر کوئی نغمہ سنانا لازم تھا میں نے جہلم میں ہی ایک میوزیکل کالج سے بینجو بجانا سیکھا تھا اور کالج میں پرفارم کرنے کے لئے کلاسیکل راگ سیکھے جن میں پوریا، ایمن کلیان، راگنی بھیرویں اور ملہار شامل تھے۔ کاکلج کے دنوں میں میرے خالہ زاد بھائی نزہت بھائی جان مجھے بیس روپے مہینہ بھجواتے جس میں سے میں دس روپے مہینہ کالج کی فیس ادا کرتا اور دس روپے میں پورا مہینہ گزارتا۔ بہرحال وہاں ایک یادگار وقت گزارا کالج میں اشرف اور گلشن میرے گہرے دوست بنے ۔ ایف اے کے بعد میں لاہور آگیا سوچا یہ تھا کہ کوئی ملازمت کرکے میں آگے تعلیم جاری رکھوں گا۔

میرے والدین 1947ءمیں انبالہ (بھارت) سے ہجرت کرکے پاکستان آئے، ہم دو بھائی تھے میرے بڑے بھائی شبر حسین کاظمی مجھ سے بارہ سال بڑے تھے، انبالہ میں نویں جماعت کے طالب علم تھے پاکستان آکر وہ تعلیم جاری نہ رکھ سکے اور انڈر میٹرک ہی رہے، شروع میں ہم شام نگر میں رہے وہاں میرے پھوپھا نے ایک گھر لیا تھا اس میں میری دادی، پھوپھا، پھوپھی اپنے تین بچوں کے ساتھ رہتی تھیں اس میں تین کمرے اور ایک گیراج تھا، ہم سوتے گیراج میں تھے جب کہ کھانا پکانا گھر کے کچن میں ہی ہوتا تھا میری پھوپھی زاد بہن مجاہدہ مدرستہ البنات میں پڑھتی تھیں جب میرے سکول جانے کا مسئلہ ہوا تو وہ اپنے ساتھ لے گئیں اور مجھے بھی وہیں اپنے ساتھ داخل کرادیا، میں وہاں انگلش میڈیم میں تعلیم حاصل کرنے لگا، اس زمانے میں سکول کی پرنسپل آپا حمیرا تھیں جبکہ ہماری کلاس انچارج آپا رفیقہ تھیں اور ان کے بیٹے ضیاءمیرے پھوپھی زاد بھائی حسن اصغر کاظمی کے دوست تھے، اصغر بھائی جان ان دنوں بی ایس سی کے طالب علم تھے جو پھر ماسٹر کرنے ہاورڈ یونیورسٹی ہالینڈ چلے گئے اور وہاں سے ایم ایس سی کرکے واپس لوٹے اور پشاور یونیورسٹی میں فزکس کے پروفیسر مقرر ہوگئے۔ بہرحال میں تیسری جماعت میں تھا جب میرے والد نے شیش محل روڈ پر ایک مکان کرایہ پر لے لیا اور ہم وہاں چلے گئے لیکن میں وہاں سے مدرستہ البنات میں ہی آتا رہا میرے والد نے نیلاگنبد پر ایک دکان لے کر وہاں نئی سائکلوں کی دکان کرلی، انبالہ میںمیرے والد کی حویلی تھی، بجلی کا کارخانہ تھا اور ایک باغ تھا جس میں کنواں بھی اپنا تھا، لیکن پاکستان آتے ہوئے صرف زیور اور کچھ اور سامان فروخت کرکے نقد رقم ہی لے کر آئے تھے باقی سب کچھ وہیں چھوڑ دیا تھا یہاں میرے والد کا خیال تھا کہ قائداعظم خود ہمیں یہاں کلیم دیں گے، قائد اعظم کی وفات کے بعد میرے والد نے لیاقت علی خان سے امید لگا لی اور اسی امید پر بیٹھے رہے۔

