ہراسمنٹ اور سوشل میڈیا مینرز__________صوفیہ کاشف

ایک پاکستانی سیاستدان کے بیان نے انوکھی بحث چھیڑ دی ایسی کہ لوگ ہنس ہنس بے حال ہو گئے۔اکثریت کو اس بے تکی بات نے خوب لطف دیا۔کیا یہ بات اتنی ہی بے تکی ہے؟

کیا روزانہ کے گڈ مارننگ ،گڈ ڈے کے میسج ہراسمنٹ کے زمرے میں آتے ہیں ؟کیا عورتوں کی ڈیپی پر ماشاءاللہ،حسین ،خوبصورت چہرہ جیسے کلمات لکھنے ہراسمنٹ ہے، کیا غیر ضروری میسجز ،واٹس آپ، فرینڈ ریکوئسٹس بھیجنا ،پھر قبول نہ ہونے کی صورت میں میسجز بھیجنا کہ پلیز فرینڈ شپ قبول کی جائے ہراسمنٹ ہے؟عوام الناس کی اکثریت،پکڑنا،روکنا،چھونا اور دبوچنا سے کم پر کسی چیز کو ہراسمنٹ ماننے کے لئے تیار ہی نہیں اور نہ ہی جنسی ہراسمنٹ سے کم پر بات کرنے پر آمادہ ہے۔یہ سچ ہے کہ جہاں اس قدر انتہائیں ہوں کہ عورت باہر نکلے تو بغیر پریشان ہوئے گھر کو لوٹ نہ سکے وہاں یہ چھوٹی چھوٹی باتیں یقینا نظر انداز ہوتی ہیں مگر اس کے باوجود ان کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

ہراسمنٹ ہے کیا؟کیسے ہوتی ہے؟ کیا صرف جنسی ہراسمنٹ کا وجود ہے یا اس کے علاؤہ بھی کوئ قسم ہے جس کے بارے میں معاشرے کے مرد اور عورت کو باشعور کرنے کی ضرورت ہے؟ویکی پیڈیا کے مطابق ہراسمنٹ لفظ ان بے شمار بیمار رویوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جو دوسروں کو پریشان کرنے، مجروع کرنے یا تذلیل کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں یا ان کا باعث بنتے ہیں۔یہ وہ رویے ہیں جو پریشان کن، اور نقصان کا باعث بن سکتے ہیں اور انکی بنیاد وہ امتیازی بنیادیں ہیں جن کی وجہ سے کوئ فرد اپنے حقوق حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے شرمین عبید چنائے کے ایک واقعہ نے اس موضوع کو اجاگر کیا تھا مگر پاکستانی معاشرے نے اس واقع کو اتنا ٹرول کر دیا کہ اس پوائنٹ کو واضح ہونے سے پہلے ہی دبا دیا گیا۔ہمارے ہاں سچ کی آواز کو دبا دینے کا یہی طریقہ کار عام ہے جیسے اسمبلیوں میں ہمارے نمائندے اتنا چیختے ہیں کہ مخالف کی صحیح بات بھی کسی کان تک پہنچ نہ سکے۔ یہی روش ہمارا معاشرہ اپناتا ہے۔صحیح بات پر بھی اتنا شور مچاتا ہے کہ کوئ نکلتے سورج کو سویرا سمجھ ہی نہ سکے،کوئ رات کے اندھیرے کو کالا نہ کہے۔بس شور مچا کر ہر دماغ کو اس بات کا یقین دلایا دیا جائے کہ یہ جو روشنی ہے دراصل روشنی نہیں اندھیرا ہے۔

