سستا مال___________صوفیہ کاشف

اس نے کہا ” تم بدل گئی ہو!”

“تو کیا دس پندرہ سال بعد تم کو ویسی ہی ملتی جیسی تم چھوڑ کر گئے تھے؟”

میں نے تڑخ کر جواب دیا تھا۔میں بار بار تڑخ جاتی تھی،گھما گھما کر بھگو بھگو کر مارتی،کبھی دائیں سے کبھی بائیں سے۔وہ کبھی حیرت سے دیکھتا کبھی ہونٹ بھینچ کر،کبھی کھینچ کر جواب دیتا اور کبھی خاموش گہری نظروں سے گھورنے لگتا۔وہ ایک زرد پھیلی روشنی سے بھرے کافی شاپ کے خاموش کونے میں خوبصورت لکڑی کی میز کے دوسری طرف بیٹھا تھا اور بہت دور سے بہت سالوں بعد مجھے دیکھنے آیا تھا۔

“تم اتنا بدل کیسے گئی ہو؟”

وہ بار بار پوچھتا!

“جنہوں نے تپتی دھوپ میں ننگے پاؤں پتھریلی زمین پر سفر کیا ہو وہ سالوں بعد بدل ہی جاتے ہیں”.

“اور وہ سفر کرنے والا کون ہے دونوں میں سے؟تم یا میں؟”

“میں!”

میں نے پوچھا نہیں اس سے کہ “کیا تم؟”

میں آج بھی نہیں پوچھ سکتی اس سے۔اگر وہ کہہ دیتا “نہیں” تو پوچھ کر بھی کیا تیر مار لیتی۔

میرے سامنے کی کرسی پر بیٹھا گرہن زدہ زرد روشنی میں وہ مجھ میں وہی پرانی نگین ڈھونڈتا تھا جو اس کے الٹ پلٹ مزاج کے ہر رنگ میں ڈھل جاتی تھی۔جس کی دعاؤں میں اس کا تزکرہ رہتا تھا اور ماتھے پر اسی کے نام کی سلوٹ اور ہونٹوں پر اس کے نام کی محبت۔جس کی انگلیوں کی پوریں روح میں دھیرے دھیرے اترتی تھیں اور ڈراؤنے خوابوں اور تھکاوٹ زدہ حقیقتوں کی ساری تلخی جذب کر لیتی تھیں۔مسکراتا تو ہنستی تھی اور تھک جاتا تو اس کے ہمت بن جاتی تھی۔وہ ٹوٹنے لگتا میں جوڑنے لگتی۔اور جوڑ جوڑ کر اسے اتنا مضبوط کر دیا تھا کہ بلآخر ایک دن منزل کے سفر پر تنہا نکل گیا۔دم گھٹتی یادوں کے سنگ اپنی شکستہ حالی پر آنسو بہانے اور اپنی بے مائیگی پر کڑھتے رہنے کے لئے میں تنہا رہ گئی۔مجھے رونا چاہیے تھا ،پھوٹ پھوٹ کر،کئی دن اور کئی راتیں جاگ کر کمرے کی دیوار سے لگ کر ،کبھی ذمیںن پر گر کر،کبھی بال نوچتے ہوئے،کبھی دیوار سے سر پھوڑتے ہوئے_____ بے تحاشا رونا چاہیے تھا!اتنا بین کرتی کہ کالے بال چھٹ جاتے،منزلیں قریب ہو جاتیں راستے سنور جاتے!________مگر اپنے آنسو میں نے آستین سے رگڑ دئیے تھے۔درد کی ہر لہر کو کوٹھری میں بند کر کے اس پر موٹا تالا لگا دیا۔اس کوٹھری میں اپنی ذندہ محبت،بے مراد وفا،بے تعبیر خواب،اور نوذائیدہ بے وفائ سب کو ٹھونس کر چابی گما دی!