جب میں پانچویں جماعت کے امتحان میں کامیاب ہوگیا تو سکول سے فارغ ہوگیا کیونکہ وہاں لڑکوں کو صرف پانچویں جماعت تک ہی پڑھایا جاتا تھا اس کے بعد صرف لڑکیوں کا ہائی سکول تھا میری بدقسمتی کہ وہاں سے نکل کر گھر کے قریب ہی کے ایک سکول اسلامیہ ہائی سکول موہنی روڈ میں داخل کرادیا گیا، انگلش میڈیم سے ایک دم سے اردوں میڈیم میں داخل ہونا میرے لئے مسئلہ بن گیا کیونکہ میں انگریزی تو فرفر بولتا تھا، اردو سمیت دیگر مضامین میں بھی اچھا تھا لیکن حساب میں بہت کمزور تھا کیونکہ پانچویں تک انگریزی میں حساب کرتا رہا تھا اور چھٹی جماعت میں آتے ہی اعشارہ ، تجارت، تقویم وغیرہ کے سوال آگئے وہ میرے کبھی سمجھ نہ آئے حتیٰ کہ میں دسویں جماعت میں آگیا اور دیگرتمام مضامین میں سب سے بہتر رہا لیکن حساب میں زیرو تھا، ابھی دسویں کے امتحان میں چار ماہ تھے کہ میرے والد بیمار ہوئے، میو ہسپتال میں داخل رہے اور 29 دسمبر 1963ءکو رضائے الہی سے انتقال کرگئے، والد کی بیماری کے دوران دکان کا سارا حساب والد کے حصہ دار کے پاس رہا، اس کا بھی عجیب واقعہ تھا کہ ایک روز میرے والد دکان پر بیٹھے تھے، کہ ایک شخص جو انبالہ میں ہمارے بجلی کے کارخانے میں سپلائی کا کام کرتا تھا اس کاگزر ہوا اور اس نے میرے والد کو دیکھ کر سلام کیا اور پوچھا کہ میر صاحب آپ یہاں کہاں؟ میرے والد میرصاحب کے نام سے مشہور تھے، انہوں نے بتایا کہ یہ ان کی دکان ہے تو وہ شخص جس کا نام شیری تھا بہت خوش ہوا اور پھر اپنی بدنصیبی بیان کرنے لگا کہ اس کا سب کچھ انبالہ میں رہ گیا تھا اور اب وہ کھانے سے بھی محتاج تھا، میرے والد نے اس کو پیش کش کی کہ وہ ان کے ساتھ کام کرے پیسہ میرے والد کا ہے کام وہ کرے اس طرح ففٹی پرسنٹ کا حصہ دار ہوجائے اور وہ میرے والد کے ساتھ شامل ہوگیا۔ جب میرے والد بیمار ہوئے تو دکان کا سارا حساب اس کے پاس تھا جب والد کی وفات ہوگئی تو شبر بھائی جان نے مجھے کہا کہ دکان پر جاکر شیری سے پیسے لے آﺅ، کیونکہ میرے والد کئی ماہ مریض رہے اور اس دوران ہم میں سے کوئی بھی دکان پر نہیں گیا تھا ہم والد کی تیمار داری میں مصروف رہے، میرا پڑھائی کاسلسلہ بھی موقوف ہوگیا تھا سکول میں نام تھا لیکن پڑھنے کا وقت نہ ملتا ایک رات میں ہسپتال رہتا اور ایک رات شبر بھائی جان، بہرحال میں دکان پر گیا اور حساب پوچھا تو شیری کہنے لگا کہ کیسے پیسے تمہارے والد تو میرے مقروض تھے تم وہ میری رقم لوٹانے کا بندوبست کرو، اس وقت تک نیلاگنبد سائیکلوں کی بڑی مارکیٹ بن چکا تھا، اور وہاں

