زال،لازوال

ثروت نجیب
کابل افغانستان

اس کے بال بچپن سے سفید ہونے لگے ـ کنپٹیوں کے اطراف سے موئے طلائی کانوں سے کافی اوپر تک چونا ہو چکے تھے ـ کیا دھیرے دھیرے سچ مچ وہ سفید سر لیے وقت سے کہیں آگے نکل جائے گا؟
کیا وہ شیطان تھا؟ اگر نہیں تو پھر سب اسے شیطان کیوں سمجھنے لگے تھے ؟ جبکہ شیطان کے وجود کو آج تک کسی نے دیکھا تک نہیں ـ کسی کو کیا خبر اس کا حلیہ کیسا ہے؟پھر بھی کتنے حلیوں میں دیکھائی دیتا ہے ـ کچھ سوال سِرے سے لا‌یعنی ہوتے ہیں مگر لوگ ان کو ماتھوں پہ لکھ کر اشتہار بنا دیتے ہیں ـ سعد و نحس کو کسی کی پیدائش یا مرگ سے جوڑ کر ہاتھ جھاڑ لیتے ہیں ـ جبکہ یہ نقرئی تاریں اسے وراثت نے نہیں حالات نے دی تھیں ـ اپاپ
وہ قریباً نو سال کا تھا ـ برف کی طرح سفید جس کی وجہ سے ماں اسے سپینّک (سفید لڑکا) کہتی تھی ـ قدرے نحیف مگر چوڑی ہڈیاں ـ وہ نخود کا پطنوس(تھال) اٹھائے میدانِ بازی میں جا بیٹھتا ـ
شور نخود (چنا چارٹ) ــــ شور نخود ــــ کے آوازے لگاتا ـ کابلی چنوں کو اُبال کر اس کی ماں انھیں املی اور سرکے میں بھگو کر اشتہا آور بنانے کی پوری کوشش کرتی ـ کچے ٹماٹروں کی چٹنی کے ساتھ ان کی خوشبو میدان میں کھیلتے بچوں کی توجہ بلآخر اپنی جانب کھینچ ہی لیتی ـ مگر پلاسٹک کی رقابیوں میں بھر بھر کے شور نخود کھانے والے بالغ لڑکے پیسے دینے کے بجائے دھونس جماتے ـ کئی بار ہاتھا پائی ہوئی ـ جستی پطنوس الٹا اور نخود مٹی مٹی ہو گئے ـ
جیسے اس کے خواب ! اِس میدان میں وہ بھی کبھی بازی کیا کرتا تھا ـ پھر ایک اور میدان سجا جس نے ایسے کئی میدان نگل لیے ـ جہاں آگ و خون کا کھیل کھیلا جا رہا تھا ـ سپینّک کی قسمت بھی ٹینکوں اور میزائلوں کی بھینٹ چڑھ گئی ـ روسی ساختہ فیلٹ میں جہاں وہ کبھی گرم نرم صندلی میں پاؤں تاپتا تھا اب اُنھی پیروں پہ آبلے لیے توشک پہ سکڑا سمٹا دن بھر کی مشقت سے چور ‘ خوابوں سے دور ٹھنڈ میں بخاری کے بغیر سویا ہوتا ـ کمیونزم کا تختہ پلٹا تو ایک بھیانک اژدھے نے منہ کھولا ـ جس سے آگ و بارود اگلتا تھا ـ سارے زندان کمیونسٹ حامیوں سے بھرنے لگے ـ جن میں ایک اُس کا باپ بھی تھا ـ جو پلُ چرخی جیل میں بے بس و مجبور کوئلوں سے لکھی قسمت کو کوستا رہتا ـ سپینّک پیدا ہوا تو چاندی کا چمچ منہ میں تھا مگر اس کی ماں کہتی چشمِ بد سب کچھ کھا گئی ڈکار تک نہ لیا ـ اس کی پرورش کالے کانٹوں والے قدیم ترین اور معتبر پنچھی نے کی ـ جس کے پیچھے دنیا دوڑتی ہے پر پھر بھی وہ ہاتھوں سے نکل جاتا ہے ـ
