سانحہ ء کوئٹہ _________خولہ کنول وقار

یہ قیامت کیسی بپا ہوئی ہے
آنسوؤں کی کیسی جھڑی ہے
دھواں سا ہوا میں اٹھتا ہے
کسی مظلوم کا دل جلتا ہے
یہ کیسی آہ و زاری ہے
آج کی رات بہت بھاری ہے
سناٹا سا اک چھایا ہوا ہے
خوف سا دل میں آیا ہوا ہے
یہ ننھی سی چپل کس کی پڑی ہے
وہ کونے پہ ٹانگ کس کی کٹی ہے
خون ہی خون پھیلا ہوا ہے
اک بستہ زمین پہ پڑا ہوا ہے
کتاب کے ورق ہیں لہو سے رنگین
معصوموں کو نگلتی جارہی ہے زمین
اک بچی کونے میں ڈر سے دبکی ہے
سامنے موت منہ کھولے کھڑی ہے
کیوں ان درندوں کو رحم نہیں آتا
کیوں انکی زندگی میں غم نہیں آتا
یہ بم نہیں ہے آسمان پھٹا ہے
کسی کی زندگی کا کل اثاثہ لٹا ہے

_________
خولہ کنول وقار

کور فوٹوبشکریہ سما ڈاٹ ٹی وی

Advertisements