اماں میں اسکول نہیں جائوں گا _________ حفیظ شیخ

مترجم:سدرتہ المنتہی’


صبح کاذب نے اپنے پر پهیلالئیے تو اس نے موندی ہوئی آنکهیں پوری کهول کر ارد گرد دیکهہ کر گهر میں اپنی موجودگی کا یقین چاہا اور آنکهوں کے گوشے صاف کرتے ہوئے ٹهنڈی سانس بهرکر رہ گیا
جوڑ جوڑ تکلیف سے دکهہ رہا تها
وہ ہاتهہ رکهہ کر پشت پر جہاں تک پہنچتا تها دیکهہ رہا تها اور درد کا احساس تها کہ بڑهتا ہی جارہا تها
اس پر ماں کی توجہ کی میٹهی آواز نے اسے پوری طرح جگاسادیا
گلاب..میرے منے میرے بچے..میرے چاند..
کلیجے میں ٹهنڈک بهرگئی..
ماں صدقے..اسکول نہیں جانا کیا
اسکول کہ.نام پہ دل.دہلتا تها
کچهہ نہ بولا بھوک کا بہانہ لئیے گهٹنے سے آلگا
رات کے بچے کهچے چاول گرم کرنے کو ماں نے چولہے میں لکڑی جهونکی پهونکیں ماریں..آگ جلائی..اور کتیلی چڑهائی چاول چڑهاکہ چهینٹے مارے پانی کے چاولوں کی بوء نئی تازگی پاکر سارے میں پهیل گئی
گلاب منو نے چاول رج کے کهائے پانی ملے دودهہ میں پتی کا چهڑکائو..چاء کا پیالہ بهی مل گیا
.مانو زندگی کی صبح کا سامان میسر ہوا
کچهہ دیر بدن میں حرارت سمیت زندگی لوٹ آئی..
مگر یہ کیا..اس قدر نقاہت کہ آگے بڑهہ کر الماری تک گیا تو چکراگیا..اور چارپائی کا پہئیہ پکڑ کر رہ گیا
سامنے دیوار کی دراز میں رکهی ان لکهی تختی نے منہ چڑهایا
اور وہ منہ بسور کر رہ گیا
اس پر پهر سے ماں کی میٹهی آواز اب کہ کچهہ تیزی بهری عجلت سے..
گلاب اسکول نہیں جانا؟
اماں..
بے بسی سے دیکهنے لگا
اماں آج اسکول نہ جائوں؟
بلآخر کہہ ہی دیا ہمت باندهہ کر
کیوں؟اسکول کس لئیے نہیں جانا؟
ماں کی پرتیش آنکهوں سے خوف آنے لگا..
کہیں وہ بهی اٹهاکر چهتر نہ برسادے

ماسٹر کی طرح..
ڈرکے مارے تهیلا اٹهایا اور بغیر لکھی تختی کو تھیلے میں اڑسا..
آگے دروازے تک جاتے بمشکل جسم درد سے چور..سر کا درد صبح ہی سر اٹهانے لگا..
اور پیشانی مسل کر سوچا تو آنکهیں مکمل پانیوں سے بهری ڈبڈبائیں
دنیا دهندلی ہونے لگی.
قمیص کے کونے سے آنکهیں بے دردی سے رگڑیں اور پوری آنکهیں کهول کهول کر اسکول کی طرف جانے والی گلی پر وجود کو تقریبا” گهسیٹتے ہوئے آگے بڑهادیا
دل ملول..ماں بچاری بھی ..جتنا چاہے خیال رکهے..پر اسکول کے معاملے پر کوئی سمجهوتہ نہیں کرتی
..آج بهی ماسٹر کی وہی جهڑکیاں..وہی شکل پر برستا ہوا قہر..
اور جلال..
وہی ننگی پشت پر برستی برچهی..
تختی آج بهی خالی ..
مار آج بهی اس کا مقدر ٹہری..
وجود آج بهی ہلکے بخار سے اندر دہکتا ہوا نڈهال ہوا
جب ایک کلومیٹر تک پیدل چل کر گهر تک آیا تو ماں نے چاچے کے لئے روٹی تهمادی جو کهیتوں پر پہنچانے کا بهی اسی کا کام ہوتا تها

