مجھے علم تھا ———————رابعہ بصری

وہ جو شہد رنگ سی آنکھ تھی تمھیں یاد ہے، یا بھلا دیا

وہ پرانے عہد کا دور اب بھی سلگتا ہے ، یا بُجھا دیا ؟

وہ جو خواب تھا جسے دیکھ کر میں تمام شب نہیں سو سکی

وہ جو گِیت تھا جِسے لکھ کے بھی نہیں زاوئیے میں پِرو سکی

جو بھری بہار میں گِرگئے سبھی پھول تھے مری شال سے

تری بددعا کے طفیل سے ، تری بے رخی کے کمال سے

تری ذات کی وہ جو تہمتیں تھِیں جو چُھو کے مجھ سے لپٹ گئیں

مری ذات کی وہ جو وحشتیں تِھیں جو تیرے ہاتھ سے کٹ گئیں

ترے ہِجر کی سبھی سختیاں جو بِلا جواز تھیں ، کاٹ لِیں

مجھے اپنے ضبط پہ مان تھا کہ اذیتیں تری بانٹ لِیں

مجھے علم تھا تری بزم میں سبھی لکھنے والے بٙلا کے تھے

مجھے علم تھا مرے ٹُوٹے پُھوٹے حروف تھے سو جلا دئیے

__________________

کلام:رابعہ بصری

فوٹوگرافی:عرفان زاہد

کور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

Advertisements