گلی ہوئی ناک______عزیز قاسمانی

ترجمعہ:سدرتہ المنتہیٰ

مصلحت؟
چیخ و پکار
دبی دبی چیخیں
آنسو گهٹے ہوئے
اور سسکیاں
گهر کی چهوٹی سی کائنات میں ایک ہل چل
دو زندگیوں کے اندر
تم میری سہیلی کے ساتهہ؟
دهاڑتا ہوا لہجہ
کب؟انجان پن نظر چراکر بولنا
جهوٹ..پهر ایک جهوٹ
پهر سے مکرگئے
مکرنا چهوڑدو
حقارت، دکهہ ،شدت
مردوں کو تو بیماری ہے..بس کوئی عورت نہ دکهے
کوئی سہیلی رشتہ دار
کوئی مسافر عورت
تف ہے
شدت ،نفرت
چپ کرجا..دهونس کمزور سا اہتجاج
زبردستی کس قدر آسان ہے نا..
وہ بهی کسی عورت پر..
خود عیاشی کرتے وقت اندهے ہوجاتے ہو
جنسی دہشت گردی کے باوجود بهی منہ پر کالک نہیں دکهتی
شکست اور تهکن
جوابی مسکراہٹ طنز اور تلخ
وہی ازلی بے پرواہی
کرسی پر بیٹهے ہاتهہ میں سگرٹ
پهونک پر پهونک
کش کے بعد دوسرا کش
عیش ٹرے عیاشی کی گواہ
اس کے باوجود بهی
تمہاری بہن بهی تو خوبصورت ہے
جلتی پر نمک
شٹ اپ
دهاڑ
ٹانگ سے ٹانگ اتری
سگرٹ عیش ٹرے میں مسلا گیا بری طرح
خطرناک گهوری
جوان بهی ہے
دوسری چوٹ
بکومت ہاتهہ اٹهتے اٹهتے رہ جاتا ہے
تماشے میں قصور وار کی چهان بین کے بعد کا منظر سامنے
ٹیبل سے ٹشو اٹهاکر رگڑی ناک
جملہ دہرانے لگی
خوبصورت
اور جوان
دهونس ہارگئی تو ٹشو کے ساتهہ رگڑتے ہوئے ناک بهی گل گئی

*******

کور ڈیزائن:ثروت نجیب