گہر ہونے تک—————کتاب تبصرہ از عامر رفیق____

انگلش میں تو موٹیویشنل یعنی ترغیبی کُتب کا وافر ذخیرہ موجود ہے جن میں تخلیقی پہلووں کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے لیکن اردو میں اس انداز کی کتب کا سخت فقدان ہے ۔ اگر اردو میں اس طرح کی کتب ہیں بھی تو وہ انگریزی کتب کا اردو ترجمہ ہیں،براہِ راست اردو میں لکھی شاید ایسی کوئی کتاب نہیں۔ اس اعتبار سے صوفیہ کاشف کی کتاب ’’گہر ہونے تک‘‘ غالباََ پہلی ترغیبی کتاب ہے جو براہِ راست اردو میں لکھی گئی۔ میں اس بات کی گنجائش بھی رکھتا ہوں کہ عین ممکن ہے اس سے پہلے بھی اس انداز کی کتب اردو میں لکھی گئی ہوں لیکن پھر وہ میرے مطالعہ یا علم میں نہیں آ سکیں۔بہرحال مجھے اس کتاب کی محض مداح سرائی نہیں کرنی بلکہ اس کے روشن اور قابلِ ستائش پہلووں کے ساتھ چند اصلاحی پہلووں پر بھی نظر ڈالنی ہے۔

جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں کہ غالباََ یہ پہلی ترغیبی کتاب ہے جو براہِ راست اردومیں لکھی گئی اس لیے اس کتاب کا لکھا جانا ہی قابلِ ستائش ٹھہرتا ہے۔دوسری قابلِ قدر بات یہ ہے کہ اس کتاب میں لکھے مواد کو گوگل، وکی پیڈیااور دیگرکتابوں سے اٹھا کر صرف ترجمہ نہیں کر دیا گیا بلکہ مصنفہ نے حاصل کردہ معلومات کو ذہن نشین کر کے خود اپنے انداز میں بیان کیا ہے جس سے اس کتاب کی نوعیت و اہمیت ترجمہ سے بلند ہو گئی ہے۔ جس طرح کہا جاتا ہے کہ کوئی غیر ملکی ادب جب تک ہمارے اپنے ماحول کے ساتھ لگاویا جڑت قائم نہیں کرے گا تب تک وہ ہمارے لیے اہمیت کا حامل نہیں ہو سکے گا ۔اسی بات کو مدِنظر رکھتے ہوئے مصنفہ نے نہ صرف ان معلومات و واقعات کو محض بیان کردیا ہے بلکہ ہمارے ماحول اور لوگوں کی سوچ سے پیوستہ بھی کر دیا ہے کہ پڑھنے والے کو یہ اپنی بات لگنے لگتی ہے۔

مجھے اس کتاب کی اردو بھی اچھی لگی جس کے بیان اور جملوں میں ایسا بہاو ہے کہ پڑھنے والا بہتا چلا جاتا ہے جو یقیناًاچھی نثر کی خوبی ہے۔جس کی وجہ ذاتی طور پرمیں سمجھتا ہوں کہ مصنفہ کا اخلاص اور لکھنے کے فن سے سچا لگاو ہے۔ مصنفہ نے کہیں کہیں اپنی رائے اور کچھ ’’کوٹیشن‘‘ وغیرہ دیتے ہوئے نثر کو سوزوگداز اور ہمت و حوصلے سے بھر دیا ہے۔جس پر بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ کتاب اثر رکھتی ہے۔

یوں تو مجھے کتاب میں موجود تمام بڑے ناموں کے حالاتِ زندگی بلکہ ان کی جانفشاں محنت و کوشش کو پڑھ کر حوصلہ ملا اور ہمت بندھی کہ تھکنا نہیں اور حوصلے پست بھی نہیں کرنے۔ لیکن خاص طور پرکتاب میں موجود دو ناموں کی کامیابی کی لگن اور محنت کے دنوں نے میری سہل پسندی اورکوئی موقع نہ ملنے پرقسمت کے ساتھ گلے شکووں کا انبار لگانے اور رونا روتے ہوئے سوئے پڑے رہنے کو جھنجھورا کہ میاں محنت کرو، کن ذہنی آلائشوں میں پڑے وقت گنوا رہے ہو؟؟ کہ میں اب خود کو بدلا ہوا پاتا ہوں اور یہ مصمم ارادہ کرتا ہوابھی کہ میں نے کامیابی و ناکامی کو درمیان میں لائے بغیر صرف محنت کو اپنانا ہے۔جن میں ایک نام سڈنی شیلڈن کا ہے جس نے اپنی تعلیم بھی جاری رکھی اور غربت سے لڑنے کے لیے چھوٹی موٹی لیکن سخت محنت اور کم اجرت کی حامل نوکریاں بھی کرتا رہا جن میں چند گھنٹوں میں چار سو صفحات پرمشتمل کتاب پڑھ کر اس پر تیس صفحات کا خلاصہ بھی ٹائپ کر کے پہنچانے جیسا مشکل کام سرانجام دینا بھی شامل رہا۔ میں نے سڈنی شیلڈن کو بالکل نہیں پڑھا بلکہ جان بوجھ کر نہیں پڑھاکیونکہ مجھے شروع میں ہی پتا چل گیا تھا کہ سڈنی شیلڈن پاپولر فکشن کا بندہ ہے جو میرے نزدیک کوئی قابلِ قدر خوبی نہیں تھی۔ لیکن سڈنی کے حالاتِ زندگی اور اس کی بلند ذہنی سطح کو جان کر مجھے یہ لکھاری اچھا لگنے لگا ہے اور میں کوشش کروں گا کہ سڈنی کے ناول بھی پڑھوں اور اس کی لکھی فلمیں بھی دیکھوں۔

