کتھا اپ کتھا______تہمینہ مفتی

مترجم :سدرت المنتہی’
——————

اس کتها کی شروعات کہاں سے کروں
اپنے بچپن سے یا پهر جوانی کے چڑهتے ہوئے دور سے..
کسی طرح چاہتی ہوں کہ یہ کہانی ہمیشہ کے لئے کہیں بے نام ہی نہ رہ جائے.
کسی طرح اس کہانی کو الفاظ کی سند حاصل ہو، کہ یہ کہانی ناکہ مجهہ سے بڑی حد تک کہیں آپ سے بهی جڑی ہوئی ہوگی..
آپ سب بے..
کہانی شروع ہوتی ہے اک گم شدہ شخص سے
جسے گم ہوئے ایک عرصہ بیت گیا
اور اس کا نام اب Missing person کی فہرست میں بهی شاید موجود نہ ہو
حالانکہ وہ موجود نہیں ہے
تب بهی..
دل کہیں کہتا ہے
یا پهر یہ سارے منظر ،بام کی چہارسو پهیلی ہوئئ شاخیں،گل یاسمین کے گچهے،اور جام شورو کی طرف جاتی ہوئی پتهریلی روش،
فیکلٹی کے کاریڈور یہاں تک کہ در و دیوار پر بهی کہیں غائبانہ اس کے نقش موجود ہیں
جو اس کی پس منظر میں موجودگی کے گواہ بن گئے ہیں
اور آج بهی جب میں نے ڈائری کا پہلا صفحہ کهولا ہے
تو اسے کچهہ اس طرح مخاطب کرتی ہوں
یہ منظر یہ دیواریں..آج بهی مجهہ سے تمہارے متعلق سوال کرتے ہیں
اور جب میں ان کہ سامنے بے جواب رہ جاتی ہوں تو جی چاہتا ہے ان کی نظر سے اپنے چہرے کو ہاتهوں کی اوٹ میں چهپالوں
یا پهر کسی اور منظر میں کهوجائوں..
مگر بارہا اس کوشش میں ناکام گئی ہوں
کبهی تو مجهے یہاں تک محسوس ہوتا ہے کہ تم میرے ہی کہیں آس پاس موجود ہو..یا پهر ان ہوائوں کی ہل چل میں..جب تمہاری خوشبو کہیں دور سے اڑالاتی ہے..
اور کبهی سیڑهیاں اترتے اچانک ہی میرے دوپٹے کا کونا پکڑتے..چهیڑتے ہوئے. وہی کوئی خوبصورت سا جملہ پهینک دیتے ہو
یا پهر شب کے کسی لمحے میں جب دروازے پر دستک پڑتی ہے اور کهولنے جاتی ہوں تو تم نہیں ہوتے..لگتا ہے جیسے دستک دیکر چهپ جاتے ہو.
کهوجاتے ہو
تب میں مایوس اپنے بستر پر دراز ہوتے ہوئے سوچتی ہوں کہ تمہارے بعد..
میرے کتنے واہمے
..میرے ساتهہ رہنے لگے ہیں
نیندیں روٹهہ جاتی ہیں
اشک بہہ نکلتے ہیں

سنسان کنارے پر خالی کشتی دیکهتی ہوں تو ان بنجاروں کے کرب کا احساس گهیر لیتا ہے
جو پتوار کے چهوٹنے کے بعد کنارے تک پہنچنے کے لئے ایک دوہری مشکت کاٹتے ہیں
دور دیس کی مشکلوں میں پستے ہوئے.
جب واپس لوٹتے ہیں تو چند دن کے وصال کے بعد پهر سے انہیں دور دیسوں کی راہ لے لیتے ہیں
اور پهر ہجر کی راتیں ہمیشہ کی طرح دراز ہوجاتی ہیں