چاچے کو روٹی دے کر گهر تک بمشکل پہنچا تو بخار نے پوری طرح آلیا اور ڈهیر ہوگیا بستر پر..نہ دوپہر نہ رات کے کهانے کا ہوش..
دیر گئے تک کچهہ آنکهہ کهلی ماں نے منہ میں نوالے دئے اور لسی کا کٹورا دیا تو کچهہ سامت آئی..تواناعی محسوس ہوئی..
صبح وہی..آنکهہ کهلی تو سورج کی چڑهتی شعائوں نےاسے پکارا
ساتهہ ماں کی آواز بهی..
میرے چندا…میرے گلاب..میرے منے..
میرے بچڑے..اٹهہ جا..
چادر اتار کر اٹها آج کچهہ بہتر محسوس کیا..
وہی رات کی بچی کهچی روٹی..باسی سالن..نوالے پر نوالہ..بس پیٹ بهرنا ہی مقصود تها..
منہ پر چهینٹے مارے..کپڑے تبدیل کئیے
پهر سے وہی سوال جو اس کا بری طرح سے منہ چڑهاتا..
آج اسکول نہیں جانا؟
دل دهک سے رہ گیا
.
اماں..دیکهہ کل بهی بخار تها..آواز میں بے چارگی تھی
پر آج تو نہیں ہے نہ بخار
۔ماں نے پهر سے جهڑک دیا.
اسکول نہ جانے کے تمہارے پاس ..کتنے بہانے ہوتے ہیں
خود ہی بے بسی سے بڑبڑائی
دیکهہ میں چاہتی ہوں تو پڑهہ لکهہ کر بڑا آدمی بنے..
دیکهہ گلاب میرے چاند..
ٹهوڑی ہاتهہ سے تهامی..گال تهپتهپائے پیار کیا
ماں کی آنکهوں میں وہیں خواب جاگتے نظر آئے..
وہی بڑے آدمی والے
وہ سر نیہواڑے آج بهی ان لکهی تختی لیکر ماں کے خوابوں سمیت روانہ ہوگیا..
اور جاکر اپنی مخصوص روء میں بیٹهہ گیا..
ماسٹر کی دهاڑتی آواز ..
وہی قہر برساتی آنکهیں..
ہاتهوں میں لہراتی چهڑی
تو آج بتا گلاب صاحب نے تختی لکهی..
ساتهی شاگرد مسکرائے
اور وہ گردن جهکاکر وہی کام مکمل کرنے لگا
یہ وہ شاگرد تھے جو کبھی تختی مکمل لکھ لاتے تو کبھی ماسٹر کے لئیے انڈے اور لسی لاتے تهے
انہیں ہنسنے کا حق تها
ایک گلاب تها اس کلاس میں ہراساں..سہم جانے والا ..
قہر برساتی نظروں کے عتاب سے ڈرجانے والا
مار کهاکر سہنے کے حوصلے سمیت ہارجانے والا
پشت پر برستی لاٹھی کی ہر ایک ضرب پر اپنی بچپن کی انا کو سب کے سامنے مجروح ہوتا دیکهہ کر کرلانے والا..
آج بهی ٹپ ٹپ آنسو..
آج بهی چهتر برساتی لاٹهی
آج بهی دہکتی پشت..
اور ماسٹر کی بے رحمی.
جوں کی توں..
وہی ثابت سالم..باقی سب راکهہ
لاتیں ،گهونسے،مکے،جب لکڑی سے کام نہ چلا تو سب جائز..
گدھے کے بچے تو روز بہانے کرتا ہے
روز بہانے۔۔روز تختی خالی روزانہ ہی
آواز بھی قہر برساتی ہوئی غصت سے لرزنے لگی
وہ چکراکر فرش پر گرگیا
ساتهی بچوں کی آنکهیں پهٹی کی پهٹی رہ گئیں
ماسٹر کی مسیں بهیگی ہوئیں اور پہلے سے دگنا قہر برساتا فرعونی جلال ..
بچے سارے چپ سادھ کر ایک سمت ہوگئے
کئی دیر بعد گلاب کو ہوش آیا سب ساتهی بچوں نے اس کے منہ پر چهینٹے مارے اور پانی پلاکر اسے گلی تک پہنچادیا..
اپنی گلی تک آتے اسے کڑوی الٹی آگئی..چکر پر چکر..دیوار سے لگا..سہاروں پر آگے بڑهتا ہوا گیا گهر کے صحن تک آتے ہوئے گرگیا
ماں یہ حالت دیکهہ کر کلیجہ تهام کر رہ گئی منوں کو اٹهایا..
چارپائی پرڈال کر..اس کے ابے کو پیغام بهیجا
ماں کی آنکهیں برستی رہیں..
بچہ نڈهال پڑا تها
ابا پہنچا ماسٹر کو گالیاں بکنے کے بعد سدهہ آئی تو بچے کو کندھے پر اٹهاکر گوٹهہ کے دواخانے لے گیا..
کچهہ دیر بعد بچے کو کچهہ ہوش آیا..مگر حالت وہی..بار بار چڑهتی ہوئی غشی..
بخار کے دورے ایک گهٹتا دوسرا چڑهتا..
ماں نے روروکر دل ملول کئیے رکها..
ماسٹر کو کوسنے اور اس گهڑی کو رونے لگی جب میرے چاند کو آنکهیں دکهاکر خوابوں کا بوجهہ لاد کر بهیجا تها..
ہئے..
میرا اکلوتا گلاب..
بچہ نیند میں بڑبڑاتا تها
اماں میں اسکول نہیں جائوں گا..
نہیں میرے چاند تم اسکول مت جانا
ماں نے پہلی بار سارے خواب پس پشت ڈال دئیے..
اور صرف اور صرف اس کا پیلا پڑتا چہرہ تکنے لگی..بخار ٹوٹنے کا نام نہ لیتا تها
کچهہ روز گزرے تو ماسٹر دروازہ تهام کر کهڑا تها..کلاس کے رجسٹر میں غیر حاضریوں کی لمبی قطار پڑچکی ہے
پڑهائی میں ناغہ..
ڈپٹی کی آمد اور حکم ہے..شاگردوں کی حاضری ضروری ہے
ماں بچاری کلیجہ تهام کر رہ گئی چیخ چلاکر روئی بچے کو نہیں چهوڑنا..
بچہ الگ کہ ماں میں اسکول نہیں جائوں گا..
ابے نے بہتیری کوششیں کیں..
بڑا کچهہ کیا ..
مگر ماسٹر کے تعلقات کام آگئے اور بات چل گئی بچے کو بھیجنا پڑا
بچہ اک آدهہ دن گیا ماسٹر کی لاٹھی تو کنٹرول میں رہی مگر نظریں وہی قہر بھرے پیغام دیتی رہیں
بچہ سہما ہوا مگر گزارا نہ کرسکا بیٹهتے بیٹهتے کانپ جاتا تها..
مار سے بڑا سر پر مسلط مار کا اک ڈر بهی تها

