دو قطروں کا رقص ———————غضنفرکاظمی

تھکا ہارا سورج دنیا کے گرد اپنا چکر مکمل کرکے اب آہستہ آہستہ سستانے کے لئے اپنے ٹھکانے کی جانب بڑھ رہاتھا، سورج کو اپنے ٹھکانے کی جانب بڑھتے دیکھ کر پرندے بھی اپنے اپنے آشیانوں کی جانب پرواز کرنے لگے، دن بھر وہ مختلف جگہوں پو دانہ دُنکا چگتے رہے اب شکم سیر تھے اور چاہتے تھے کہ سورج کے اپنے گھر پہنچ جانے سے قبل وہ بھی اپنے آشیاں تک پہنچ جائیں اس لئے تیز تیز پرواز بھر رہے تھے……..

………………..

فوجی درندے ہاتھوں میں بندوقیں لئے آنسو گیس کی شَیل پھینک رہے تھے ہر طرف گیس پھیلی ہوئی تھی، سانس لینا دوبھر ہورہا تھا، کچھ بچے بے ہوش پڑے تھے کوئی ان کو دیکھنے والا نہ تھا ہر کسی کو اپنی اپنی پڑی تھی سب فوجیوں سے بچنے کے لئے بھاگ رہے تھے اچانک چند نوجوانوں کی نظر ان بچوں پر بڑ گئی وہ رکے اور آگے بڑھ کر بے ہوش بچوں کو اٹھانے لگے اتنے میں ایک فوجی کی پیلٹ گن سے سیکڑوں چھرے نکلے اور ایک نوجوان کے جسم میں پیوست ہوگئے وہ بجائے بچے کو اٹھانے کے خود اس کے اوپر گر پڑا۔ اب فوجیوں نے آنسو گیس کی شیلنگ روک کرفائرنگ شروع کردی تھی بھاگتے ہوئے ایک اور لڑکا اندھی گولی کی زد میں آگیا۔ آنسو گیس نے سارے ماحول کو دھندلایا ہوا تھا اوپر سے ڈھلتے دن کا دھندلکا۔ ماحول پر عجیب سے اداسی چھائی ہوئی تھی……..

………………..

پرندے اپنے اپنے آشیانوں میں پہنچ چکے تھے، جن کے آشیانوں میں ننھے ننھے بچے تھے وہ چوں چوں کر تے اپنی چونچ کھول کر ماں کی جانب بڑھنے کی کوشش کررہے تھے اور ماں بھی اپنے بھوکے بچوں کی جونچ میں چوگا ڈالنے لگی تھی ادھر سورج آدھا ڈوب چکا تھا یعنی اس کا ایک قدم اپنے گھر کے اندر اور ایک باہر تھا، چند کبوتر جو بہت اونچی پرواز پر تھے اب وہ بھی نیچے کی جانب رخ کرچکے تھے، ان کی بھی خواہش تھی کہ رات کی تاریکی چھاجانے سے قبل اپنے آشیاں تک پہنچ جائیں، سڑکوں پر حضرت انسان بھی اپنے اپنے گھروں کی جانب رواں تھے، دیہات میں کاشت کار اپنے ہلوں کو سمیٹ کر بیلوں کو ہانکتے اپنی آبادی کی جابن رواں تھے، آس پاس کے درختوں پر چڑیاں بیٹھی چہچہا رہی تھیں ان چڑیوں کا معمول تھا کہ ہر روز شام کو سورج کے غروب ہونے کے وقت ضرور چہچہاتی تھیں، ان کے چہچہانے کی نے رنگ صدائیں ماحول میں موسیقیت سی بکھیر دیتیں، دلوں میں امنگیں انگڑائیاں لینے لگتیں، ہر کوئی گھر پہنچ کر اپنے بیوی بچوں کے ساتھ مل کر کھانا کھانے کی خواہش رکھتا تھا اس لئے ایسے ماحول میں تیز تیز قدموں سے اپنے اپنے گھروں کی جانب رواں دواں ہوتا…………

………………..

گولیوں کی تڑتڑاہٹ، بارود کی بو سے فضا آلودہ، فوجی ٹرکوں کی گھوں گھوں، اور سائلنسروں سے نکلنا دھواں، گولیوں کی تڑتڑاہٹ، بھاگنے والوں کے قدموں کا شور، زخمی ہونے والوں کی چیخ و پکار، فضاءمیں بارود کی بُو کے ساتھ خون کی خوشبو عجب ماحول پروان چڑھا رہی تھی۔ ایسے میں کسی گھر سے خواتین کے چیخنے کی صدائیں دل دہلارہی تھیں، فوجی درندے گھروں کے دروازے توڑ کر اندر داخل ہوکر مکینوں کو باہر دھکیل رہے تھے، ان میں ضعیف مرد و زن بھی تھے، نوجوان بچے و بچیاں بھی، معصوم شیر خوار بھی سب باہر قیامت کی سردی میں لائن میں کھڑے کئے جارہے تھے، ایک فوجی ان سے کہہ رہا تھا کہ دہشت گردوں کا پتہ بتادو اور یہ بھی بتاﺅ کہ انہیں کس گھر میں پناہ دی ہے ورنہ تم سب کو بھون کر رکھ دوں گا ساتھ ہی وہ اپنی کلاشنکوف ان کی جانب تان لیتا تاکہ انہیں خوف زدہ کیا جاسکے، لیکن معملوم نہیں وہ کیسے انسان تھے، انسان بھی تھے یا روبوٹ تھے کہ ان کے لبوں میں معمولی سی جنبش بھی نہیں تھی وہ بس خاموشی سے یک ٹک فوجی کی جانب دیکھ رہے تھے، پھر ان درندوں نے دو نوجوانوں کو گولیاں مار کر انہیں دوبارہ ڈرایا کہ دیکھو سب کو گولی ماردوں گا ورنہ بتاﺅ دہشت گرد کہاں چھپے ہیں، لیکن وہ سب خاموشی سے ان کی جانب دیکھتے رہے……..