مگر میں اور تم.
اور ہمارے بیچ کی جدائی تو ایک المیہ ہے
دیس میں ہوتے ہوئے بے پناہ
تنہا اور بیچارہ
ہو بهی کہ نہیں..
تمہارا وجود کہیں جیل کی کٹهنائیوں کے اندر ہی پستا ہوگا
مجهہ سے پوچهو..تمہارا کرب میں نے خود پر محسوس کیا اور جهیلا ہے
ہم.آج تک اسی یکجائی اور یکجہتی کی تلاش میں بے وطن سے رہ جاتے ہیں
جنہیں نہ آسماں اپنا نہیں..بس ایک سرزمین کی اپنائیت کا احساس ہی جس نے زندہ رکها ہے مگر یہ بے یقینی..یہ بے چارگی..
یہ بے وطنی..
جس نے سرزمین کے یقین کا حسن کیوں چهین لئیا ہے
ہم بٹتے گئے ہیں..
ہم.بٹتے جارہے ہیں..
وہی ہجر ہمارا دائعمی مقدر ہی کیوں بنتا جارہا ہے
مجهے تو آج بهی وہ سرمئی شام یاد ہے حسن
جب ہم کولیگ ہوتے تهے
جب ہم ایک دوسرے کے ہمراہ ایک ہی روش پر چلتے جاتے..
راستے کتنے سہل تهے.
یقین کتنا گہرا تها راستوں کا
سب کچهہ تو پہنچ میں ہی تها
تم سن سے منفرد تهے
کولیگ سے استاد ہونے کے سفر تک تمہارے سیاسی سماجی خیالات سب سے منفرد اور مستحکم تهے
تم.لوگوں کی آنکهوں میں تب بهی کانٹے کی طرح چبهتے تهے
وہ شام.جب اپنے ویچار بانٹتے ہوئے تم نے میرے لئیے چائے بنائی تهی
اور جب اس کی تعریف میں میں نے تمہاری ذہین آنکهوں میں جهانکتی فکر کو دیکهہ کر تمہیں روکا تها کہ سیاسی اور سماجی فکر میں اتنا بهی آگے مت جائو کہ اپنی ہستی کو پئچهے کہیں پیچهے چهوڑدو..
اور ساتهہ میں بهی کہیں بے نام نہ رہ جائوں..
کہہ تو نہیں پائی سوچتی رہ گئی
تم نے میرئ سوچ اور فکر کو محسوس کیا تو مسکرادئیے یہ کہہ کر آج سجنی کہ چہرے کی مسکراہٹ کہاں رہ گئی ہے یہ تو بتائو
میں تمہاری خاطر مسکرادی تهی
اور تمہارے چہرے پر اطمینان لوٹ آیا تها
ہم سندهہ کے مسائل سے بات کرتے ہوئے خود تک آگئے تهے
تم یہ بتاتے ہوئے کتنے ملول تهے کہ گهر والے ایک پڑهی لکهی بہو لانے سے گهبراتے ہیں
یہ بهی ہے کہ اپنے خاندان سے باہر جانا روایت کے خلاف ہے
وہی روایتیں زندہ تهیں..
کچهہ دیر پہلے سندهہ کے زخم.اب اپنی روایتوں کے ناسور زخمی کررہے تهے
تم نے گهر والوں کو راضی کرنے کی ٹهان لی تهی
اور میں نے خود کو مقدر کے حوالے کردیا تها
دل تو تب بهی اداس ہی رہتا تها
یونیورسٹی کی کلاسز کے بعد وہی کلاسز جہاں میں اب استاد کے طور پر پڑهاتی تهی
گهر اور جاب.ساتهہ خواب
سب مکمل تها
پهر بهی کسی کے کهوجانے کا ڈر ساتهہ رہنے لگا تها
اور وہ دن جب تم گائوں جارہے تهے اور میں اسٹیشن تمہیں چهوڑنے آئی تهی
تم نے ہمارے ہجر کے خاتمے کی کوشش پهر سے کرنی تهی
میں نے تمہاری اداس مسکراہٹ کو دیکهتے ہاتهہ تهاما تها..محبت سے اور ایک تسلی دی تهی
اور تم دروازے پر کهڑے تهے ریل کے پائیدان پر..تب تک دیکهتے رہے تهے جب تک میں نظر سے اوجهل نہ ہوگئی تهی
تمہاری اداسی دیکهہ کر میں ملول تهی
گهرآکر بهی تمہارا خیال تها
جو میرے ساتهہ تها
تم نے جاتے ہوئے کہا تها میں وہ تبدیلی اپنے خاندان میں لانا چاہتا ہوں جس پر روایتوں کے گهن نے معاشرے کی جڑیں کهوکهلی کردی ہیں
تم نے wisdomعلم کی روشنی لانے کے خواب سجائے تهے
اور میں نے تمہارے..
تم نے سندهو کی ہریالی اور دریا کی موجوں کے خواب بهی دیکهے اور میں نے تمہارے.
میں کیا کہتی کہ شہر اور دیہی علاقے ،میٹرو پولیٹین اور انٹیرئیر سندهہ کے تضاد نے ہمیں ختم.ہی تو کرڈالا ہے
وہ شہر جہاں میرا وقت اور وہ گائوں جہاں تمہاری حیاتی گزری تهی
تم.جو گائوں کی سرحدوں کے پہرے دار بهی رہ چکے تهے
تم جو گوٹهہ کے علمی گهرانے کو اجاگر کرنے گئے تهے
تم..جو اپنی نسلوں سے لیکر ایک امن کا الم لیکر چلے تهے.
تم ..جس نے کندهوں پر شہیدوں کی لاشیں بهی اٹهائیں تهیں..
مجهے پتہ تها آئے دن تمہارے گائوں جس کی حدیں بارڈر پار لگتی ہیں گوٹهہ کے کئی افراد اٹهالئیے جاتے ہیں ملک دشمن عناصر سمجهہ کر اور بهاری رقم لینے کے بعد بهی کبهی سالم تو کبهی آدهے ختم افراد لوٹائے جاتے ہیں جو تهکے ہوئے..مار کهاکهاکر ادهہ مئے ہوچکے ہوتے ہیں..
تم پر ہجر سمیت قومیت کا بار تها
میں تمہارا بار گهٹانا چاہتی تهی
تمہارے کندهے جوانی میں جهکتے جارہے تهے
میری آنکهیں نمی سے پر تهیں..
مجهے تو بچپن کا وہ وقت جو یاد نہیں جو بابا بتاتے تهے کہ بے راہ ہوکر گائوں چهوڑنا پڑا تها
کائنات کی وسعتیں گواہ تهیں
آج بهی میرے شعور کا صحن بهرپور ہے بابا کی باتوں اور گئی یادوں سے
ایک ان کے دئیے گئے تحفظ نے ذندگی بخشی تهی
فلسفیوں اور مفکروں کے دیس کی کیا حالت تهی کہ ہم.ابهی تک اس کٹهنائی سے نہ نکل سکے

