وہ تو بس ماں ہے_______از عزیز قاسمانی

مترجم سدرتہ المنتہیٰ
——-
دل تو یہی چاہتا ہے کمینے کا خون کردوں
کئی بار تیار کی ہوئی بندوق مگر پهر…
اسے مارکر بچے یتیم کرجاتا
جیل جاکر بیٹهہ جانا تها
جب بهی اس پر نظر پڑتی ایسے
جیسے جلتی پر آگ..منہ ہی منہ میں گالی دیتا تها اسے
اور زیر زبان سلام کرنا پڑجاتا
پتہ تها ..وہ میری بیوی کا بڑا پرانا عاشق تها
محسوس تو اب بهی ہوتا تها
ساتهہ پڑهتی تهی اس کے
برداری کی بیٹهک تهی اس روز
سب کے ساتهہ وہ بهی بیٹها تها
موضوع کچهہ اور تها
وہ بے ساختہ بولا
انسان کو سمجهنا چاہئے کہ وہ زندہ ہی اوروں کے لئے رہتا ہے
اس سے ہٹ کر زندگی فضول ہے
شرافت اسی میں ہے کہ زندہ رہنے دیا جائے
یے جملہ اس نے میری طرف دیکهے بغیر کہا تها
عورت تو ہوتی ہی ماں ہے
باقی سارے رشتے تو خود مرد اس کے ساتهہ جوڑتا ہے
شرمساری نے گهیرلئیا
ایسی بے اختیاری کہ..
ایسے بندے کو مارنا ناانصافی ہوتی
******

تحریر:عزیز قاسمانی

مترجم:سدرتہ المنتہیٰ

فوٹوگرافی وکور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

Advertisements

2 Comments

Comments are closed.