سپینّک کی پرورش بھی اس نے اپنے آہنی بال و پر کے سائے تلے کی ـ کہتے ہیں وہ پنچھی ھمزاد کی طرح قبر کے تختے پہ انسان کی جان چھوڑتا ہے ـ پھر اس کے بعد انسان زمان کی قید سے آزاد ہو جاتا ہے ـ
جن کی زندگی جب زندان بن جائے وہ اس کی پروا نہیں کرتے ـ سپینک بھی کبھی مکتب جایا کرتا تھا ـ کنچوں سے کھیلتا اور واپسی پہ اپنا جیب خرچ پاپڑ ‘ چپس اور ٹافیاں لینے کے بجائے مرجان شیر کے دیدار کے لیے کابل کے اکلوتے چڑیا گھر کی ٹکٹ پہ خرچ کر دیتا ـ جہاں لم ڈھینگ دنیا و مافیھا سے بےخبر ایک ٹانگ پہ کھڑے اپنے سروں کو پروں میں چھپائے مراقبے میں مصروف ہوتے تو دوسری جانب نیلی ‘ سبز مرغابیاں جوہڑ میں کیچوئے ڈھونڈ ڈھونڈ کھا رہی ہوتیں ـ جب سپینّک اپنی سفید مخروطی انگلیاں تاروں میں گھسائے بھڑیوں کے بھٹ دیکھنے میں مشغول ہوتا تو اکثر ان میں سے ایک بوڑھا بھیڑیا گھومتے اونچے نیچے مصنوعی ٹیلوں کو پھلانگتے جنگلے کے بہت پاس آ جاتا ـ کیا وہ کچھ کہنا چاہتا تھا یا سننے کے لیے بیتاب تھا کہ جنگلوں سے باہر جنگل کا کیا حال ہے؟
دونوں ایک دوسرے کو گھورتے بھیڑیا پیچھے ہٹ جاتا ـ شاید انسانی آنکھ کی رنگت بھیڑے جیسی لال نہیں پر لالی ضرور ہے ـ ناقابلِ اعتبار لالی ـ ایسے میں سپینک کو دھاڑ سنائی دیتی ـ جس کے انتظار میں وہ اِدھر اُدھر وقت ضائع کرتا پھر رہا ہوتا ـ مرجان اپنی کوٹھڑی سے باہر نکل کر کھائیوں کے پیچھے اپنی گھنی سنہری داڑھی کے رعب میں مٹک مٹک کر چلتے چلتے ایک لمبی جمائی لیتا پھر درخت کے سائے میں بیٹھ جاتا ـ مرجان میں ایک کشش تھی جو سپینّک کو اپنی طرف کھینچ لاتی تھی ـ وہ کبھی سمجھ نہیں پایا کہ آخر وہ کیوں مقناطیس کی طرح مرجان کے آہنی جنگلوں سے گھنٹہ گھنٹہ چپکا رہتا ہے ـ اسے کیا خبر بادشاہت کے تاج میں اگر طاقت کے لعل نہ لگے ہوتے تو اس کی وقعت گُلوں سے مرصع سر پیچ سے بھی کم ہوتی ـ دنیا کے جنگل میں صرف لاٹھی والے ہی ساربان ہوتے ہیں باقی سب ڈھور ڈنگر ـ جنھیں وقت پڑنے پہ کبھی بھی قربان کیا جا سکتا ہے ـ وقت بدل رہا تھا ـ خزاں’ خون کے خوف سے پیلی زرد ٹھٹھرنے لگی تھی ـ سپینّک کی خانوں والی قرطاس پہ لکھی روسی زبان کے تمام اسباق پھیل کر انگلیسی میں ڈھل چکے تھے ـ سبھی آقا آتے ساتھ ہی لِسانی قلعے تعمیر