ہیں تلخ بہت بندہِ مزدور کے اوقات________ارشد ابرارارش

ایک زمانہ تھا جب زندگی سستی اور موت مہنگی ہوا کرتی تھی ۔گھر ، دیواریں کچی اور انسان سچے ہوتے تھے ۔ روز مرہ اشیا کے نِرخ آسمانوں کو نہیں چھوتے تھے ۔ اور یومیہ مزدوری کرنے والا ایک مفلس انسان بھی اپنی تمام ضروریات پوری کر کے مستقبل کیلیے چند سکوں کے ساتھ اپنے کچھ خواب بھی پوٹلی میں باندھ لیتا تھا

پھر وقت نے پلٹا کھایا، حالات بدلے ، تہذیبوں کے چہرے مسخ ہوۓ ، تاریخ تبدیل ہوٸی اور انسان قدم بہ قدم ترقی کے زینے طے کرنے لگا ۔

زمانہِ موجود کا انسان ہر شعبے میں اپنے عروج کی انتہاٶں کو چھو رہا ہے ۔ نسلِ انسانی نے اپنی سہولتوں اور آرام کیلیے ایسے کارہاۓ نمایاں انجام دیٸے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاۓ ۔

انسان نے پہاڑوں کا سینہ چاک کر کے راستے بنا لیے ، جہاز بنا کر ہواٶں کے رُتھ پہ سواری کرنے لگا ، بحری جہازوں اور کشتیوں میں سمندروں سے اٹھکیلیاں کرنے لگا ۔ لیکن آج اس نٸے زمانے کی بدلی ہوٸی ترقی یافتہ انسانی تاریخ کے اوراق پلٹے جاٸیں تو تحریرں لہو رنگ ملتی ہیں ۔ دنیا نے ” پیسہ پیسہ “ کھیلنا شروع کر دیا اور اقدار مرنے لگیں ۔

نٸے زمانے میں دولت کی تقسیم کچھ اس طرح ہونے لگی کہ وہ مزدور طبقہ جو کسی زمانے میں اطمینان بخش زندگی بسر کر رہا تھا اور مسقتبل کیلیے اپنی پلکوں پر کچھ خواب ٹانک لیتا تھا وہ زندگی جینے کیلیے ترستا ہے ۔

نٸے زمانے کے انسان نے ترقی کے ساتویں آسمان سے بھی بلند پروازیں شروع کر دیں اور اپنے سیارے سے چھلانگ لگا کر نٸی دنیا بسانے کا سوچنے لگا

مگر صد حیف کہ اپنے معاشرتی اور طبقاتی نظام کا قلع قمع کرنے میں آج بھی ناکام ہے اور ہم عالمی یونیورسٹیوں سے بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد بھی انسانی رویوں کے اس ناسور کو ختم نہیں کر سکے ۔

آج بھی اشرافیہ کا راج قاٸم ہے انسانی برابری کے نعرے لگانے والے کبھی مزدور کو اپنے برابر اور ایک ہی صف میں کھڑا نہیں دیکھ سکتے ۔

ترقی کے اس دور میں بھی ایک طبقہ ایسا ہے جسے دو وقت کی روٹی پوری کرنے کیلیے سردی گرمی کی پرواہ کیے بغیر پندرہ پندرہ گھنٹے محنت کرتی پڑتی ہے ۔

ایسا کیوں ہے ۔۔۔؟

وہ کون سے اسباب ہیں جو اس تین چوتھاٸی طبقے کی معاشی ترقی کی راہ میں باعثِ رکاوٹ ہیں ؟

بیرونی دنیا کو چھوڑ کر اگر

آج ہم اپنی سر زمینِ پاک پر ہی ایک نگاہ ڈال لیں تو معلوم ہوگا کہ ہمارے ملک پاکستان میں قدم قدم پر مزدور کی زندگی تنگ ہے ۔

ہمارے ملک کی نصف سے زیادہ آبادی مزدور پیشے سے وابستہ ہے مگر اتنے بڑے طبقے کی فلاح و سہولت کیلیے کوٸی قانون ایسا نہیں ہے جس پر عمل درامد ہوتا نظر آتا ہو ۔۔۔

یہ معاشرتی نا انصافی آخر کیوں ۔۔۔؟

سوچنا یہ ہے کہ ہماری معاشرتی اور عمومی سوچ کب تبدیل ہوگی ؟

کیا ہمیں پھر کسی خونی انقلاب کا راستہ دیکھنا ہوگا ؟

کیا ہم اُس دن کا انتظار کریں جب یہ کثیر طبقہ اپنے حقوق کیلیے پیشانیوں پر کالی پٹیاں باندھے ریاست کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں ؟

