چند سو——————عظمی طور

بابا جب تم شام ڈھلے گھر لوٹتے ہو ناں 
میری آنکھیں ریت کی چبھن سے 
دکھنے لگتی ہیں
بابا تمھارے آتے ہی اماں جب 
سارے دن کے ہارے جزبے روٹی میں رکھ کر 
تمھارے سامنے دھرتی ہے ناں
میری آنکھوں جبھتی ریت 
لال ڈورے بناتی ہے
بابا جب تم اپنے کھردرے ہاتھوں سے 
دن بھر رکھی سوکھی روٹی کا نوالہ توڑتے ہو 
اور ماں سے پوچھتے جاتے ہو
گڑیا نے کیا روٹی کھائی؟؟
ببلو نے جو روٹی چھوڑی تھی تم کھا لیتیں
بھوکی ہو کیا؟
بابا تب میں آنکھوں کو مل لیتی ہوں
بابا جب تم روٹی کھا کر 
ڈھیلے ڈھالے بستر کو غنیمت جان کر 
سستانے کی خاطر کمر بسر سے ٹکاتے ہو ناں 
میری آنکھوں میں 
چبھتی ریت کی جلن سے پانی بہنے لگتا ہے
بابا کب تک تم 
اپنے کاندھوں پہ اینٹوں کو لادے 
چند سو کمانے کی خاطر 
میری آنکھیں چھلنی کرو گے ___؟؟؟

(عظمیٰ طور)

_________فوٹوگرافی و کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف