“بھاگو!بھاگ جاو!”_________ غضنفر کاظمی

سورج غروب ہورہا تھا، فضا میں پرندوں کے غول اپنے اپنے آشیاں کی جانب محو پرواز تھے، ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی جس سے تیار فصلوں کی حرکت سے بہت ہی دلکش موسیقی کا سماں بندھا ہوا تھا، درختوں پر بہت سی چڑیاں ہم زباں ہوکر حمد باری میں چہچہارہی تھیں، دور کہیں سے چکی چلنے کی کپ….کپ کی صدائیں آرہی تھیں، چھیرا اپنے کھیت کے کنارے کھڑا تیارفصلوں کو فخرو انبساط کے ساتھ دیکھ رہا تھا، اس کی آنکھوں میں رنگین خواب تھا ا س کی بڑی بیٹی بچھی سولہویں برس کو عبور کرچکی تھی اور اس پر جوانی ٹوٹ کے برس رہی تھی وہ تمام دن کھیتوں کھلیانوں میں ہرنی کی مانند چوکڑیاں بھر ا کرتی خاص طور پر جب وہ کنوئیں سے پانی سے بھرے گھڑے ایک اپنے سر اور دوسرا کولہے پر رکھ کر مٹک مٹک کرچلتی تو یوں محسوس ہوتا گویا پوری دھرتی دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں مٹک رہی ہے دیکھنے والوں کے دل کی دھڑکنیں رک رک جاتیں، راہی اس کو دیکھ کر اپنی راہیں بھول جاتے، چھیرا گذشتہ تین برس سے اس کے ہاتھ پیلے کرنے میں کوشاں تھا لیکن اردو کی مثل ہے کہ گھر میں سوت نہ کپاس جولاہے کے ساتھ ٹھینگا ٹھینگی، یا اگر گڑ ہوتا تو پوڑے بناتی لے کے کنک ادھاری، تیل تو ہے نہیں لکڑ ی کی بھی خواری…. یہ وہ محاورے تھے جو اس کی ماں اپنے شوہر سے اس وقت کہا کرتی تھی جب وہ اپنی بیٹیوں کے ہاتھ پیلے کرنے کی بات کرتااور اس کے ساتھ ہی چھیرے کو اپنی دادی کے الفاظ یاد آجاتے کہ ” نہ دھئیے یہ نہ کہہ کچھ فکر کر جس گھر میں جوان بیٹیاں ہوں اس کی نالیوں میں خون بہتا ہے“ چھیرا اس وقت ان باتوں کو نہیں سمجھتا تھا کہ بچہ تھا لیکن آج اس کی اپنی بیٹیاں جوانی کی دہلیز پر تھیں تو اس کو اپنی دادی اور ماں باپ کا ایک ایک لفظ یاد آرہا تھا۔ وہ تین برس سے کوشش کررہا تھا کہ فصل بیچ کر بیٹی کے ہاتھ پیلے کردے لیکن اس کی اس خواہش کی تکمیل سے پہلے اس کی دوسری بیٹی بھی جوانی کے پر بہار چمن میں داخل ہوگئی تھی بڑی بیٹی کی بات تو قریب کے گاوں میں پکی ہوچکی تھی اب اس کو نکی کی فکر کھائے جارہی تھی۔

کائنات کو اندھیرے نے ا پنے دامن میں سمیٹ لیا ،چہچہاتی چڑیاں اور پرندے اب خاموش ہوچکے تھے، آسمان پرستارے نمودار ہونے لگے تھے، چھیرا گھر جانے کی سوچ رہا تھا اچانک اس کی نظر مغرب سے امڈتے سیاہ بادلوں پر پڑی، چھیرا سیاہ بادلوں اور اس میں چمکتی بجلیوں کو دیکھ کر پریشان ہوگیا کیونکہ اس کی فصل تیار تھی اور اسے اب دھوپ کی ضرورت تھی بارش اس کے لئے زہر قاتل تھی، چھیرے کی یہ فصل اس کی بیٹیوں کے مستقبل کی امین تھی اس نے ا یک نظر اپنی فصل پر اور دوسری آسمان پر ڈالی اور ٹھنڈی سانس بھر کر گھر کو چل دیا، وہ تیز قدموں سے گھر کی جانب جارہاتھا پھر بھی راہ میں ہی اس کو ہوا کے تیز جھکڑوں نے گھیر لیا ، بادل بھی سر پر آگئے تھے ا ور بجلیاں اس طرح چمک رہی تھیں گویا نر سے بچھڑی ناگنیں تڑپ رہی ہوں اور بار بار اپنی دو شاخہ زبانیں نکال رہی ہوں۔ گو موسم بارش کا نہیں تھا لیکن چھیرے کو لگتا تھا کہ یہ برسے بغیر نہیں رہے گا، وہ اسی پریشانی کے عالم میں گھر پہنچ گیا، گھر میں لالٹین کی یرقان زدہ مدھم روشنی پھیلی ہوئی تھی، چھیرا اپنے گھر کا چھوٹا سا صحن عبور کرکے برآمدے میں آگیا اور ایک بار پھر گھوم کر آسمان کی جانب دیکھا اب پورا آسمان سیاہ بادلوں سے ڈھک گیا تھا اور فضا میںبادلوں کی گھن گرج اور بجلیوں کی کڑکڑاہٹ گونج رہی تھی۔ چھیرے کا گھر دو کمروں پر مشتمل تھا اور دونوں کمروں کے دروازے اسی برآمدے میں تھے، وہ ایک کمرے میں داخل ہوکر چارپائی پر بیٹھ گیا چارپائی کے ساتھ ہی حقہ رکھا تھا جو تازہ تھا شائد اس کی بیوی چلم بھرگئی تھی اس نے حقّہ کی نَے تھام کر منہ سے لگائی اچانک اس کی نظر سرھانے کی جانب تکیہ پر پڑی جس کے غلاف پر اس کی بیٹی نے کڑھائی کی ہوئی تھی۔ وسط میں ایک دل ا ور اس میں ایک تیر پیوست تھا شائد مشرقی لڑکیاں اسی طرح والدین کو اشارے دیتی ہیں کہ اب ہم جوان ہوچکی ہیں ہمارا دل کسی تیر نظر کا منتظر ہے….ہماری فکر کرو….چھیرے نے حقہ کی نَے رکھ دی اور اٹھ کربرآمدے میں آگیاجہاں ایک کونے میں مٹی کا چولہا تھا اس کے ساتھ ہی لکڑی کی ڈولی رکھی تھی، اس نے ڈولی میں سے چنگیری اور اچار کا پیالہ نکالا اور نزدیک ہی رکھی چاٹی میں سے گلاس میں لسّی ڈالی اور چنگیری کا ڈھکنا اٹھایا تو بیسنی روٹی کے اوپر پیاز رکھا ہوا تھا وہ روٹی کھانے لگا، روٹی کھا کر اس نے لمبا سا ڈکار لیا اور واپس جاکر کمرے میں چارپائی پر بیٹھ کر حقہ گڑگڑانے لگا اور حقہ گڑ گڑاتا ہوا بستر پر لیٹ گیا، تھوڑی ہی دیر بعد اس کی بیوی آگئی اور آتے ہی پوچھا، ”ٹکر کھالیا؟“ ”ہاں….یہ کڑیاں کدھر ہیں؟“ چھیرے نے بیوی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے پوچھا۔ ”مجیداں کے گھر بیٹھی ہیں اگلے مہینے اس کی دھی کا شگن آنا ہے نا….“ ”رات زیادہ ہوگئی ہے اور موسم بھی خراب ہے ان کو جلدی بلالینا“ …. چھیرے نے کہا ”اچھا بچھی کے ابا اب تو آرام کر میں بلالوں گی“ چھیرے کی بیوی نے دوسرے کمرے میں جاتے ہوئے کہا اسی وقت بادل بہت زور سے گرجے اور پھر بڑی بڑی بوندیں برسنے لگیں۔