حسیت کا بھگتان__________ احمد نعیم

سورج کی کرنیں اب براہ راست اس پر نہیں پڑتی تھی۔

اب زمینوں سے اٹھتے دھویں کا ابر اس کے درمیان حائل تھا

وہ دھوپ کو چھانٹنا چاہتا تھا مگر زمین سے اٹھتے اس دھویں میں اتنا زہر تھا کہ ذرا بھی منتشر کرنے پر فضا زہر آلود ہونے لگی وہ سورج کی کرنوں کو تیاگ چکا تھا

تاکہ یہ زہر ابر کی شکل میں یوں ہی قائم رہے

سورج کی تمازت کے بغیر اب وہ زمانے کی سردی میں جھلس رہا تھا

وہ “فضا کو زہر آلود کرنا نہیں چاہتا تھا مگر اسے تو برسنا ہی تھا

برسائی گئی لہر کے زہر یلے گیس چیمبر کی طرح وہ زہر کے حبس میں مر گیا………..!!!

مگر وہ اکیلا ہی مرا دیکھنے والوں نے نہیں دیکھا تھا کہ ابر برسنے سے کیا ہوگا

کاش اس میں کوئی جستجو نہ ہوتی

نہ تحقیق کی نہ تمازت کی..!!

زمانے کے گرد غبار نے اور بے رنگ ہواؤں نے اس کے باقیات کو “جھانک” دیا تھا – جس سے نائٹرو جن آکسیجن دو نوں ایک ساتھ خلا میں پھیل رہے تھے ،مگر مائنس مائنس پاپلس کی بجائے نہ پلس پلس مائنس ہورہا تھا نہ محسوس کرنے والوں نے اسے فطری آب ہوا سے..مشابہہ

محسوس کیا مگر محسوس کرنے والوں کو ائیر پالوشن محسوس ہورہا تھا

یہ کیا ہٹلر کے چیمبر تک جائے گا

تو گلوبایزیشن اور “میں” کے درمیان یہ گلوباائزاسین اتنا سرخ کیوں ہوگیا…. ________

میں اور ” تو ” کے درمیان یہ کیا حائل ہوگیا ہے “میں اور تو” کا رشتہ سرسبز کرنا ہوگیا تاکہ ہٹلر کے اس گیس چیمبر سے دور رہا جاسکے

_____آر – یو – ریڈی……..! ؟؟؟

(سر شیکشپیرء نے کہا تھا :- “جو شخص جہاں ہے وہاں سے سماج کو جو کچھ دے سکتا ہے – وہ ہر بہتر دینے والوں سے ایک اچھا سماج تسکیل پا سکتا ہے”)

_______________

تحریر: احمد نعیم،انڈیا

فوٹو گرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

Advertisements

6 Comments

  1. حسیت کا بھگتان ….فضائی آلودگی ہو یا زمینی اس کے پیدا کرنے میں بہرحال انسان کا ہی ہاتھ ہوتا ہے…. زمین پہ جو گندگی اور آلودگی پیدا ہوچکی ہے اُسے اگر ختم کیا جائے اس کوختم کرنے کی کوشش کی جائے تو ظاہر ہے اس سے آسمان بھی متاثر ہوگا….. یہ نااُمیدی بن کے ہماری زندگی میں چھا چکی ہے ہٹر کا کہنا ہے اگر ہر شخص اپنی اپنی جگہ اپنا اپنا حصہ ڈالے اپنے حصے کا کام کرے تو یقیناً ہم ایک اچھا صحت مند معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں… مگر جب ہر کوئی آنکھ بند کر کے گزر جائے تو پھر ایسے حالات ہی پیدا ہونگے نا کہ کچھ بھی درست شکل میں نہ آسکے…… یہ سائنسی مائکروفکشن ہے جس میں مصنف نے ایک انسان کی آلودگی طرف توجہ دلائی ہے.. جس سے انسان بے خبر ہے یہ بس ایک کو اپنے حصے کا کام کرنا ہوگا… یہی تحریک مصنف نے قاری کو دلانے کے لیے یہ تحریر تخلیق کرنے کی کوشش کی ہے.. نیک خواہشات

    Liked by 1 person

  2. میں اور ” تو ” کے درمیان یہ کیا حائل ہوگیا ہے “میں اور تو” کا رشتہ سرسبز کرنا ہوگا تاکہ ہٹلر کے اس گیس چیمبر سے دور رہا جاسکے۔۔
    ایک عمدہ بامقصد مائیکروفکشن۔ جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اگر سب نے مل کر دفاع نہ کیا تو سب ہلاک ہو جائیں گے۔

    Liked by 1 person

  3. احمد نعیم ہمارے شہر کا ایک اچھا قلمکار ایک اچھا افسانہ نگار ہے جس کے یہاں ندرتِ خیال کا ایک وسیع جہاں ہے جہاں سے یہ دن بدن نت نئے تخیلات لاتا ہے اور ایک خوبصورت جامے میں قاری کے سامنے پیش کرتا ہے زیرِ نظر افسانہ بھی اس کے بہترین افسانوں میں سے ایک ہے جس میں اس نے ماحولیات کے معدوم ہوتے ہوئے وجود اور اس کی بقا کو زیرِ بحث لانے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے جس پر اسے جتنی مبارکباد دی جائے کم ہے

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.