معاشی استحصالی ، طبقاتی نظام اور دولت کی تقسیم کا حال کچھ یوں ہے کہ

آج اگر ہم اپنے اردگرد نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے وہ ہاتھ جو پتھر توڑتے توڑتے چھالوں سے بھر چکے ہیں اُن میں اتنی سکت باقی نہیں ہوتی کہ اپنی حالتِ زار بارے سوچ بھی سکیں ۔

اونچی اونچی اور زلزلوں سے محفوظ عمارتیں تیار کرنے والے بوڑھے مزدور کی اپنی چھت ٹپکتی ہے ۔

دن بھر سلاطین کی گاڑیاں صاف کرنے والے شخص کی اولاد ننگے پاٶں بڑے بڑے مالز کے باہر کھڑے ہوکر جوتوں کو نگاہِ حسرت سے دیکھتے ہیں ۔

کپڑا فیکٹری میں کام کرنے والے مزدور کی اکلوتی اولاد کو اپنا تن ڈھانکنے کو دو چیتھڑے بھی بمشکل میسر ہوتے ہیں ۔

باپ دن بھر مزدوری کی چکی میں پستا ہے اور ماں خالی برتن چولہے پر چڑھا کر بچوں کو بہلاتی رہتی ہے اور کھانے کا انتظار کرتے کرتے بھوکے بچوں کو نیند اپنی آغوش میں سُلا دیتی ہے ۔

اپنے بچوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے سے قاصر بوڑھا مزدور انسانوں کی اس منڈی میں اپنے ہی بچوں کی بولی لگا رہا ہوتا ہے ۔

اُمرإ اور اشرافیہ کے گھروں میں جھاڑو لگاتی اور فرش صاف کرتی ماں اپنے بطن سے نکلنے والی اولاد کو ہی زہر دے دیتی ہے ۔

وہ کونسی وجوہات ہیں جو اس طبقے کو اتنے سنگین قدم اٹھانے پر مجبور کرتے ہیں ۔۔۔؟

اس قدر طبقاتی امتیاز کیوں ہے۔۔۔؟ آج دنیا بھر میں مزدور کا عالمی دن منایا جا رہا ہے اور مزدور کو پورے سال بعد آنے والے اپنے اِس ایک دن بھی آرام میسر نہیں ہے ۔

کیوں ۔۔۔؟ یہ معاشی استحصالی کس لیے ؟

اس سب کا ذمہ دار کون ہے ؟

مزدور پر زندگی تنگ کرنے کی ذمہ دار یہ ریاست ہے اور وہ طبقہ ہے جو اس ریاست کے عوام کیلیے قوانین مرتب کرتا ہے بلکہ پوری ریاست کو اپنی انگلیوں پر نچا رہا ہے ۔

مزدور کٹھ پتلی بنا اشرافیہ کے اشاروں پر ناچ رہا ہے تو صرف اس لیے کہ اُسے دو وقت کا کھانا میسر نہیں ۔

تعلیم اتنی مہنگی ہو چکی ہے کہ غریب اپنی اولاد کو تعلیمی اداروں کے پاس بھی نہیں بھٹکنے دیتا اور مفلس کے بچے بڑی بڑی یونیورسٹیوں کے خواب دیکھنے کی بجاۓ کسی بھٹے یا فیکٹری میں اپنا لہو بہاتے ہیں ۔

جن ہاتھوں میں قلم کتاب ہونی چاہیے تھی وہ ننھے ہاتھ اینٹ گارے اور گریس میں لتھڑے ہوۓ ہیں ۔

جن بچوں کی آنکھوں میں خواب بُننے کی ضرورت ہوتی ہے وہ دن بھر ” چھوٹو “ بن کر ہوٹلوں پر چاۓ پیش کرتے ہیں یا پھر کسی سڑک کنارے بیٹھے عوام الناس کے جوتے چمکا رہے ہوتے ہیں ۔

۔

کیا انہیں آرام درکار نہیں ہے ۔۔؟

کیا زندگی جینے کا حق مزدور کو حاصل نہیں ہے ۔۔۔؟

کیا غریب یونہی مفلسی کی چکی میں پستے ہوۓ اپنی سانسیں گنتا رہے گا ۔۔۔؟

آخر کب تک ۔۔۔۔؟

کب ختم ہوگا یہ طبقاتی نظام اور معاشی استحصال ۔۔۔؟

روۓ زمین پر اگر قادر و مطلق نے انسان کو ” برابر “ پیدا کیا ہے تو ترقی یافتہ دنیا کے نٸے انسانوں نے برابری کے سب قاعدے کیوں بھلا دیٸے ہیں ۔۔۔۔۔؟

زندگی سب کیلیے ہے تو مزدور پر زندگی اس قدر تنگ کیوں کر دی گٸی ہے ۔۔۔۔؟

بے حسی کے اس دور میں کون سا مسیحا آۓ گا جو اس طبقے کیلیے آواز اٹھاۓ گا ۔۔

______________|

فوٹو گرافی و کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

—————-

Advertisements