کیا واقعی گڈ مارننگ کے میسج بھیجنا ہراسمنٹ ہے؟ جی ہاں! ہر وہ کام جو بری نیت سے کیا جائے اور دوسرے کو پریشان کرے چاہے وہ دیکھنے میں کتنا ہی بے ضرر کیوں نہ دکھائ دے وہ ہراسمنٹ ہے۔کہیں آپ کے گڈ مارننگ کے میسجز کے پیچھے اپنی طرف متوجہ کرنے کی خواہش تو نہیں؟ آپ اپنے کام کی جگہ پر یا کسی بھی جگہ پر عورت کو کیوں متوجہ کرنا چاہتے ہیں؟اگر وہ عورت آپ کی اس حرکت سے نالاں ہے تو یہ ہراسمنٹ ہے اور یقینی طور پر عورتوں کی اکثریت ان باتوں پر نالاں ہے۔ہر وہ رویہ جو دوسرے کے لئے پریشانی کا باعث بنے ہراسمنٹ ہے۔اگر کوئ آپ سے ملنا نہیں چاہتا تو کیا آپ روز ملنے اس کے گھر تک جائیں گے؟ نہیں ناں!تو پھر جو عورت آپ کے گڈ مارننگ نہیں چاہتی اسے روز صبح صبح گڈ مارننگ بھیجنا اتنا ہی ہراساں کرنا ہے جتنا روز گلی میں کسی کا راستہ روکنا۔کیا گلی میں چلتے ہر مرد کو بھی آپ روز روک کر گڈ مارننگ کرتے ہیں؟ نہیں؟ تو پھر میسج فری اور ارزاں ہونے کا مطلب یہ قطعی نہیں کہ اخلاقیات کے معیار بدل دئیے جائیں۔۔ہراسمنٹ آنکھوں ہی آنکھوں میں بھی ہو جاتی ہے جب آپ کی نگاہیں کسی کا تعاقب کرتی ہیں۔اس کا ثبوت دنیا کے پاس چاہے نہ ہو مگر کرنے والے کی نگاہ اور سہنے والے کا دل جانتا ہے کہ یہ ہراسمنٹ ہے۔اگر آپ گلی میں کسی کے پیچھے جانے کو ہراسمنٹ سمجھتے ہیں تو فیس بک پر کسی کی ٹوہ میں رہنا بھی ہراسمنٹ ہے جب کوئ اسے پرائیویٹ رکھنا چاہے۔ اگر کسی کی پروفائل پبلک ہے اور فالورز کی اجازت ہے تو ضرور آپ فرینڈ ریکوئسٹ بھجوا سکتے ہیں لیکن اگر قبول نہیں کی جاتی تو آپ کا بار بار میسج بھیجنا ہراسمنٹ ہے۔کیا آپ کو اندازہ نہیں آپ دوسرے کو پریشان کر رہے ہیں۔کیا مہذب پن کا تقاضا نہیں کہ یہیں سے واپسی کا رخ کیا جائے؟اگر آپ کے ہاتھ میں ایک سمارٹ فون اور اس میں چلتا ہوا میسنجر ہے تو اس کا مطلب یہ قطعی نہیں کہ آپ جس کو چاہے میسج کر سکتے ہیں۔کیا آپ کسی بھی عورت کے گھر منہ اٹھائے پہنچ سکتے ہیں؟ نہیں ! کیونکہ وہاں باپ بھائ یا شوہر ہو گا۔لیکن فیس بک پر یا میسنجر پر ایسا کر سکتے ہیں،اور روز کرتے ہیں اور کرتے ہی رہتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ وہاں وہ اکیلی ہے،ںلکہ اکثر تو آپ کو یہ بھی شک ہے کہ پروفائل بھی خوب پرائیویسی سے رکھی گئی ہے تالے لگا کر ،جو بھی بھیجا جائے گا سیدھا عورت کے ہاتھ میں پہنچے گا۔یہی سوچ ہراسمنٹ کا باعث ہے جو آپ کو عورت کو سوشل میڈیا پر تنہا دیکھ کر اسے میسج بھیجنے پر اور روزانہ کی بنیاد پر گڈ مارننگ اور گڈ ڈے کے میسج کرنے پر اکساتی ہے۔جب آپ نے عورت کی کمزوری کا یقین کر کے کچھ بھی کیا چاہے وہ گڈ مارننگ جیسا انتہائ شریف النفس سمجھا جانے والا اور بے تحاشا مہذب نظر آنے والا کام ہی کیا ہو تو یہ ہراسمنٹ ہے۔آپ کا جو بھی کام دوسری کے لئے زحمت اور سٹریس کا باعث ہے چاہے وہ مرد کے لئے ہو یا عورت کے لئے ہراسمنٹ ہے۔کیا یہ گڈ مارننگ آپ اس عورت کو باپ اور بھائ یا شوہر کے ساتھ جاتے دیکھ کر پیش کریں گے؟ اگر نہیں تو اقرار کیجیے کہ آپ ہراس کر رہے ہیں۔صرف فرق یہ ہے کہ یہ طریقہ ہراسمنٹ کا ایک جائز نوعیت کا سمجھا جانے والا،کچھ کچھ مہذب دکھائ دیتا طریقہ ہے جس سے آسانی سے خلاصی ہو سکتی ہے اور دوسرے بندے کو خموش کروایا جا سکتا ہے۔ ،کیا اس کے پیچھے آپکی نیت میں تعلقات بڑھانے کی خواہش شامل نہیں؟ ایک خاتوں پبلک پروفائل پر بیٹھی ہے ،پروفائل پر تصویر بھی لگاتی ہے،وال پر لوگوں کے سوالوں کے جواب بھی دیتی ہے تو آپ یہ فرض کر لیں کہ اب اس کے میسنجر میں پہنچ کر اس سے گپ شپ لگانا بھی آپ کا فرض ہے،کیا یہ ایک اخلاقی رویہ ہے؟کیا آپ جانتے ہیں کہ میسنجر کسی کو فون کرنے کے مترادف ہے کیا آپ ایسے ہی منہ اٹھا کر بغیر مقصد کے ہر راہ میں ملنے والے یا دفتر میں کام کرنے والے کو فون کر دیتے ہیں؟

اگر میسنجر میں آپ سے گپ شپ نہیں لگائ جا رہی تو کیا آپ خموشی سے واپسی کا رستہ لیتے ہیں؟ نہیں؟ کیوں ؟ کیونکہ آپ دروازے بجاتے رہنا چاہتے ہیں جب تک کھلتا نہیں۔کیا یہ ہراسمنٹ ابھی بھی نہیں لگی آپ کو۔کیا یہ حرکت آپ اس عورت کے گھر جا کر بھی کرنا پسند کریں گے جہاں آپ کی ٹانگیں بازو ٹوٹ جانے کا عظیم خدشہ موجود ہے؟ نہیں! تو پھر آپ جانتے ہیں کہ یہ ہراسمنٹ ہے۔

میں اپنی پروفائل پر اپنی تصویر لگاتی ہوں چونکہ میرا چہرہ میری پہچان ہے. مجھے دنیا جہان کے ہر شناختی کارڈ پر اس کی تصویر لگانی پڑتی ہے تو پھر فیس بک پر کیوں نہیں۔میری فیس بک میں بظاہر بہت سے اعلی تعلیم یافتہ اعلی عہدوں پر فائز لوگ موجود ہیں۔مگر ان کی قابلیت اکثر یہ میسنجر ہی آشکار کرتا ہے۔کیا میرا ڈیپی پر تصویر لگانا صرف مردوں کو متوجہ کرنے کی کوشش ہے؟ کیا دنیا کی ہر عورت صرف مرد کی توجہ کی خاطر ڈیپی لگاتی ہے؟،اپنی پہچان اپنے وجود کے احساس کے لئے نہیں؟میں جانتی ہوں یہ ایک مشکل سے سمجھ میں آنے والی بات ہے خصوصاً ہمارے معاشرے میں جہاں ابھی کچھ سال پہلے اس قدر آزادی میسر آئی ہے عوام کو سوشل میڈیا کے ذریعے کہ ابھی کوئ بھی اس کے ضابطے اور اخلاقیات طے کرنے کا قائل نہیں۔یہ فرض کر لیا گیا ہے سوشل میڈیا پر دنیا کی کوئ بھی کردار،اخلاق اور تہذیب کا کوئ وجود نہیں۔ایک ایسے معاشرے میں جہاں سڑک پر اکیلی چلتی عورت بھی ایک عجوبہ تھی ہزاروں لاکھوں عورتوں تک آسان رسائی ایک عقل وشعور مجروع کر دینے والا عمل ہے۔محض ایک تصویر ڈیپی پر لگے تو کتنے ہی مہذب لوگ بہت ہی تمیز سے تھالی میں رکھ کر ماشاءاللہ پیش کرنے آتے ہیں بشرطیکہ عورت اپنے آپ میں رہتی ہو،زرا سی گفتگو میں بے نیاز ہو تو وہاں پر دلوں کے اور آنکھوں کے ڈھیر انڈیل دئیے جاتے ہیں اور اسے عین مذہبی فریضہ سمجھ کر کیا جاتا ہے۔۔کیوں؟اگر میں آپ کے ماشاءاللہ کو لایک کروں، آپ کا شکریہ ادا کروں تو چلیں ٹھیک ہے آپ دوبارہ بھی کہیے لیکن اگر میں آپ کے کمنٹ کو پسند نہ کروں،نظر انداز کروں یا ڈیلیٹ کر دوں تو دوبارہ ہماری تصاویر کے قریب مت آئیے۔یہ ہمارے لئے زحمت کا باعث ہے اور ہراسمنٹ ہے۔آپ کا یہ رویہ مجھے دوسری بار تصویر لگانے سے روکے گا جو میرا حق ہے!دنیا کی ہر عورت مرد کو متوجہ کرنے کی کوشش میں جتی ہے یہ سمجھنا ہی اس ساری ہراسمنٹ کی جڑ ہے۔ہزاروں عورتیں صرف اسی لئے تصویر نہیں لگا پاتیں کہ ہزاروں لوگ آس پاس ماشاءاللہ سبحان اللہ کا ورد لئے حاضر ہو جائیں گے۔پیسے نچھاور کرنے والوں اور ماشاءاللہ کہنے والوں میں کتنے انچ کا فرق ہے؟ صرف طریقے کا! کہ دنیا کی ہر عورت کو صرف تماش بین کے طور پر دیکھنا بذات خود ایک ہراسمنٹ ہے جو ہر اس عورت کو تکلیف سے دوچار کرتی ہے جو تماشا نہیں۔یہ رویہ اس مرد کی تذلیل ہے جسے خدا نے دنیا میں بہت اونچا مرتبہ دے کر بھیجا اور اس عورت کی بھی جیسے خدا نے بہت بڑا کام دے کر بھیجا۔

سوشل میڈیا بہت ارزاں ہو چکا۔ چند ہزار کا موبائل اور ہر وقت کی فیس بک،انسٹا اور ٹویٹر آپ کے ہاتھ میں۔اب عورت کے پیچھے اس کی گلی میں نہیں جانا پڑتا بس فیس بک کھولنی پڑتی ہے۔مہذب رویوں اور ہراسمنٹ میں یہی کوئ بالشت بھر کا فرق ہے اور وہ ہے نیت کا۔اپنی اور دوسرے کی حد پہچاننے کا۔آپ کی حد وہاں سے ختم ہو جاتی ہے جہاں سے دوسرے کی شروع ہوتی ہے پھر چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔تمیز ،تہذیب اور اخلاق کا برتاو ہر دو کا حق ہے پھر چاہے وہ سوشل میڈیا ہو،بازار ہو کہ دفتر۔اب وقت ہے کہ معاشرے کو سوشل میڈیا مینرز سکھائے جائیں۔انہیں بتایا جائے کہ سوشل میڈیا پر بھی اپنا کردار ساتھ لایا جاتا ہے۔انہیں سمجھایا جائے کہ جس طرح سے آپ ہر کسی کے گھر پر فون نہیں ملا سکتے اسی طرح ہر کسی کو غیر ضروری میسج کرنا ایک بد تہذیب حرکت ہے ۔اگر آپ گلی سے گزرتی ہر عورت کو سلام نہیں کرتے تو ہر عورت کو فرینڈ ریکوئسٹ بھی کیوں بھیجتے ہیں۔ہاں اگر آپ گلی کی ہر عورت کو بھی سلام کرتے ہیں تو آپکا کیس سنجیدہ نوعیت کا ہے۔۔مہذب رویہ یہ ہے کہ آپ بغیر کسی ضرورت یا قریبی دوستی اور رشتہ داری کے کسی کے میسنجر کے قریب مت پھٹکیں۔یہ قریبی احباب کی جگہ ہے۔اگر آپ کسی کے دوستوں کی فہرست میں شامل ہیں تو فیس بک کی وال ایک پبلک ایریا ہے۔وہاں پر ہر بات ساری دنیا کے سامنے کی جاتی ہے۔وال پر بات کرنے کی جرات کریں۔اور جو بات آپ وال پر نہیں کر سکتے وہ لیکر میسنجر میں گئے اور دوسرا فرد بات میں گریزاں ہے تو آپ ہراساں کر رہے ہیں۔ چاہے وہ گڈ مارننگ کا میسج ہے یا کچھ اور۔اور اگر کسی کی پروفائل پرائیویسی پر ہو تو اسے بار بار میسج بھیجنا تو ایک واضح ہراسمنٹ ہے۔فیس بک مینرز یہ بھی ہیں کہ ہر ذاتی چیز اور تصاویر فیس بک پر نہ لگائ جائیں اور یہ بھی کہ ہر کسی کی تصاویر پر کمنٹ کرنا اور دل دینا آپ کا اخلاقی فریضہ نہیں۔وہی معاشرہ جس میں آپ عورت اور مرد کو جدا بٹھانا چاہتے ہیں ان کو سوشل میڈیا پر بھی پرے رہنے دیا جائے۔اصل ذندگی میں عورت کو محدود کر دینے والا معاشرہ سوشل میڈیا پر ہر عورت کو آزاد اور قابل رسائی کیوں دیکھنا چاہتا ہے؟

دوسرے افراد چاہے وہ مرد ہوں یا عورتیں انکو دی گئی عزت لوٹ کر آپ تک واپس ضرور آتی ہے۔ان کی رائے اور رضا کا احترام کریں۔رضا کا مذاق بنا کر افراد کے حقوق مت سلب کریں! انسانوں کو ان کی جنس سے پہلے انسان فرض کر لیا جائے تو شاید ہراسمنٹ کی حد سمجھ میں آنے ہی لگ جائے۔

Advertisements