جہنم میں ایک عورت اور چار مرد

کسی نے کہا کہ جہنم میں ایک عورت اپنے ساتھ چار مردوں کو لیکر جائے گی۔باپ بھائ بیٹا اور شوہر۔یعنی ان سب کو اس لئے لیکر جائے گی کہ جب وہ برائ کر رہی تھی تو ان تمام تعلق دار مردوں نے اسے روکا نہیں۔اس لئے بہترین حل یہ ہے کہ عورت کو لمبے لمبے ،کھلے گھیرے دار برقعے پہناو،تا کہ نہ وہ کسی کو دیکھ سکے نہ کوئ اسے،اسے گھر ،خاندان،محلے اور اگر ہو سکے تو سکول کالج اور یونیورسٹی سے حتی الامکان دور رکھو تا کہ اسے گناہکار ہونے کے مواقع کم سے کم مل سکیں۔اسکو گھر کی چار دیواری میں بھی ڈوپٹے اور چادریں اوڑھا دو تا کہ سورج نکلتا رہے اور ان کے کھلے بالوں کا بوجھ کہیں گھر کے مردوں پر نہ پڑے۔گھر کی چار دیواری میں کہیں اگر اسکی آواز ،خواہش،یا ضرورت سر چڑھ کر بولنے لگے تو اسکی زبان کاٹ دو ،خواہشوں کے سر اتار دو اور ضرورت کی رگیں کاٹ دو۔چونکہ یہ عورت مرد کی ملکیت اس کی ذاتی جاگیر ہے کسی گائے بھینس یا بکری کی طرح۔اس طرح کے خیالات سے پرانے زمانے کے پادری اور چرچ سسٹم،ہندواذم تو یاد ضرور آتے ہیں مگر اسلام میں ان چیزوں کی پیوند کاری کسطرح کی گئی یہ سمجھ نہیں آتا۔وہ صلیبی نظام جو کہتے تھے کہ عورت شر اور برائی ہے اور وہ ہندوازم جو عورتوں کو مردوں کے ساتھ جلا دیتے تھے اور اس پر بھی ستم یہ کہ عورتیں بھی شوق سے جل جاتی تھیں۔ حالات کے رنگ میں رنگ جانا عورت کی خوبی تھی مگر اسے اس کی کمزوری بنا کر ہمیشہ ہر نظام میں اس سے کھیلا گیا ہے یا اس کے ذریعے کھیلا گیا ہے کبھی مردانگی کا کھیل، کبھی غیرت کا ،کبھی عزت اور دین کا۔اسلام ایک ایسا دین جسکے ابتدائی بڑے استادوں میں ایک بڑا نام ایک عورت کا تھا جن کی وجہ سے احادیث کا ایک بڑا حصہ محفوظ ہو سکا،آج کی عورت کا دیں کے سیکھنے سکھانے میں سے ہر حصہ نکال دیا گیا۔صدیوں کے مردوں کو تقویت دیتے معاشرے ہر دور میں عورت کا حصہ کاٹ کر آدھا اپنے حصے میں ڈالتے رہے کہ آج اس عورت کے پاس حقوق کا نام ونشان تک نہیں۔یاد رہے میں اس وقت پورے پاکستان کی عورت کی بات کر رہی ہوں صرف دو تین بڑے شہروں کی کسی حد تک اس استحصال سے بچی ہوئ عورت کا نہیں۔

میں یہ سنتی ہوں تو سوچتی ہوں ہر مرد نے اس حدیث سے اپنی طاقت کو تقویت دی ہے۔عورت پر اپنی اولیت اور حاکمیت کا تڑکہ لگایا ہے۔کوئ اس کی تعبیر ایسے کیوں نہیں کرتا کہ ایک عورت کی وجہ سے چار مرد جہنم میں جائیں گے کیونکہ وہ چاروں ملکر بھی ایک عورت کو اس کے حقوق نہ دلوا سکے۔ایک عورت چار مردوں کے پلے پڑی پر کوئ ایک بھی اسے وہ عزت یا وقار،حق یا انصاف نہ دے سکا جو قرآن اور اسلام نے اسے عطا کیا تھا۔باپ اور بھائ فرائض پورے کروا کر حقوق شوہروں کے گلے ڈالتے رہے ، شوہر بیٹوں تک دھکیلتے رہے اور بیٹے جو خود بادشاہوں کی طرح کنیزوں جیسی ماؤں کی گود میں پرورش پاتے ہیں تو سب سے پہلا پاؤں اپنی ماں کو ہی مارتے ہیں۔کیا یہ چار مرد عورت کے ساتھ اس لئے تو جہنم نہیں جائیں گے کہ ان چاروں نے ملکر اللہ کی بنائ ایک تخلیق کا گلا گھونٹ دیا،ایک ذندگی کو اس دنیا کے لئے مفید نہ ہونے دیا بلکہ اسکے کانوں اور آنکھوں پر ٹوپ چڑھا کر اسے ایک کولہو کا بیل بنا کر اس ذندگی کی معراج کا بیڑہ غرق کر دیا جس کی خاطر خدا نے اسے تخلیق کیا تھا۔ کیا یہ چار مرد اس لئے جہنم میں تو نہیں جائیں گے کہ ساٹھ سالوں تک چار مردوں کی خدمت کرنے والی ایک عورت کے ساتھ ایک باندی سے بڑھ کر برا سلوک کیا گیا۔اسکی تعلیم،اسکا شعور ،وراثت ،زندگی اور دنیا میں اس کا حصہ ہر مرد کسی نہ کسی دھونس سے اس سے چھینتا رہا۔باپوں نے اوڑھنیاں اوڑھا کر کمروں میں قید کر کے حیات ان پر تنگ کر دی تو شوہروں نے صرف ان کو ملاذمائیں بنا کر ان پر راج کیا ۔ایسی پسی ہوئ عورت نے کیا عظیم نسل کو جنم دینا تھا اور کونسے اونچے دماغ تخلیق کرنے تھے۔چناچہ چھان بورا پلتا اور بڑھتا رہا اور وہ جو ایک اینٹ کے اوپر دوسری سیدھی اینٹ رکھ کر مضبوط اور باشعور معاشرے جنم لینے تھے نہ لے سکے۔جس معاشرے کے بنیادی یونٹ میں،اسکی جنیٹک میں ہی اتنی شدید خرابی کی گئی ہو کیا اسکی افادیت اور کیا اس کا وجود ذندگی۔کہاں گئیں وہ عورتیں جو میدان جنگ میں زخمیوں کو پانی پلاتی تھیں ایسی صورتحال میں جب آس پاس تلواروں ،نیزوں اور تیروں کا گھمسان کا رن پڑتا ہو اور بندا بندے پر گرتا ہو؟وہ عورتیں جو شہر سے باہر غاروں میں تنہا کھانا پہنچاتی ہوں؟حیرت ہے کہ تب ان کافروں کے معاشرے میں نہ اغوا ہوتے تھے نہ ریپ،نہ عورتوں پر آوازیں کسی جاتی تھیں نہ راہ چلتی کو ہاتھ لگا، چھو کر ناپا تولا جاتا تھا؟ کیسا کفر کا معاشرہ تھا وہ جو ہمارے معاشرے سے بھی اچھا تھا؟ وہ عورتیں کہاں ہیں جن کو اپنے باپوں کی شکایت کرنے کا حق اور اور انکے طے کئے رشتے توڑنے کی اجازت ہو؟وہ عورتیں جنکے شوہر ان سے کھیلتے ہوں اور انکو گڑیا سے کھیلنے کی اجازت بھی دیتے ہوں۔ جن پر بے وفائی کا الزام لگے تو انکی گردنیں نہ اڑائیں جاتی ہوں،ذلت انکے دامن میں نہ بھری جاتی ہوں بلکہ انکے فیصلے کا حق عزت و احترام سے انکو دیا جاتا ہو۔ہمارے ہاں تو آج کے معاشرے میں جہاں رعب ، ہاتھ اور گولی نہیں چلتی وہاں پر ستی ساوتری بنا کر ،وفا کی دیوی کے روپ میں سب کچھ اپنے مردوں کے پاؤں میں ڈھیر کرنا سکھا دیا جاتا ہے۔ پھر چاہے وہ مرد باپ ہوں ،بھائ ہوں کہ بیٹے۔ستم تو یہ کہ خود عورت ہی اپنی بیٹی کو یہ تعلیم دیتی ہے۔کیوں معاشرے میں آج بھی کھل کر اس کی جگہ اور اسلام میں اس کے مقام پر بحث نہیں کی جاتی؟ کیوں آج بھی چار سبق صرف عورت کو قید کر دینے والے،اسکے پر کاٹ دینے والے ہی انڈیلے جاتے ہیں۔؟عورت جو آپ کی نسلوں کا منبع ہے ،یہ وہ چشمہ ہے جہاں سے آپ کے نام کے سمندر نکلتے ہیں ان کو بہنے سے روکتے رہیں اور اپنے ہی پانی کو کھارا کرتے رہیے،اپنی نسلوں کو برباد کرتے رہیے۔جانے کب کٹے گی یہ ظلت کی شب۔

________صوفیہ کاشف

ہم سب اور اے آر وائی میں شائع ہوا

Advertisements