سفر________از خولہ کنول وقار

اک لڑکی تھی البیلی سی

آنگن میں تتلی بن کے اڑتی تھی
باپ کی دلاری تھی
ماں کی پیاری تھی
پھر جھٹ سےدن گزرتے گئے
سال پہ سال بڑھتے گئے
پھر اک شہزادے کی رانی بنی
بابل کی دعاؤں میں وداع ہوئی
بچوں کو گھر کو پیار دیا
تن من دھن سب وار دیا
اپنی رہی نہ کوئی فکر
گفتگو میں بس گھر کا ذکر
سال پہ سال بڑھتے رہے
جوانی کےسال گھٹتے رہے
مکین و مکان پہ خرچ کیا
اپنی طرف نہ دھیان رہا
بچوں کی آرزوئیں پوری کرتے کرتے
جانے کب بال کالے سے سفید ہوئے
ضروریات کا خیال رکھتے رکھتے
جانے وہ کب ناکارہ ہوئی
اک بوجھ سی لگنے لگی
بچے شوہر گھر سب
ہواؤں میں بلند ہونے لگے
دیوقامتوں کے اس دیس میں
اپنا وجود بالشتیا محسوس ہوا
جو کچھ نہیں جانتا
کوئی اس کو نہیں مانتا
________________

کلام:خولہ کنول وقار

ماڈل:عائشہ

فوٹوگرافی/کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.