…………….

سورج غروپ ہوچکا تھا، رات دنیا پر اپنے پر پھیلارہی تھی ہر جانب تاریکی غالب آرہی تھی، دیہات میں دہقان اپنے اپنے گھروں میں پہنچ کر کمروں میں جاکر چارپائیوں پر بیٹھے فرش پر رکھی انگیٹھیوں میں دہکتے اُپلوں پر ہاتھ تاپ رہے تھے، دہکتی انگیٹھی نے کمرے کے ماحول کو بہت خوش گوار بنایا ہوا تھا، قریب ہی دوسری چارپائی پر بچے بیٹھے تھے، ان کی جوان بیٹیاں کھانا بنانے میں مصروف تھیں، شہروں میں بھی لوگ اپنے گھروں میں پہنچ کر اپنے اپنے بستروں میں دبک گئے تھے، ٹی وی لگے ہوئے تھے کوئی ڈرامہ دیکھ رہا تھا کوئی خبریں سن رہا تھا کوئی تفریحی پروگرام دیکھ رہا تھا، ننھے بجے اپنی ماﺅں کی آغوش میں دبکے ہوئے تھے، جوان لڑے اپنے اپنے موبائل پر چیٹنگ میں مصروف تھے، گھروں میں خوشیاں محو رقص تھیں، ان گھرانوں پر اللہ کی رحمت تھی……..

…………….

رات کی تاریکی اپنے پر پھیلا چکی تھی، لیکن گولیاں برسنے کا سلسلہ جاری تھا، نوجوان مختلف گلیوں سے اچانک نکل کر فوجیوں پر پتھراﺅ کرتے اور پھر بھاگ کر گلیوں میں چلے جاتے جہاں جاتے ہوئے فوجی ڈر رہے تھے کیونکہ گھروں کے اوپر سے بھی ان پر کچھ پھینکا جاسکتا تھا، برستی گولیوں میں کبھی کوئی لڑکا پتھر پھینکنے سے قبل ہی کسی اندھی گولی کا نشانہ بن جاتا اور وہیں گر جاتا پھر اس کے ساتھی اس کووہاں سے اٹھانے کی کوشش کرتے کئی اس کوشش میں بھی زخمی ہوجاتے، انہوں نے کب سے کھانا نہیں کھایا تھا کچھ علم نہیں تھا، سخت سردی میں ماﺅں کی گود میں لپٹے بچے اپنی ماﺅں کے سینے کی حدت لینے کی کوشش میں مصروف تھے لیکن شائد وہ بھی خوف زدہ تھے اس لئے ان کے رونے کی آواز نہیں آرہی تھی۔ پھر چند فوجی ان میں سے کچھ جوان لڑکوں کو ایک ٹرک میں سوار کرکے لے گئے اور کچھ جوان لڑکیوں کو دوسرے ٹرک میںسوار کرکے لے گئے، وہاں سے ٹرک چلے گئے تھے، فضا میں گولیوں کی صدائیں ختم ہوچکی تھیں بس اب وہاں صرف چند بوڑھے مردو و زن ، چند جوان لڑے اور کچھ جوان دوشیزائیں کھڑی تھیں، جب فوجی چلے گئے تو میں آگے بڑھا اور زور سے نعرہ لگایا میرے کشمیری بہنوں اور بھائیوں ہم تمہارے ساتھ ہیں، تم گھبرانا نہیں ہم سیاسی، سفارتی اور اخلاقی مدد جاری رکھیں گے،بس اب آزادی قریب ہے، یہاں بھی آزادی کا سورج

