سورج کی کرنیں اب براہ راست اس پر نہیں پڑتی تھی۔

اب زمینوں سے اٹھتے دھویں کا ابر اس کے درمیان حائل تھا

وہ دھوپ کو چھانٹنا چاہتا تھا مگر زمین سے اٹھتے اس دھویں میں اتنا زہر تھا کہ ذرا بھی منتشر کرنے پر فضا زہر آلود ہونے لگی وہ سورج کی کرنوں کو تیاگ چکا تھا

تاکہ یہ زہر ابر کی شکل میں یوں ہی قائم رہے

سورج کی تمازت کے بغیر اب وہ زمانے کی سردی میں جھلس رہا تھا

وہ “فضا کو زہر آلود کرنا نہیں چاہتا تھا مگر اسے تو برسنا ہی تھا

برسائی گئی لہر کے زہر یلے گیس چیمبر کی طرح وہ زہر کے حبس میں مر گیا………..!!!

مگر وہ اکیلا ہی مرا دیکھنے والوں نے نہیں دیکھا تھا کہ ابر برسنے سے کیا ہوگا

کاش اس میں کوئی جستجو نہ ہوتی

نہ تحقیق کی نہ تمازت کی..!!

زمانے کے گرد غبار نے اور بے رنگ ہواؤں نے اس کے باقیات کو “جھانک” دیا تھا – جس سے نائٹرو جن آکسیجن دو نوں ایک ساتھ خلا میں پھیل رہے تھے ،مگر مائنس مائنس پاپلس کی بجائے نہ پلس پلس مائنس ہورہا تھا نہ محسوس کرنے والوں نے اسے فطری آب ہوا سے..مشابہہ

محسوس کیا مگر محسوس کرنے والوں کو ائیر پالوشن محسوس ہورہا تھا

یہ کیا ہٹلر کے چیمبر تک جائے گا

تو گلوبایزیشن اور “میں” کے درمیان یہ گلوباائزاسین اتنا سرخ کیوں ہوگیا…. ________

میں اور ” تو ” کے درمیان یہ کیا حائل ہوگیا ہے “میں اور تو” کا رشتہ سرسبز کرنا ہوگیا تاکہ ہٹلر کے اس گیس چیمبر سے دور رہا جاسکے

_____آر – یو – ریڈی……..! ؟؟؟

(سر شیکشپیرء نے کہا تھا :- “جو شخص جہاں ہے وہاں سے سماج کو جو کچھ دے سکتا ہے – وہ ہر بہتر دینے والوں سے ایک اچھا سماج تسکیل پا سکتا ہے”)

_______________

تحریر: احمد نعیم،انڈیا

فوٹو گرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف