عورت_________خولہ کنول وقار

حیا کے گلستان کی نگہبان ہے تو
رنگینئ فطرت کا سامان ہے تو
پتھروں پہ چلتی ہوئی
لرزتی گرتی سنبھلتی ہوئی
دھوپ میں جھلستی ہوئی
اوروں کے لیے سائبان ہے تو
قربانی کی مورت ہے تو
سمجھوتے کی صورت ہے تو
خدا کی رحمت ہے تو
عطائے خالق دو جہاں ہے تو
جنت تیرے قدموں تلے
گھر کی رونق ہے ترے دم سے
تیرے بنا سب سونا سونا لگے
گھر والوں کا مان ہے تو

حیا کے گلستان کی نگہبان ہے تو

—————–
کلام:خولہ کنول وقار
فوٹوگرافی/کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف