سکون کی تلاش————————-غضنفر کاظمی

میری اس سے ملاقات اتفاقیہ ہی ہوئی تھی،میں آفس سے گھر جانے کے لئے نکلا اور موٹر سائیکل دھیمی رفتار سے چلاتا چلا جارہا تھا اچانک میری نظر اس پر پڑی وہ بہت تھکے تھکے انداز میں پیدل چل رہا تھا ،میں سمجھا کہ وہ کہیں دورت سے پیدل چلتا آرہا ہے اور ہوسکتاہے کہ روزے سے بھی ہو لہذا اس کے پاس موٹر سائیکل روک کر اس کو بیٹھنے کی دعوت دیتے ہوئے پوچھا کہ اس کو کہاں جانا ہے؟ وہ چند لمحے میری طرف دیکھتا رہا پھر پیچھے بیٹھ گیا اور مجھے بند پار کچی آبادی میں چلنے کو کہا، اس کے بتاتے ہی میں نے موٹر سائیکل کا رخ بند کی جانب کردیا….

میں کافی دنوں سے اپنے اندر عجیب قسم کی بے چینی سے محسوس کررہا تھا ، میں نے بہت کوشش کی ، نماز میں دل لگایا، قرآن مجید کی تلاوت کی، بہت سے وظائف بھی کئے لیکن سکون قلب میسر نہ آسکا،بس وہ عجیب قسم کی بے چینی قلب و ذہن پر قابض رہی۔ اس وقت بھی جب میں اس اجنبی کو پیچھے بٹھائے اس کی منزل کی جانب رواں تھا میرے قلب و ذہن پر وہ عجیب سے بے چینی اور بے سکونی چھائی ہوئی تھی۔ بہرحال راستے میں اس سے باتیں کرنے لگا تو معلوم ہوا کہ و ہ ایک نجی ادارے میں معاون کے طور پر کام کررہا تھا اور اس کی ماہانہ آمدنی 7000 روپے تھی، اس نے کافی رد و قدح کے بعد یہ بھی بتایا کہ اس کی دو بیٹیاں ہیں انہوں نے آج افطاری لانے کی فرمائش کی تھی لیکن اس کے پاس پیسے نہیں تھے اس لئے وہ پیدل چل رہا تھا کہ عین افطاری کے وقت گھر پہنچے تاکہ بیٹیاں افطاری سے متعلق سوال نہ کرسکیں، یہ سن کر مجھے بہت دکھ ہوا اور میں نے موٹر سائکل واپس لکشمی کی جانب موڑ لی اور وہاں کر بٹ سویٹ سے سموسے خریدے، پھر رائل پارک سے کوزی حلیم اور نان خریدے، وہاں سے چلا تو داتا دربار کے پاس آکر دہی بڑے، کھجوریں اور پکوڑے لئے اور پھر سیدھا اس کے گھر کی جانب روانہ ہوگیا ۔ میں نے اس سے کہا کہ آج وہ نہ گھبرائے اس کی بیٹیوں کے لئے اللہ نے افطاری کا انتظام کردیا ہے۔ اس نے مجھے یہ بھی بتادیا تھا کہ اس کا گھر کرائے کا ہے اور گھر میں بوڑھی ماں، بیوی اور دو بیٹیاں ہیں۔ بہرحال جب ہم اس کے گھر پہنچے تو افطاری چند منٹ باقی تھے۔ میں نے اس کے کہنے پر ایک گھر کے سامنے موٹر سائیکل روک لی۔ اس نے دروازے پر دستک دی ۔ دروازہ کھلا اور ایک پھول سی بچی دروازہ کھولتے ہی باہر نکل کر اس شخص سے لپٹ گئی اور زور زور سے بولنے لگی…. ابو آگئے…. افطاری آگئی…. اس نے بیٹی کو اندر جانے کا اشارہ کیا اور پھر مجھے موٹر سائیکل وہیں کھڑی کرکے قفل لگانے کو کہا میں نے موٹر سائیکل پارک کردی اور اس کے ساتھ اندر چلا گیا۔ اس نے اپنے اہل خانہ سے میرا تعارف اپنے دوست کی حیثیت سے کرایا۔ اس دوران اس کی بیوی نے فرش پر ایک چادر بچھائی اور اس پر برتن رکھنے لگی میں نے ہاتھ میں تھامے شاپر اس کی بیوی کو دیتے ہوئے کہا کہ یہ چیزیں افطاری کے لئے لگادیں۔ اس نے شوہر کی جانب دیکھا اور پھر اس کا اشارہ پاکر وہ سامان برتنوں میں نکالنے لگی۔ اتنی دیر میں روزہ کھلنے کا اعلان ہوگیا اور ہم سب نے بیٹھ کر پہلے کھجور سے روزہ افطار کیا، پھر وہ کھانا کھانے لگے اور میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ کھانے پر اس طرح ٹوٹے کہ انہیں یہ بھی احساس نہیں ہوا کہ میں ان کے ساتھ کھانا نہیں کھا رہا۔ جب وہ شکم سیر ہوگئے تو اس شخص نے مجھے دیکھ کر سوال کیا کہ میں نے کھانا کیوں نہیں کھایا تو میں نے جواب دیا کہ یہ چیزیں تو میں روز ہی کھاتا ہوں آج میں وہ کھاﺅں گا جو تم نے کھانا تھا۔ میری بات سن کر اس کے چہرے پر کئی رنگ آکر گزر گئے اور اس نے رندھی ہوئی آواز میں کہا کہ نہیں آپ یہی کھا لیں لیکن میں اپنی ضد پر اڑا رہا اور پھر میں نے اس کو اس کی بیٹیوںکی قسم دی تو اس نے بیوی کو اشارہ کیا اور اس کی بیوی اٹھ کر باورچی خانے میں گئی اور ایک دیگچی اٹھاکر لے آئی، جب دیگچی میرے سامنے رکھی تو بدبو کا ایک بھبکا میری ناک میں چڑھ گیا، میں نے دیگچی کا ڈھکنا اٹھایا تو دیکھا کہ اندر پیلے رنگ کا پانی ہے جس میں کہیں کہیں چنے کی دال کے دانے تھے لیکن اس میں سے بدبو اتنی شدیدآرہی تھی کہ کھانا تو دور کی بات ہے اس کو دیکھ کر ہی جی متلی کرنے لگا تھا۔میں نے کہا کہ دوست یہ کیا ہے یہ تو سڑ چکی ہے تم اپنے بچوں کو یہ کھلاتے تو اس نے کہا کہ پچھلے ہفتے اس کے پاس تیس روپے بچے تھے جس کی وہ چنے کی دال لے آیا تھا اور پکالی تھی اس کے بعد وہ ہر روز اس میں پانی ، نمک اور مرچ وغیرہ ڈال کر نئے سرے سے پکاتے اور اس سے روٹی کھاتے تھے۔ میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میری جیب میں اس وقت چھ ہزار روپے پڑے تھے جن سے میں نے تنخواہ ملنے تک گھر کا خرچ چلانا تھا۔میں نے جیب میں ہاتھ ڈال کر وہ روپے نکالے اور اس کی بیوی کو دیتے ہوئے بولا…. بہن تمہارا بھائی آج پہلی بار اپنی بہن کے گھر آیا ہے اصولی طور پر تو مجھے کوئی تحفہ لانا چاہئے تھا لیکن نہیں لاسکا میری بھول معاف کردینا اور یہ اپنے بھائی کی جانب سے قبول کرلو۔ میری بات سن کر اس نے اپنے شوہر کی جانب دیکھا لیکن میں نے اسے ٹوک دیا اور کہا کہ یہ بہن اور بھائی کے بیچ کا معاملہ ہے اس میں غیروں کو نہ ڈالو …. چلو پکڑ لو ورنہ میں ناراض ہوکر چلا جاﺅں گا…. میری بات پر اس کپکپاتے ہاتھوں سے نوٹ پکڑے اور پھر میں ان سے اجازت لے کر گھر سے باہر نکلا وہ شخص بھی میرے ساتھ باہر آیا لیکن اب نہ تو اس میں بولنے کی ہمت تھی اور نہ مجھ میں کچھ سننے کی۔ میں نے موٹر سائیکل سٹارٹ کی اور وہاں سے چل پڑا۔

راستے میں میں سوچنے لگا کہ پاکستان میں ہرسال اتنے لوگ حج کرتے ہیں عمرے کرتے ہیں کیا انہیں اپنے ملک میں دم توڑتی سسکتی انسانیت نظر نہیں آتی ان کے عمرے اور حج اللہ قبول فرمائے لیکن میرا نہیں خیال کہ ایسا ہو کیونکہ اللہ کو ہمارے عمروں اور حج کی طلب نہیں اس کو طلب ہے تو صرف فلاح انسانیت کی ۔ اچانک میں نے محسوس کیا کہ میرے قبل و ذہن پر پڑا ہوا وہ عجیب سا بوجھ ختم ہوگیا ہے اور ایسا سکون محسوس ہورہا ہے جس کو الفاظ میں بیان کر نا ممکن نہیں۔

_______________

تحریر:غضنفر کاظمی

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

Advertisements

2 Comments

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.