کرنے لگتے ہیں کیونکہ وہ جانتے کسی کی زبان چھین لو تو اس کے پاس منہ کھولنے کو کچھ نہیں رہتا ـ وہ دن کے پہلے پہر مکتب جاتا دوسرے پہر سے شام تک مزدوری کرتا ـ اس کی ماں ننھی بیٹیوں کے ساتھ چار دیواری میں اپنی عزت بچائے بیٹھی رہتی ـ عافیت اسی میں تھی ـ جہاں روٹی مہنگی اور عزت سستی ہو جائے وہاں عزت دار گھرانوں کے لڑکوں کو بچپنے کی قربانی دینی پڑتی ہے ـ وطن بھٹی کی طرح دہک رہا تھا ـ روسی سُتھرے پانی کو گدلا کرنے میں مگن تھے ـ
اُدھر عماموں میں لپٹی زندہ کھوپڑیوں نے سبزی کے نام پہ چاروں اطراف کائی جما دی تھی ـ اُن کے دماغ میں پھپھوندی لگ چکی تھی جِسے وہ تیزی سے ہر ایک انسانی مغز تک پہنچا رہے تھے ـ
مقدس سبزی کو خون ‘ گوشت و استخوانی کھاد چاہیے تھی ـ سبزی کو کھاد مہیا کرنے میں جُتے ہوئے کسانوں کے کانوں پہ الہامی جنگ نے ہاتھ رکھ دیے تھے ـ ان کی بےبہرہ و بےسواد سماعتوں میں ہمہ وقت صرف مقتل گاہوں کی سائیں سائیں ہوتی رہتی ـ سیلو بیکری پہ نان کے لیے لگنے والی قطاریں جو گھروں میں دبکی بھوک بھوک چِلا رہی تھیں ان کو سنائی نہ دیتیں ـ ایک زمانہ تھا کمیونسٹ خلقیوں (افغانستان کی ایک کمیونسٹ سیاسی جماعت) کا شُعار تھا ” کور ‘ کالی ‘ ڈوڈے“ ( روٹی کپڑا اور مکان) ـ شھر میں روسی ساختہ فلیٹس کی بھرمار تھی جو خاندان کی آبادی کے حساب سے الاٹ ہوا کرتے ـ سرکاری بیکریاں نفر کے حساب سے روٹی دیتیں ـ اور ہر ماہ کوپن کے بدلے کپڑوں سمیت سارا راشن بھی ـ سپینّک کا گھرانہ بھی ہزاروں خاندانوں کی طرح اُن دنوں اُنھی کوپن کے دم سے چلتا تھا ـ اس کے باوجود بعض لوگوں سے کمیونزم ہضم نہ ہوا ـ سرمایہ دار نظام کے حامی جانتے تھے کہ خدا بھی تو captalist ہے ـ جتنی نیکیاں اُتنے جنت میں درخت ‘ جتنی عبادتیں اُتنے محل ـ جتنی پرھیز گاری اتنا اعلیٰ مقام ‘ جیسی شہادت ویسی حوریں ـ ایسے میں وہ سلامتی سلامتی کہتے آپس میں پھوٹ پڑے ـ اُن کی پھوٹ نے ہزاروں کے مقدر پھوڑ دیے ـ لالہ کے کھیتوں میں اب خون کی لالی اگتی تھی ـ جو جنگ کے الاؤ کے لیے بطور ایندھن استعمال ہوتی ـ اس سے جنگی دیوتا اپنے سرد مہر وجود بھی تاپتے ـ یہ حرارت ان کے لیے آبِ حیات تھی ـ مگر اسی تپیش سے اٹھتے بخارات روشن خیالوں کے لیے سموگ بن چکے تھے ـ وہ منہ سر لپیٹے شہر کی گلیوں میں کباڑیوں کی طرح گھومتے ـ سپینّک بھی ان کے ساتھ مل کر فسادی کچرا چننے کی جدوجہد کرنے لگا ـ ایک دن وسیلوں اور واسطوں نے پلِ چرخی کے دروازے اُس کے باپ کے لیے کھول دیے ـ وہاں سے خستہ حال کمیونسٹ و شکست خوردہ لبرل باہر نکلا تو دنیا بدل چکی تھی ـ اس کا باپ کبھی کبھار سوچتا اگر حالات کا پانسہ یوں نہ پلٹا ہوتا تو سپینّک کا مستقبل جانے کیا ہوتا مگر حال کبھی ایسا نہ ہوتا ـ اس کے بیٹے کا بچپن شور نخود سے غبارے بیچنے اور سگریٹ کے کھوکھے لگانے تک پامال ہو چکا تھا ـ
سپینّک نے باپ کے سرخ خیالوں کو معاف کر دیا تھا ـ وہ شوروی (روسی) شورشوں کے ساتھ ان کسانوں کو بھی فراموش کرنا چاہتا تھا جو زہریلی کھمبیاں اگا رہے تھے ـ تبھی اس نے قدیم پہاڑوں سے اترائیوں کی جانب بدترین ہجرتوں کا اجیرن سفر شروع کیا ـ گو کہ یہ فیصلہ اس کے باپ کا تھا ـ مگر وائے قسمت باپ آن ملا تو بےقدری گلے پڑی گئی ـ نصیبِ ہجراں زندگی کی پوشاک پہ ٹاٹ کا پیوند ثابت ہوا ـ بوقتِ رخصت زمانہ ساز معتبر پرندے نے اسے تین پر دیے ـ ضرورت پڑے تو پر نکال کر اُسے جب چاہے بلا سکتا ہے ـ ہجرت میں اُسے کمال ملا ‘ استقلال ملا ‘ اور محبتوں کا سوال ملا مگر خود کے لیے کبھی وقت نہ ملا جو دو گھڑی ٹھہر کر سوچ لیتا وہ زندگی سے کیا چاہتا ہے ـ کفالت کا بوجھ بہت بھاری ہوتا ہے ـ ننھی بہنیں جوان ہو چکی تھیں لیکن ننھی آبادی کا سلسلہ رکا نہیں تھا ـ وہ کم سن بہن بھائیوں کی بہتر پرورش کا سوچ سوچ کر ہلکان رہتا ـ اس کی ایام جوانی خزاں آلود چاندنی راتوں سے بہار کے پرکیف دنوں تک مشقت سے جڑے رہے ـ جب موسمِ سرما اس کے وجود کے نشیب و فراز سے گزر گیا تو اس نے وطن بدری کے دکھ ماں کی آنکھوں اور باپ کے کندھوں سے چُنے ـ تب تک سپینک کا سر مکمل سفید ہو چکا تھا ـ ذمہ داریاں بچپن چھین کر جوانی کو فکرِ فردا کی گُھن لگا دیتی ہیں ـ اب وہ ایک توانا شخص تھا ـ اور مکمل طور پہ سرمایہ داری سوچ کا حامل ہو چکا تھا ـ وہ چاہتا تھا جو باقی مہینوں میں کماتے ہیں وہ گھنٹوں میں کمائے ـ یہی آرزو اسے واپس وطن لے آئی جہاں اب جان ہتھیلی پہ رکھ کر روزگار کا حصول ممکن تھا ـ جب وہ اُنھی داغے ہوئے سوختہ گلی کوچوں میں واپس پلٹا تو تنہا تھا ـ وہ گھرانے کو امید دے کر رخصت ہوا تھا ـ ماں کے ہاتھوں میں کھنکتے سونے کے کنگن ‘ بھائیوں کی اچھی تعلیم ‘ بہنوں کا بہترین مستقبل اور باپ کا سارا بوجھ رک سیک میں باندھے وہ شہرِ برباد میں داخل ہوا ـ وہ برسوں بعد