ایک نظم دو حصے______عظمی طور

“تاتو” (حِصّہ اول)
باہر برف پڑتی تھی
وہ صاب کتابیں پڑھتا تھا
اور
آتش دان کے سامنے بیٹھا
گھنٹوں سوچتا رہتا تھا
سوچتا کیا تھا___معلوم نہیں
پر اُسکی جھولتی کُرسی کا
سایہ اور میں
آپس میں باتیں کرتے تھے ___
باہر برف پڑتی تھی
وہ صاب کتابیں پڑھتا تھا
ہم کہتا تھا
صاب !
تُم کتنا سوچتے ہو صاب
ہم سوچتا ہے کہ کیا سوچے
پر
کچھ سمجھ نہیں آتا ہے
وہ صاب ہماری بات سُنتا
اور
کُرسی روک کے ہستا تھا ___
باہر برف پڑتی تھی
وہ صاب کتابیں پڑھتا تھا
ہم آتش دان کی آگ
بھڑکاتا
اور
چائے بنا کے لاتا تھا
وہ صاب ہاتھ میں کپ رکھتا
اور چائے ٹھنڈی کرتا تھا
اور کہتا جاتا تھا
“تُم آتی تو میں بتلاتا
تُم رکتی تو میں کہہ پاتا”___
باہر برف پڑتی تھی
وہ صاب کتابیں پڑھتا تھا
ہم صاب کو دیکھتا دیکھتا سو جاتا
اور رات گئے جب اُٹھتا تھا
وہ صاب ایک ہاتھ میں کتاب اور
ایک ہاتھ میں کپ رکھتا تھا
اور
دھیرے دھیرے کہتا تھا
تُم کب جانو او “تاتو”
تُم کب جانو
ہم سر ہلاتا جاتا تھا
پر کچھ سمجھ میں نہ آتا تھا
اور صاب کہتا جاتا تھا
“تُم آتی تو میں بتلاتا
تُم رُکتی تو میں کہہ پاتا”
باہر برف پڑتی تھی
وہ صاب کتابیں پڑھتا تھا

_______________________

“رَتی” (حصہ دوم)
وہ صاب اٹیچی اُٹھاتا تھا اور
شہر کو چھوڑ کے جاتا تھا
ہم صاب کو یاد کر کر کے روتا تھا
اور رَتی کو بتاتا تھا
وہ صاب ہم کو بھاتا تھا
پر ناجانے
کونسا درد اُسے ستاتا تھا___
رَتی کہتا تھا
تُم جانتے نہیں ہو “تاتو”
پچھلی برف میں
ایک میم صاب کاٹج میں ٹھہرا تھا
رنگ اُسکا بہت سنہرا تھا
اور باتیں میٹھی کرتا تھا
ہم جب بھی ملنے جاتا تھا
وہ ڈائری میں کچھ لکھتا تھا
اور اُس میں پھول چھپاتا تھا
وہ ہم سے کہتا تھا
رَتی !
یہ برف بڑی ہی ظالم ہے
یہ چھپا دیتی ہے رنگ سارے
یہ ہم کو روک کے رکھتی ہے
اور خوں نچوڑے رکھتے ہے
وہ میم صاب
ایسے کہتا تھا
پھر ہنستے ہنستے روتا تھا
اور روتے روتے ہنستا تھا
اور اس میم صاب کی سفید ٹوپی کا لال پھول رونے لگتا تھا___
اور آتش دان
ٹھنڈا ہوتے ہی
وہ میم صاب زور سے ہنستا تھا
اور ہم سے کہتا جاتا تھا
لو بُجھ گئی ہے آگ ساری
اب اُڑنے لگے گی راکھ ساری
پھر یوں کہتا
رَتی تُم جانتی ہو
یہ درد بڑا انوکھا ہے
اِس درد میں بڑا ہی دھوکا ہے
میں جانتی ہوں
میں جانتی ہوں
اور نرم صوفے سے اُٹھ کر
کُرسی کو جھلانے لگتا تھا
اور میٹھا میٹھا ہنستا تھا
پھر تیز ہوا میں اِک دن
فون کی گھنٹی زور سے بجا
کوئی بابو اُسکو بلاتا تھا
وہ میم صاب فون پکڑ کے بولا
رَتی اب تُم جاؤ __
پھر ساری رات ہم نے کھڑکی سے دیکھا
وہ چپکے چپکے سسکتا تھا
اور ساتھ میں کہتا جاتا تھا
یوں چھوڑ کے کیسے میں جاؤں
منہ موڑ کے کیسے میں جاؤں
پھر اگلی صبح ہم سے مل کر
اپنا ہار ہم کو پہناتا تھا
اور گال پہ پیار کر کر کے
منہ ہی منہ میں کہتا جاتا تھا
یہ درد مجھی کو پینا ہے
اب یوں ہی مجھکو جینا ہے
________________________________________
کلام:عظمیٰ طور

فوٹوگرافی:ثوبیہ امبر

کورڈیئزائن:صوفیہ کاشف