تم.نے کبهی پرندوں کے خالی گهر دیکهے تهے؟
ویرانی نے جہاں ڈیرے ڈال رکهے تهے
پهر
..وہی جدائی..
اور اب تم..اور ساری امیدیں جو تم سے وابستہ تهیں..

حسن..تمہیں یاد ہونہ ہو..تم تو مسنگ پرسن کی لسٹ سے بهی خارج ہونے لگے..
تمہارا درد آنکهیں چور کرتا ہے
مگر تمہاری آخری مسکراہٹ جب تم گهر والوں کو مناکر آئے تهے
کیسے چہکتے تهے..کتنے خوش تهے
اور میں بهی..جسے پر لگے تهے
خوشی نے دستک دی تهی اور تمہاری مسکراہٹ کهیل رہی تهی
اور

تمہارا جوش و خروش بڑهتا جارہا تها
تم.میرے لئے اپنے ہاتهوں سے چائے بنالائے تهے
اور ہم قسمتوں پر بات کرتے ہوئے کهوگئے تهےت
معاشرے کی کٹهنائیاں پار کر بهی آئے تو ایک نہ ختم.ہونے والی پل صراط نے راہ دیکهہ لی..تهی
میرے حسن..
مجهے سب یاد ہے
دیکهو میں آج بهی یہیں کهڑی ہوں
اور اسی جگہ وہ

