ماں۔اللہ کی رحمت کی عظیم علامت———————غضنفر کاظمی

عورت جب تخلیق کے عمل سے گزرتی ہے تو نو ماہ بچے کو اپنے شکم میں پروان چڑھاتی ہے، پھر تولید کے تکلیف دہ عمل سے گزرتی ہے لیکن وہ اپنی اولاد کی محبت میں ہر تکلیف خوشی سے حرفِ شکایت زبان پر لائے بنا برداشت کرتی ہے، جب بچہ دنٰیا میں آجا تا ہے تو عقل و فہم سے عاری ہوتا ہے، اس کو اپنے برے بھلے کی تمیز نہیں ہوتی،اپنے مفادات کا احساس ہوتا ہے نہ ہی اپنے زیاں کا، ایسے میں بھی رگوں میں خون منجمد کردینے والی سردی میں جب بچہ پیشاب کردیتا ہے تو ماں اس کو اپنی جگہ کر کے خود گیلے بستر پر چلی جاتی ہے تاکہ بچہ کو ٹھنڈ نہ لگ جائے، جب بچہ تھوڑا اور بڑا ہوتا ہے تو ماں کی انگلی پکڑ کر قدم اٹھانا سیکھتا ہے، لڑکھڑاتے ہوئے اپنا بوجھ ماں پر ڈالے لڑھکتا ہوا چلنا سیکھتا ہے، اور جب بولنے کی قابل ہوتا ہے تو سب سے پہلے جو لفظ ادا کرتا ہے وہ ماں، اماں یا ماما ہے یعنی جب بچہ بولنے کے قابل ہوتا ہے تو سب سے پہلے”ماں “ کا لفظ ادا کرتا ہے۔ اور ماں کو دیکھیں کہ غربت کی ماری ماں خود اچھی غذا سے محروم ہوتی ہے لیکن بچے کو محروم نہیں رہنے دیتی اس کو اپنا دودھ پلائے جاتی ہے،حالانکہ جانتی ہے کہ وہ خود اچھی غذا سے محروم ہے ، دودھ پلانے کی صورت میں وہ اپنی صحت خراب کرلے گی لیکن اس کے باوجود اسے دودھ پلاتے ہوئے احساس زیاں نہیں ہوتا۔ وہ بچے کو پروان چڑھتا دیکھ کر خوشی سے نہال ہوتی رہتی ہے۔
میں کبھی کبھی اپنی زندگی پر غور کرتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ماں کو مجسمہ¿ رحمت نہ بناتا تو کرہ¿ ارض تخلیق کے عمل سے ادھورا رہتا، نوے فیصد سے زائد بچے پروان چڑھنے سے پہلے ہی ختم ہوجاتے، یعنی کلی پیدا ضرور ہوتی لیکن کِھلنے سے پہلے ہی پیوندِ خاک ہوجاتی۔ بچہ پروان چڑھنے کے لئے ماں کی شفقت و رحمت کا محتاج ہوتا ہے اور جب تھوڑا بڑا ہوتا ہے تو اپنی اوقات بھول جاتا ہے پھر وہ ماں کو جاہل اور خود کو عاقل سمجھتا ہے، پھر اگر ماں کچھ کہے تو بچہ جواب دیتا ہے کہ ماں تو سیدھی سادی ہے تو کچھ نہیں جانتی، تیرا زمانہ اور تھا آج کا زمانہ اور ہے، ایسا کہتے وقت بچہ بھول جاتا ہے کہ اگر ماں تخلیق کے عمل سے نہ گزرتی تو آج اس کا وجود نہ ہوتا، اگر ماں اس کی پیدائش کی تکلیف برداشت نہ کرتی تو کبھی کا پیوندِ خاک ہوچکا ہوتا، اگر ماں سردی اور گرمی میں اس کا خیال نہ رکھتی تو وہ کب کا موسموں کی شدت کا شکار ہوکر پیوندِ خاک ہوچکا ہوتا، ایسے میں آج بہت سے دوستوں کا رویہ یاد داشت کی سکرین پر ابھرتا اور ڈوبتا رہتا ہے۔ میں غور کررہا تھا کہ میری پیدائش سے لے کر باپ بننے تک کے عمل میں میری ماں کا کتنا حصہ ہے تو احساس ہوتا ہے کہ میں تو کچھ بھی نہیں جو کچھ بھی ہے وہ ماں ہی ہے، جس کا نام ادا کرکے میں نے بولنا سیکھا تھا، جب میں ایک نازک سی کلی کی مانند تھا جس کو کوئی بھی کُچل سکتا تھا، کوئی سخت موسم سُکھا کرشاخ سے علیحدہ کرسکتا تھا اس وقت اگر میں سلامت رہا تو اپنی ماں کی قربانیوں کی بدولت، میں بچپن سے لڑکپن میں داخل ہوا تو اپنی ماں کے احسان سے، لڑکپن سے نوجوانی میں داخل ہوا تو ماں کی مہربانیوں سے اور نوجوانی سے جوانی کے پُر بہار چمن میں قدم رکھا تو ماں کے احسانوں کی بدولت، اس دوران میرے اخراجات میرں ماں ہی پورے کرتی رہی یہ درست ہے کہ کماتا باپ ہے لیکن بچے کے اخراجات ماں ہی پورے کرتی ہے، وہ ادھر ادھر سے رقم بچاتی رہتی ہے کہ بچے کی ضرورت ہو تووہ پوری کرسکے، مجھے یاد ہے مجھ پر ایک سخت وقت آیا تھا میرے والد کا انتقال ہوچکا تھا میری تعلیم ابھی پوری نہیں ہوئی تھی مجھے تعلیم چھوڑ کر ملازمت کی تلاش میں جُت جانا پڑا تھا، میں سارا دن لاہور کی سڑکوں پر جوتے چٹخاتا پھرتا مختلف دفاتر کے چکر لگاتا اور شام کو تھکا ہارا مایوس گھر لوٹ آتا جب گھر پہنچتا تو میری ماں میرے چہرے پر ناکامی کی داستان پڑھ کر میرے بولنے سے قبل ہی بول پڑتی، ” تم بلا وجہ پریشان ہوتے ہو بیٹے، میں ہوں نا، میں لوگوں کے کپڑے سی کر اتنے پیسے کما لیتی ہوں کہ تمہاری تعلیم کا خرچہ پورا کرسکوں تم کالج میں داخل ہوجاﺅ اور تعلیم مکمل کرو“۔ میں جواب دیتا، ” نہیں امی جان تمہیں نہیں پتہ، میٹرک کوئی تعلیم نہیں ہے، میٹرک کو کوئی کام اگر ملتا بھی ہے تو چپڑاسی کا، لیکن مجھے تو کہیں چپڑاسی کی ملازمت بھی نہیں مل رہی“۔ امی جان کہتیں، ” تبھی تو کہہ رہی ہوں کہ وقت ضائع نہ کرو اپنی تعلیم مکمل کرو پہلے پھر ملازمت بھی مل جائے گی“۔ لیکن میں کہتا، ” ارے امی جان تمہیں نہیں پتہ، میں تمہیں کپڑے سینے کی مشقت کرتا نہیں دیکھ سکتا، پہلے نوکری کرکے اتنا کماﺅں گا کہ پھر سکون سے تعلیم حاصل کرسکوں“ اس دوران امی جان کھانا گرم کرکے لے آتیں اور مجھے کہتیں، ” اچھا باتیں بعد میں کرنا پہلے کھانا کھالو، دیکھ تو کتنا سا منہہ نکل آیا ہے،“ اور جب میں کہتا کہ امی جان تم بھی تو آﺅ نا تو وہ جواب دیتیں کہ، ”میں تو کھا چکی مجھ سے بھوک برداشت نہیں ہوتی نا یہ تمہارے لئے ہے تم کھالو“۔ اور میں سکون سے کھانا کھالیتا اور پھر مجھے ایک دن معلوم ہوا کہ وہ غلط بیانی کرتی تھیں وہ خود نہیں کھاتی تھیں بلکہ جھوٹ بول کر مجھے کِھلاتی تھیں تاکہ میں بھوکا نہ رہوں، ان دنوں ہمارے گھر میں اگر اچھا سالن نظر آتا تو وہ یقیناً کسی ہمسائے کے گھر سے آیا ہوتا تھا کیونکہ ہم تو پکانے کے قابل نہیں تھے امی جان وہ سالن مجھے کِھلا دیتیں اور خود پانی میں نمک مرچ گھول کر اس سے کھاتیں، لیکن یہ راز مجھ پر بہت دیر سے کھلا تھا۔
