“گہر ہونے تک”———صادقہ خان اور سید محسن علی کی نظر میں

صوفیہ کاشف میرے ان دیرینہ اور اولین دوستوں میں شمار ہوتی ہیں جنھوں نے کیٹر پلر سے تتلی کے پر نکلتے تک میری جدوجہد کے تمام ادوار دیکھے ہیں۔ الف کتاب کے بعد ڈان پر بھی ہم دونوں کچھ عرصے لکھتے رہے اور ان کے مضامین سے ہمیشہ کچھ سیکھنے کو ملا۔ بلکہ یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ اپنے کیرئیر کی ابتدا میں مکمل تحقیق کر کے قلم اٹھانے کا ہنر میں نے صوفیہ کے مضامین کو پڑھ کر ہی سیکھا تھا۔ سڈنی شیلڈن ہو ں یا ممتاز مفتی۔ اور خان پاموک ہوں یا ساغر صدیقی یا پائلو کوئلو ، صوفیہ کی تحقیق میں کبھی کوئی کمی یا نقص نہیں مل سکا۔ اور پھر اس پر انکا بہترین انداز بیاں اور الفاظ کا چناؤ۔ جو ایک جداگانہ شناخت رکھتے ہیں۔

اگرچہ اس کتاب میں موجود سارے مضامین میں نے پڑھے ہوئے ہیں مگر دراصل یہ ایک کتاب نہیں بلکہ جدوجہد کی انمول داستانوں کا ایک ایسا خزینہ ہے جو ہر نو آموز لکھاری کے لئیے مشعل راہ ہیں۔

اس بہترین تحفے کا شکریہ ۔ جو ہمیشہ، ہر کڑے وقت اور ہر نئے موڑ پر میرے راستے کی مشکلات کو آسان کرکے مجھے نیا حوصلہ اور ولولہ دیتا رہے گا۔

___________________

سید محسن علی

اگر کسی کو زندگی کے نامسائد حالات اور ناکامیوں کے بھنور میں ڈوب کر ابھرنے والوں کی داستانیں جاننی ہوں تو وہ صوفیہ کاشف کی کتاب ’ گہر ہونے تک ‘ کا مطالعہ کرے جو ان باہمت انسانوں کی زندگی پر ان کی عرق ریزی سے کی گئی تحقیق اور محنت کا نتیجہ ہے جسے انہوں نے ایک عمدہ اشاعت کی شکل میں ہم تک پہنچایا ہے ۔ اس کتاب میں ان مشہور شخصیات کے حالات زندگی ان کی جدوجہد کے علاوہ قارئین کے لیے چند ناولز پران کے سیر حاصل تبصرے بھی شامل ہیں جو ان کی ادب کی دیگر اصناف میں دلچسپی کا منہہ بولتا ثبوت بھی ہے۔ صوفیہ کاشف ایک زبردست رائٹر ہونے کے ساتھ ساتھ فوٹوگرافر بھی ہیں۔

صوفیہ کاشف آپ کی کامیابی کے لیے ڈھیرو ں دعائیں اور نیک تمنائیں۔ ساتھ ہی بہت امید کے آپ اس روداد نویسی کے سلسلے کو دوبارہ سے شروع کریں گی جو ہمیں اگلی کتاب کی صورت میں دیکھنے کو ملے گا ۔

تحریر و فوٹوگرافی:صادقہ خان

سید محسن علی

Advertisements