یو ٹرن___________از رضوانہ نور

خواب کے سفر کا اختتام کب ہوا معلوم نہ ہو سکا۔حقیقت تلخ بہت ہے ۔اس سے ناآشنائی بھی توہے رستے بھی انجان ہیں اور منزلوں کی بھی خبر نہیں۔۔عجب موڑ پہ اس نے ہاتھ چھوڑا ہےاتنا سناٹا اتنی وحشت ہے چار سو اور رش اتنا کہ گزرنے کا راستہ بھی نہیں ہے۔”وہ کب سے سڑک پار کرنے کی کوشش میں بڑبڑاہی جا رہی تھی۔تم ابھی تک یہیں کھڑی ہو گھنٹہ پہلے کہا تھا کراس کر کے سامنے والے ریستوران میںُ جا کے بیٹھ جاؤ۔حرا کواس کی ہٹ دھرمی پہ شدید غصہ تھا۔

“کیا!تم اتنی جلدی واپس بھی آگئی۔تم تو کہہ رہی تھی تمہیں ایک گھنٹہ لگ جائے گا”وہ یکدم چونکی تھی۔

جی محترمہ ایک گھنٹہ ہو گیا ہے اور آپ ابھی تلک سڑک کے اس طرف ہی کھڑی ہیں۔حرا کو شدید گرمی لگ رہی تھی۔

اب چلو بھی ،وہ اسے گھسیٹے ہوئے سڑک کے اس پار لےگئی۔۔

“سڑک پارکرنا کب سیکھو گی؟ادھر آؤ میں بتاتا ہوں۔اپنے با ئیں طرف دیکھو گاڑی کو ،جانے دو۔۔۔لو اب سڑک بائیں طرف سے کلئیر ہے ایک نظر دائیں اور دیکھو اور جلدی سے پار کر لو۔”وہ سوچوں میں مگن دوبارہ سڑک کے درمیان پہنچ چکی تھی۔

فزا کی بچی ابھی تم گاڑی کے سامنے آ جاتی۔واپس کدھر جا رہی ہو۔اتنی مشکل سے تو اس طرف آئے ہیں۔چلو اندر کبھی کبھی تم بھی حد ہی کرتی ہو۔حرا کی نظر اچانک اس پہ پڑی تھی۔

اس سڑک پہ آ کے تمہیں کیا ہو جاتا ہے چار سال ناپی ہے یہ سڑک تم نے،روز تو کالج آتی تھی ،اب تم سے سڑک پار نہیں کی جاتی۔وہ اسے مسلسل سنائے جارہی تھی۔

ویسے اس ریستوران میں سڑک والی سائیڈ پہ شیشہ لگانے کی کیاضرورت تھی بندہ سکون سے بیٹھ بھی نہیں سکتا۔یہاں سے بھی گاڑیاں ہی نظر آتی ہیں ۔سچ یاد ہے جب ہم آخری بار یہاں تھے سارہ سے منگنی کی ٹریٹ لینے۔کتنا انجوائے کیا تھا نا،تب ہم نے یہ پزا آرڈر کیا تھا۔۔۔حرا مینیو بک دیکھتے ہوئے مسلسل بول رہی تھی۔۔۔

“ویسے یہ ریستوران مجھے بہت پسند ہے۔پوچھو گی نہیں کہ کیوں؟اس کی آنکھیں بھی لہجے کا ساتھ دیتی تھیں

وہ تو کہنا چاہتی تھی کہ اسے بھی کچھ پسند ہے مگر اس نے کہا نہیں۔

ہاں کہو کیوں پسند ہےوہ سرجھٹک کر بولی۔

اس سڑک کی طرف جو شیشہ لگا ہے نا اس کی وجہ سے۔تم جب سامنے سے چلتی ہوئی آتی ہو نا تو تمہیں اپنی طرف آتے دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے۔تصور میں لہراتی مسکراہٹ اس کے لبوں پہ آئی تو حرا چپ نہ رہ سکی۔