مجھے اپنے دوست اشرف کا خیال آتا ہے جو شادی کے بعد جورو کا غلام بن کر اس کی غلامی کرتا اور ماں کو بھی اس کی غلامی پر مجبور کرتا اور خود بیوی کے تلوے چاٹتا اور ماں پر حکم چلاتا۔ وہ پھل لاتا تو سیدھا بیوی کے ہاتھ میں دیتا جو انہیں ماں سے چھپا کر سنبھال کر رکھ لیتی اور پھر ماں سے چھپ چھپ کر دونوں میاں بیوی مل کر کئی دن تک کھاتے رہتے، بیٹا کوئی کپڑا جوتا لاتا تو بیوی کے لئے اگر کبھی ماں فرمائش کرتی کہ بیٹا میری جوتی کئی دن ہوئے ٹوٹ گئی تھی میں ننگے پاﺅں پھر پھر کر تھک گئی ہوں، تم مجھے کوئی سستی سے چپلی ہی لادو تو اشرف جواب دیتا، ”ماں جی تم دیکھتی ہونا کہ میں کتنی محنت سے کماتا ہوں پھر بھی اخراجات پورے نہیں ہوتے، تمہیں جوتا کہاں سے لاکر دوں؟“۔ حالانکہ وہ اپنی بیوی کے لئے کچھ نہ کچھ لاتا رہتاہے، ایک دن مجھے اشرف کی ماں پر بہت ہی ترس آیا، اصل میں اس دن صبح میں اشرف کے گھر گیا تو وہ اپنی ماں کو ڈانٹ رہا تھا اور اس کی ماں بے چاری سہمی ہوئی اس کی شکل دیکھ رہی تھی، میرے آنے کے بعد بھی اشرف کی زبان نہ رکی تو تنگ آکے میں ہی بول اٹھا کہ اشرف ماں کی اتنی بے عزتی نہ کرو کہ اللہ کی گرفت میں آجاﺅ، کچھ تو خیال کرو وہ تمہاں وہ ماں سے جس نے تمہیں نو ماہ پیٹ میں رکھا، اس پر اشرف نے جواب دیا کہ پیٹ میں رکھ کر اس نے مجھ پر کوئی احسان نہیں کیا دنیا کی ہر لڑکی جب ماں بنتی ہے تو بچے کو پیٹ میں ہی پالتی ہے اس نے کون سا کوئی انوکھا کارنامہ انجام دیا ہے، اشرف کی یہ بات سن کر میں خاموش ہوگیا اس کے بعد بولنے کے لئے رہا ہی کچھ نہیں تھا، شام کو میں تنہائی میں اشرف کے گھر گیا اور اس کی ماں سے اشرف کے خلاف بات کرنی چاہی تو ماں جی نے مجھے ٹوک دیا اور کہا، ”پتر اشرف غلط نہیں کہتا میں ہوں بھی تو جاہل“ اور میں اس ماں کی عظمت کی اوج میں کھوگیا۔
اصل میں اللہ کی رحمت کی عظیم ترین نشانی ماں ہے، اللہ نے اپنی محبت کی مثال بھی تو ماں کے رشتے ہی سے دی ہے نا کہ اللہ ستر ماﺅں کا سا پیار کرتا ہے اپنے بندوں سے، جس رشتے کی مثال اللہ اپنے لئے استعمال کرے اس رشتے کی عظمت، تقدس، پاکیزگی، بالیدگی، طہارت، قربانی، رحمت، شفقت، محبت کا کیا کہنا، کوئی اس قابل ہی نہیں کہ اس پر بات کرسکے، کوئی اتنا صاحب علم ہی نہیں جو ماں کی قربانیوں کے بارے میں کچھ بول سکے یا تحریر کرسکے کیونکہ ماں قربانیوں کی جس آخری منزل پر ہوتی ہے دنیا کا کوئی مصنف اس انتہا تک سوچ بھی نہیں سکتا، ذرا غور کریں جس مقام تک کسی مصنف کی سوچ بھی نہیں پہنچ سکتی وہ منزل کیسی ہوگی، ماں…. پیاری ماں، شفیق ماں، قربانی کی انتہا ماں، کائنات کا آغاز ماں، کائنات کا اختتام ماں، اگر حساب کی زبان میں بیان کروں تو کائنات کا جذر ماں، اللہ کی شفقت کی انتہا ماں، اللہ کی رحمت کی انتہا ماں، اللہ کی محبت کی انتہا ماں، قربانی کی انتہا ماں،
عشق کی انتہا ماں، مجنوں پاگل تھا جو لیلیٰ سے عشق کرنے لگا اگر وہ اپنی ماں سے عشق کرتا تو اس کی دنیا و عاقبت دونوں روشن ہوجاتیں۔
