باہو کی نگری____جھنگ!

تحریر و فوٹوگرافی:بریرہ صدیقی

دو دریاوں کے سنگم پر واقع قدیم ترین شہر، عشق و محبت کی لازوال داستان رانجھا کی ہیر کا آخری مسکن، مشاہیر کی سرزمین اور باہو کی نگری، جھنگ۔۔ اس کی بنیاد کب ڈالی گئی یہ جاننے کے لیے تاریخ کا طویل ترین سفر طے کرنا پڑتا ہے اور اس کا سلسلہ ۳۲۶ ق م میں چندر گپ مورایہ
اور اس کے دادا تک جا پہنچتا ہے جنھوں نے پہلے پہل اس کی بنیاد ڈالی۔ جغرافیائی اعتبار سے جنوبی پنجاب کا اہم ترین ضلع جھنگ، ساندل بار کا علاقہ ہونے کی وجہ سے نہایت سرسبزوشاداب اور لغوی معنی کے اعتبار سے ” درختوں کے جھنڈ” کے معنوں میں مستعمل ہے۔ہیڈ تریموں سے محض
۴ کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ اسی ہیڈ تریموں پر چناب و جہلم آ ملتے ہیں۔ جغرافیہ دانوں کی تحقیق کے مطابق دو دریاوں کے سنگم پر بننے والی مٹی کے کنارے آباد قوم اپنی منفرد ذہانت کے اعتبار سے دنیا میں ناپید ہوتی ہے۔ جھنگ سے تعلق رکھنے والی ایسی کتنی ہی قد آور
شخصیات ہیں جن پر یہ تحقیق صادق آتی ہےکہ جب پو پھٹتے ہی، دیہات و شہر میں یکساں مقبول کلام باہو کی البیلی صدا کچے مکانات سے اٹھتے دھوئیں کے ساتھ ساتھ چلتی ٹرالیوں میں گونجتی ہے اور عالم وجد میں آتا ہے

یار یگانہ ملسی تینوں ، جے سر دی بازی لائی ہو

عشق اللہ وچ ہو مستانہ، ھو ھو سدا الائیں ھوووو

اور ناشتے کی ٹیبل کے ساتھ سجے اخبار پر نذیر ناجی”سویرے سویرے” عالمی و ملکی حالات پر شگفتگی اور اپنے علمی قدوقامت کے اعتبار سے سیر حاصل تبصرے کرتے نظر آتے ہیں۔ آہستہ آہستہ بازاروں کی رونق سجنے لگتی ہے تو لوک گلوکار منصور ملنگی کے است مست ملنگوں کی سوز میں ڈوبی
آواز بلند ہوتی ہے

بازار وکادیاں چھریاں

عشقے دیاں چوٹاں بریاں

اوردور کہیں کھیتوں میں کام کرتی الہڑ مٹیارن سے کوئی مخاطب ہوتا ہے

سانو اک پھل موتیے دا مار کے جگا سوہنیے

کھیل کے میدان میں علیم ڈار ایمپائر کی انگلی کھلاڑی کی آوٹ ہونے کا اشارہ دیتی ہے تو مجید امجد کا کھلاڑی “آٹوگراف” لینے کی منتظر لڑکیوں میں گھرا نظر آتا ہے

وہ باولر ایک مہ وشوں کے جھمگھٹوں میں گھر گیا

وہ صفحہ بیاض پر بصد غرور کلک گوہروں پھری

حسین کھلکھلاہٹوں کے درمیاں وکٹ گری

میں اجنبی، میں پابہ گل، میں بے نشاں

شام کے اوقات میں پتلونیں کسے ماڈرن مگر کمزور دل عاشق ہیر کے مزار پر چوری چھپے اپنے عشق لا حاصل کے حصول کو بے چین، کپڑے کی ایک دھجی یا کوئی دھاگہ مزار پر باندھتے اور گنگناتے نظر آتے ہیں

ماڑا اے تے ماڑا سہی یار جو ہیں

کج وی ہووے تو ساڈا پیار جو ہیں

عالمی شہرت یافتہ ماہر امراض قلب ڈاکٹر شہر یار ہوں یا نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام، شعلہ بیاں مقرر ڈاکٹر طاہرالقادری ہوں یا صحافی محمود شام آبائی شہر سب کا جھنگ ہے۔

شیعہ سنی فسادات کے باعث ماضی میں اسے خاصی شہرت حاصل ہوئی۔ ۹۰ کی دہائی میں بدترین فسادات کے باعث ، آنسو گیس سے متاثر کئی روز تک گھروں میں کرفیو کے سبب مقید دور پرآشوب آج بھی یاد ہے جب گھر میں موجود تمام راشن ختم ہونے کی نوبت آپہنچی۔ اور دونوں طرف سے خوفناک قتل و غارت کا سلسلہ جاری رہا۔