اس روز بهی ہانپ کانپ کر سلامتی سے پہنچا تو ڈهیر ہوگیا..بخار نے پهر سے آلیا
اور بچے کی غنودگی میں وہی ایک رٹ کہ اماں میں اسکول نہیں جائوں گا
ماں کلیجے سے لگاکر کہتی کہ مت جا..
مگر ڈر اپنا آپ بٹهاچکا تها
وہ مسلسل کانپے جارہا تها
ابے نے آج شہر کے ہسپتال لے جانے کا پکا فیصلہ کیا
بیوی سے کہا تهیلا تیار رکهو کهیتوں سے لوٹوں گا تو گلاب کو کندهے پر اٹهاکر شہر والی بس میں بٹھا کر لے جائوں گا
اور پهر اچها علاج ہونے پر ہمارا گلاب چنگا بهلا ہوجائے گا
دیکهنا..
ماں کی آنکهہ میں آنسو چمکے مگر من میں اک امید جاگی
شوہر کے لوٹ کر آنے کے انتظار کے ساتهہ تهیلا تیار کیا بچے کا
اور بخار میں پهنکتے ہوئے بچے کو یہ خبر سنانے کے لئیے اس کی چارپائی تک آئی
وہی امید کے قطرے
اور آنکھوں میں جلتا امید کا دیہ
.تو شہر جارہا ہے منے
دیکهہ چنگا بهلا ہوجائے گا.
دیکهہ میرے چندا میرے گلاب

میرے بچے ..میرے منو..
سر تهپتهپاتی رہی..مگر منوں خاموش رہا
اس کی بڑبڑاہٹ کو چپ لگ چکی تهی
گلاب دور..بہت دور جاچکا تها
جہاں نہ اب اسکول تها
اور نہ ہی اسکول کے اندر تختی پڑهانے کے بہانے لاٹهی چلاتا
قہر برساتی آنکهوں والا ماسٹر تها
بس اک شکوہ دل کی اتهاہ گہرائیوں میں سوال بن کر رہ گیا.
اماں…آج میں اسکول جائوں کیا؟
آج نہ جائوں نہ؟؟؟
اور ماں کے ہونٹوں پر صرف بین تها
خواب سارے آنکهیں موندے پڑے رہ گئے..
پڑهہ لکهہ کر بڑا آدمی بننے والے..
منوں کو پھر بستی میں کسی نے نہ دیکھا
اور..فرعون..
جو آج بهی ماسٹر کے روپ میں زندہ تها
***

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

Advertisements