گہر ہونے تک _____فیصل سعید ضرغام کی نظر میں

کتاب کا نام: ’’گہر ہونے تک‘‘

تالیف: صوفیہ کاشف

سن اشاعت اول: ۲۰۱۹

صفحات 172

قیمت:700 روپے

مطبوعہ: عکس پبلیکیشن ، لاہور

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’اگر مصنف بننا ہے تو کتاب لکھو۔‘‘ (پاولو کوئیلو)

.

صوفیہ کاشف کی تالیف کردہ کتاب ’’گہر ہونے تک‘‘ کی ورق گردانی کرتے ہوئے جب یہ سطر نظر نواز ہوئی تو میں مسکرائے بغیر نہ رہ سکا۔ وجہ سادہ سی ہے کہ بیشتر احباب مجھے یہی نصیحت اور مشورہ دیا کرتے ہیں لیکن میں ہمیشہ ٹال دیتا ہوں۔

مذکورہ کتاب چند منتخب کردہ تخلیق کاروں کی پیدائش تا وفات تک پیش آنے والے ان دلچسپ حقائق اور سچی داستانوں پر مبنی ہے کہ جن کا اثر ان کی ادبی کاوشوں پر براہِ راست پڑا ۔

یہ کتاب نہ صرف نو آموز لکھاریوں کے لیے source of inspiration ہو سکتی ہے بلکہ اُن پختہ کاروں کی ہمت بندھانے کا سامان بھی ہوسکتی ہے جو ابھی اپنے سفر کا نصف یا اس سے تھوڑا زیادہ طے کر پائے ہیں۔

کتاب ’’ گہر ہونے تک‘‘ کی فہرست میں جہاں سڈنی شیلڈن، پالو کوئیلو، اورخان پاموک اور والٹ ڈزنی کے نام نظر نواز ہوتے ہیں وہاں ساغر صدیقی کا فہرست میں آجانا ازخود توجہ حاصل کر لیتا ہے۔

چونکہ عالمی ادب اور تخلیقات نے ہر دور میں برصغیر پاک و ہند کو اپنی توجہ کا مرکز بنائے رکھا۔ لہذا وہی روایت اس کتاب میں جڑی صاف نظر آتی ہے۔ مشتملات میں ۹۰ فیصد سے زیادہ عالمی ادب اور تخلیق کار اس کتاب میں براجمان ہیں۔ عالمی ادب اور ادیبوں پر تبصرے، رائے اور تاثراتی مضامین ایک “پاپولر سبجیکٹ” ہے جو ہر دور کے نواجوانوں میں بڑی آسانی سے قبول عام کا درجہ حاصل کر لینے میں کامیاب رہتی ہے۔

’’فورٹی رولز آف لو‘‘ از ایلف شفق، ’’ایگزٹ ویسٹ‘‘ از محسن حامد اور Girl on the train اس کتاب کی تھیم کے برخلاف فہرست میں شامل کیے گئے۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان تبصروں کو کبھی کسی کی خواہش پر لکھا گیا اور کتاب کے حجم میں خاطر خواہ اضافے کے سبب ان تبصروں کو اس کتاب کا حصہ بنایا گیا۔ خیر منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے اچھا ہے

صوفیہ کاشف ایک زیرک اور ہوششمند لکھاری ہیں، مجھے ان کے کچھ افسانے پڑھنے کا اتفاق رہا۔ مشاہدہ ان کا خاصہ ہے اور مشاہدے کو نفسیاتی و سماجی پرکھ کی چکی میں پیس کر تحریر میں لانا ان کا کمال فن ہے۔

اس کتاب کا سرورق محترم خرم بقاؔ صاحب نے تخلیق کیا۔ بقاؔ میرے ہم عصر پسندیدہ تخلیق کاروں میں سے ایک ہیں۔ خرم بقاؔ اور عطاء الرحمن خاکی کو مجھ سے وہی نسبت حاصل ہے جو موسیٰ کو ہارون سے رہی ہوگی۔

میں دعاگو ہوں کہ صوفیہ کاشف کی تالیف کردہ کتاب کو اردو ادب میں جائز مقام حاصل ہو۔

آخر میں فرحینؔ خالد کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کہ جن کے تَوَسُّط سے یہ کتاب مجھ تک پہنچی۔ میں نے فرحینؔ کو اپنی ہم عصر اور نوآموز خواتین لکھاریوں کے لیے ہمیشہ متحرک اور بے لوث پایا۔

————————-

تحریر و فوٹو گرافی:فیصل سعید ضرغام

Advertisements

2 Comments

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.