.تمہیں تو زبردستی ہی اٹهالیا گیا تها کہ تمہاری واپسی کا کوئی امکان ہی باقی نہ رہا
یاد ہے وہ وقت..
میں کتنی کہانیاں دہرائوں..
جب ہم کولیگ ہوا کرتے تهے
یا پهر جب ہم کولیگ سے دوست بنے
ایک دوسرے کے قریب آگئے
دلی طور پر ایک بن گئے تهے
یا پهر وہ وقت ..جب تم گهر والوں کو ہماری شادی کے لئیے منانے گئے تهے
اور پهر تم کامیاب ہوکر لوٹے تهے
یا پهر وہ وقت.
وہ لمحہ…
جب… ہم ہمیشہ ملنے لے لئے ملے تهے
اگلے روز ہمارا نکاح تها
تم پریشان آنکهوں سمیت مجهے دیکهنے کے لئیے آئے تهے
مجهے حیرت تهی..
ایک روز کا انتظار کیوں نہ ہوسکا تم سے.
میں تمہاری بے چینی پر مسکرادی تهی
اور تم نے میرا ہاتهہ تهام کر وہ تمام باتیں کہہ دیں حسن..
وہ محبت سے لیکر انسانی فلسفے تک
حد سے لا حد تک
سندهہ کی غربت اور بے روزگاری پر
معاشی حالات پر
دہشت گردی کے گهنائونے کهیل پر
سندهہ کی تاریخ کے اوراق پلٹے تهے
جب سندهو پر پانی کا بہائو روک دیا گیا

