آزادی کا مستقبل________ماہ وش طالب

جنوں سے اور عشق سے ملتی ہے آزادی
قربانی کی بانہوں میں ملتی ہے آزادی
اور یہی وہ جنون اور جذبہ تھا جس کی بدولت آج ہم ایک آزاد اسلامی مملکت میں رہ رہے ہیں… اپنی آنے والی نسلوں کو نفرت اور ہجر کے کرب سے بچانے کے لیے ہمارے آباء نے جدائی کی جو تکالیف برداشت کیں , جان تو جان اپنی آنے والی بہنوں ماؤں اور بیٹیوں کو محفوظ مستقبل دینے لئے اپنی عزت و عصمت کو جس طرح داؤ پر لگایا, تاریخ کے اوراق ایسی مثالوں سے خالی ملتے ہیں…
یہ جو آزادی کے نغمے گائے گئے ہیں.. قتل و غارت گری کے جو نوحے پڑھے گئے ہیں یہ کسی بوڑھے کی لوک کہانی نہیں ہیں یہ سرگزشت ہے …یہ خود بیتی ہے… جسے لفظوں کے پیراہن میں لپیٹ کر کاغذ پہ اس لئے لٹایا گیا, آواز کے بَل پر سُروں میں اس لئے بکھیرا گیا کہ آنے والی نسلیں… اس آزادی کی قدر کریں.. اس کوپلیٹ میں سجا کیک پیس نہ سمجھیں… پاکستان کا وجود میں آنا چٹکیوں کا کھیل نہیں تھا یہ قائد کی برسوں کی جدوجہد کا ثمر ہے… ایک پاک سر زمین پر آزادی سے سانس لینا کسی دیوانے کا خواب نہیں تھا , بلکہ یہ اقبال کے سچے جذبوں اور دیرینہ خواب کا نتیجہ ہے…
توپھر اب دیکھنایہ ہے کہ ہم نے اس آزادی سے کیا فائدہ حاصل کیا.. ہم نے کس حد تک اپنے اسلاف کی قربانیوں اور تعلیمات سے سیکھا…??
کیا ہم اس آزادی کے حصول کا اصل مقصد سمجھ چکے ہیں یا اب تک ہماری ڈوریاں غیر مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہی ہیں…
اور اس کا جواب میں اور آپ بخوبی جانتے ہیں…میری بات کی گہرائی بھی آپ خوب سمجھتے ہیں.. مگر کیا ہے کہ سمجھ کر بھی ناسمجھی سے کام لینا تو ہمارہ شیوہ بن چکا ہے… جو عقلمندانہ ہرگز نہیں…
یہ آزادی جو نئ پود کے لیے تھالی میں رکھے پھل سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی… اسے حاصل کئے ابھی صدیاں تو نہیں گزریں..کہ ہم خود کو مستحکم قوم سمجھ کر اصول و قوانین سے ذرا دیر کو منہ موڑ بھی لیں تو گزارا ہوجائے گا…
بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ سمندر میں ڈوبتی ناؤ کی مانند یہ آزادی بھی جو ابھی ٹھہری ہوئی ہے… تو اس کی بقاء کا سبب وہ بنیاد ہے جس کے سینے پہ چڑھ کر ہم نے پاکستان حاصل کیا.. یعنی لِا اِلہٰ اِلاَ للّٰہ..
لیکن اب یہ بھی تو غور کرنا ہے کہ اس آزادی کا مستقبل کیا ہے…??
اور اس نکتے پر غور کون کرے گا ہم یا باطل و بیرونی قوتیں…?? ذرا سوچیں گر تو ایک لمحے کے لیے دل دہل جائے
وہ پاک وطن جس کے کونے کونے میں ابھی تک پوری بجلی نہیں پہنچی , جس کے گھر گھر میں پینے کا صاف پانی تاحال میسّر نہیں ہوسکا..