کے تمام دکاندار ہماری دکان کی حقیقت جانتے تھے میں وہیں اپنے والد کے ایک دوست کریسنٹ سائیکل سٹور پر گیا وہاں الطاف صاحب تھے میں نے ان سے کہا انہوں نے مارکیٹ کے تمام دکانداروں کو اکٹھا کیا اور شیری کے پاس جاکر اس کو مجھے رقم ادا کرنے کا کہا اور سمجھایا کہ دیکھو تم ایک سید یتیم بچے کا حق مار رہے ہو تمہیں اللہ نہیں بخشے گا لیکن شیری اپنی ہٹ پر اڑا رہا اور تنگ آکر میں وہاں سے گھر لوٹ آیا اور آکر امی جان کو جو پیش آیا تھا وہ سب بتادیا، امی کہنے لگیں کہ کوئی بات نہیں صبر کرو اللہ دے گا پھر میرے ایک رشتے کے تایا نے مجھے شاہدرہ میں واپڈا کی ورکشاپ میں ملازمت دلادی میں وہاں مزدور بھرتی ہوگیا، لیکن وہاں بھاری بھاری مشینیں اٹھانا پڑتی تھیں وہ کام مجھ سے نہیں ہوسکا اس لئے ملازمت چھوڑ دی، پھر شارع فاطمہ جناح اس وقت کوئنز روڈ تھی وہاں نوائے وقت مینشن میں ایک نجی کمپنی تھی فرینڈشپ انٹرنیشنل میں اس میں چپراسی بھرتی ہوگیا، اس کے مالک اعجاز لغاری نے مجھے دیکھ کر سوال کیا تھا کہ میں دیکھنے میں اچھے گھرانے کا لگتا ہوں تو بطور چپراسی کام کیوں کررہا ہوں، میں نے انہیں پوری کہانی سنادی تو انہوں نے مجھے کہا کہ میں چپراسی کے ساتھ ساتھ ٹائپ کا کام بھی کروں اور ان کے خطوط انگلش میں لکھ کر پھر ٹائپ کرکے ان کو دے دیا کروں، انہوں نے میری تنخواہ 80 روپے لگائی، شروع شروع میں وہ خط دیکھ کر اس میں ایک آدھی غلطی لگادیتے لیکن دو ماہ بعد انہوں نے خطر چیک کرنا بند کردئیے میں خود ہی لکھتا پھر ٹائپ کرکے متعلقہ کمپنیوں کو پوسٹ کردیتا، لیکن یہاں بھی زیادہ عرصہ کام نہ کرسکا، اس دوران میرے بھائی شبر کاظمی ڈھاکہ چلے گئے جہاں میرے ایک چچا کا میڈیسنز کا کام تھا ان کی ڈھاکہ میں بروک ہال روڈ پر دکان تھی میرے بھائی وہاں دکان پر کام کرنے لگے۔

میں بے کار رہا امی نے سلائی شروع کردی اس سے ہمارا کھانا پینے کا خرچ نکلنے لگا پھر اتفاقیہ میری ملاقات فلموں کے ایک ایکسٹرا سپلائر سے ہوگئی جو فلموں کے لئے لڑکے لڑکیاں سپلائی کرتے تھے جو کبھی ہوٹلوں کے منظر میں کرسیوں پر بیٹھے ہوتے کبھی کالج کے منظر میں طلبا کے طور پر لئے جاتے اس طرح مختلف ایسے مناظر جن میں لڑکوں یا لڑکیوں کا رش دکھانا ہوتا تو اس میں کام کرتے میں نے بھی وہ کام شروع کردیا اس کا معاوضہ ہمیں دوروپے یومیہ ملتا اور اس میں آٹھ آنے کرایہ اور آٹھ آنے کھانے کے بھی ہوتے تھے یعنی تین روپے یومیہ ملتے لیکن شوٹنگ ہر روز نہیں ہوتی ہم ہر روز لکشمی چوک میں منور ہوٹل میں باہر فٹ پاتھ پر لگی کرسیوں پر بیٹھے رہتے ایکسٹراسپلائر لطیف بھی وہیں بیٹھتے وہیں انہیں خبر ملتی کہ فلاں سٹوڈیو میں لڑکے اور لڑکیاں بھیجو وہ ہمیں بھیج دیتے۔ وہاں میری دوستی ایک لڑے فیضان رضا سے ہوئی ہم دونوں ہر وقت

