زندگی______سبین شیخ

زندگی کبھی دھیمی,کبھی آھستہ,کبھی تیز اور کبھی بہت تیز رفتار سے چلتی ہے لیکن یہ کبھی رکتی نہیں جہاں رکی وہی سے اک نئی زندگی شروع ہو جاتی ہے.
ہم سب اک “ہرڈِل ریس” میں شریک ہیں جہاں ہم دوڑتے ہیں اور اپنی اپنی رکاوٹیں دور کرتے چلے جاتے ہیں اور کسی اونچے مقام پہ پہنچ جاتے ہیں. ہم آنے والی اس رکاوٹ کو عبور کرنے کہ لیے بہت آھستہ دوڑنے لگتے ہیں اور اونچی اونچی کامیاب چھلانگیں لگانے لگتے ہیں شاید اس لیے کہ ہمیں تجربہ نہیں ہوتا. لیکن تعجب تب ہوتا ہے جب ہم اپنے رب میں یقین کھو بیٹھتے ہیں اور رکاوٹ آنے سے پہلے ہی اک اونچی چھلانگ لگا دیتے ہیں یعنی ہم زندگی میں جب کوئی مشکل آتے دیکھتے ہیں تو اس کے لیے تدبیریں جوڑنا شروع کر دیتے ہیں اس یقین کو چھوڑ کر کہ ہمارا رب یہ مشکل ہٹا سکتا ہے یا اس مشکل کو عبور کرنے کہ بعد ہمیں کوئی اونچا رتبہ دینا چاہتا ہو.آخر میں جو اونچائی رکاوٹ عبور کر کہ ملنے والی ہوتی ہے وہ مل نہیں پاتی بلکہ ہمیں زندگی کی ریس کا دوبارہ نیا آغاز کرنا پڑتا ہے.
اس کے بعد جب ہم بار بار گِر کر اور بار بار نیا آغاز کر کہ تھوڑے تجربِکار ہو جاتے ہیں تو اب ہم آنے والی رکاوٹوں کو قدرِ تیز اور بہت تیز رفتار سے عبور کرنی لگتے ہیں کہ اب کی ہم پھر اپنے رب کو بھول جاتے ہیں.اپنی ہر بلندی کو اپنی اور محض اپنی ہی جدوجہد کی اُجرت سمجھنے لگتے ہیں. بڑائی اور تعریف صرف اور صرف اپنے لیے ہی چاہنے لگتے ہیں تو اس وقت پھر اک ٹھوکر کھاتے ہیں اور زمین پہ آ گرتے ہیں.لیکن اب کی بار زندگی کا نیا آغاز بہت مشکل ہو پاتا ہے کیونکہ اس دفعہ ہم آگے اور بہت آگے آ چکے ہوتے ہیں.وقت انتہائی کم رہ جاتا ہے اور بلندی والی منزل بہت ہی بلندی پہ چلی جاتی ہے اور اس ہی اِثنا میں زندگی ختم ہو جاتی ہو.
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.