کتاب تبصرہ ۔۔۔ ”گہر ہونے تک “————از ارشد ابرار ارش

مصنفہ ” گہر ہونے تک”۔۔۔ صوفیہ کاشف

پانچ دن قبل اسلام آباد اپنے ہوسٹل واپسی ہوٸی تو محترمہ صوفیہ کاشف صاحبہ کی خوبصورت سرورق اور ٹاٸٹل کی حامل کتاب ” گہر ہونے تک “ میری منتظر تھی۔

میری خوشی کا اندازہ یقیناً آپ کر چکے ہوں گے ۔

۔

تاریخ کے اوراق پلٹے جاٸیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اولادِ آدم میں چند نام ایسے بھی ہیں جو انسانی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ثابت ہوۓ ۔

اربوں کھربوں انسانوں میں چند لوگ ایسے بھی آۓ جنہوں نے اپنی انتھک محنت ، لگن اور جستجو سے اپنے اپنے آسمانوں پر پرواز کی ۔

اپنی پلکوں کی جھالر پر سب لوگ خواب تو ٹانک لیتے ہیں مگر اُن خوابوں کی تعبیر پانے کیلیے اپنی نیندوں اور آرام کی قربانی صرف چند انسان ہی دیتے ہیں ۔ اور یہی چند انسان ہی اپنے اوجِ کمال کو پہنچ پاتے ہیں ۔ اور ایسے ہی چند عظیم انسانوں کی جستجو اور لگن کو مصنفہ نے اس کتاب میں قلمبند کیا ہے۔

سیپ سے موتی بننے کا عمل ہرگز آسان نہیں ہوتا اور چمن میں دیدہ ور اس قدر آسانی سے پیدا نہیں ہوتے ۔

رسول حمزہ توف نے کہا تھا کہ نیند سے بیدار ہو کر یوں نہ اچھلو جیسے کسی زہریلے کیڑے نے تمہیں ڈنک مار دیا ہو بلکہ سب سے پہلے اُس خواب کا سوچو جس نے تمہیں بیدار کیا ۔

” گہر ہونے تک “ ایسے ہی چند انسانوں کی داستان ہے جو اپنے خوابوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے بلاآخر تعبیر تک جا پہنچے ۔

یہ کتاب اُن لوگوں کیلیے یقیناً ایک مشعلِ راہ کی سی حیثیت رکھتی ہے جو خواب تو بُنتے ہیں مگر انکی تعبیروں کیلیے جستجو اور لگن سے کتراتے ہیں ۔منزل کے حصول میں تھوڑی سی کوشش کے بعد ہمت ہار جاتے ہیں جبکہ کاٸناتی سچ بھی یہی ہے کہ پاٶں چھلنی کیے بغیر اور راستوں کی خاک چھانے بغیر منزل کبھی راہگیر کی طرف بھاگ کر نہیں آتی ۔۔۔۔۔۔!

۔

” گہر ہونے تک “ پڑھ کر معلوم ہوا کہ سونے کو کندن بننے کیلیے آگ کی تپش سہنی پڑتی ہے ۔ اپنا آپ بھسم کرنا پڑتا ہے ۔

جب ہواٶں کا رُخ مخالف سمت ہو تو اپنے پروں کا امتحان لینا پڑتا ہے ۔

حالات کے خلاف سینہ سپر ہونا پڑتا ہے ۔ وساٸل کی کمیابی اور دنیا کے طنز و تضحیک سے بجاۓ گھبرانے اور خوفزدہ ہونے کے ، اپنے دل کو مزید مضبوط کرنا پڑتا ہے ۔ کیونکہ خواب پانے کیلیے

لگن اور جستجو ترک کر دینے والے ہمیشہ اپنے مقصود سے محروم ہی رہتے ہیں۔

اگر دنیا کی تضحیک اور وساٸل کی کمی سے گھبرا کر ” مکی ماٶس “ کے خالق والٹ ڈزنی اپنے ہاتھ باندھ کر گھر بیٹھ جاتا تو آج دنیا اس کے نام سے بھی انجان ہوتی ۔