بات بے بات ہنستے رہتے اور بلند بالا قہقہے لگاتے، شاہ نور، ایور نیو اور باری سٹوڈیوں کا عملہ ہمیں دیوانوں کے نام سے پکارنے لگا یہ صرف ہمارے قہقہوں کی وجہ سے تھا اور سب ہمارے واقف بھی ہوگئے، ایک روز میری خالہ کے گھر کرشن نگر میں کوئی تقریب تھی میری امی نے مجھ سے کہا کہ سٹوڈیو سے فارغ ہوکر وہیں آجاﺅں میں نے حامی بھرلی اور سٹوڈیو سے فارغ ہوکر سیدھا وہاں چلاگیا۔ میرے چہرے پر میک اپ تھا مجھے میک اپ صاف کرنے کا وقت ہی نہیں ملا تھا مجھے دیکھ کر وہاں ایک عزیز نے طعنہ دیا کہ سید ہوکر تم کنجروں والے کام کررہے ہو شرم نہیں آتی؟ وہیں میرے ایک خالہ زاد بھائی نزہت بھی موجود تھے انہوں نے فوری جواب دیا کہ اس پر اعتراض کرنے کا حق صرف اس کو ہے جس نے اس کو پیش کش کی ہو کہ یہ اپنی تعلیم جاری رکھے وہ اس کے گھر کا خرچ پورا کرے گا اگر تم مدد نہیں کرسکتے تو پھر اس کو داد دو کہ یہ بھیک نہیں مانگ رہا اور چوری نہیں کرتا محنت کرکے اپنا گھر چلا رہا ہے، اس کے بعد وہاں میرے رشتہ داروں میں سے کسی کو مزید کچھ بولنے کی جرا¿ت نہ ہوئی اور میرے دل میں نزہت بھائی جان کا خاص مقام پیدا ہوگیا جو آج ان کی وفات کے بعد بھی ہے۔ اس کام کے دوران میری ملاقات ایک رقاصہ لڑکی رانی سے ہوئی لڑکیاں تو بہت تھیں لیکن وہ مجھے پسند نہیں تھیں بہت ہی عریاں باتیں کرتی تھیں لیکن رانی ان سے مختلف تھی شریفانہ انداز اپنائے ہوئے، رانی نے مجھے اپنے بھائی یوسف سے متعارف کرایا جو علم رمل جانتا تھا، اس سے اتنی دوستی ہوگئی کہ وہ مجھے علم رمل سکھانے لگا، بہرحال اس کے بعد دیگر بہت سے کام کئے جن میں تبت کاسمیٹکس کا سیلز ایجنٹ بھی رہا، جب بے روزگار ہوتا تو علم رمل کے سہارے سٹے کا نمبر نکالتا او راپنے محلے کے پرچون فروش سے پانچ روپے اگلے روز واپس کرنے کے وعدے پر قرض لیتا اور انارکلی میں ایبک روڈ پر ایک صاحب اپنے گھر میں ٹوپیاں بنانے کا کام کرتے جبکہ حقیقت میں وہ سٹے کا نمبر لگاتے تھے، میں ان کے پاس جاکے نمبر لگاتا اور وہ ہفتے میں ایک آدھ بار نکل بھی آتا اس طرح مجھے چار پانچ سو روپے مل جاتے اور میرا گزارا چلتا رہتا، بہرحال پھر یہ کام بھی چھوڑدیا اور الفلاح بلڈنگ میں حبسن اینڈ کمپنی تھی جو فریج وغیرہ کا کام کرتی تھی اس کی ورکشاپ کوپر روڈ پر تھی میں وہاں ایئرکنڈیشنر کی مرمت کا کام سیکھنے لگا، یہاں مجھے میرے ایک تایازاد بھائی فخر عباس نے لگوایا تھا جو پارک لگژری ہوٹل (آج کے آواری ہوٹل) میں مینیجر تھے، وہ 20 روپے مہینہ مجھے اپنی جیب سے دیتے تھے، یہ اس وقت مجھے معلوم نہیں تھا اس وقت انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ بیس روپے مہینہ کمپنی والے دیتے ہیں، بہرحال میرے ایک ماموں کامونکے میں رہتے تھے ایک مرتبہ میں اپنی والدہ کے ساتھ وہاں گیا تو وہاں میری ماموں زاد بہن پروین اور بھائی شاہد میٹرک کا امتحان دینے کی تیاری کررہے تھے وہ انگریز کا ایک مضمون باآواز بلند پڑھ رہے تھے میں سن کر ان کی الفاظ کی ادائیگی