پھر یوں ہوا کہ میں چل پڑی،لبوں پر پیاس کی پپڑی لے کر،سر پر خجالتوں اور پیشمانیوں کا ٹوکرا اٹھائے اپنی زندگی کی ظلمتوں کو پاٹنے نکل پڑی۔کون کون سی مسافتیں تھیں جن کو ہنس کر سینے سے نہ لگایا تھا میں نے۔کبھی آگ کہیں برف،کبھی کہر کہیں لاوہ،کبھی زلزلے کبھی طوفان،راہ میں لپٹتی ہر رکاوٹ کو سہا تھا۔اور لوگ کہتے ہیں سہنا آسان ہوتا ہے۔خود کو مار دینا پڑتا ہے،سسکیوں کا گلا گھونٹ کر قہقہوں کو جنم دینا پڑتا ہے۔آگ پینی پڑتی ہے، ژالہ باری سہنی پڑتی ہے،پھٹی زمینوں سے گر جانا پڑتا ہے،آندھی کے ساتھ دھول بنکر اڑ جانا پڑتا ہے۔جھک جانا اتنا آسان کہاں ہوتا ہے۔چمکتا رنگ مانند ہوا اور گلابی لب کالے،پتلی انگلیاں سوج گئیں اور پاؤں کھردرے اور بھدے ہوئے!_____اور آج وہ لوٹ کر میرے لہجے کی شیرینی ڈھونڈنے آ گیا تھا۔جس محبت کی سوغات کو وہ بازار کا سستا مال سمجھ کر چھوڑ گیا تھا۔آج دور کی مسافتوں سے اس کی تلاش میں پہنچا تھا اور کہتا تھا” تم بدل گئی ہو!”

جس مال کا بازار میں بھاؤ نہ لگے وہ گَل ہی تو جائے گی،جو پھول سجائے نہ گئے ان کو بکھرنے پر تو اختیار ہے۔منزلیں جن کو ٹھکرا دیں وہ رستوں کی دھول بنیں تو کیا عجب ہے۔شاید کسی موڑ پر لوٹ آنے والے کو پھر دلاسہ نہیں ملا۔شاید اس کی تھکاوٹیں راحتوں کو ترس گئیں یا اس کی مسکراہٹوں کے سنگ دنیا نے ہنسنا چھوڑ دیا،ہمت کے سفر میں تالیاں بجانے والے گم ہوئے!شاید بازار کے سستے مال کے ساتھ اس کی ذندگی کی قیمتی چیزیں گم ہوئ تھیں۔کون جانے؟کسے خبر!مگر یہ تو اس نے کہا نہیں!تو کیا پوچھوں اس سے کہ تم بھی_______؟

“ہاں!_____میں تو بدل گئی ہوں کہ مجھے بنانے والے رستوں میں چھوڑ کر چل پڑے مگر تم کو کیا ہواجو منزلیں چھوڑ کر مسافتیں طے کرتے ،کتنے دیسوں کی مٹی چاٹتے مجھے تلاشنے آئے ہو؟”

وہ زرد اداس روشنی میں میز کے اس طرف بیٹھا گہری سوچتی نگاہوں سے مجھے تکتا تھا،میرے ماتھے کے بَلوں کو،ذبان کی تیزی کو دیکھتا اور ان میں کسی گزرے زمانے کی آہٹ تلاش کرتا تھا۔آس پاس پھیلی سرگوشیوں بھرے شور میں میرا دھیان گمشدہ تھا اور میرے پاس اب اس کے لہجے کی تاثیر میں ڈوبنے کا وقت ہی کہاں تھا۔اس کی پلکوں کی لغزش میرے حواسوں کی حد میں تھی نہ اب اس کے ہاتھوں کی سختی سے میرے سانسوں کی کوئ ڈور ہلتی تھی۔

مجھے اس کے سامنے سے اٹھ جانے کی جلدی تھی۔اپنے تھکاوٹ زدہ چہرے کو بوسیدہ ہتھیلیوں پر دھرے وہ مجھے دیکھتا اور دیکھتا جاتا تھا۔میری نظر دیوار پر سجی ٹک ٹک کرتی گھڑی پر جمی تھی۔وقت بھی کیسا ظالم تھا!گھڑی پہ گڑی یہ نگاہیں کبھی اس کی تھی اور اس کے نقوش سے لپٹی نگاہیں میری۔آج میرے نقوش سے چاہت غائب تھی اور اس کی نگاہوں سے بے نیازی۔آج میرے تلوؤں کو سفر کی آگ کی عادت تھی،انہیں پتھروں کی رفاقت سے عشق ہو چلا تھا تو وہ ٹھہراؤ کی خواہش لیے مجھ تک آیا تھا۔میرے ننگے سر کو گھور گھٹاؤں اور چمکتے سورج کا آسرا تھا درختوں کے سائے میں سستانے کی عادت ہی نہ رہی تھی،چاہے کوئ کیسا ہی گھنا کتنا ہی عمررسیدہ کیوں نہ ہو! طویل تر چلنا، ہر پیچ و خم میں چلنا اور بے خطر بے رکے چلنا اب میری عبادت تھی!سالوں کی معصیت صدیوں کی طرح نبھائی تھی اور اب جب دونوں ایک دوسرے کی حقیقت بن چکے تھے تو میرے سامنے بیٹھا مجھ سے پوچھتا تھا

“تم اتنا بدل کیوں گئی ہو؟”

______________

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.