شناسا درّوں سے گزر رہا تھا ہمیش بہار ‘ ننگر ہار میں اجڑے باغ ملے ‘ سروبی کے سنہری پہاڑوں سے ویرانیت ٹپک رہی تھی ـ قصبے ابتر ‘ گاؤں ‘ ویران ‘ کھیت بنجر ملے ـ جب وہ شام ڈھلے شہر پہنچا تو وہ تلپھٹ اور کارخانے کباڑ ہو چکے تھے ـ جس میدانِ بازی میں وہ کبھی شور نخود بیچا کرتا تھا وہ میدان نوآبادیات کے پلازوں نے نگل لیا تھا ـ قبضہ گروپ کا نصب العین ہوتا ہے جو اچھا لگا وہ اڑس لیا ـ جہاں میلے ٹھیلے لگتے تھے وہاں کالونیاں بن رہی تھیں ـ جہاں کالونیاں تھیں وہ کھنڈرات کے منظر نامے دِکھنے لگے ـ جن کی چوکھٹیں ‘ دروازے کھڑکیاں اور سریا تک کباڑیے لوٹ کھسوٹ کے بیچ چکے تھے ـ مکتب اجڑ کر طبیلے بن گئے اور طبیلے دکانوں میں بدل گئے ـ چڑیا گھر کے سارے پنچھی اڑ چکے تھے ـ اب وہاں بندروں کا راج تھا ـ سر کھجاتے جوئیں نکالتے بندر جن کا بچے پیدا کرنے کے علاوہ کوئی کام نہ تھا ـ مرجان ــــ سنہری بالوں اور چمکتی آنکھوں والا مرجان ــــ سبزے کو سلام کرنے والوں کے ہاتھوں مارا جا چکا تھا ـ سڑکوں پہ تارکول کی جگہ یاسیت بچھی تھی ـ بےرونق چہرے ‘ روکھے لہجے ‘ اکھڑے مزاج جنگ کی بدترین سوغات تھے ـ راستوں پہ اجنبی فوج کے بکتر بند ٹرک ‘ ڈالے اور سائرن بجاتی جیپوں کا راج تھا ـ جن میں موجود ہتھیار سنبھالے موٹے تازے عساکر کالے چشمے چڑھائے کھلونوں کی طرح اپنی اپنی پوزیشن میں ساکت بیٹھے ہوتے ـ انہی عساکروں کے دم خم سے پیسے کی رییل پیل شروع ہو گئی ـ جنھیں زرہ بھر انگریزی آتی تھی وہ ترجمان بن گئے ـ نودولتیے دیکھتے ہی دیکھتے آقان بن گئے ـ دو روپے والی نسوار کی پڑیا ڈالر میں بکنے لگی ـ مقبولِ عام و خاص بیئر کے ٹِن ‘ پیپسی اور کوک کی طرح سرعام فروخت ہونے لگے ـ اب مقامی آگے آگے اور غیر ملکی فوجی پیچھے پیچھے تھے ـ یو این کے دفاتر میں اجڑنے والوں کے ریکارڈ مرتب ہو رہے تھے ـ اجڑی عمارتوں کی مرمت پہ خطیر رقم خرچ ہونے لگی ـ سپینک بھی اپنے شہر کی خستہ سڑکوں کی مرمت کے ٹھیکے لینے لگا جن کو نمدیدہ آنکھوں سے کبھی اُدھڑتے دیکھا تھا ـ شہر و دیہات اب بھی خارجیوں سے بھرے پڑے تھے ـ دنیا بھر کے ہنرمند و تعلیم یافتہ افراد کابل کی اور کھینچے چلے آتے ـ ہرے ہرے ڈالر سب کے سارے ارماں پورے کرنے لگے ـ
باگرام کو سونے کے پر لگ گئے ـ کندھار اب دارلخلیفہ نہ تھا ـ بابر کے قول پہ اِتراتے کابل کے بھاگ ایک بار پھر جاگ اٹھے
”اگر جنت بروئے زمین است ہمین است’ ہمین است و ہمین است “
برقعے صندوق کی زینت بنے یوں تتلیاں پھر سے آزاد ہو گئیں ـ دنیا بھر کے ڈاکٹر کیمپ لگائے مجروع مریضوں کی تیمارداری میں لگ گئے ـ مگر اندرونی چوٹیں اتنے جلدی نہیں بھرتیں ـ صدموں کو مرھم سے شفایابی کہاں ملتی ہے ـ جنگ جو نفسیات پہ بدترین چھاپ چھوڑ جاتی ہے وہ رویوں میں تب تک جھلکتی رہتی ہے جب تک تداوی نہ ہو سکے ـ
وہ راستے بنانے لگا ـ دشور گزار علاقوں میں جہاں عام طور پہ جنگجوؤں کے خوف سے لوگ کتراتے وہاں وہ وہاں جاتا ـ کچی پگڈنڈیاں ہموار کرواتا ـ اسے ایسے مزدور آسانی سے مل گئے جو ذیادہ اجرت پہ جان کی بازی لگانے جو تیار تھے ـ یوں قسمت اس کے حصے کی ساری گرہیں کھولتی گئی ـ
اس کے ہاتھ زر و زمین کے مالک بن چکے تھے ـ یہ اور بات کہ اس کے اطراف میں گم شدگی ‘ معذوری اور موت کا خوف ہی ہر طرف پھیلا ہوا تھا ـ
سپینک کے نتھنے اِسی بوسیدگی میں گلِ محبت کی خوشبو سونگھنے لگے ـ
آخر دل ایک دھڑکتے لوتھڑے سے کہیں ذیادہ وقعت رکھتا ہے ـ وہ دھیرے دھیرے اپنے لیے بھی جینے کے جواز ڈھونڈنے لگا تھا ـ اُسے اجڑی وادی میں پھوٹتی سوسن کی کلیوں پہ پیار آیا ـ جب ماں حالات کی گردش کا رونا رویا کرتی تھی تو وہ سوچا کرتا تھا جمود تو موت ہے ـ پھر ماں کیوں گردش سے کتراتی ہے ـ
اب چرخ کی طرح گھومتی زمین نے اس کے جیون کا پانسہ پلٹ ہی دیا تھا ـ وہ متشکر تھا اُن گردشوں کا جس نے اسے پرکھ دی ـ جب وہ رازِ حیات جان گیا ـ
تب اسے رودابہ ملی ـ یعنی محبت ـ ـ ـ ـ ـ ـ
رودابہ نے اپنے قلعے سے زلفیں لٹکائے منتظر سپینک کو راستہ دیا تھاـ دل کے نہاں خانوں تک ‘ جہاں عشق خود رو پھولوں کی طرح پھوٹتا ہے ـ
سپینک نے چاہت کی ابتدا کی رودابہ نے انتہا کرنے کی کوشش کی ـ مگر وہی ہوا جو تاریخ میں ہوتا آیا ہے ـ محبت کی راہ زمانہ ساز فراق ـ
محبت اُس منہ زور گھوڑے کی مانند ہوتی ہے جس کی راہ میں بےشمار روکاوٹیں آتی ہیں مگر جیت اُسی کی ہوتی ہے جو ان روکاوٹوں کو بِنا چھوئے پھلانگ جائے ـ جو رہ جاتے ہیں وہ فراق کے آنسو روتے ہیں ـ رودابہ کا نصیب کاہن گروں کی جھولی میں جا گرا ـ دونوں کے والدین کو فرائض منصبی نے جھنجھوڑنا شروع کر دیا ـ آیا وہ ایک دوسرے کے ساتھ خوش رہ سکیں گے؟ کیا شادی کامیاب ہوگی؟
یہ سوچے بنا کہ آیا وہ اب تک خوش رہ رہے تھے؟
ان کا بچپن اور جوانی کامیاب رہے؟ مگر
نہیں !!