کی غلطیاں درست کرنے لگا، یہ دیکھ کر میرے ماموں نے مجھے کہا کہ ان کو انگریزی پڑھادوں میں انہیں پڑھانے لگا، ہم ایک ہفتہ وہاں رہے یہ دیکھ کر میرے ماموں نے کہا کہ جب میں میٹرک کے طالب علم کو پڑھاسکتا ہوں تو خود کیوں میٹرک کا امتحان نہیں دیتا، انہوں نے مجھے میٹرک کرنے پر مجبور کردیا اور میں نے وعدہ کرلیا، اور لاہور آکر پھر سے حبسن اینڈ کمپنی کی ورکشاپ پر جانے لگا شام کو گھر آکر پڑھائی بھی شروع کردی پڑھائی کیا بس کوشش کرتا کہ کسی طرح حساب کے پرچے میں پاس ہوجاﺅں، اس کام میں میرا فلمی دوست فیضن مدد کرنے لگا وہ ایف ایس سی کی تیاری کررہا تھا اس کا حساب بہت اچھا تھا۔

پھر میٹرک کے داخلے جانے لگے لیکن میرے پاس پیسے نہیں تھے میں نے امی جان سے کہا، اتفاق کی بات کہ اس وقت ان کے پاس بھی نہیں تھے، انہوں نے مجھے مئی رشتے داروں کے پاس بھیجا لیکن کہیں سے بھی پچاس روپے نہ ملے داخلہ فیس شائد چالیس یا پینتالیس روپے تھی، میں آواری ہوٹل میں فخربھائی جان کے پاس بھی گیا کہ حبسن کمپنی سے مجھے کچھ رقم ایڈوانس لے دیں لیکن انہوں نے ان الفاظ میں منع کردیا کہ بیس روپے کمپنی نہیں وہ اپنی جیب سے دے رہے تھے یہ سن کر میں واپس آگیا اور داخلہ فار جو میں پُر کرکے اٹیسٹ بھی کراچکا تھا امی جان کے آگے پھینکتے ہوئے کہا کہ امی جان ابھی میری قسمت میں تعلیم نہیں ہے چھوڑیں جب کبھی پیسے ہوں گے تو دیکھوں گا لیکن امی نے پیپر اٹھا کر مجھے دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تیری ماں زندہ ہے تو یہ پکڑ پھر وہ سٹور میں گئیں اور تھوڑی دیر میں واپس آئیں اور مجھے سونے کا گلوبند دیتے ہوئے بولیں اس کو بیچ کر اپنا داخلہ جمع کرادو، میں نے منع کیا لیکن انہوں نے زبردستی مجھے دیتے ہوئے کہا کہ تم پڑھ کر کہیں اچھی ملازمت کروگے تو پھر بنوادینا ابھی اسے فروخت کرکے اپنا داخلہ جمع کراﺅ، میں وہ لے کر سوہا بازار گیا، وہ گلوبند 145 روپے میں فروخت ہوا، میں نے داخلہ جمع کرادیا باقی رقم کا اتنا سامان لے آیا کہ ایک ماہ کھانا پینا چل سکے، اس زمانے میں مہینے کا راشن 25 روپے کا آیا باقی پیسے امی جان کو دے دئیے کہ امتحانوں تک کھانا پینا چلتا رہے، میں نے جس طرح داخلہ جمع کرایا تھا اس کا تقاضہ تھا کہ میں ہر صورت میٹرک کرلوں اور یہی ہوا بھی کہ میرادوست فیضان مجھے حساب کراتا رہا باقی کتابیں میرے پاس تھی ہی نہیں کہ میں پڑھ سکتا نہ ہی میں نے کہیں سے لیں بس کبھی کسی دوست کے پاس جاتا تو کوئی کتاب دیکھ لیتا اسی طرح باقی مضامین دیکھتا رہا بہرحال امتحان دیا اور پاس ہوگیا، بس صرف پاس ہی ہوا کیونکہ تھرڈ دویژن بلکہ رائل ڈویژن میں پاس ہوا تھا شائد 346 نمبر تھے، بہرحال میرے تایازاد بھائی حسن عسکری کاظمی گورنمنٹ کالج جہلم میں پروفیسر تھے انہوں نے مجھے اپنے پاس بلوالیا میں گیا اور گورنمنٹ کالج جہلم میں داخلہ مل گیا اب میرے خالہ زاد بھائی نزہت بھائی جان مجھے بیس روپے مہینہ دینے لگے جس میں سے میں دس روپے مہینہ کالج کی فیس دیتا اور دس روپے میں اپنا خرچ چلاتا۔ وہاں میری حسن رضوی سے دوستی ہوئی جو رشتے میں تو میرا بھانجا تھا لیکن ہم ماموں بھانجے سے زیادہ دوست تھے، یہیں ہم نے شاعری شروع کی، وہاں ایک موچی تھے جو بالکل ان پڑھ تھے کچھ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے لیکن شاعری کرتے تھے اور اچھی شاعری کرتے تھے حسن رضوی ان سے اصلاح لینے لگا، اصل میں حسن رضوی گوجرانوالہ سے بے اے کا امتحان دے کر جہلم آیا تھا جہاں اس کے والد کوثر ریلوے میں ملازم تھے اور

حسن کی والدہ باجی انیسہ حسن بھائی جان کی بیوی بھابی نفیسہ کی بڑی بہن تھیں، میری اور حسن کی گاڑھی چھننے لگی ہم کالج میں ہیرو بن گئے، میں بینجو بجاتا تھا، رقص کرتا تھا جبکہ حسن رضوی بانسری بہت اچھی بجاتا ہم کالج کے سٹیج پر ہر ہفتے کوئی نہ کوئی پروگرام کرتے اس طرح ہم کالج میں ہیرو بن گئے۔ بہرحال میں نے وہیں ایف اے کا امتحان بھی دیا اور نتیجہ آنے کے انتظار میں لاہور اپنے گھر آگیا یہاں آکر دیکھا کہ سلائی کر کرکے امی جان کے ہاتھوں میں گلٹیاں بن گئی تھیں میں نے فیصلہ کیا کہاب آگے جتنا بھی پڑھوں گا پرائیویٹ ہی پڑھوں گا اور ساتھ میں ملازمت کروں گا، اس لئے ملازمت کی تگ و دو شروع کردی اور پھر میرے ایک رشتے کے تایا نے مجھے محکمہ صحت میں ملازمت دلادی، میں ویسٹ پاکستان سٹیٹ میڈیکل فیکلٹی میں ہیڈ کلرک بھرتی ہوگیا، ان دنوں سیکرٹری صحت جی ایم جنیجو نے ایک سکیم نکالی تھی(ان دنوں ڈاکٹروں کا مسئلہ تھا کہ وہ چھوٹے قصبوں اور دیہات میں نہیں جاتے تھے اگر کسی کی وہاں پوسٹنگ کردی جاتی تو ڈیوٹی جوائن کرنے کے بجائے پہلے چھٹی لیتا پھر سفار ش کرکے اپنا دبادلہ بڑے شہر میں کرالیتا تو جی ایم جنیجو نے یہ سکیم نکالی کو جو ڈسپنسر سات سال کسی ایم ایس کے ساتھ کام کرتا رہا ہو اس کو بطور میڈیکل پریکٹیشنر کسی گاﺅں، قصبے یا چھوٹے شہر میں متعین کردیا جائے، اس کے لئے ان سے درخواستیں طلب کی گئی تھیں جس کے ساتھ کسی ایم ایس کا سرٹیفیکیٹ ہونا لازمی تھا) میں اس سکیم کا انچارج بنادیا گیا کہ درست درخواستیں تسلیم کرتا رہوں اور جن کے ساتھ ایم ایس کا سرٹی فیکیٹ نہ ہو ان کو رد کرکے واپس لوٹادوں، میں نے یہ کام شروع کردیا لیکن اس وقت میں مشکل میں پڑ گیا جب کچھ درخواستیں ایسی آئیں جن کے ساتھ ایم ایس کے سرٹی فٹکیٹ نہیں تھے بلکہ نجی کالجوں کے سرٹی فیکیٹ لگے تھے جن پر D M P S اس کے نیچے لکھا ہوتا تھا ڈپلومہ ان