غزل————رابعہ بصری

خُود سے بچنے کا بہانہ نہ رہا

سبز پتوں کا زمانہ نہ رہا

میں اذّیت کا پتہ لے کے چلی

اور پِھر اپنا ٹِھکانہ نہ رہا

ہائے ہِجرت کی نئی مجبوری

یاد ساتھی وہ پرانا نہ رہا

دوستا! سب ہی مخالف نِکلے

جانیا! بھائی کا شانہ نہ رہا

ماں کے قدموں تلے جنت ہوگی

یاد بچوں کو بتانا نہ رہا

دُھندلائی سِی سُنہری آنکھیں

تٙر ہُوئِیں ایسے کہ جانا نہ رہا

کچھ تو فرصت نہ ملی مجھ کو بھى

اور کچھ آپ کا آنا نہ رہا

————-

کلام:رابعہ بصری

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

Advertisements

2 Comments

Comments are closed.