اور تم نے کیا کچهہ نہ بتایا تها..
کس قدر فکرمند تهے
سیاسی ڈهانچے اور اقتدار کی ہوس کا شکار ہوتے ہوئے لوگوں کی انتہائیں
اور اس ہوس کی بهینٹ چڑهتے ہوئے مظلوموں کی روداد ..
تم کس قدر خائف تهے
کس قدر مایوس اور افسردہ بهی
کتنی باتیں کرتے ہوئے جب تم فکر مند ہوئے تو میں نے بات بدلی
بات تمہارے بچپن کی آگئی
اور تم کچهہ دیر بعد تهوڑے مطمئن ہوکر پرانی یادوں میں کهوگئے تهے
بچپن کی یادیں بهی..
تم اپنے بچپن کی باتیں کرتے رہے جب تم حویلی میں مقیم تهے
جب سردیوں کی لمبی راتوں میں چهپن چهپائی کهیلتے ہوئے دادی ما کی گود میں جا چهپتے تهے
جب ٹهنڈ سے بچائو کے لئیے انگیٹهی کے پاس قطار لگائے ہوئے بیٹهے سب گهر والوں کے ساتهہ ہاتهہ سینکتے ہوئے سردی بهگاتے پرانی کہانیاں سننے کا رواج دہراتے ہوئے کس قدر خوابیدہ دنیا کے باسی تهے.
میں اس روز صرف اور صرف تمہیں سنتی رہی تهی
میرے لئیے اور کچهہ اہم نہ تها حسن سوائے تمہارے
اور تمہاری باتوں کے
ہمارے مکمل ملن میں بس ایک ہی تو دن تها
میں اس روز کتنی خوش تهی
یہ تمہیں بهی پتہ تها
مجهے بهی
مگر تمہاری آنکهوں کی پریشانیوں میں اب تک کوئی کمی کیوں نہ تهی
اب تک کوئی واہمہ ہمارے ساتهہ کهڑا تها
ابهی تک ہم بے امان سے تهے
اب تک ہجر مکمل طور پر گیا نہیں تها
تم تاروں بهری رات میں میرے گهر سے گئے تهے
تمہیں اپنے ہاسٹل پہنچنے پر مجهے خیریت کی اطلاع دینی تهی
مجهے انتظار تها
اور پهر اس رات کے بعد تمہاری کوئی اطلاع نہ آسکی
رات بیچ میں سادہ لباس میں ملبوس تمہیں اٹهالئیا گیا تها
یہ وہی رات تهی نا جب شہر میں فئیر پلی fair play کا گیم کهیلا گیا تها
اور اس کهیل کا پلاٹ ناٹک پر نہیں..دهوکے پر مشتمل تها
اس کهیل کی تهیم تیار کی گئی تهی
سب جانتے تهے
وہ کهیل جو ہمارے سپنوں کا قاتل تها
شہر باسیوں کے خوابوں کو پهندہ لگایا گیا تها
آج تک وہ پهندہ ہمارے گلے کے سامنے لٹکا ہوا ہے
آج بهی تمہیں بتائوں سرحدوں کے پاس سے لوگ اٹهالئیے جاتے ہیں
جو پهر بهاری جرمانے کی ادائیگی پر لوٹائے تب جاتے ہیں جب انکی ہمتیں سولی چڑهہ چکی ہوتی ہیں
تم پر بهی جو الزام عائد تها
دیش دروہی کا..دیشی کی دشمنی کا عداوت کا
تمہارا قصور صرف اتنا تها کہ اپنی نسلوں کے تحفظ کے لئیے تمہارا نظرئیہ الگ تها
تمہاری لیبارٹری سے جو مواد ان کو ملا تها اس سے انہوں نے تمہاری دیس دشمنی کے آثار اپنی سوچ سے بهانپ لئے تهے
انہوں نے دیس کی سرزمین پاک کرنے کے لئے تمہیں راتوں رات اٹهالئیا گیا تها
اور پهر تمہاری واپسی کی کوششیں مجهہ سمیت تمہارے دوست تمہارے گهر والوں کی ان تهک کوشش بهی کارآمد نہ ہوسکی..
تم مسنگ پرسن کا حوالہ لئیے ہم سب کی آنکهوں سے آج تک اوجهل ہو..
تمہاری زندگی اور موت کا یقین بهی بے جان ہے
کوئی اشارہ نہیں..کہ تمہیں کس زندگی کے پردے یا پهر امید کے بلبوتے پر رکها جائے
تم نے کہا تها اک روز کی موت بهی ایک امان ہے
زندگی سے موت ایک رستہ ہے
رستہ امن سے بدلا جائے تو انسان کا نام بہال رہتا ہے..
تمہارے بعد تو کچهہ نہ رہا..
تمہاری کسی نسل کا کوئی نام و نشان..کوئی تعلق..
کوئی حوالہ..
بس رہ گیا احساس اور تمہاری یاد
تمہاری آواز جو اب تک میرے کانوں میں گونجتی کبهی کبهار
اور نگاہیں اب تک چوکهٹ کے پار تمہاری پرچهائیوں کو ڈهونڈتی ہیں
تم نے کہا تها فنا کے اندر ان کی بقاء ہے جو زندگی اور موت کے فلسفے کو جان لیتے ہیں
میرے پاس کچهہ نہیں جس کے سہارے میں جیوں.
نہ تمہاری لیبارٹری رہی ہے
نہ ہاسٹل کے روم میں تمہارا بستر تکیہ..الماری..
کچهہ بهی نہیں
میرے سامنے اب تک چائے کے دو خالی کپ پڑے ہیں
میں آج تک تمہارے حصے کی چائے بهی خود ہی پی لیتی ہوں
اور تمام رات تمہیں یاد کرتے ہوئے جب تهکن گهیر لیتی ہے تو سوجاتی ہوں
مگر سوچو حسن مجهے تمہارے ہجر نے ہلکان کردیا ہے
میرے لئیے کوئی اور حسن بن کر نہ ہی آئے
مگر سوچتی ہوں دهرتی کو تو ایک جیالا درکار ہی تها
جس کے بغیر ساری دهرتی اماوس کی رات بنتی جارہی ہے
اور اس کی سرحدوں سے بهی مسنگ پرسن کا نام حقوق اور شواہد زمین کی تمام ہوتی تبدیلوں کے ساتهہ تہہ در تہہ دبتے چلے گئے ہیں
اور رات کی آندهی میں آج بهی بے نام و نشان ریت اڑتی ہے
تو تمہارا نام ہوا کردیتی ہے.
دهرتی پر اندهیارے کهیلتے ہیں مگرجب
تاروں میں کہیں ایک تارہ مجهے تمہارے نام کا نظر آتا ہے
جو سب سے نمایاں چمکتا ہے
اس وقت دهرتی سے اڑتی ہوائیں تمہیں ہوائی بوسہ دیتے ہوئے مسکراتی ہونگی
اور میں…
مسنگ پرسن کی یاد کا ایک حوالہ بنتی جارہی ہوں.

_____________________

فوٹوگرافی:ثوبیہ امبر

کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

Advertisements