میڈیکل پریکٹس، میں نے ان کو رد کرکے واپس کرنا شروع کردیا پھر سول سیکریٹریٹ میں ڈاکٹر غلام بھیک سے اس بارے میں پوچھا (ڈاکٹر غلام بھیک سیکرٹری ہیلتھ کے نمبر دو تھے) انہوں نے کہا کہ فی الحال رکھو بعد میں دیکھیں گے، ابھی مجھے یہ جواب موصول نہیں ہوا تھا کہ نجی کالجوں کا مالکان آگئے اور مجھے پیش کش کی کہ فی درخواست دو سو روپے مجھے دیں گے میں یہ درخواستیں رد نہ

کروں وہ مجھے پیش کش کرکے چلے گئے کہ ایک دو روز میں آکر میرا جواب لیں گے اس دوران مجھے ڈاکٹر غلام بھیک کا جواب موصول ہوگیا لہذا میں نے نجی کالجوں کے مالکان سے حامی بھرلی اب میں ہر روز پانچ سات درخواستیں وصول کرتا اور بارہ چودہ سو روپے کما لیتا، اس زمانے میں میری بطور ہیڈ کلرک ماہانہ تنخواہ 146.50 روپے تھی یعنی ایک سو چھیالیس روپے پچاس پیسے، اور میرے گھر کا باورچی خانے کا ماہانہ خرچ پچاس روپے تھا، جس میں بیس پچیس روپے کا راشن کا سامان آتا جو پورا مہینہ چلتا، چار سے پانچ روپے بجلی کا بل ہوتا، پانی کا بل کچھ پیسے تھا شائد اب مجھے یاد نہیں رہا، بہرحال جب کھلے پیسے آنے لگے تو میں گھر کا سامان اور اپنا اور والدہ کے لباس پر بے تحاشا خرچ کرنے لگا، یہ عیاشیاں کچھ عرصہ چلیں پھر ایم بی بی ایس ڈاکٹروں نے اس سکیم کے خلاف عدالت میں مقدمہ کرکے حکم امتناعی لے لیا اور یہ سکیم وہیں دھری کی دھری رہ گئی جبکہ محکمہ¿ صحت کی یہ شاخ وقتی طور پر بند کردی گئی اور مجھے فارغ کردیا گیا۔

اب میرا دماغ بہت اونچا ہوگیا تھا ایسی کوئی ملازمت نہیں مل رہی تھی ان ہی دنوں میرے کالج کے زمانے کے ایک دوست محمد اشرف کا خط موصول ہوا وہ ان دنوں کراچی میں تھا، خط پاکر میں نے رخت سفر باندھا اور کراچی روانہ ہوگیا، وہاں پہنچ کر جب اپنے دوست کے پتے پر پہنچا تو دیکھا کہ وہ انجمن مسلمانان پنجاب کے دفتر میں سیکرٹری کے طور پر کام کرتا تھا اور اس کا دفتر ایمپریس مارکیٹ کے سامنے والی سڑک پر تھا جو آگے جاکر فلیٹ کلب اور وہاں سے پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی کی جانب نکلتی تھی، بہرحال اس کا دفتر ایک چھوٹے کمرے میں تھا جس میں فرنیچر لگا ہواتھا فون بھی تھا اس کے سامنے ایک اور چھوٹا کمرہ تھا جس میں اشرف کی رہائش تھی اور ایک ہال نما بڑا کمرہ تھا جس میں انجمن کی میٹنگ وغیرہ ہوتی تھیں، میں اشرف کے ساتھ رہتے ہوئے ملازمت تلاش کرنے لگا اور کئی روز بعد مجھے آسٹریلیشیا بنک ایلفنسٹن روڈ میں کلرک کی ملازمت مل گئی اور میں مطمئن ہوکر ملازمت کرنے لگا، لاہور میں میر ایک دوست مشرق اخبار میں اکاﺅنٹینٹ تھا جو پہلے کوہستان میں ہوتا تھا بعد میں جب مشرق شروع ہوا تو وہ مشرق میں آگیاتھا، ان دنوں وہ بھی کراچی میں تھا، جب مجھے