ہیلو یہ باہر کیا کوئی مداری کھڑا ہے جو تم یوں مسکرائے جا رہی ہو ،میں کب سے تم سے آرڈر کا پوچھ رہی ہوں۔حرا کو اب اس کی ذہنی حالت پہ شک ہونے لگا تھا۔

خیر کھانا کھاکے وہ گھر کی جانب چل دیں۔

ٹیکسی ،ٹیکسی۔۔۔۔حرا کی آواز کہیں دور سے آ رہی تھی ۔

“گاڑی کیوں ؟اسے وہیں کھڑا رہنے دو،پیدل چلتے ہیں۔ایک دل کش سی آواز کہیں بہت قریب سنائی دی تھی ۔

جانتی ہو تمہارے سنگ چلنا مجھےبہت پسند ہے تمہارےقدم سے قدم سے ملانا،کبھی کبھی تمہارے قدموں کے نشانات پہ چلنا،پھر رک کر تمہیں دیکھنا،یہ مزا گاڑی میں کہاں۔وہ چلتے چلتے مڑ کر اسے محبت پاش نظروں سے دیکھنے لگتا۔

فزا آگے کہاںُ جا رہی ہو؟ٹیکسی یہ ہے۔حرا کی آواز نے اسے روکا تووہ کسی روبوٹ کی مانند پلٹی اور ٹیکسی میں بیٹھ گئی۔

ٹیکسی سڑک کو پیچھے دھکیلتی جارہی تھی۔۔۔۔

ویسے تم ہمیشہ پیچھے والی سیٹ پہ کیوں بیٹھتی ہو۔لگتا ہے میں تمہارا ڈرائیورہوں اس کی نظریں سامنے ونڈ سکرین پر تھیں مگر وہ دیکھ کچھ اور رہا تھا۔

ساتھ بیٹھ کے مجھے تمہاری آنکھیں نظر نہیں آتیں ۔وہ مسلسل سامنے آئینے میں دیکھ رہی تھی۔

تو باس کہیں رک کے میری آنکھیں غور سے دیکھ لیں۔گاڑی کے پہیے زور سے چرچرائے۔

موٹر سائیکل سوار نجانے کب ٹیکسی کے آگے آ گیا اور اب سڑک خون سے اٹی پڑی تھی۔حرا ڈرائیور کو کوستے ہوئے ٹیکسی سے باہر نکلنے لگی۔

ارے بی بی تمُ کہاں جاتا ہے؟ابھی پولیس آ جائے گا۔آرام سے گاڑی میں بیٹھو،ڈرائیور نے جلدی موڑ کاٹا اور پیچھے آ کے دوسری سڑک پر نکل گیا۔۔۔

اررررے بھائی وہ مر جائے گا۔فزا تڑپ کر بولی۔۔۔

اررررے بی بی کوئی نہیں مرتا۔۔سب بچ جاتے ہیں یہ بھی بچ جائے گا۔۔۔

اسے چوٹ بہت زور کی لگی ہے۔فزا اب بھی وہیں تھی۔۔۔۔

نہیں مرتا بی بی،نہیں مرتا ۔چوٹ کا کیا ہے ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔ڈرائیور بے حسی کی انتہا پہ تھا اور یہ بے حسی اسے کسی درد کے احساس سے آشنا کرا رہی تھی ۔چوٹ ٹھیک ہو بھی جائے تو درد ختم نہیں ہوتا۔۔۔وہ مسلسل بڑ بڑائے جا رہی تھی۔وہ کب روک سکتی تھی گاڑی کے ان پہیوں کو۔سفر جاری تھا مگر منزل کھو چکی تھی۔۔۔۔

________________

تحریر:رضوانہ نور

کور ڈیزائن و فوٹو گرافی:صوفیہ کاشف

Advertisements