شاعری کا عالمی دن_____________عظمی طور

آج شاعری کا عالمی دن ہے
اور میں اپنی نظمیں
گھر کے ایک کونے میں رکھ کر
نثر میں سر کھپا رہی ہوں
مجھے بتایا گیا ہے کہ اب شاعری کی مارکیٹ میں ذیادہ ویلیو نہیں ہے
ڈھائی سو کے قریب
اشک بھی کونے میں یونہی دھری ہیں
میں بھی کئی دن سے
نیند میں اترتی نظموں سے
نظریں چرا رہی ہوں
خیالوں کو شعروں میں ڈھال کر اپنے تئیں
شاعری کی وقعت بڑھا رہی ہوں
لاحاصل کے لا کو مٹانے میں لگی ہوں
اور نظموں کا حوصلہ بڑھانے سے گریزاں ہوں
یہ دنوں کو منانے والے کسی شاعر کی موت کے منتظر ہیں
“یوں بھی ہم المیے منانے والے عالمی دنوں کو تھوڑا ہی مناتے ہیں “
ہم تو پیدائش اور موت کی تواریخ جمع رکھتے ہیں
اور یاداشت کو شاباشی دیتے ہیں
میں امیدوں کے جال میں لپٹی شاعری سے معزرت خواہ ہوں ____ !!!
————————–
کلام:عظمیٰ طور

فوٹوگرافی:عرفان زاہد

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف