والد کے نام خط _________از عظمی طور

(والد جو حیات نہیں)
پیارے پاپا !
مجھے دنیا نے نفرت کرنا سکھا دیا ہے ۔ آپ کی عظمیٰ جو محبت سے گندھی تھی بڑی شدومد سے نفرت کرنے لگی ہے ۔ محبت کے لطیف جزبے کو بغل میں دبا کر اس کی گردن پر نفرت کا انگوٹھا رکھ کر مسکراتی ہے ، آپ سمجھ سکتے ہیں کہ وہ کیسے زندہ ہے اور صرف آپ ہی سمجھتے ہیں _
نفرت بھی تو ایک جزبہ ہے جو محبت سے جنم لیتا ہے ۔ عام فہم بات ہے ۔ ہم نفرت بھی اسی سے کرتے ہیں جسے کبھی چاہا ہو ۔
زمانہ خاک بھی نہیں دیتا جسے سر میں ڈالا جائے تو سر میں اترنے والی تیز دھوپ دشت کی گواہی دے ۔
زمانہ بڑا کٹھور ہے پاپا اور عظمی بہت کمزور ۔
آخر ایک ننھا سا محبت کا جزبہ بھلا کب تک سر اٹھا کر چل سکتا ہے ۔
نفرتوں منہ زور طوفان مجھے ڈھانے میں کامیاب ہو چکا ہے ۔
میں بھی اب عام لوگوں کی طرح سوچنے لگی ہوں ۔ شکایت کرنے لگی یوں ۔
میرے اندر محبت نے جو سکون بھرا تھا وہ کہیں کونوں سے چپک کر رہ گیا ہے ۔ اب فقط دکھاوا ہے ۔
دکھاوے سے بڑا دھوکا میں خود کو کیا دوں ۔
میں اداکاری کی مشق سے اکتا گئی ہوں ۔
شل ہیں کاندھے ۔ پاؤں زخم زخم ہیں ۔
آپ تو مزے سے جنت کی ہوائیں لے رہے ہیں کبھی دنیا کے دکھ بھی دیکھیں تو جانیں ۔
مگر آپ کو کیا یا شاید آپ بھی بے بس ہیں ۔
میری صدائیں آتی تو ہوں گی ۔
میری فریاد آسمانوں سے لوٹ نہیں سکتی ۔ میری چیخ بہت وزنی ہے ۔
میں نے اس میں خلا کو پر کرنے کے واسطے دکھ کی سٹیلائٹ باندھ رکھی ہے ۔ میں اپنی چیخ سے مسلسل رابطے میں ہوں ۔
چیخ خلا محسوس ہوتی ہے جبھی شنوائی نہیں ہوتی اس کی ۔
شکایت بھی کب تک کی جائے ۔ ذیادہ دہرانے سے بات کا وزن جاتا رہتا ہے ۔ شکایت بھی اپنا وزن کھو چکی ہے ۔
اور وزن میں ہلکی چیزیں میرے وجود سے میل نہیں کھاتیں ۔
میرا جسم مٹی کا ،مزاج ہوا ،جزبے آگ ، خصلت پانی میں ہلکی ہو بھی نہیں سکتی ۔
زمانے کو یہ بات بھی بھاری لگی ہو گی تبھی آگ سے دور رہا ۔ ہوا کی سرکشی کو دبانے کے واسطے مجھے قیدیں دیں ۔ پانی کو گدلا کرنے کے واسطے اپنے زبانوں کی غلاظت تھوکتا رہا مسلسل ۔
زمانہ کب کسی کی اچھائی کو برداشت کر پایا یے ۔
اسے کب بھاتا ہے کہ کوئی اس کی سمت موڑنا چاہے یا اس کے مخالف رخ چلے ۔
اسے تو بس اپنی کرنا آتی یے اور آپ کی عظمیٰ کی سرکشی ہی یہ ہے کہ جھوٹ کی آمیزش سے پلنے والی ہر چیز اسے موت دیتی ہے ۔
موت اور مات بھی عجیب شے ہیں ۔ ایک صبر ہے اور ایک جبر ۔
مات کھانے والا موت مانگتا ہے اور زمانہ بخوشی مان بھی جاتا ہے ۔
زمانہ کیسا سیانا ہے پاپا ۔ آپ نے بھی پینتالیس برس اسے جھیلا تھا ۔ میں نے آپ کے بعد ہر برس پینتالیس سے ملٹی پلائے کیا ۔ حساب برابر رہا ۔
حساب کی کچی عظمیٰ حساب چکاتی رہی ،کیسی تلخی ہے اس بات میں اور یہ بات بھی صرف آپ سمجھ سکتے ہیں ۔
آپ کے پاس سب بے حسابا ہو اور آپ ہمہ وقت شمار کرنے والوں میں گھیرے رہیں تو کیسا کڑا امتحان دیا ناں آپ نے ۔
زمانہ حساب کا بڑا پکا ہے پاپا جی ۔
اسے کل ملا کے اِتنے اور اُتنے کرنا آتے ہیں ۔
حالانکہ یہاں بھی اپنی جہالت کا نمونہ دکھاتا ہے ۔
حساب کا پکا یہ زمانہ آج اور ابھی کو چکتا کرتا ہے
کل کی کی گئے تمام عمل اس کے حساب سے چکتا ہیں ۔
طور کو جلووں کی عادت ہے ۔ خدا کے جلوے طور کو سرمہ کر گئے ۔ آپ کا طور بھی آنکھ کا سرمہ ہے ۔
زمانہ ان دیکھی کی خصلت کے باوجود سنور رہا ہے.
نظم کہتی ہوں مَیں پاپا جی.
آپ کے بعد لکھنے لگی ہوں ۔
آپ تھے تو فقط تجزیے تھے میرا حاصل ، آپ گئے ہیں تو دوہری ذمہ داری میرے کاندھوں پہ آن پڑی ہے ۔
لکھنا بھی ہے اور پڑھنا بھی ۔
اب لوگ تحریر کو دھندلا رکھتے ہیں ۔ اور تمام چمشوں کے آئینے گدلے رکھنا چاہتے ہیں ۔
میری نظر کی تیزی میری آنکھیں چندھیا دیتی ہے ۔ اور دماغ شاک سرکٹ کے باعث پھک سے اڑ جاتا ہے ۔ پھر حساب گڈ مڈ ہو جاتا ہے
نظم اپنی بے وقعتی پہ روتی ہے اور کئی سنور جاتے ہیں ۔
میں اس کی بے وقعتی پہ روتی نہیں کفن دفن سے مبرا ہے یہ نظم ۔
روح کب دفنائی جاتی ہے ۔
چراغ سے روشنی لینے والے اور اس سے اپنی شمعیں جلانے والے میرے گرد اتنے ہی ہیں جتنے فلک پہ ستارے ۔
میں سیاہ رات بنتی جا رہی ہوں پاپا جی ۔
مجھے گلہ نہیں ہے ۔ ایک ننھا سا شکوہ سر اٹھاتا ہے کہ آخر کوئی ایک جسم روح رکھتا ہو مگر سب پانی ہے اور میں مٹی ۔
تارے چمکتے ہیں اور میں مسکراتی ہوں ۔
تاروں کو اس سے کیا کہ رات بھی کوئی حقیقت ہے ۔ روشنی سایوں کا کب لحاظ کرتی ہے ۔
پاپا جی قبر کچی ہے ۔ میں نے بہت لوگوں کو بھیجوایا ۔ پھول ڈالے قبر کو مٹی سے لیپ کیا ۔ سرہانے ایک سایہ دار درخت بھی ہے ۔ آپ کا سایہ بھی کتنا گھنا تھا ناں ۔ میں نے قبر کی تصویریں منگوائی تھیں ۔ آپ سکون سے مسکراتے لبوں کے ساتھ نظر آئے ۔
میں دیواروں کے پار دیکھنے لگی ہوں ۔
دیواریں کے پار بھی دیواریں ہی ہیں ۔
مٹی کا رنگ چاہے ایک ہو ،اثر ایک ہو ،ایک طرح سے گندھی ہو اس سے بننے والے برتن شکل مختلف رکھتے ہیں.
میں نے چاک پر زندگی بنانا چاہی ۔ میں عورت ہوں تو تخلیق کرنا میری خصلت میں ہے ۔
مگر پاپا جی چاک گھومتا ہی اپنی مرضی سے ہے ۔ میرے ہاتھ جو تخلیق کرنا چاہتے ہیں وہ بنا نہیں پاتے کسی صورت ۔
مجھے کچھ الجھن نہیں مگر سلجھا ہو سب ایسا بھی نہیں ۔
آپ کے بعد زمان و مکاں کے معنی جاتے رہے __
ٹائم space نہیں دیتا ۔
ہ breathing space یہ ایک ضروری عمل ہے ، انسانی فطرت اکتاہٹ کا شکار ہونے کی خصلت رکھتی ہے ۔ اور قدرت اسے space دینے کے لیے اپنے رنگ دکھاتی ہے ۔
زمانہ بڑا وقت شناس ہے ۔ اسے معلوم ہے لمحوں کو کیسے برتا جائے ،سیکنڈز کو یوٹلائز کر کے کیسے کسی کو توڑا جائے ۔
تمام دائرے کششِ ثقل رکھتے ہیں ۔ میرا ٹوٹنا خدا کی مرضی کے ٹوٹنے سے جڑا ہے ۔
پھر سرمہ ہو کر زمانے کی آنکھ میں نہ رڑکنا بھی ایک مشکل عمل ہے ۔
وال چاکنگ سنا ہے کوئلوں سے بھی کی جاتی ہے ۔
کوئلے کو بری نظر سے دیکھا جاتا ہے مگر میرا ماننا ہے کہ آگ سلگنے کے بعد اس سے استفادہ کرنے والے راحت پاتے ہیں ۔ اور یہیں سے راکھ ہونے کا عمل شروع ہوتا ہے
زمانہ بڑا عقلمند ہے ۔ سایہ بنا کر خود دھوپ بن جاتا ہے اور. سایہ پیچھے کہیں رہ جاتا ہے ۔
دیواریں کانچ کی ہیں looking mirror
زمانہ مطمعن ہے ۔
مجھے گلہ نہیں بس شکایت ہے جیسے ہلکا سا پیٹ درد کی شکایت ۔
طبیب چھٹی پر ہے اور مرض لاعلاج ہوا چاہتا ہے ۔
پاپا جی میں آپ کا یوسف تھا ۔ یوسف کے بھائیوں نے اسے فروخت کیا یہاں بھائی آپ کے تھے ۔
آپ کے بھائیوں نے مجھے فروخت کر دیا اور میرے ہونے کی سب دلیلیں فروخت کر دیں ۔
مجھے پلٹ کر کوئی نہ دیکھنے آیا ، آپ کا یوسف کوڑھ کے مرض میں مبتلا ہے ۔ آپ کے یوسف کا کوئی پرسانِ حال نہیں ۔
میں آپ ہی اپنا یعقوب ہوں پاپا اور خود ہی یوسف بھی ۔
اور میرے تمام خریدار مجھے کباڑ کا سامان سمجھ کر پھینک چکے ہیں ۔
یہاں کباڑ خانے میں میری ہڈیاں دکھتی ہیں ۔
سیلن کی ٹھنڈک سے میرے ناخن نیلے ہیں پاپا
میرے ہونٹوں پر خاموشیاں ہیں ،چپ نہیں خاموشی ۔
چپ کو میں توڑتی ہوں ، لکھ کر ، لفظوں میں تمام دراڑوں کے زخم بھر دیتی ہوں مگر زمانہ سوتیلی ماں ہے پاپا اور میں سنڈریلا ۔
آپ جب زندہ تھے تو دادا ابو کو جب بھی دیکھتے تو کھڑے ہو کر سلوٹ کرتے ۔
آپ کے جانے کے بعد میں جب بھی دادا ابو سے ملتی تو وہ مجھے کھڑے ہو کر سلوٹ کرتے، کہتے تھے تم میں مجھے اپنا پتر نظر آتا ہے ۔
دادا ابو وہ آخری انسان تھے جنہوں نے مجھے تھپکی دی ۔
اس تھپکی میں انکا پچھتاوا تھا اور میرا غصہ
وہ آپ کے والد تھے سو میں خاموش رہی ورنہ خریداروں کو فروخت کرتے وقت بولی لگانے والوں میں وہ بھی شامل تھے ۔
آپ کے بھائیوں نے خون کا حق ادا نہیں کیا پاپا ۔
ان میں آپکے خون کی جو آمیزیش تھی وہ حیران کن حد تک جھوٹی تھی ۔ شاید اسی کو خون کا سفید ہونا کہتے ہیں ۔
میں کئی سالوں سے بغیر تھپکی کے چل رہی ہوں ۔
کرسیاں خالی ہیں اور میں دنیا کے اسٹیج پر اپنا کردار نبھا رہی ہوں چپ چاپ ۔
خواب دیکھتی ہوں روز دیکھتی ہوں ،لوگ میری باتوں سے جو چیز اخذ کرتے ہیں اس میں مایوسی سرِفہرست ہے ۔
میں مایوس نہیں یوں امید اور خواب کی تمیز رکھنے والے مایوس نہیں ہوتے ،
خواب دیکھتی ہوں امید کی کھونٹی پہ ٹانگ دیتی ہوں پرانا ہو جائے تو اتار کر درینہ خوابوں کی فہرست کے ساتھ ترتیب میں رکھ دیتی ہوں ۔
خواب پورا کرنے کے لیے بھی ہمت درکار ہے ۔
آپ کی عظمیٰ بڑی بزدل نکلی ہے پاپا جی ۔ آپ کی دی گئی بہادری کچھ معاملوں میں اس کے پیچھے چھپ جاتی ہے ۔
زمانہ سمجھتا یے مصلیحتوں کی کائیوں کو صاف کرنے والے شاید رشتوں کے تقدس پامال کرنا چاہتے ہیں مگر پاپا جی ایسا نہیں ہے اور زمانے کو بھلا کون کب سمجھا سکا ہے ۔
جاگتی آنکھیں بھی کب تک خواب دیکھیں گی خیر ۔
آپ بھی کئی بار خواب میں آئے ۔ سفید کلف لگے شلوار سوٹ میں زیرِ لب مسکراہٹ دبائے ۔
میں نے ابھی کچھ عرصہ قبل ہی آپ کے ساتھ خواب میں کچھ باتیں کیں ،جانے آنکھیں کھلی تھیں یا بند یاد نہیں _
آنکھیں ضرورت سے ذیادہ کھل جانا ایک سزا سے کم نہیں بہرحال ___
پاپا جی یہ دنیا بھی تو ایک سمندر ہی ہے ناں اور ہم تمام عمر اس میں آس اور امید کا راڈ لگائے صبر اور تحمل کے ساتھ کبھی اپنی خوشیاں کبھی مناسب وقت اور کبھی اچھے حالات کے منتظر رہتے ہیں __ لیکن سمندر کوئی ہمارے حصے کی مچھلی اچھالتا ہی نہیں __ ہم کب تک ایسے منتظر رہیں گے
___________________________
زمانہ میری سختی کی مثال دیتا ہے مگر میں تو دراڑوں والی کچی مٹی ہوں ۔
کسی بھی جزبے کی پامالی میری موت ہے ۔
کچھ اچھا ہوجانے کی چاہ میں میں نے کئی صدیاں گزار لیں ۔ میں نے ماتھے پہ ابھرتی گہری لکیروں اور آنکھوں کے گرد گھیرہ تنگ کرتے ہلکے بھورے ہلکوں سے بھی جنگ نہ کی ۔ میں نے ہتھیلی پہ پھیلتی لیکیروں سے بھی ان کے بے شمار آڑھی ترچھی سمتوں میں پھیل جانے کی شکایت نہ کی ۔ میں نے اندر ایک جیت بپا کر رکھی ہے اور ایک نہ ختم ہونے والی ہار بھی ۔
سب اچھا ہے کا راگ ہار کی آگ بڑھکاتا ہے اور ایک تیز ایمان کی لہر جیت کا مزا دیتی ہے ۔
ہمارا ایمان ہماری تابعداری ہے اور ہماری تابعداری ہی ہماری نجات ہے __
مایوسی اور اداسی کا فرق اگر سمجھ آجاوے تو ہی ہم ایک دوسرے کے دکھ کو سمجھ سکیں شاید __
مگر ایسا کون ،کب، کہاں اور کیسے چاہتا ہے اور کیونکر _
کوئی جسم روح نہیں رکھتا ۔ مجھے تو دکھا نہیں ۔
یہ روحوں کی فنا کا دور ہے ۔ شاید مجھ سے پہلے بہت سوں میں کسی نے یہ سہا ہو اس صدی میں میری باری ہے ۔
آپ کی بیٹی
عظمیٰ طور

______________________

فوٹوگرافی وکور ڈیزائن: صوفیہ کاشف

Advertisements

5 Comments

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.