فراق________فرحین خالد

فروری کی ایک یخ بستہ صبح صادق ، دھند کی دو شالہ تانے وہ ٹنڈ منڈ سا درخت، کسی خُنکار کی مانند اکڑا کھڑا تھا . اسکی شکستہ وضعدار ی میں بھی جلال تھا ،اصرار تھا ، ماضی کا پندار تھا ….شاید ان خشک خمیدہ شاخوں میں ابھی بھی کہیں رس باقی تھا ورنہ اسے گرنے سے کس نے روک رکھا تھا ؟
میں اس ارذلِ عمری میں بھی چہل قدمی کرنے اس ٹریل پہ آیا کرتی جہاں آج اس برگزیدہ شجر نے مجھے اپنی جانب کھینچا، تو قدم بیخودی میں اٹھتے چلے گئے. اس دھندلکے میں مجھے وہ ایک درویش معلوم ہوا جو سما ع کے عالم میں استغرق ، معرفت کے بھنور میں رقصاں اور الوہیت کی دھن میں سرمست تھا . میں خاکی اور باقی کی کشش میں دست بستہ کھنچی چلی جا رہی تھی کہ ایسا لگا کہ وہی نہیں پورا جنگل ہی ایک رنگ و نور کے پیرہن سے آراستہ ہے . پتوں کے درمیان سے سرکتی سرسراتی ہوائیں ، پرندوں کی کوہکتی صدائیں ، پتھروں کے جامد رُخ ، چشموں سے پھوٹتی سارنگیاں سبھی اپنے خالق کی مدح سرائی میں مگن اسی وجدان کا حصہ ہیں .مجھ پہ ایک کپکپی طاری ہوگئی اور میں اپنے ارد گرد تجلیوں کی چکاچوند سے بیہوش ہوگئی۔
ہوش آیا تو دن چڑھ چکا تھا . جنگل اس سمے ویران محسوس ہوا . میری نظروں نے اسی درخت کو تلاش کیا تو اس بار اسکی چِر ی ہوئی بانہیں دیکھ کر میرا اپنا دل کٹ کے رہ گیا . اس لمحے مجھے اس میں کسی سن رسیدہ ممتا کی سونی آغوش کا سا عکس دکھائی دیا جو پتھر کی مورت بنی انہی پنچھیوں کی راہ تک رہی تھی جو ایک ایک کر کے اس کا گھروندہ چھوڑ گئے تھے . راستہ چڑھائی کا تھا مگر میں بھی جیسےکسی یاترا پہ تھی اور چلتے چلتے یہ سوچ رہی تھی کہ کیسے کیسے اس نے نہیں سینچا ہوگا انکو … موسم رُت تپسیا کی ہوگی … ڈال ڈال لہکایا ہوگا …خود رزق بنا بھی ہوگا ،بہم پہنچایا بھی ہوگا مگر یہ سب لہلہاتے دنوں کا قصہ ہیں ، جیسے جیسے خزاں نے ڈیرے ڈالے ہوں گے توانا ہوتے طائرین کو اپنی اپنی فکر پڑ گئی ہوگی .ویسے بھی نئی منزلوں کےمتلاشی اپنی سرشت میں نفس پرور ہوا کرتے ہیں .کسی نے اپنے پالنہار کے ضعف کا نہیں سوچا ہوگا . اسکے دریدہ بدن کی چٹختی ٹیسیں صرف فضاؤں نے سنی ہوں گی اور یہ بیچارہ وفاؤں کا پتلہ اپنی جڑیں زمین میں پیوست کیئے تعلق نبھاتا رہ گیا ہوگا .سانس میرے حلق میں بھی اٹک رہی تھی. درد میرے سینے میں بھی جاری تھا . دل میرا بھی رو رہا تھا پھر بھی میں چلتی رہی جب تک اسکے تنے کو چھو نہ لیا . اسکے دامن میں پہنچ کر مجھے احساس ہوا کہ یہ تو میرا اپنا پرتو ہے. میں بھی اپنے بچوں کی وہ متروک ماں تھی جو عصر حاضر کے ساتھ چلنے سے قاصر تھی۔ ہمیں خزاں نے نہیں ڈسا تھا ، ہمیں تو فراق کھا گیا تھا۔

______________

تحریر: فرحین خالد

فوٹوگرافی و کورڈئزائن: صوفیہ کاشف

Advertisements

2 Comments

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.