دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں _______عظمی طور

ہماری تو عقل نے ایسا اس معقولے کو پکڑا ہے کہ اب خیال پَر پھیلاتے ہیں تو ہم گھبراتے ہیں کہ بھئی جب ہو چکا تو آپ ناحق زحمت فرماتی ہیں _

طویل ناول لکھتے ہیں کئی بار قلم روک کر کئی کرداروں اور ان پر بیتتی کہانیوں کو آزمانے کے بعد ہم نے ناول لکھنے کا ارادہ ترک کر دیا اور ننھے ننھے افسانے لکھنے لگے ۔
افسانے لکھ کر ہم کچھ کچھ خوش تھے کہ چلو کچھ نیا اور اپنا تو ہوا مگر نقالوں سے ہوشیار رہنے میں ہم یہاں بھی ہلکان رہے ۔
نظمیں ،مختصر نظمیں، اشعار سب میں نقال جینڈر ہی بدل ڈالتے ہیں ۔ بہرحال
دراصل میڈیا کی بھرمار چیلنلز کی یلغار نے سب گڈ مڈ کر دیا ،کام اتنی ذیادہ تعداد میں ہونے لگا کہ کھچڑی پک گئی اور ہم نے تو کبھی بخار میں بھی کھچڑی نہیں چکھی ۔ ایک اور بہرحال
اب یہ بھی نہیں کہ خیال ہی نئے پَر نہیں نکالتا، حالت اور حالات کے ساتھ کچھ نیا بھی پکتا ہے مگر رش میں گم ہو جاتا ہے اور تعداد میں ذیادہ ہونے والی اشیاء ہی دکھائی دیتی ہیں ۔ سب خوش ہیں اور ہم بھی خوش ہیں ۔
مگر معیار نیچے پاتالوں میں گرتا جاتا ہے. سرقے بنتے جاتے ہیں ۔ ہر کہانی میں ایک ہی طرح کی سچویشن کو مختلف لوکیشنز میں دکھایا جاتا ہے ۔ یہاں بہرحال کے ساتھ ایک لمبا سانس _______ ہوکا ٹائپ ۔
تخیل کی پرواز اونچی ہو تو سامنے آنے والے خیال بچکانہ لگتے ہیں ۔ ایسے میں اپنی تحریر پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہےدراصل حل صرف اتنا ہے کہ دوڑ میں لگنے کے بجائے معیار پر توجہ دی جائے __ حل بھی کوئی نیا نہیں یہاں بھی بات پرانی ہی ہے ۔ _____________
تحریر:عظمیٰ طور
کور ڈیزائن/فوٹوگرافی:صوفیہ کاشف

__________

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.