ملازمت مل گئی تو میں ایک بار اس سے بھی ملنے گیا، وہاں مشرق کا دفتر ڈرگ روڈ پرتھا، ابھی مجھے ملازمت کرتے ہوئے چند روز ہی ہوئے تھے کہ مجھے ایک اور دوست ملا جو لاہور سے آیا تھا اس نے بتایا کہ میری امی میری یاد میں نیم دیوانی ہوگئی ہیں، اس وقت میرے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ لاہو آسکتا، میں نے مشرق کے دفتر جاکر اپنے دوست یوسف سے بات کی اس نے کہا کہ وہ دفتر کا کچھ سامان لاہور بھیجنے لگا ہے جو دفتر کی گاڑی میں جائے گا میں اس کے ساتھ چلاجاﺅں اس طرح سامان کی بھی نگرانی کروں گا اور سفر بھی کرلوں گا میں رضامند ہوگیا اور پھر دو روز بعد گاڑی میں بیٹھ کر لاہور کی جانب روانہ ہوگیا۔

تین روز کے طویل سفر کے بعد لاہور پہنچا تو آکر دیکھا کہ والدہ واقعی عجیب سی کیفیت میں تھیں،انہیں گھر کی تنہائی سے نجات دلانے کے لئے بڑے بھائی اپنی طرف لے گئے جو سمن آباد میں ایک چھوٹے سے گھر میں اپنی بیوی کے ساتھ رہتے تھے، میری بھابی سکول ٹیچر تھیں، بہرحال میں لاہور جاتے ہی پہلے سیدھا سمن آباد گیا پھر امی جان کو لے کر اپنے گھر شیش محل روڈ پر آگیا اور وہیں رہنے لگا، اب میرے پاس پیسے تو نہیں رہے تھے اس لئے ایک بار پھر زائچہ لگا کر سٹے کا نمبر نکالا اور جاکر لگادیا اتفاق سے وہی نمبر نکل آیا اور مجھے آٹھ ہزار روپے ملے، یہ رقم میرے لئے تین چار ماہ کے لئے کافی تھی، میں ملازمت تلاش کرتا رہا اور پھر فخر بھائی جان نے مجھے پارک لگژری ہوٹل میں (آج کے آواری ہوٹل میں) رکھ لیا وہ وہاں پر ریسیپشن مینیجر تھے، میں نے وہاں بلنگ، کیش اور ریسیپشن کا کام سیکھا اور ان تمام شعبوں میں ماسٹر ہوگیا اور ریسیپشن پر مستقل ڈیوٹی لگ گئی، وہاں بین الاقوامی ٹور آتے تھے خاص طور پر لندن کا پی بی کے اوورلینڈ ٹور کمپنی کی بسیں آتیں، ان ٹورسٹوں کے ساتھ مکالمہ کرنا کافی مشکل تھا لیکن مجھے اس میں مہارت ہوگئی تھی۔ انگریزی زبان میں مہارت حاصل کرکے میں امریکی لائبریری کا ممبر بن گیا اور وہاں سے مختلف علوم پر کتب لاکر ان کا مطالعہ کرنے لگا جبکہ گھر میں بھی میں نے اکنامکس، پولی ٹیکل سائنس، فلسفہ وغیرہ کا مطالعہ جاری رکھا سوچا تو یہ تھا کہ کسی پسندیدہ مضمون میں ماسٹر کی ڈگری لوں گا لیکن قسمت میں یہ نہ تھا بلکہ میں ایک بھی امتحان میں شرکت نہ کرسکا البتہ مطالعہ جاری رکھا ساتھ میں افسانے اور کہانیاں لکھنے لگا میں نے اپنا پہلا افسانہ ”ناسور دل“ کالج میں لکھا تھا جو کالج کے میگزین میں شائع ہوا تھا، اس کے بعد پھر لکھنے کا موقع ہی ملا نہ وقت بس عملی تجربات سے گزرتا رہا۔

___________

تحریر و تصاویر:غضنفر کاظمی

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

Advertisements