پاکستان دبئی جیسا کب بنے گا_______________صوفیہ کاشف

متحدہ عرب امارات میں رمضان کیا شروع ہوتا ہے کہ رنگ و روشنی کی بہار امڈ آتی ہے۔ شہر کی گلیوں میں ,عمارتوں پر ،بڑی شاہراہوں پر رمضان کریم کے نام کے قمقمے جلنے بجھنے لگتے ہیں اور ہر کونہ خوبصورت چاند ستاروں اور لالٹینوں کی چمکتی روشنیوں سے جگمگا جاتا ہے تو اس روحانیت کا احساس ضرور ہوتا ہے جو تلاشنے کی خاطر پاکستان میں جستجو کا آغاز ہو چکا۔مگر کیا کیجیے کی کچھ تاثیر کن اخلاق واعمال اگر اداروں اور یونیورسٹیوں میں سکھائے جاتے تو آج ایک بڑی عوام ان اداروں سے نکلنے کے بعد بہترین اخلاق و کردار کی امت میں بدل ہی چکی ہوتی۔مگر جب یہ ادارے ڈھنگ کے انساں پیدا کرنے میں ناکام رہیں تو پھر انکی روحوں کو بالیدگی دینے میں کامیاب کیسے ہونگے؟ یہ بھی ایک اسرار ہے شاید ایک تحقیقی یونیورسٹی اس مقصد کے لئے بھی ضروری ہے۔

شاپنگ سنٹر میں داخل ہوتے ہی محسوس ہوا کہ سپر مارکیٹ اپنی حدوں سے باہر نکل کر وسیع ہال میں پھیل چکی اور کجھوروں،انجیروں،اور میوہ جات کے ساتھ زعفران اور عربی اچار کے لوازمات خصوصی خیموں میں سج چکے۔خیمے جو عرب تہذیب کا ایک لازم جزو ہیں ،کجھور جو انکی زندگی کا ایسا اہم حصہ ہے جیسے ہمارے ہاں پاکستان میں روٹی۔۔۔جس کے بغیر کھانے کو کھانا گردانا ہی نہیں جا سکتا۔اگرچہ اتنے سالوں میں اس قدر گرم علاقوں میں گرم تاثیر سے لبالب کجھوریں اس قدر کھانا ہمارا معدہ برداشت کر ہی نہیں پایا۔مگر آفرین ہے کہ ایسی آگ میں جلتے صحرا میں رہتے ہیں اور کجھوروں کے ساتھ گرم کڑوے عربی قہوے پیتے ہیں اور یہ عرب لوگ خوش رہتے ہیں۔یقینا ہر مٹی پر رہنے والے اسی مٹی سے بنتے ہیں اور اسی مٹی کے لئے بنتے ہیں۔شاید یہی وہ راز ہے کہ اس کی حدوں سے دور جا کر بھی انساں اپنی مٹی بھول نہیں پاتا ۔ چناچہ یہاں پر گزاری دہائی ہمیں عرب نہیں بنا پائی اور ان کی شہری زندگیوں میں جا بجا ائیر کنڈینشنگ ،لگثری،سہولیات کا افراط ان کو اپنے خیموں اور لالٹینوں کو بھلا نہیں پایا۔اماراتی عرب بی ایم ڈبلیو،پراڈو اور لینڈ کروزرز سے نکلتے ہیں تو اکثر ننگے پاؤں ہوتے ہیں اور مسجد کے گرم صحن میں تپتی دھوپ میں سجدہ کرنے لگتے ہیں جہاں ہمارے غریب ملک کے لوڈ شیڈنگ سے بھرپور مہینوں میں پنکھوں کے بغیر رہنے والی عوام بھی پاؤں اچھال اچھال تھک جاتی ہے۔