طلوع ہوگا، تم صبح آزادی کی مخمور ہواﺅں سے مسحور ہوگے، تم بھی آزادی کے حسین و خوش گوار لمحات سے حظ اٹھاﺅگے، پھر میں نے چند قدم آگے بڑھ کر ایک خوبصورت لڑکی کی جانب اشارہ کرکے ساتھ کھڑے اس کے والد سے پوچھا کی بابا کیا یہ بیٹی کنواری ہے تو بابا نے نفی میں سر ہلادیا میں نے کہا اوہ تو یہ شادی شدہ ہے، لیکن اس پر بھی بابا نے نفی میں سر ہلادیا، میں نے حیرانی سے اس کی جانب دیکھا پھر چونک کر پوچھا اوہ تو کیا بیوہ ہے اس پر بابا نے انجانا ظاہر کرنے کے انداز میں سر ہلادیا، میں نے وہاں کھڑی دیگر لڑکیوں کی جانب دیکھا میں سمجھ گیا کہ یہ وہ سہاگنیں ہیں جن کے شوہروں کو بھارتی فوجی اٹھا کر لے گئے اور اس کے بعدانہیںخبر ہی نہیں ملی کہ وہ جیل میں زندہ ہیں یا شہید ہوچکے ہیں وہ نہیں جانتی تھیں کہ وہ ابھی بھی سہاگنیں ہیں یا بیوہ ہوچکی ہیں؟ بچے نہیں جانتے تھے کہ وہ باپ کا انتظار کریں یا یتیمی کی خاک ان کے سروں پر پڑ چکی ہے، بوڑھے باپ نہیں جانتے تھے کہ ان کے بڑھاپے کا سہارا زندہ ہے کبھی آجائے گا یا وہ پیوندِ خاک ہوچکا ہے….

…………

رات ڈھل رہی تھی پرندے اپنے گھونسلوں میں محو خواب تھے، گلیوں میں بھونکنے والے کتے بھی کہیں کونوں کھدروں میں آرام کرنے چلے گئے تھے، ہر سُو سکوت طاری تھا، میں یہ پُرسکون ماحول دیکھ رہا تھا۔ میری کھلی آنکھیں نیند سے خالی تھیں نندیا رانی مجھ سے روٹھ گئی تھی، میں تصور میں کبھی پروندوں کے گھونسلوں میں جھانکتا کبھی گلیوں اور سڑکوں کے سناٹے کو محسوس کرتا اور کبھی گھروں میں محو خواب افراد کودیکھتا اور پھر اچانک نہ چاہتے ہوئے بھی میرے خیالات کا پنچھی پرواز کرتا کشمیر کی ان گلیوں میں چلا جاتا جہاں بھوکے پیاسے نوجوان اپنے زخمی جوانوں کو گلیوں سے اٹھا کر گھروں میں لے جارہے تھے تاکہ ان کی زخموں کی مرہم پٹی کرسکیں،چند لڑکے ان ضعیف بوڑھوں کو سہارا دے کر ان کے گھروں میں لے جارہے تھے کئی لڑکیاں اپنے والدین کے عقب میں سرجھکائے کسی پلاسٹک کی گڑیا کی مانند بے حِسی کے ساتھ قدم سے قدم ملانے پر مجبور تھی ایسا نہ کرتی تو کیا کرتی؟ کہاں جاتی؟ وہ نہیں جانتی تھی اس کا شوہر کس جیل میں قید ہے اور ابھی تک قیدی ہے یا درندوں نے مار کر کہیں پھینک دیا ہے وہ خود کو کیا سمجھے سہاگن یا بیوہ؟ میں برداشت نہ کرسکا اور چند قدم آگے بڑھ کر اس کے برابر آیا اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر پیار سے کہا ،” بیٹی یہ وقت بھی گزر جائے گا ، تم ڈرو نہیں، میں سفارتی، سیاسی اور اخلاقی سطح پر تمہیں تنہا نہیں چھوڑوں گا میں تمہاری مددکروں گا،“ میری آواز پر اس نے سر گھما کر میر جانب دیکھا اس کی آنکھوں میں دو قطرے رقص کررہے تھے ، معلوم نہیں اس خوشی میں کہ وہ تنہا نہیں میں ان کے ساتھ ہوں یا کوئی اور خوشی تھی لیکن اس کی آنکھوں میں ایک سوال بھی مجھے محسوس ہوا ۔، مجھے لگا جیسے وہ کہہ رہی ہو کہ، ”بابا اگر تم مجھے اپنی بیٹی سمجھتے ہو تو مجھے بھول جاﺅ یہ اخلاقی ، سیاسی اور سفارتی امداد کی تسلی دے کر میرے زخموں پر نمک نہ چھڑکو خدا کے لئے ہمیں ان ہندو درندوں کے آگے پیھنک کر تم چلے جاﺅ ہمیں جھوٹی تسلیاں دے کر مزید مایوسی کا شکار نہ کرو ہم تنہاں تھے، تنہا ہیں اور تنہا رہیں گے، ہاں اگر ہمیں آزادی مل گئی تو ہم تمہارے ساتھ ہوں گے پاکستان ہمارا وطن ہے اور پاکستان وہیں تک نہیں جہاں تک کا نقشہ تم بناتے ہو یہ کشمیر بھی پاکستان ہے۔ ہاں یہ ہمارا پاکستان ہے، ہمارا پاکستان …. سمجھے خدا کے لئے اب جاﺅ…. جاووووووووووووووووووووووووووووووووووو¿۔ اس کی چیخ سے میری آنکھ کھل گئی، میری آنکھوں میں بھی دو قطرے رقص کرتے ہوئے دامن کی جانب بڑھ رہے تھے۔

_______________________

تحریر:غضنفر کاظمی

کور ڈئزائن:صوفیہ کاشف

Advertisements