میں نے

اپنے ہاتھوں سے جن رشتوں کو برسوں گوندھا

مٹی کے وہ مادھو نکلے

ہاتھ میرے اب تھکنے لگے ہیں

جن آنکھوں میں چاہت کے تارے ٹمٹمایا کرتے تھے

بجھنے لگی ہیں

کمر رشتوں کے بوجھ سے جھکنے لگی ہے

سوچا تم نے کبھی کہ

یہ جو رشتے بوجھ لگنے لگتے ہیں

تو ایسا کیوں ہے؟؟؟

میرا چہرہ حیرت کدہ معلوم ہوتا ہے

رنگت میری خزاں کا اک پتہ لگنے لگی ہے

میں نے ہر ہر روپ میں خود کو ڈھلتے دیکھا

ماں بھی ہوں میں

بیٹی بھی ہوں

بہن ہوں اور بیوی بن کر خوب پسی ہوں

بہو بنا کر لانے والے

پہلے پہل دانتوں میں انگلی دبا لیتے تھے

اب ہاتھوں کو ملتے رہتے ہیں

یعنی میں ہر روپ میں

ہر رنگ میں

ہر رشتے

ہر انگ

ڈھل کر دیکھ چکی ہوں

قیمت میری روٹی سے بھی کم لگی ہے ___

________________

کلام:عظمیٰ طور

فوٹوگرافی وکور ڈیزائن:صوفیہ کاشف