رمضان کی شروعات سے ہی ہر جگہ علامتی اور فنگشنل قسم کے خیموں اور لالٹینوں کی بہتات ہو جاتی ہے۔کہیں محض خوبصورتی پیدا کرنے کے لئے اور کہیں روزہ داروں کی روزہ کشی کے لئے!پھر چاہے کسی مصروف سڑک کا کنارہ ہو یا شیخ زید مسجد کا وسیع و عریض دالان سفید خیموں سے اٹ جاتا ہے۔شیخ زید مسجد جہاں بڑے بڑے ان گنت خیمے نصب کر کے ان میں دریاں بچھائی جاتی ہیں اور ان پر روزانہ سینکڑوں روذہ دار خاندانوں اور افراد کو بہت ترتیب اور تہزیب کے ساتھ بٹھا کر افطار کی دعوت کی جاتی ہے۔یہاں اعلی معیار کا بہترین کھانا مفت مہیا کیا جاتا ہے جیسا شاید ہم پاکستان میں فائیو سٹار ہوٹل سے بھی توقع کرتے ڈرتے ہیں،اور یقینا بات معیار کی ہی ہے کہ وہاں اپنے پاکستان میں خوبصورت پرتعیش کھانا بھی بندہ سونگھ سونگھ کھاتا ہے اور دل میں دعائیں کرتا ہے کہ یاخدا بکرا ہی ہو اور صحت مند بھی ! گلی محلے میں پھرتی کوئ اور مخلوق نہ ہو ۔ صرف شیخ زید مسجد ہی نہیں، یہی پریکٹس حکومتی یا نجی لیول پر ہر مسجد میں دہرائی جاتی ہے ۔مسجد میں اور شاہراؤں پر رضاکارانہ طور پر بانٹا جانے والا یہ افطار کا انتظام خصوصی محکلمے کے زیر انتظام بہترین نگرانی اور معیار کے ساتھ تیارکروایا جاتا ہے اور اعلی ترین انتظامی صلاحیت کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔متحدہ عرب امارات کی اصل ترقی دیکھنی ہو تو اس کی بلند و بالا عمارتیں اور کارپٹڈ سڑکیں نہیں ،ماہ رمضان میں شیخ زید مسجد میں جا کر یہ افطار خیمے دیکھ لیں۔شاید ہی ایسا نظم و نسق آپ کو یورپ اور امریکہ میں ملے۔عوام کی فلاح اور تہذیب ہی کسی قوم کی سب سے بڑی ترقی ہوتی ہے۔وہ نہ ہو تو اونچی عمارتوں میں پھرتی تیز رفتار میٹرو بھی کوڑے کے ڈھیر پر لگے سنگ مر مر سے ذیادہ نہیں لگتی۔

عرب دنیا کو قتنوطی سمجھا جاتا ہے مگر یہ ہمارے پاکستانی معاشرے سے بہت ذیادہ پرسکون،کشادہ دل اور مذہبی ہے۔عرب لوگ نمازوں کے عادی ہیں،ان سے گھبراتے نہیں۔اذان ہوئی اور ہاتھ باندھے جائے نماز بچھا کر جہاں تھے وہیں کھڑے ہو گئے۔پاکستان میں کتنے لوگوں کی کاروں میں جائے نماز ہوتے ہیں؟ نماز نہ پڑھنے والے پاکستانی یہاں آ کر اپنی کاروں میں جائے نماز رکھنے لگتے ہیں کہ جدھر دیکھتے ہیں عرب قوم کو بانماز دیکھتے ہیں اور شرمندہ ہوتے ہیں اور آہستہ آہستہ ایک روایت سمجھ کر سیکھ ہی جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جو اکثر تصاویر آپ دیکھتے ہونگے سڑک کے کنارے کھڑے نمازیوں کی وہ اکثر ان ہی ریاستوں کی تصاویر ہوتی ہیں جہاں ایشیائی باشندوں کو لیجاتی لیبر کی بس بھی اذان ہونے پر سڑک کنارے نماز کے لئے رک جاتی ہے۔ان پر خدا کی کرامات کے پیچھے کہیں نہ کہیں اس نماز کی برکت بھی ہو گی جو یہ عرب قوم اپنے کاندھوں پر ایسے اٹھائے بیٹھی ہے جیسے اس کا کوئ بوجھ ہی نہیں۔انکی مسجدیں رمضان کے علاؤہ بھی ہمیشہ بھری رہتی ہیں اور انکی پارکنگ میں بڑی بڑی مہنگی گاڑیوں کی قطاریں لگی رہتی ہیں۔۔ایک ہماری قوم ہے کہ آج تک یہی فیصلہ نہیں کر پائی کہ نماز پڑھ کر قدامت پسند بننا ہے یا نہ پڑھ کر لبرل؟ مذہب اپنا کر غریب مسکین دکھائ دینا ہے یا غیر مذہب ہو کر نواب!عرب دنیا میں بر بری Burberry اور گوکی gucciکے پہناووں والے اور والیاں بھی مصلوں پر بیٹھے ملتے ہیں اور ان کو کوئ بھی جاہل،ان پڑھ ،قدامت پسند اور پینڈو نہیں کہتا۔مذہب اور امارت میں یقینا کوئ تعلق نہیں۔اخلاقیات اور رتبے میں بھی کوئ جھگڑا نہیں ۔سب ایک دوسرے کے ساتھ شیر و شکر ہیں۔یہاں بڑی بڑی کرسیوں پر بیٹھےدفتری اوقات میں سر پر ٹوپیاں لئے قرآن پڑھتے ملتے ہیں۔عرب امارات ان ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں انسان مسلمان ہونے پر فخر کرتا ہے،جہاں مسلمان غیر مسلم کو متاثر کرتا ہے،اپنی اونچی اوقات کے ساتھ اپنے رویے اور رواج سے بھی اور اس کی بہترین پریزنٹیشن سے بھی۔کسی بھی قوم کو بنانے کے لئے ایک مضبوط نظریہ ہونا اور پھر اس پر مضبوطی سے فخریہ جمے رہنا بہت ضروری ہے پھر چاہے وہ کسی مذہب کی بنیاد پر ہو یا کسی اخلاقی درجے کے آئین کے نام پر ۔دنیا کی بڑی ریاستیں عیسائی ہیں،یہودی ، مسلمان یا ہندو!یہ نام ایک ہونا اور کردار دوسرا ہونے کا کوئ وجود نہیں ہوتا نہ انسانوں کی تقسیم میں نہ قوموں کے معیار میں۔

قوموں کو تخلیق کیا جاتا ہے۔صرف پیسہ لگا کر عمارتوں کو تعمیر نہیں کیا جاتا۔ملک نہ تیز رفتار ٹرینوں سے بنتے ہیں نہ ٹیڑھے میڑھے،بل کھاتے پلوں سے ۔ملک ان رستوں پر چلتے ہوئے عوام سے اور ان کے رویوں سے،ان کے اچھے برے معیارات سے،فکر اور عمل کی بلندی سے تعمیر ہوتے ہیں۔دنیا پر راج کرنے والی قوموں نے کلیشے بن جانے والے مذاہب کے نام بدل کر ان کا نام اخلاق رکھ لیااور اپنا لیا ۔اور ہم دیکھ کر ، سن کر نہ نقل کر کے ہی، مذہب کے نام پر نہ وقار اور اخلاق کے نام پر ،ان رویوں اور روایات کو نہ اپنا سکے جو مذہب بنا کر ہم پر اتارے گئے تھے یا ہم نے ان کو بالاتر سمجھ کر اپنایا تھا مگر آج تک اسے اپنی زندگیوں میں نافذ نہ کر سکے۔ہم نے برتری کا معیار ذہنی اور اخلاقی گمراہی،بیمار رویے، اور بدتر اخلاق کو جانا۔