چھیرے کی بیوی جلدی سے صحن میں آئی اور رسی پر پڑے ہوئے کپڑے سمیٹ کر اندر لے گئی، اسی دوران بوندوں نے موسلادھار بارش کا روپ دھار لیا، اتنے میں اس کی دونوں بیٹیاں بھی بھاگتی ہوئی گھرمیں آگئیں اور دوسرے کمرے میں جاکر منہہ اور بازووں پر سے پانی پونچھنے لگیں پھر بستر میں دبک گئیں، چھیرا بھی بارش اور فصل کی الجھنوں میں گم بالآخر سوگیا۔ صبح نور پِیر کے وقت حسبِ معمول چھیرے کی آنکھ کھل گئی بارش اسی زور شور سے ہورہی تھی، کمرے میں اندھیرا تھا، چھیرا فصلوں کو بھول گیا، اب اسے گھر کی فکر کھانے لگی وہ اندھیرے میں ٹٹولتا ہوا اٹھا لیکن اس کے پاوں فرش پر ٹِکنے کے بجائے چھپاکے سے پانی میں پڑے۔ ”اوئے بچھی کی ماں….“اس نے گھبراکے آواز دی اور تیزی سے پانی میں چَھل چَھل کرتا اندازے سے اس طرف بڑھا جہاں لالٹین رکھی تھی، اس نے لالٹین روشن کی اتنے میں اس کی بیوی اور دونوں بیٹیاں بھی اس کے پاس آکر کھڑی ہوگئیں۔ چھیرے نے لالٹین پکڑ کر سر سے اوپر کی اور چھت کو دیکھنے لگا جو کئی جگہ سے ٹپک رہی تھی لیکن چھیرے کی بیوی بلاناغہ چھت پر گوبر کا لیپ کرتی تھی اس لئے اتنی مضبوط تھی کہ اس کی مرمت کے لئے دن طلوع ہونے کا ا نتظار کیا جاسکتا تھا۔ اگلے روز گاوں والے مل کر پورا دن ایک دوسرے کے گھروں کی چھت پر مٹی ڈال کرمضبوط کرتے اورگھروں میں زمین پر رکھے ہوئے سامان کو چارپائیوں پر رکھتے رہے تاکہ پانی سے محفوظ رہ سکے کیونکہ بارش مسلسل ایک رفتار سے ہورہی تھی اور گھروں میں جمع ہونے والے پانی کی سطح بھی بلند ہورہی تھی….اس روز صبح ہوئی نہ دوپہر بس شام کا جھٹپٹا سا پورا دن چھایا رہااور پھر رات ہوگئی۔ رات کو کسی گھر میں بھی سونے کو جگہ نہ تھی، چارپائیوں پر گھر کا سامان رکھا تھا، لوگ کنستروں، بالٹیوں اور دیگچیوں سے کمروں میں جمع ہونے والے پانی کو باہر نکالنے کی ناکام کوشش کرتے رہے….آخر کب تک….لوگ اپنی سی کوششیں کر کرکے تھک گئے….چھیرا اپنی بیوی اور بیٹیوں کے ساتھ چارپائی کے ایک کونے میںدبکا بیٹھا تھا، رات کے دو بجے ہوں گے جب اچانک گاوں کے آخری حصہ سے شور کی صدائیں بلندہوئیں، چھیرا چونک کر اٹھا اور پانی میں چلتا دروازے تک آیا اب اس کے قریب کے گھروں میں بھی شور ہونے لگا اچانک اس کے کان میں آواز آئی کہ راجباہ ٹوٹ گئی، چھیرا بجلی کی مانند پلٹا اسے اور تو کسی چیز کی فکر نہیں تھی البتہ بیٹی کے جہیز کی فکر تھی وہ جہیز کے سامان والی پیٹی کو ا ٹھا کر چھت پر لے جانے لگا لیکن پانی نے مہلت نہ دی پہلا ریلا ہی اتنا زوردار تھا کہ وہ سنبھل نہ سکا، پیٹی پانی میں گر گئی، وہ ابھی اسی صدمہ سے نہ سنبھلا تھا کہ دوسرا ریلا اس کے مکان کی کچی دیوار کو بہا لے گیا….چھیرے نے پانی کے تیور دیکھے تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ بیوی اور بیٹیوں کا ہاتھ تھام کر گھرسے باہر نکل گیا….

