دہائ__________فرحین خالد

میرے اطراف میں تاریکیوں کا کُہر بڑھتا جا رہا تھا. تعفن ایسا کہ سانس لینا بھی دشوار ہو۔پتہ نہیں کب تلک اِس یاس اورحبس کو اورجھیلنا تھا. مولا تو مجھے اٹھا کیوں نہیں لیتا ؟ میں کرب سے چلا اٹھی مگر میرے سیاہ نصیب کہ اُس نے میری مدتِ گناہ کو طول دے دیا تھا .
سونیا نے مجھے اپنے ساتھ ایسا ملوث کیا کہ میں اپنی پاکدامنی کھو بیٹھی .ایسا نہیں ہے کہ میں نے اسکوسمجھایا نہیں روکا نہیں ، مگر وہ میری سنتی ہی کہاں تھی ؟ ا یک نمبر کی ضدی واقع ہوئی تھی .عشق اُسنے کیا اور آزمائش مجھ سے لی ، لذّت گناہ سے آشکار کیا ہوئی بہکتی چلی گئی ۔ نہ بچی کا سوچا اور نہ ہی شوہر کا ! مگر وہ بد بخت اسکے ساتھ مخلص ہی کب تھا .میاں بیوی کے روحانی رشتے کو ُدشنام بنانے والا کاشف خود تھا . چھ سال کا عرصہ رفاقت پھلنے کےلیئےکچھ کم تو نہ تھا ؟ ایک پالتو جانور سے بھی انسان کو اُنسیت ہو جاتی ہے مگر کاشف جیسا ذی روح میں نے زندگی میں نہ دیکھا تھا. وہ تو عشقِ ذات میں تحلیل، نرگسیت میں مبتلا ایک ایسا شخص تھا جس کو اپنے آگے سب ہیچ لگتا اسی لیئے جب شاہمیر ہماری زندگی میں آیا تو میں خاموش رہی .
وہ ایک مصور تھا. وجیہہ ایسا کہ دیکھتے ہی سانس رک گئی اور ہنسا تولگا کہ کاش اس ساز کی ہر ترنگ صرف میرے لیئے ہو .سونیا تو سدھ بدھ ہی گنوابیٹھی تھی . چند ہی دنوں میں اُسنے مصوراور اُسکے فن کو ایسا اپنایا کہ میں بھی میں بھی ششدر رہ گئی. میں نے طریقے سے کہا، دیکھو یہ صورت اور ہیئت کی مصوری گناہ ہے تو وہ بولی ،ٹھیک ہے تو پھر میں اسکی ماڈل بن جاتی ہوں اور لمحہ میں ہی بام نشیں ہوکے مجھے تار تار کر گئی .اسکی راتوں کی سیاہی کینوس پہ قوس و قزح بکھیرتی رہی اور میں خوف قضا سے تھرتھراتی رہی.ایک روز تنہائی پا کے میں نے اسےجھنجھوڑا کہ خدارا لوٹ آؤ مگر وہ جنموں کی پیاسی باز نہ آئی ۔ روز دلہن بنتی اور راتیں مہر کرتی۔ اِدھر مجھے خوف الہی کھائے جا رہا تھا اور اُدھر وہ محبتوں کی ماری صرف اپنی تکمیل میں شیفتہ تھی .جیسے جیسے وہ ڈوبتی گئی میرا گریہ بڑھتا گیا جسے سننے والا کوئی نہیں تھا ،سونیا بھی نہیں.
مجھے سُن گُن تھی کہ یہ حسن پرست مصور کسی ایک کے نہیں ہوتے انہیں تو دریا دریا پیاس بجھانا ہوتا ہے مگر سونیایہ حقیقت کب ماننے والی تھی۔ آہ ۔۔۔ پھر وہی ہوا جس کا خدشہ تھا ۔ دل اوب جانے پر شاہمیر ایک پرزے پہ الوداع لکھ کے رخصت ہوگیا اور یہ ٹھیس اسے کرچی کرچی کر گئی۔اس نے جنون میں موت کو گلے لگانا چاہا تو میں پاؤں پڑگئی ,منت کی کہ خودکشی حرام ہے . وہ بولی یہ زندگی بھی تو جہنم سے کم نہیں۔بس پھر، پورنما کی ایک رات وہ چلتے چلتے اسی پہاڑی سے سرک گئی جہاں شاہمیر سے پہلی بار ملی تھی.اسکا شباب دریا برد ہوا اور میں ۔۔۔ اس کی دریدہ روح ، اپنے قفس سے آزاد ہو کے آج بھی فضاؤں میں بوجھل سی بھٹک رہی ہوں .

______________

تحریر:فرحین خالد

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

Advertisements

2 Comments

Comments are closed.