حکومتیں عوام کی صحت،سلامتی اور شعور کی زمہ داری لے کر مضبوط ہوتی ہیں۔اور متحدہ عرب امارات نے پچھلی چالیس دہائیوں میں یہ کام بہت محنت سے کیا ہے۔اپنے مذہب ،اپنی روایت کو اپنی شناخت کے لئے استعمال کیا ہے اور اس پر فخر کیا ہے۔افراد کے رویے جیسے بھی ہوں ،حکومتی لیول پر اور قومی سطح پر اجتماعی رویے وہ چیزیں ہیں جن کی نقل کرنے کی ضرورت ہے۔ان کی عمارات کی نقل سے پہلے ان کے اطوار کا تفصیلی جائزہ بہت ضروری ہے۔پاکستان میں ہمیشہ سیاست کے ٹھیکیداروں نے یہ تاثر دیا ہے کہ میٹرو اور موٹر ویز یا بلند بالا عمارتیں دبئی کی پہچان ہیں اور یہی بنانے کے خواب پاکستانی عوام کو دکھائے جاتے رہے۔ان بلند عمارتوں اور موٹر ویز پر چلنے والی عوام کو حکومتوں نے کس طرح ایک بامراعات آسودہ حال طبقہ بنا کر،بے اختیار رکھ کر مگر اعلی معیار زندگی دے کر کس طرح تعمیر کیا ہے اس کو کبھی اجاگر نہ کیا گیا۔

اماراتی عرب لوگوں کو سیاست کرنے کی آذادی نہیں۔وہ گلی محلوں میں،ریسٹورنٹ اور کھلے بازاروں میں،قہوہ خانوں میں بیٹھ کر ہاتھ پر ہاتھ مار کر حکومت اور حکومتی نظام پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔وہ سوشل میڈیا کے کسی بھی پلیٹ فارم پر حکومت یا حکومتی پالیسی کے خلاف ایک ڈھکا چھپا تبصرہ بھی نہیں کر سکتے۔اور ان کو اس کی ضرورت بھی نہیں۔کیونکہ بادشاہت کے ایک غیر پارلیمانی نظام میں تقریبا ہر اماراتی عربی کو اعلی تنخواہوں پر اعلی روزگار مہیا ہیں،گھروں کی عورتوں سے لیکر نوجوانوں تک سب کے سب باروزگار ہیں۔حکومت کی طرف سے مفت یا محض نمائشی قیمت پر تعمیر شدہ گھر یا تعمیر کے لئے رقبہ ہر خاندان کو نہ صرف مہیا کیا جاتا ہے بلکہ ذندگی کی آسائشوں کے لئے مختلف بہانوں سے وظیفے اور قرض بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔۔ضروریات ذندگی کے لئے خصوصی رعایتی قیمتوں پر راشن کارڈ،صحت انشورنس کارڈ اور مفت یا بہت حقیر قیمت پر اعلی تعلیمی اداروں سمیت ہر سہولت اور آسائش ان کے دروازے پر مہیا کی جاتی ہے۔پاکسان میں جہاں سرکاری تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کا دوسرا نام خواری اور بربادی ہو یہاں اسکا نام بہترین مہیا ادارے اور اعلی ترین سہولتیں ہیں۔متحدہ عرب امارات کے سرکاری ہسپتال اور سکولوں کا مقابلہ پاکستان کے مہنگے ترین پرائیویٹ ادارے بھی نہیں کر پاتے مگر یہ بات وہاں پر صاحب اختیار نہیں بتاتے۔

اماراتی عرب لوگ غریب نہیں،یا یوں کہیں کہ اپنی بادشاہت کی طوالت کے لئے ان کو غریب رکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔اماراتی عرب اس قدر آسودہ حال ہے کہ انہیں اس چیز سے غرض ہی نہیں کہ صدارتی نظام ہو کہ پارلیمانی،بادشاہت ہو کہ جمعوریت،جب تک انکے لئے بہترین صحت اور تعلیم،بہترین رہائش اور عظیم مستقبل انکے گھر کے دروازے پر موجود ہےان کے لئے ہر چیز قابل قبول ہے۔آسودہ حالی نے اماراتی عرب عوام کو شعور کی منزلیں طے کرنے میں مدد دی ہے۔جب ہر ضرورت چیخے چلائے بغیر پوری ہونے لگے تو معاشرے رونا دھونا بھول جاتے ہیں طمانیت اور وقار،دیکھنے سمجھنے کی صلاحیت اور ذہنی اور نفسیاتی بالیدگی خود بخود چہروں پر اور رویوں پر اترنے لگتی ہے۔یہی فرق پاکستان اور امارات اور انکے عوام کے چہروں پر ہے۔جہاں ایک طرف سکھ چین کی بانسری بچتی ہے تو دوسری طرف ہر وقت قیامت کا سماں ہے۔ایک طرف چہروں پر اطمینان ہے تو دوسری طرف وحشت۔کیا کبھی دبئی کا نام کیش کروانے والے سیاستدان نے یہ کہا کہ ہم آپ کے چہروں کو دبئی کی عوام جیسا روشن کر دیں گے؟سڑکوں پر بلب لگنے بھی بہت ضروری ہیں مگر ان سے پہلے کچھ روشنی چہروں پر بھی اترنے کی شدت سے ضرورت ۔اماراتی عرب عوام کا سستا ترین معیار زندگی جہاں سے شروع ہوتا ہے وہاں ہمارے ملک کی اپر مڈل کلاس تشریف فرما ہے۔امارات کا غریب تیسری دنیا کا وہ ایشیائی ہے جو انتہائی عامیانہ مزدوری مناسب معاوضے کی خاطر کرنے کے لئے پاکستان بھارت،بنگلہ دیش یا سری لنکا سے آیا ہے۔یہ وہ غربت ہے جو یہاں کے لیبر کیمپس میں بھری ہے اور غریب ترین ملکوں سے رزق کی تلاش میں یہاں پہنچتی ہے ،وہ رزق جو ان کی زمین سے ان کو نہیں ملتا اور اس لئے بھی کہ ان کے اپنے ملکوں کو سڑکیں صاف کرنے،وہاں سبزہ اگانے کی ضرورت ہی نہیں،ان کی ریاستوں کو مہنگی سڑکیں تو چاہیں مگر انہیں صفائ ستھرائی کے اس اعلی معیار کی ضرورت نہیں،یا خصوصاً عام عوام کو وہ صفائ کا معیار دینے کی ضرورت نہیں۔ چناچہ صفائ اور مزدوری کرنے والا یہ طبقہ درہموں کی خاطر چالیس پچاس کے درجہ حرارت پر کام کرتا ہے تا کہ ان درہموں پر ان کے خاندان پل سکیں۔اگر یہی غریب طبقہ ہم مناسب معاوضے پر اپنی ہی سڑکیں صاف کرنے اور ان پر اسی طرح کی کیاریاں بنانے اور درخت اگانے پر لگا سکیں تو ملک کی ایک بڑی غربت زدہ آبادی کو روزگار بھی ملے اور میٹرو اور چھین چھبیلے پلوں کے بغیر ہی شہروں کے شہر خوبصورت نکل آئیں۔مگر ہم وہ قوم ہیں جو ڈرائنگ روم میں ایک اعلی ترین صوفہ رکھ لیتے ہیں مگر گھر کے بقیہ حصے کا گند تک صاف نہیں کرتے۔

جس ریاست میں دنیا بھر کی نسل اور قوم کے،ہر مذہب اور مختلف اقدار و روایات کے لوگ موجود ہوں ان کو رواداری،مروت،اخلاص کے ساتھ ایک قوم کی طرح نظم و نسق سے رکھنا اور دنیا کے بہترین اور محفوظ ترین شہروں میں اپنا شمار پانا ان کی وہ سب سے بڑی کامیابی ہے جو اس قوم اور ریاست نے حاصل کی ہے۔اور اس کے لئے ضروری ہے سب سے پہلے بصیرت اور پھر اس بصیرت کو بصارت تک لے آنے والے لوگ۔جس ملک میں میڈیا اور صحافت آزاد نہیں،جس ملک میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر حکومت کا مکمل کنٹرول ہے اس میں افراد کی ترقی،فلاح اور محفوظ معاشرے کا قیام پاکستان جیسے ترقی پزیر ملک کے لئے ایک سوال ہے جہاں پر تماتم تر ترقی اور شعور کا دارومدار صرف آذادی رائے کو سمجھا جاتا ہے اور ڈسپلن کی موجودگی سے سراسر انکار کر دیا جاتا ہے۔آذادانہ رائے کی آزادی پر پابندی کم سے کم ہر اس شخص کو سکون کی ذندگی جینے کا حق دیتا ہے جس کی زندگی میں بذات خود کوئ مسلئہ نہیں،ایک مطمئین عام انسان کو اپنی ذندگی سے راحت لینے کا موقع دیتا ہے اور اس کی طاقت اور توانائی کسی بہترین مقصد کے لئے بچا کر رکھتا ہے۔جیسے ماؤں کو گھرمیں جھگڑتے بچوں کو اکثر اوقات ایک ساتھ ڈانٹنا ڈپٹنا ضروری ہے اسی طرح ریاستی کنٹرول میں بھی شٹ اپ کال کی ایک اپنی اہمیت ہے۔ورنہ اکثر سیاست اور میڈیا کی آزادی ہی قوم و ملک کو تقسیم در تقسیم کرنے کے لئے کافی ہیں۔