جہاں بھوک اور افلاس اب تک کالی بلّی کی طرح نوجوانوں کی ہمت کا راستہ روکے بیٹھی ہے… وہ سر زمین پوری طرح آراستہ ہونے سے پہلے ہی کیا ہم غیروں کو تھمادیں… اللہ پاک وہ وقت کبھی نہ لائے …
لیکن اللہ بھی تو کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا, جب تک خود اسے اپنی حالتِ زار بدلنے کا احساس نہ ہو…
تو پھر دیکھیے اپنے آپ کو ! آج ہم کہاں کھڑے ہیں.. بجلی پانی ,تعلیم صحت,انصاف روزگار کے مسائل … یہ سب کسی ناگ کی طرح ہماری قوم کو ڈستے ہیں… عزت کا تحفظ, جان کی امان, روٹی کپڑا اور مکان… یہ سب سہولتیں بلکہ یہ سب ایک شہری کے بنیادی حقوق ہیں جو آج اکہتر برس گزر جانے کے بعد بھی اس کی دسترس سے دور ہیں …
یہاں قصوروار کون ہے… ہم? یا ہمارے اوپر مسلط حکمران…?
ذرا ایمانداری سے سوچئے گا… اپنے گریبان میں جھانکئیے آپ کو خود ہی جواب مل جائے گا…
بالکل صحییح سمجھے… تالی تو ہمیشہ دو ہاتھوں سے ہی بجتی ہے…کسی کے مال پر یا عزت پر ڈاکہ ڈالنا ہو تو .. کوئی وزیر تو آپ کے خواب میں آکر ایسا کرنے کو نہیں کہتا.. کسی کی بہو بیٹی پر بہتان باندھنے کا مشورہ آپ کو جناب صدر تو نہیں دیتے…سڑک پر بد نظمی پھیلانے کا حکم ایک گاڑی بان کو کون دیتا ہے… خوانچہ اور سبزی فروش کو ناپ تول میں کمی کرنے کی درخواست کس صوبے کی حکومت کی طرف سے جاری ہوتی ہے…??
یہ تو ہمارے اپنے اعمال ہیں جو ہم بڑے فخر سے دہراتے رہتے ہیں..
یہ انفرادی طور پر کی گئ غلطیاں ہیں جو آگے جاکر معاشرے کو مجموعی طور پر گنداکردیتی ہیں.. اور جو سب کے ساتھ ساتھ ایک شریف النفس انسان کا بھی جینا محال کردیتی ہیں.. کہ ہمارے کئے گئے کارناموں سے ہمارے اطراف میں موجود گنتی کے ہی سہی مگر کچھ مہذب افراد تو متاثر ہوتے ہی ہیں..
ان غلطیوں, ان بد تہذیبیوں کو کون سدھارے گا… ?? ظاہر ہے ہم خود ہی.. اور کیسے…??
اگر ہم اپنی اس آزادی کا مستقبل ذرا دیر کو بیٹھ کر سوچیں تو یقیناً ایک جذبہ پیدا ہوگا… لیکن صرف زندہ تمنّا رکھنے والا ایک دل ِ مسلم ہی اس جذبے سے بیدار ہوسکتا ہے… باقی گونگے بہرے تو جو ہے جیسا ہے کی بنیاد پر زندگی گزار لیں گے… بلکہ زندگی ان کو گزارے گی…
جہاں تک بات ہے حکومت کی جو اپنی ذمہ داریاں بخوبی نہیں نبھارہی یقیناً وہ اس کے لیے جواب دہ ہے..
اور اس بار تو تبدیلی کے نعرے نے عملاً گونج کر سب دہشت گردوں اور رشوت خوروں کی سِٹّی گم کردی…
تو اب احتساب ہمیں بھی خود سے کرنا ہے اپنا اپنا .. جو مشکل ضرور ہے پر ناممکن نہیں..
پھر اس قوم کی ترقی میں رکاوٹ کی ایک دوسری بڑی وجہ ہمارے اندر کا احساسِ کمتری بھی ہے… ہم جسمانی و روحانی طور پر تو آزاد ہوئے ہیں مگر ہمارے ذہن ابھی تک انگریز کے غلام ہیں…
یہ جو احساسں کمتری کے خول میں خود کو قید کرکے ہم اپنی اپنی صلاحیتوں کو زنگ لگارہے ہیں.. اس سے نقصان صرف ہمارا نہیں.. یہ پاک سر زمین بھی اس سے متاثر ہورہی ہے..