سیلاب کی رفتار اتنی تیز تھی کہ قدم زمین سے بار بار اکھڑ رہے تھے، چھیرے کا رخ اس سڑک کی جانب تھا جو قصبے کو جاتی تھی وہ کافی بلندی پر تھی، چھیرے نے ایک ہاتھ سے نکی کو اپنے پہلو سے چمٹایا ہوا تھا اور دوسرے ہاتھ سے بچھی کو جبکہ بچھی نے ماں کا ہاتھ تھاما ہوا تھا، انہیں چلتے ہوئے بیس پچیس منٹ ہوگئے تھے،پانی کمر سے اوپر آرہا تھا، مجبوراً چھیرے نے نکی کو کندھے پر بٹھالیا اور بچھی اور بیوی کا ہاتھ پکڑنے لگا لیکن رات کا گھور اندھیرا….کمر سے اوپر تک منہ زورپانی جو اپنی پوری قوت کے ساتھ ہر چیز کو اپنے ساتھ بہائے لئے جارہا تھا….وہ ٹٹولتا ہی رہ گیا کہ بیوی کی چیخ سنائی دی ساتھ ہی بچھی بھی چلائی، …. ”ابا بے بے گئی“ ”کیا ہوا دِھئیے؟“ ….چھیرے نے مری مری آواز میں پوچھا کیونکہ جان تو وہ گیا تھا کہ پانی کا تیز بہاو اس کی بیوی کو بہا کے لے گیا۔ پانی تیزی سے بلند ہورہاتھا اور اب بچھی کی گردن اور چھیرے کی بغلوں تک پہنچ رہا تھا،چھیرے کے پاوں بھی اب زمین سے اکھڑ رہے تھے، اس کے کندھے پر جوان بیٹی کا بوجھ بھی تھا، اسی وقت غیبی مدد آگئی….ایک درخت کا تنا چھیرے سے ٹکرایا اور چھیرے نے اس کو مضبوطی سے تھام لیا ساتھ ہی بچھی کو بھی تنے سے چمٹ جانے کی ہدایت دی اور کسی نہ کسی طرح نکی کو بھی تنے پر اس طرح بٹھادیا جیسے کوئی سوار گھوڑے پر بیٹھا ہے اسی وقت چھیرے کے قدموں نے زمین چھوڑ دی چھیرے نے مضبوطی سے درخت کے تنے کو اس طرح پکڑرکھا تھا کہ کہ اس کے دونوں ہاتھ اس کی بیٹیوں کو بھی چھوتے رہیں تاکہ ان کی موجودگی کی خبر رہے، بچھی نے کسی طرح نکی کی کمرکے گرد ہاتھ ڈال کر اس کو خود سے چمٹا لیا تھا اور نکی نے بہن کا سہارا پاکر دونوں ہاتھوں سے باپ کی بغلوں میں قینچی سی ڈال لی تھی، ان کے دوپٹے جانے کہاں بہہ گئے تھے۔ پانی کی منہ زور لہروں نے کپڑے تار تار کر دئیے تھے، کافی دیر ہوگئی پھر چھیرے نے محسوس کیا کہ پانی کی شدت میں کمی آرہی ہے، یہ محسوس کرکے ا س نے زمین سے پاوں لگانے کی کوشش کی تو کامیاب ہوگیا اب پانی اس کے سینے تک تھا۔ وہ قدموں سے چلتا ہوا درخت کے تنے کو دھکیلتا رہا کیونکہ اس کی بیٹیاں ابھی بھی تنے پر ہی تھیں….وہ جوں جوں آگے بڑھ رہا تھا پانی کی سطح کم ہورہی تھی….وہ اندازے سے اسی جانب بڑھتا رہا…. بارش بند ہوچکی تھی، آہستہ آہستہ دن طلوع ہوا تو چھیرے نے دیکھاکہ چاروں جانب پانی ہی پانی ہے البتہ اسے سامنے خشکی نظر آئی، اس نے درخت کا تنا چھوڑ دیا اور بیٹیوں کو لے کر خشکی پر آگیا…. خشکی پر آکر ایک نیا مسئلہ درپیش ہوگیا….چھیرے کی دھوتی نہ جانے کب اور کہاں بہہ گئی تھی، اس کی بیٹیوں کے کپڑے بھی پھٹ چکے تھے لیکن مجبوری تھی تینوں نگاہیں جھکائے بیٹھے رہے۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ چند آدمی ہاتھوں میں لاٹھیاں تھامے آگئے انہوں نے چھیرے کی کہانی سنی تو ان میں سے ایک نے اپنے کندھے پر رکھی ہوئی چادر اس کو دی کہ وہ دھوتی باندھ سکے، دو افراد نے اپنے کرتے اتار کر اس کی بیٹیوں کودے دئیے جو انہوں نے پہن لئے پھر وہ ان کو اپنے ساتھ لے کر چلے انہوں نے بتایا کہ نزدیک ہی زمیندار کی حویلی ہے جہاں زمیندار کبھی کبھار ہی آتا ہے۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد وہ حویلی میں زمیندار کے سامنے کھڑے تھے اور چھیرا رو رو کر اپنا دکھڑا بیان کر رہا تھا۔ زمیندار تیس بتیس برس کا گبھرو جوان تھا وہ ان کی کہانی سن کر انہیں آرام کرنے کا کہہ کر کہیں چلا گیا ایک ملازم نے انہیں کھانا لا کر دیا وہ کھانا کھاکر وہیں فرش پر لیٹ گئے….تھکاوٹ سے براحال تھا اس لئے لیٹتے ہی بے سدھ ہوگئے۔ وہ تمام دن سوتے رہے….رات کو زمیندار کے ملازم نے آکر جگایا اور بتایا کہ چوہدری صاحب ان کو بلا رہے ہیں، وہ ملازم کی رہنمائی میں زمیندار کے کمرے تک پہنچے جہاں زمیندار اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا مَے نوشی کر رہا تھا….چوہدری کے دوست جن نظروں سے بچھی اور نکی کو دیکھ رہے تھے وہ چھیرے کو اچھی نہ لگیں لیکن بے چارہ مجبور تھا ….کیا کرتا…. اسی وقت زمیندار کے ایک دوست نے جھومتے ہوئے کہا ،”یار دانے تو زبردست ہیں چند روز مزے میں گزریں گے“۔ ”کتے بکواس بند کر….“ چھیرا غصے سے چلایا….زمیندار نے چھیرے کے پیچھے کھڑے ملازم کو اشارہ کیا اس نے اچانک عقب سے چھیرے کی گردن میں قینچی ڈال لی اور دوسرے ملازم نے رسی سے اس کے ہاتھ کمر کے پیچھے لے جاکر اور پاوں باندھ دئیے اور زمین پر دھکیل دیا۔ اس دوران زمیندار اور اس کے دوستوں نے آکر بچھی اور نکی دونوں کو پکڑلیا….وہ دونوں چیختی چلاتی رہیں….چھیرا زمین پر لیٹا چلاتا رہا….”بھاگو ….بھاگ جاو….بھاگو“….لیکن زمیندار کے ملازم باہر نکل کر کمرے کا دروازہ بند کرچکے تھے۔ دروازہ بند ہوتے ہی زمیندارنے بچھی کے قمیض کا دامن پکڑ کر اسے اس زور سے دھکہ دیا کہ وہ زمین پر جاگری اور قمیض کا کچھ حصہ زمیندار کے ہاتھ میں رہ گیا….یہی حرکت اس کے دوست نے نکی کے ساتھ کی….اور اس کے بعد چھیرے کی دیکھنے کی ہمت نہ رہی اور اس نے بھیگی ہوئی آنکھوں کو بند کرلیا….ایک بار اس نے ہمت کرکے آنکھیں کھولیں تو اس کو اپنی بیٹیاں نوزائیدہ بچیوں کی مانند نظر آئیں اور اس نے فوراً ہی اپنی آنکھیں بند کرلیں…. آنکھوں سے خون رواں تھا….اس کی بیٹیاں چیختی رہیں….چند بے ربط جملے…. ”ابا جی….ابا جی…. کتے چھوڑ دے…. نہیں خدا کے لئے ایسے نہ کرو ذلیل، کمینے….چھوپ….اوں….اوں“ جیسے کسی نے اس کے ہونٹوںکو بند کردیا ہو….پھر ایسی آوازیں آنے لگیں جیسی انہوں نے پانی میں چلنے کے دوران اپنے قدموں کی سنی تھیں، چھپاک ….چھپاک کی سی ….چھیرے کو اپنی بیٹیوں کی چیخوں اور سسکیوں کی آوازیں آتی رہیں، اشکوں کا سیلاب بڑھتا رہا اور اتنا بڑھا کہ چھیرا اس میں ڈبکیاں کھانے لگا اور ایک بار تیز رفتار آنسووںکا ایک ریلا اس کو ایسا بہا کے لے گیا کہ ڈوب کر پھر نہ ابھرا۔ …………

آج کل گاوں میں ایک پاگل پھرتا نظر آتا ہے جس کو لباس کا ہوش ہے نہ کھانے کا ….نہ ہی وہ منہ سے کچھ بولتا ہے ہاں اگر کوئی جوان لڑکی نظر آجائے تو اس کو دیکھتے ہی بے اختیار چِلّانا شروع کردیتا ہے، ”بھاگو…. بھاگ جاو“….اور چیختے وقت اس کے ہاتھ اس طرح پشت پر چلے جاتے ہیں گویا بندھے ہوئے ہوں۔

——-

تحریر:غضنفر کاظمی

فوٹوگرافی/کورڈیزائن:صوفیہ کاشف

Advertisements