جھنگ کی سیاسی فضا انتقامی اور ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اسی وجہ سے بعض علاقے سوئی گیس کی نعمت سے ہنوز محروم ہیں۔ جس علاقے کی ترقی مقدر ہو، وہ اس سے الگ ہو کر تیزی سے ترقی کرتا نظر آتا ہے۔ چنیوٹ اس کی تازہ ترین مثال ہے۔ یہاں کے لوگوں کی معیشت کا دارومدار
زراعت پر ہے۔ خواتین کے ہاتھ کے کام کی نفاست اور مہارت قابل ذکر ہے۔ جھنگ کی ہاتھ کی کڑھائی اور بالخصوص عروسی ملبوسات ملک بھر میں اعلی برانڈز کے نام پر فروخت کیے جاتے ہیں۔ کم ہی لوگ واقف ہیں کہ ان کی تیاری میں کس پسماندہ علاقے کی شبانہ روز محنت شامل ہے۔

رنگ گورا کرنے والی کریموں کے متعارف ہونے سے پہلے آبادی کی اکثریت کا رنگ سانولا تھا مگر اب

“شہر کا شہر گورا ہوا پھرتا ہے”

چند محروم گھرانے ہیں جو ابھی تک مطلوبہ رنگت حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔

جھنگ کی شاہراہوں پر بالخصوص صبح اور شام کے اوقات میں بے پناہ اور بے ہنگم ہجوم رہتا ہے۔ جنرل ایوب خان سے منسوب ایوب چوک، جسے پورے پاکستان کا مرکز ہونے کی وجہ سے خاصی شہرت حاصل ہے ، نشست وبرخاست اور ٹریفک سگنلز جیسی بنیادی سہولیات بلکہ ضروریات سے خالی ہے ۔ جبکہ
یہاں موجود چار اطراف ، فیصل آباد، بھکر، سرگودھا کو جانے والی سڑکوں پر ٹریفک ہمہ وقت جاری و ساری رہتی ہے۔ ۲۰۱۴ میں آنے والے تباہ کن سیلاب میں اس شہر کو بچانے کے لیے اٹھارہ ہزاری نےتاریخی قربانی دی جب اس پورے بستے علاقے کو ڈبو دیا گیا اور یوں ایک بڑی قیامت آنے
سے ٹل گئی۔

قدامت پرستی اور توہم پرستی، پیروں فقیروں کو ماننے اور درباروں پر جانے کا چلن عام ہے، اسی وجہ سے جمعرات کو شہر کے اکثر علاقے مخصوص خوشبووں میں رچے بسے نظر آتے ہیں۔ خواجہ کا سوہن حلوہ یہاں کی مشہور سوغات ہے۔

جھنگ کا تعلیمی معیار ، دیگر پسماندہ علاقوں کی نسبت اور اپنی انفرادی حیثیت میں بدرجہا بہتر ہے۔ بلحاظ رقبہ ایشیا کے آٹھویں بڑے تعلیمی ادارے چناب کالج کا قیام ۱۹۹۱ میں جھنگ میں عمل میں آیا جہاں اس وقت ۶۰۰۰ طلباوطالبات زیر تعلیم ہیں۔ غزالی کی نام سے ایک مختصر
ٹیوشن سنٹر کا آغاز اور آج پنجاب کے طول وعرض میں اس کے اداروں کے قیام کا سہرا پروفیسر گوہر صدیقی کے سر ہے۔ بعد ازاں ان کے فرزند کمانڈر صہیب نے اس تعلیمی سلسلے کو ایک نئی جہت عطا کی اور پاکستان کے پہلے ، پاک فوج سے رجسٹرڈ گرلز کیڈٹ کالج کی داغ بیل ڈالی اور اس
کارنامے پر گورنر پنجاب کی جانب سے تمغہ بسالت کے حقدار قرار پائے۔

مقام افسوس یہ ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے، مرکزی صوبائی ہو یا علاقائی، قیام پاکستان سے لے کر آج تک اس علاقے کی ترقی کے لیے کوئی قابل ذکر قدم نہیں اٹھایا گیا۔ لوگوں کی بہبود کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات انفرادی کوششوں کے مرہون منت ہیں۔ شادی بیاہ اور دیگر
تقریبات کے لیے جدید ترین عمارتیں ، ہر نئے برانڈز کے شاندار آوٹ لیٹس اور معیاری سامان خوردونوش دستیاب ہے۔ لیکن سڑکوں کی خستہ حالی، بدترین طبی سہولیات ، ناکافی ذرائع نقل وحمل اس کی کامیابی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

تحریر: بریرہ صدیقی

نوٹ: قدیم اور جدید طرز تعمیر کے مختلف نمونے۔ سلطان باہو کا دربار، ہیر کا دربار، ایوب چوک اور نئی قائم شدہ عمارت جو کہ شادی ہال

Advertisements