ماں جب ہوتی ہے تو بیٹا محسوس نہیں کرتا جب چلی جاتی ہے تو ہر ہر قدم پر اس کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ آج میری ماں نہیں وہ اللہ کو پیاری ہوچکی ہیں لیکن میرے ذہن کے پردے پر وہ آج بھی زندہ ہیں، آج بھی سٹور سے کوئی ایسی چیز نکل آتی ہے جس سے امی جان کی محبت کا اظہار ہوتا ہے، ماں کی محبت الفاظ سے بہت بالا ہے، کوئی مصنف ماں کے بارے میں وہ کچھ نہیں لکھ سکتا جس کی وہ مستحق ہوتی ہے، حقیقت یہ ہے کہ محبت نہ تو کی جاتی ہے نہ اس کا الفاظ سے اظہار ممکن ہے، نہ ہی محبت اظہار کی محتاج ہوتی ہے، نہ ہی کوئی محبت کے بارے میں کچھ کہہ سکتا ہے کیونکہ محبت الفاظ کی محتاج نہیں ہوتی الفاظ محبت کے محتاج ہوتے ہیں اور پھر ماں کا ذکر ہو تو تمام الفاظ ہیچ ہیں، تمام جذبات ہیچ ہیں، بلکہ دیوانگی بھی ہیچ ہے ماں کی محبت تو قربانی سے شروع ہوتی ہے قربانی پر چلتی ہوئی قربانی پر ہی تمام ہوتی ہے، دنیا بھر کی قربانیوں کا بیان کرنا ہو تو ایک لفظ میں ممکن ہے بس …….. ماں …….. کہدو تو قربانیوں کی مکمل داستان تحریر ہوجاتی ہے۔
اے ماں…. سناتا ہوں اپنی حکایت سنو میری ماں، زبانی مری میری حالت سنو میری ماں، میں نے تجھے کبھی جانا نہیں اے ماں، کبھی تیرا رشتہ پہچانا نہیں اے ماں، تو میری زندگی کی ابتدا ہے نا ماں، جب جانا تو تُو مجھ سے دُور جاچکی ہے…. ماں، ماں تو ایمان کی طرح ہوتی ہے، ماں عشق کی انتہا ہے، ماں قربانیوں کا آخر ہے، ماں الف لام میم ہے، میں کعبہ ہے، ماں نماز ہے ماں روزہ ہے، ماں ایمان ہے، ماں عبادت ہے، ماں محبت ہے، ماں شفقت ہے، ماں ایثار ہے، کوئی سمجھے یا نہ سمجھے ماں وہ حقیقت ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا، ماں وہ رشتہ ہے جو انسانوں، جنات، نباتات، حیوانات اور جمادات سب میں ہوتا ہے، امی جان مجھے معاف کردینا آج احساس ہورہا ہے کہ میں نے آپ کی قدر نہ کی، میں نے آپ کوپہچانا نہیں، میں نے آپ کو جانا نہیں، ماں کی محبت اس نازک سی شاخ کی مانند ہوتی ہے جو حد سے زیادہ نازک ہونے پر بھی زمین کا سنگلاخ سینہ چِیر کر ظاہر ہوتی ہے، اگر انسان اس کی نزاکت ،ہمت، استقامت، جرا¿ت اور قوت کو نہ پہچانے تو اس میں اس کا قصور نہیں بلکہ انٰسان کی اپنی جہالت ہے۔
امی جان میں آپ کے رشتے کی عظمت کے بارے میں لکھنا چاہتا تھا لیکن اب احساس ہورہا ہے کہ آپ کی عظمت ، آپ کی بزرگی ، آپ کی شفقت، محبت اور قربانی بیان کرتے ہوئے آپ کی توہین کا مرتکب ہورہا ہے کیونکہ میں اس گہرائی تک نہیں جاسکتا جہاں آپ قربانیوں میں پہنچ جاتی ہیں میں اس محبت کو بیان نہیں کرسکتا جو آپ مجھ سے کرتی ہیں میں اس شفقت کو نہیں پہچان سکتا جس کا اظہار آپ کرتی رہتی تھیں ، حقیقت یہ ہے کہ میں وہ جاہل مطلق ہوں جو صرف طوطے کی طرح ماں ماں رٹ سکتا ہوں لیکن اس کا مطلب کیا ہے، اس کی روح کیا ہے، اس میں حلاوٹ کیا ہے، اس میں لذت کیاہے وہ نہیں جان سکتا اور امی جان میں آپ کے جذبات کی مزید توہین نہیں کرنا چاہتا اس لئے ان الفاظ کے ساتھ اجازت چاہتا ہوں کہ ماں کو پہچانا تو اللہ کی شناخت ممکن ہوسکی۔

_______________________

تحریر :غضنفر کاظمی

کور ڈیزائن و فوٹوگرافی:صوفیہ کاشف

Advertisements

2 Comments

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.