دوسرا نام ہے اوپرا ونفرئے! اس کی زندگی کی مشکلات نے تو مجھے رُلا ہی دیا۔ لیکن میری آنکھوں میں نمی صرف اس کی غربت کی وجہ سے نہیں آئی تھی بلکہ رشک کی بدولت بھی تھی۔ اور وہ رشک تھا اس کی آواز کی مضبوطی اور انداز کے بے باک ہونے کا۔میں نے اپنی زندگی کے مہ و سال ریڈیو آر جے کی حیثیت میں بھی گزارے ہیں اس لیے مجھے اندازہ ہے کہ آواز کا مضبوط ہونا اور گفتگو میں بے باک بھی ہونا کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔ میں اوپرا ونفرئے کو سوچ کر اگراس کا خلاصہ بیان کروں تو وہ ہو گا پستی، غربت، لاچاری لیکن دوسری طرف غرور، تمکنت اور بے باکی۔

میں اکثر سوچتا ہوں کہ بڑے آدمی صرف غربت میں ہی پلتے ہیں کیا؟ جس کا جواب تقریباََ ہر بار ہاں میں ہی ملتا ہے۔ لیکن اورخان پاموک کے بارے میں پڑھ کر اندازہ ہوا کہ نہیں کچھ کھاتے پیتے گھرانوں کے سپوت بھی بڑے دماغ اور بڑے دل کے مالک ہو سکتے ہیں۔بات دراصل ذہنی اپروچ کی ہوتی ہے غریب یا امیر گھرانے سے تعلق رکھنے کی نہیں کیونکہ دیکھا گیا ہے کہ غریب گھرانے میں پیدا ہونے والابچہ بڑا ہو کراگرصاحبِ اختیار ہوجاتا ہے تو وہ خود بھی غریب کا استحصال ہی کرتا ہے۔ اورخان پاموک کی دس دس گھنٹے مسلسل لکھنے کی مشق نے مجھے بہت حیران کیا اور اپنے لیے آئیڈیا بھی دیا کہ ہفتے یا مہینے کے کچھ دن میں بھی یہ مشق آزما سکتا ہوں جو ہو سکتا ہے میرے لیے کامیابی کا باعث بنے۔

البتہ شخصیات کا انتخاب کن امور کو مدِنظر رکھ کر کیا گیا میں اس نقطے کو سمجھنے سے قاصر رہا کیونکہ میرے خیال میں ان شخصیات کے علاوہ ایسی شخصیات موجود ہیں جن کا علمی و فنی قدکتاب میں شامل شخصیات سے بہت بلند ہے۔ دوسری بات جو مجھے سمجھ نہیں آئی وہ شخصیات کی ترتیب ہے کیونکہ اس ترتیب میں شیکسپئر کو چوتھے نمبر پر رکھا گیا ہے جو میرے لیے حیران کن ہے۔اور پھر اردولکھاریوں میں سے بھی صرف ممتاز مفتی اور ساغر صدیقی کا ہی انتخاب کیا گیا ہے۔ اگر مصنفہ پیش لفظ میں اپنے انتخاب کے بارے میں بھی کچھ بتا دیتیں تو زیادہ اچھا ہو جاتا۔

بہرحال ’’گہر ہونے تک‘‘ میری سوچ میں ایک مثبت تبدیلی پیدا کر کے میری پسندیدہ کتابوں میں شامل ہو گئی ہے جسے میں اپنے قریبی جاننے والوں کو بھی پڑھاوں گا۔ میں اس کتاب کی مصنفہ محترمہ صوفیہ کاشف کو اس کی کامیابی پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور مجھے کتاب بھیجنے پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور اُمید کرتا ہوں کہ ان کے افسانوں کی کتاب بھی جلد منظرِ عام پر آئے گی کیونکہ میرا ان کے ساتھ تعارف بحیثیت افسانہ نگار کے ہے۔

خود بھی ایک عمدہ افسانہ نگار بننے کے لیے محنت اور اپنی دعاؤں کے ساتھ ساتھ آپ کی بھی دعاوں کا طالب

تحریر و فوٹو گرافی:عامر رفیق