اگر میں یہ کہوں کہ بغیر سوچے سمجھے کسی بھی انگریز یا غیر ملکی کی کسی بھی بات (خاص و عام ) کو آئیڈئلایز کرنا ایک پاکستانی نے اپنی عادت بنا لی ہے تو بے جا نہ ہوگا…
پھر یہ انگلش ونگلش کی چک پھیریوں نے بھی ہماری نوجوان نسل کو کہیں کا نہیں چھوڑا … خصوصاً متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا ایک بچہ جس کے محلے میں پنجابی بولی جاتی ہے گھر میں گلابی اردو اور اسکول میں ..زبردستی کی سکھائی گئ انگلش. اب نہ وہ ٹھیک سے انگریزی بول پارہا ہے نہ صحیح سے اردو گرائمر سمجھ سکتا ہے..
اگر کوئی انگریزی بولنا سیکھ بھی لے تو دوسرے اسکی یوں غلطیاں نکلتے ہیں کہ اگلی بار وہ توبہ کرلے… اور اتنا خیال تو انگریز بھی اپنی زبان کا نہ رکھتے ہوں جتنی فکر ہمیں اس زبان کے بگڑ جانے کی ہے….
بھئ انگلش ضرور بولیں مگر اپنی قومی زبان سے نفرت نہ کریں.. کہ یہی وہ زبان ہے جس نے دنیا کے نقشے پر بحیثیت زندہ قوم آپ کو ایک الگ شناخت دی..
تاہم اپنے نوجوانوں کا پیٹ یہ گورے ہر طرح کے آرام و آسائش اور اعتماد سے بھر رہے ہیں…
پھر ہندوستانی رسم و رواج,اداکاروں اور ماحول کا بھی ہم پر گہرا اثر ہے…
خیر اس موضوع کو تو الگ سے زیرِ بحث لایا جاسکتا ہے…یہاں تذکرے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اپنی طاقت پہچانو.. ہر باشعور انسان(پاکستانی) اس فقرے کی اہمیت کو سمجھتا ہے اور وہ پُر اعتماد زندگی جیتے ہوئے بلاشبہ ملک کی تعمیر و ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے..
پھر کسی بھی خاص و عام قومی تہوار پر یہ تکرار کہ دنیا چاند پر پہنچ گئ…اور ہم ابھی تک فلانے دکھ سے نہیں نکلے … یا … دنیا چاند پر پہنچ گئ اور ہم نےابھی تک ڈھمکانی چیز کا رونا نہیں ختم کیا اس بات کو دہرا دہرا کر ہم نے خود کو مزید Supress کر لیا ہے.. آخر کیوں.. ??مانا کہ نئ جہتوں کی تلاش کرنا اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے ہم پر بیک وقت فرض بھی ہے اور ہمارا حق بھی .. مگر یہ جو دنیا والے چاند پر پہنچے ہیں , ان سے کوئی کیوں نہیں پوچھتا کہ تم زمین پر بسنے والوں کو حقیر کیوں جانتے ہو,انسانی جان کی حیثیت تمہارے نزدیک ایک ڈالر سے بھی کم کیوں ہے کہ تم اپنے ایٹمی تجربات کا نشانہ بیٹھے بیٹھائے دنیا کے کسی بھی کونے پر باندھ لیتے ہو اور پھر اپنی کامیابی پر انسا نیت کے کسی بھی جذبے و احساس سے عاری ہو کر ہنستے ہو… فخر سے خبریں لگاتے ہو…
اپنے نیچ پن کو سپر پاور کہہ کر اہلِ زمین کو ڈراتے ہو.. اور کوئی تمہاری نقل کرے تو اسے امن کا دشمن کہہ کر ظلم ڈھاتے ہو.. امریکہ ,اسرائیل کیوں اپنی سمیت دوسری قوموں کی عورتوں کی عزت کی پرواہ بھی نہیں کرتے .. یہ نام نہاد تہزیب و ترقی یافتہ قومیں (خصوصاً امریکہ اور اہلِ یورپ) تو اپنے ہی Forefathers کی تعلیمات کو بھلا کر جنس کی تمیز تک ختم کرچکیں… اسلام کے احکامات پر سر تسلیم خم کرنا تو ابھی بہت دور کی بات ہے…
اسی طرح جب ہمارے ہاں تعلیم کا موضوع زیرِ بحث آتا ہے تو بھی ہم خود کو انڈر ایسٹیمیٹ کرتے ہیں..