اشرافیہ کے گھوڑوں کی لگامیں تھامنے والا شخص کبھی ” ولیم شیکسپٸر “ نہ بن پاتا ۔

شیکسپٸر اس لیے انگلستان کا قومی شاعر قرار پایا کیونکہ وہ احمقوں کی سٹیج پر تو آگیا تھا مگر اس نے معاشی مساٸل کو پاٶں کی زنجیر سمجھے بغیر اپنی بصیرت ، لیاقت اور ہمت سے تاریخ انسانی کے چہرے پر اپنا نام کندہ کیا ۔

”الکیمسٹ “ کے خالق پاٶلو کوٸیلو کو ذہنی مریض سمجھ کر طویل المدتی سیشن کیلیے دماغی معالج کے پاس بھیج دیا جاتا تھا مگر اُس نے اپنا خواب پانے کیلیے ہمت کبھی نہیں ہاری ۔ کیونکہ اسے یقین تھا کہ

” کوٸی بھی خواب سچ تب بنتا ہے جب اُس کی طرف قدم اٹھایا جاتا ہے ۔ سو جب بھی تم کوٸی خواب دیکھو پوری کاٸنات اس میں تمہاری کامیابی کیلیے راہ ہموار کرنے لگتی ہے لیکن اس کیلیے تمہیں قدم اٹھانا پڑے گا اور پھر تمہاری رہنمائی کی جاتی ہے “

آسمانِ ادب کا تابندہ ستارہ

”اورخان پاموک “بننے کیلیے دس دس گھنٹے کرسی ، قلم اور قرطاس سے یارانہ باندھنا پڑتا ہے ۔ قلم کی مزدوری ہرگز آسان نہیں ہوتی ۔

اپنے آپ پر یقینِ کامل ہی آپ کو بلندیوں پر پہنچاتا ہے ۔ اسی لیے پاموک نے کہا ہے کہ

” میں نے اپنی کتابیں بھرپور توجہ ، صبر اور خلوص نیت سے لکھیں اور ہر ایک کتاب پر یقین رکھتے ہوۓ لکھیں ۔

کامیابی ، شہرت اور کامیابی کا سکون میرے پاس اتنی آسانی سے نہیں آیا ۔۔۔ “

۔

گہر ہونے تک دراصل جستجو اور لگن کی کہانی کے ساتھ ساتھ محنت ، مشقت ، طلب کا سبق بھی ہے ۔ صوفیہ کاشف صاحبہ نے یہ کتاب لکھ کر اپنے خوابوں کی جستجو میں بھاگتے انسانوں کی راہ میں ایک دیا جلایا ہے ۔ انہیں روشنی اور راستہ دکھایا ہے

اور سبق دیا ہے کہ ہمت ہارو گے تو سب کچھ ہار جاٶ گے ۔

دنیا میں نام پیدا کرنا ہے تو جستجو اور لگن جاری رکھنی ہے ۔ ایک دن آۓ گا جب کاٸنات کی یہی رکاوٹیں تمہاری معاون ثابت ہونگی اور تم کامیابی کے آسمان پر اپنا نام لکھنے میں ضرور کامیاب رہو گے ۔

۔

طرزِ تحریر پر بات کی جاۓ تو دل میں یوں نرمی سے اترتا ہے کہ قاری چاہ کر بھی کتاب سے دامن نہ چھڑا پاۓ ۔ غیرضروری باتوں اور واقعات سے اجتناب کرتے ہوۓ اتنے عظیم انسانوں کی عظمت بھری داستانوں اور اختصار کے ساتھ پوری زندگی کی کہانی بیان کرنا یقیناً مصنفہ کے قلم و زرخیز دماغ کی بڑی کامیابی ہے اور اس کیلیے قابلِ داد و تحسین ہیں آپ ۔

اس سے پہلے میں نے صوفیہ کاشف صاحبہ کا صرف ایک افسانہ پڑھا تھا ۔ اس کتاب کے مطالعہ کے بعد مصنفہ کی فنی بلندیوں کا صحیح معنوں میں ادراک ہوا ہے ۔

خدا آپ کا حامی و ناصر ہو اور رزقِ قلم میں مزید اضافہ فرماۓ ۔۔۔ آمین!

🌺🌹🌺

تحریر و فوٹوگرافی:ارش

Advertisements

2 Comments

Comments are closed.