یہ قیامت کیسی بپا ہوئی ہے
آنسوؤں کی کیسی جھڑی ہے
دھواں سا ہوا میں اٹھتا ہے
کسی مظلوم کا دل جلتا ہے
یہ کیسی آہ و زاری ہے
آج کی رات بہت بھاری ہے
سناٹا سا اک چھایا ہوا ہے
خوف سا دل میں آیا ہوا ہے
یہ ننھی سی چپل کس کی پڑی ہے
وہ کونے پہ ٹانگ کس کی کٹی ہے
خون ہی خون پھیلا ہوا ہے
اک بستہ زمین پہ پڑا ہوا ہے
کتاب کے ورق ہیں لہو سے رنگین
معصوموں کو نگلتی جارہی ہے زمین
اک بچی کونے میں ڈر سے دبکی ہے
سامنے موت منہ کھولے کھڑی ہے
کیوں ان درندوں کو رحم نہیں آتا
کیوں انکی زندگی میں غم نہیں آتا
یہ بم نہیں ہے آسمان پھٹا ہے
کسی کی زندگی کا کل اثاثہ لٹا ہے

_________
خولہ کنول وقار

کور فوٹوبشکریہ سما ڈاٹ ٹی وی