چلو سناتے ہیں تم کو ہمدم

شب گزشتہ کی داستاں ھم

عجب وہ ماہِ خوبرو تھا

کل ہمارے جو روبرو تھا

دلیلِ حسن وہاب تھا وہ

کہ تیرہ شب کا چراغ تھا وہ

چہ راہ نوردِ زمیں تھا وہ

پر مکين عرشِ بریں تھا وہ

میں نے پوچھا بصد احترام

اے دلنشيں اے جمال تمام

یہ چہرہ یہ رنگت یہاں لاۓ تم؟

یہ ندرت نزاکت کہاں لاۓ تم

ھو کس نگر کے کدھر آۓ تم

ارے کوۓِ جفا ہے جدھر آۓ تم

ھم حسرتوں کے خریدار ھیں!!!

وفائیں تو از روۓ بازار ھیں

نۓ مقتلوں میں سجتی یہ دنیا

سسکتی یہ دنیا بلکتی یہ دنیا

یہاں پر جو اھلِ در و بست ھيں

در وبست سے وہ تہی دست ھیں

جو اہلِ کمال و کروفر ھیں

وھی طالبانِ خون جگر ھیں

سناٹے سےاب خزاؤں میں ھیں

کوئ نغمہ گر نہ ھواؤں میں ھے

ارمانوں کی دنیا پنپتی نھیں

جو ساحل نوازے وہ کشتی نھیں

سن کے یہ سب کچھ سکتا گیا وہ

حیراں تھا گویا کہاں آ گیا وہ

لہجے میں کچھ شکستہ تھا وہ

نظر میں نمی دل گرفتہ تھا وہ

کہنے لگا اک مقصود میرا

ان بستیوں میں ھےاس کا بسیرا

خدا نے سنوارا تھا اسکو زمين پر

ھے اسکا ڈیرہ یہیں پر کہیں پر

مٹی کی مورت سا لگتا ھے وہ

پر نورِ ابد سے دمکتا ھے وہ

مجھ سے ہے دلکش جو دیکھو اسے

ملے گر تمھیں تو بتا دو اسے

تلاشِ گم!!! اصل جاں چاہتا ھوں

ارے میں تو فقط.. انساں چاہتا ھوں

————–

کلام:سیدوجاھت علی

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف