’’پاگل پن کی ایک اور کیفیت‘‘________حمیرا فضا

آنکھوں سے رات کی ملاقات نہیں
اور صبح سے شام ملنے آجاتی ہے
پیر کو
جمعرات کے کام یاد آتے ہیں
عام دنوں کی گنتی میں
خاص دن بھول جاتے ہیں
اپنے حصے کی گھڑیاں
خوش گمانی کو پیچ دیتی ہوں
پت جھڑ سے پھولوں کا سودا کرتی ہوں
بارش سےدھوپ مانگ لیتی ہوں
حبس سے ہوائیں خریدلیتی ہوں
دنوں کو ادل بدل کر گننے کا حُسن
مہینوں کو آگے پیچھے سوچنے کا فن
بیماری ہے یا خود فریبی ہے
لگتا کچھ جھوٹ ہے
خوابوں کے لاشےہیں
کچھ جھوٹ میرے اثاثے ہیں
چاند کھڑکی سے غائب ہوگا نہیں
سات گھنٹے کی نیند گروی رکھی ہے
کلیاں باغیچے سے فرار ہوسکتی نہیں
کسی کا انتظار پہرے پر بیٹھایا تھا
خطوں کی روشنائی گفتگو جاری رکھے گی
جب تک خاموشی کے چہرے پر جھریاں نہیں پڑتیں
پاگل نہ سمجھیے
وہ دیکھیے ـــــــــــــ
دن میں بھی ستارا ہے
ٹوٹے دل پر بھی کنارہ ہے
بھوک پیاس تمام شد
نظموں پر گزارہ ہے

______________
کلام:حمیرا فضا

فوٹوگرافی و کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

Advertisements