علمِ جعفر سے ناموں کے ابجد و اعداد ملائے جانے لگے ـ استخارے ‘ فالیں ‘ ستارہ شناس و نجومی طے کرنے بیٹھ گئے کہ محبت کا مستقبل کیا ہوگا ؟ انھیں کون بتاتا محبت کا مستقبل نہیں ہوتا ـ وہ صرف حال میں جیتی ہے ـ اس لیے تروتازہ رہتی ہے ـ رودابہ روئے گلفام ‘ اس کے لب لعلِ بدخشان ‘ آبرو مثلِ کمان ‘ غلافی آنکھیں ‘ حسنِ ،خیرہ ‘ گل گفت وطیرہ حسن میں یکتا تھی تو سپینک ذہین و فطین ‘اخلاق مانندِ گبین ‘ ہم عصروں میں نگین تھا ـ مرغِ حُسن دامِ عشق میں دونوں پیروں سمیت پھنس چکا تھا ـ گو حسن و زر معشوق ہونے کے لیے کافی نہیں ـ دل کے تال میل مل جائیں تو پھر سب ہیچ ہے ـ مگر کاہنوں نے دونوں کی آنکھوں میں انتظار کی میخیں گاڑ دیں کیونکہ یہ نجومی کسی دربار کے صادق نمک خوار نہیں تھے ـ یہ پیسے کے پجاری ‘ دلوں کے سودے کرنے والے شاطر بازاری تھے ـ انھوں نے کالے علم سے پاکیزی محبت کو روندنے کی بےحد کوشش کی ـ
کسی نے کہا ! ”یہ بیل منڈھے نہیں چڑھے گی ـ “ کوئی بولا! ”حافظ کی فال میں جدائی کا شعر نکلا ہے ـ جو درد و الم میں ڈوبا ہوا ہے ـ“
کالی مرچیں ‘ سیاہ بالوں کے گچھے ‘ الو کی آنکھیں ‘ مری ہوئی چھپکلیاں ‘ درخت سے لٹکتے تعویز ‘ دم کیا ہوا پانی ‘ دھوئیں کے مرغولے ‘ تیزی سے پگھلتی ہوئی دراز قد مومی گڑیا کو دیوانی ثابت کرنے پہ تُلے رہے ـ زمانہ تاریخ سے ذیادہ ظالم ہوتا ہے ـ
دلوں کو موڑنے کے لیے کیسے کیسے ہتھکنڈے آزماتا ہے ـ پھر کہتا ہے آجکل محبت کا زمانہ نہیں رہا ـ ہر طرف نفسا نفسی ہے ـ منافقت ہی منافقت ـ محبت کہاں ہے؟ جبکہ محبت وہ بغل میں دبائے انا کے پردے میں ڈھانپے ‘تا حیات مرضی کی تسکین کرتا رہتا ہے ـ فراق کی لمبی مسافتوں کو طے کرتے کرتے رودابہ کے سپنے مرجھانے لگے ـ وہ ترو تازہ کلی ہجر کی شدتوں کو سہار نہ سکی ـ کُملا گئی ـ سپینّک کے عشق کا جادو علمِ رمل پہ نہ چل سکا ـ یہ مرحلے طے کرتے کرتے تھکاوٹ رودابہ کے روم روم میں رچ گئی تھی ـ جب ملن کی گھڑی آئی تو نامکمل دل’ آشوبِ چشم نگاہیں ‘ کسک سے لبریز لب ‘ پشیمانی میں ڈوبے جذبے منتظر تھے ـ مژدہ سناتی ہواؤں نے گلِ بہار کے ہاتھوں ملن کا سندیسہ بھیجا ـ وادی کابل کی چوٹیاں عروسی لباس میں ڈھکی تمتما رہی تھیں ـ لالہ کے عارض لاج سے گلابی ہوئے ـ گندم کی بالیں ہری ہوتے ہی شادمانی کے ڈنکے بجے ـ سپینّک کا بوسہِ پیمان و وفا خوشبوؤں نے تھام کر گُلوں میں منتقل کر دیا ـ ہر پھول تبھی سے محبت کی نشانی قرار پایا ـ محبت ماتھے پہ درد کا محراب سجائے آج بھی زندہ ہے ـ ملن نے نئی تاریخ کو جنم دیا ـ ماضی بعید میں فردوسی نے شاہنامہ میں لکھا تھا ” زال تین سو سال زندہ رہا “ مگر رودابہ جانتی ہے سپینک تین ہزار سال جینے کے لیے امرت پی رہا ہے ـ تاکہ آنیوالی نسلوں کے ساتھ وہ جی سکے ـ قوی امکان ہے کہ الہامی مصودوں کی طرح وہ دلوں میں دھڑکے گا مگر کسی مقدس آیت کی مانند نہیں فلسفے کی طرح ـ جہاں سوچ بچار کے دائرے وسیع ہوتے جاتے ہیں ـ زمانے کے اطوار اور کاہن گروں نے اس کو بغاوت پہ مجبور کر دیا تھا کہ وہ ہر اترے ہوئے احکامات کو رد کر دے ـ اس نے جان لیا کہ زندگی مٹھی میں بھری ریت کی طرح نہیں ہوتی جب چاہے سرک جائے ـ زندگی حادثات اور سہولیات پہ منحصر ہوتی ہے ـ حادثات اور سہولیات دونوں انسان کے مرہونِ منت ہوتے ہیں ـ صرف اوپر والا کسی کی زندگی پہ خط کھینچنے پہ مامور نہیں ‘ انسان بھی ہیں ـ وہی اکثر اپنے اس اختیار کو قضا کے کندھوں پہ ڈال کر سب کچھ چھین لیتے ہیں ـ کبھی مقصد کبھی حیات ـ سپینَک نے مخلوق کے بل بوتے جینا چھوڑ دیا اب وہ کاغذ کے پنَوں پہ درد و محبت کی طلسمی مہریں بطورِ یادگار ثبت کر رہا ہے ـ جو آنیوالے دنوں میں طلاء کی طرح چمکیں گے تاکہ تاریخ کو آنیوالی پیڑھی حظ اٹھانے کے لیے نہیں سبق سیکھنے کے لیے پڑھے اور ادب حقیقت کے جھروکوں سے جھانکنے کے کام آئے ـ وہ خالق سے آشنا ہو گیا جیسے زال ـ تبھی تو زال کو فردوسی نے مثنوی میں قید کر دیا تھاـ تاکہ آنیوالی نسل جان سکے وہ ننھا albinism کا مریض جسے پدر سام نے شیطان سمجھ کر البرز کی پہاڑیوں پہ بےآسرا چھوڑ دیا تھا زندہ رہا ـ حالات نے کہا! ”شکر ہے سیمرغ انسان نہیں تھا ورنہ اپنے گھونسلے میں معصوم فرشتے کو آغوش کی حرارت کیونکر دیتا؟ “ زال پہاڑوں سے اترا تو ناقابلِ تسخیر ہو چکا تھا ـ سنا ہے جب بھی کوئی شاہنامہ کے ورق کھولتا ہے زال آزاد ہو کر رودابہ سے ملنے پھر سے وادی کابل آتا ہے ـ وہی رودابہ جس کی لمبی زلفوں نے تاریخ منقش کی تھی مگر وہ سیاہ ریشمی زلفیں کاغذوں پہ نظموں کے بوجھ تلے دب گئیں ـ جنھیں اہلِ اروپا چپکے چپکے چُرا لے گئے ـ انھیں سیاہ سے سنہرا کر کے ان پہ مسروقہ داستانیں رقم کیں ـ
اس خطے کی تاریخ کو یہ دکھ نہیں کیا اور کتنا سرقہ ہوا سب جانتے ہیں دراصل جنگ کباڑیوں کو جنم دیتی ہے ـ جو پتھروں میں جُڑی مورتیاں، نوادرات، کتابیں اور تاریخ سب چرا کر اونے پونے بیچ دیتے ہیں ـ جب جنگ آتش فشاں کی طرح لاوا اگلنا بند کر دیتی ہے تو وہی دھرتی سونا اگلتی ہے پھر سے زال کا ظہور ہوتا ہے ـ سپینک کے روپ میں؛ اور رودابہ تاریخ سے نکل کر زندہ ہوتی ہے ـ ایسے رستم ہائے زمان کو جنم دینے کے لیے جو سھراب کا قاتل نہیں محافظ ہوگا ـ سپینَک کی میز پہ بکھرے معتبر پرندے کے دو پر؛ یادیں اور تجربہ اس کا مستقبل چمکا رہے ہیں ـ جبکہ تیسرا پر ایک راز ہے ـ
پانچ ہزار سالوں سے بستہ راز ـ یہ راز کب کُھلے؟ وہی جانے ـ مشقت و محبت کی طرح یہ کہانی بھی کبھی ختم نہیں ہوتی ـ ـ ـ
کیونکہ زال لازوال ہے ـ

Advertisements