یہ جو ہم موازنہ کرتے ہیں.. ان کے اور اپنے نظامِ تعلیم کا اور ان کے بچوں کی ذہنی صلاحیتوں کو کمال است کمال است کہہ کہہ کر اپنے بچوں کو ان جیسا بننے کی ترغیب دیتے ہیں تو ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ وہاں کا شہری یا ایک اٹھارہ سالہ نوجوان خاندانی فکروں سے آزاد ہے ,وہ معاشرے کے فرسودہ و جدید رسم و رواج کا پابند نہیں… اسے نہ گھر کہ فکر ہوتی ہے نہ فیملی کو سپورٹ کرنا ہوتا ہے
جبکہ ہمارے ہاں.. ایک امیر والدین کا بچہ تو یوں بھی ہر ٹینشن سے آزاد ہے کہ پیسے کی ریل پیل اس کی خوشحال معیارِ زندگی کی گاڑی رکنے نہیں دیتی…مگر زیادہ تر متوسط اور اس سے بھی زیادہ تعداد میں موجود اوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے خوانداہ افراد کے معمولات قابلِ رشک ہیں.. پاکستان میں تعلیم کبھی بھی سستی نہیں رہی اور اس کا حصول بھی کبھی آسان نہیں رہا… طرح طرح کے اخراجات اور مقابلہ بازی کے رجحانات کی وجہ سے ایک سفید پوش باپ (اور بہت سے کیسز میں ماں )کے دانتوں تلے پسینہ آجاتا ہے.. ایسے میں ایک خاندان میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کی تمنّا کرنے والے فرد کو اپنا خرچہ خود اٹھاناپڑتا ہے.. وہ پڑھتا بھی ہے جاب بھی کرتا ہے اور اپنی باقی فیملی کے اخراجات بھی ذمہ داری سے اٹھاتا ہے… مگر یہاں ہمت بڑھانے والی تھپکی کوئی نہیں دیتا..
پھر قابلِ فخر بات یہ ہے کہ بیرونِ ملک کی طرح یہاں سہولیات نہ ہونے کے باوجود پاکستان کے ڈاکٹرز, انجینئرز, ٹیکنالوجسٹ ,وغیرہ دنیا بھر میں اپنا لوہا منوارہے ہیں..
تو پھر یہ ناشکری ,بے صبری اور جلد بازی کن کی پھیلائی ہوئی ہے…
ہمیں اپنے دین سے جڑ کر اپنی اصل تعلیمات ,تہذیب کے سانچے میں ڈھلی روایات اور انسانیت سے پراخلاقیات کو واپس لانا ہے تاکہ یہ ملک واقعی ایک اسلامی فلاحی ریاست بن کر دنیا کے نقشے پر تا قیامت چمکتا رہے…
ہم کسی سے کم نہیں…تبدیلی ہم سے ہے..اس پہلو پر سوچئے.. اگر ہم نے اپنے قبلے درست نہ کیے تو اس آزادی کا یعنی ہمارا مستقبل کیا ہوگا…
. اور پاک پروردگار وہ دن کبھی نہ لائے کہ اس آزادی کا مستقبل “پھر وہی غلامی ہو” ..

__________________

تحریر:ماہ وش طالب

فوٹوگرافی:فرحین خالد

Advertisements