من کا فسانہ_________علیزے

مجھ سے پوچھتے ہو

میرے من کا فسانہ

میرا من تو چاہتا ہے

کہ لفظ لفظ میں تیرے

میں سماعتیں بھگو دوں

سرور کے یہ لمحے

صدیوں تک پھیلا دوں

میرے ہاتھ میں ہوں جتنی

خوشی کی سب لکیریں

تجھے وہ نواز دوں

اور اپنا آپ مٹا دوں

اور اپنا آپ گنوا دوں

میرا من تو چاہتا ہے

اس دنیا میں مجھے

تیرے سوا کوئ کام نہ ہو

تجھے یوں ٹھہر کے دیکھوں

کہ بصارتیں تھکا دوں

تیرے نام کا ہو اک دیس

اس دیس کی ہر رہگزر کو پوجوں

تجھے گنوا نہ دے یہ دنیا

تیرا نام میں بنا دوں!

تیری چاہتوں پہ جانم

میں اپنا آپ لٹا دوں

میں اپنا آپ گنوا دوں!

مجھ سے پوچھتے ہو

میرے من کا فسانہ!

_____________

از علیزے محمد

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

2 Comments

Comments are closed.