دنیا کے محفوظ ترین اور بہترین شہروں میں شمار ہونے کے باوجود اس کا مطلب یہ نہیں کہ متحدہ عرب امارات میں دودھ و شہد کی نہریں بہتی ہیں ۔اور یہاں مسائل اور جرم نہیں۔انسان مسائل پیدا کرنے کے لئے کبھی کم نہیں ہوتا چاہے سسٹم کیسا ہی شاندار کیوں نہ ہو۔ہر سسٹم ہر حالت میں کوئ نہ کوئ سوال اٹھاتا رہتا ہے،اور ذندہ اور فعال ریاستیں اس کا جواب تلاش کرتی رہتی ہیں۔عرب امارات ان ریاستوں میں سے ہے جو ہمیشہ اپنے نظام کو بہتر سے بہتر کرنے میں مگن ہیں۔چیزوں،رویوں اور معاشروں کو تعفن زدہ کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں کرنا پڑتا صرف ان کی سرپرستی چھوڑنی پڑتی ہے مگر قوموں اور معاشروں کو بنانے کے لئے اس پر جان توڑ محنت کرنی پڑتی ہے اور وہ محنت یہاں کی حکومتیں پچھلے چالیس سالوں سے دن رات کر رہی ہیں۔اس میں بلاشبہ اس پیسے کا ہی کردار نہیں جو ان کو پیٹرول سے ملا اور جی کھول کر عوام اور مملکت پر لگایا گیا بلکہ اس خلوص نیت اور محبت کا بھی ہے جو ان حکمرانوں نے اپنی ریاست اور عوام سے کی۔اور یہی وہ چیزیں ہیں جو پاکستان کو کبھی وراثت میں مل سکیں نہ کبھی جمہوریت کی تھالی میں رکھ کر پیش کی گئیں۔

عرب امارات کی ریاستوں میں ننھے بچے دن رات سڑکوں پر تنہا کھیلتے ہیں،کوئ ان کو ہاتھ لگا نہیں پاتا ،قیمتی بڑی گاڑیاں سڑکوں پر پارک ہوتی ہیں اور ہفتوں مہینوں کھڑی رہتی ہیں،کسی کی مجال نہیں کہ گاڑی چھوڑ شیشہ ہی اڑا لے۔گھروں کی دروازے کھلے رہتے ہیں اور قاتل لٹیرے دور کی بات چھوٹے موٹے چور کی بھی جرات نہیں کہ دن دہاڑے یا رات میں کچھ چرانے کی مہم پر نکلے۔قانون کے ہاتھ ہر مجرم تک پہنچتے ہیں ۔ہر سڑک اور ہر کونہ سٹریٹ لائٹ سے روشن ہے،ہر نکڑ پر قانون کا پہرہ ہے،رات میں بھی زمین اتنی روشن ہے کہ ستارے دکھائ نہیں دیتے۔ جب بھی کوئ پاکستان کو دبئی بنانے کی بات کرے تو سب سے پہلے ان سے یہ چند چیزیں مانگ لیں۔اونچی عمارتوں اور بل کھاتے پلوں کی شاید ضرورت ہی نہ رہے۔

__________

تحریر و فوٹو گرافی:صوفیہ کاشف

ابوظہبی

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.