اندھے شہر کے گونگے لوگ  ___________ازارشد ابرار ارش 

اس چپ شہر میں بطور معلم تعینات ہوئے محسن علی کا یہ چوتھا روز تھا اور وہ چار دن میں ہی اس شہر کی خاموشی سے اکتا سا گیا ۔
عجیب سا شہر تھا کوئی ، جیسے شہر نا ہوا دشت و ویرانہ ہو ۔ شہر کے سارے مکین دن بھر سوائے ضرورت کے ایک دوسرے سے بات تک نا کرتے ۔
ھر کوئی خاموشی کا بکل مارے اپنے کام کاج کرتا رہتا اور گھر چلا جاتا ۔ یہاں ایک دوسرے کی مزاج پرسی ، حال احوال یا خیریت تک کوئی دریافت نا کرتا ۔ دن بھر شہر میں الو بولتے اور رات میں چمگادڑوں کا راج ھوتا ۔ کہیں بازاروں میں رات کو محفلیں جمتیں ، نہ ہی چند بزرگ کسی ہوٹل کے تھڑے پر بیٹھے چائے پیتے یا دن بھر کی مصروفیات ایک دوسرے سے بانٹتے نظر آتے ۔
سکول کے بیرونی دروازے پر لگا زنگ آلود تالا دیکھ کر وہ حیرت سے گنگ کھڑا رہ گیا ۔ جانے کتنے عرصے سے یہ چھوٹی سی درسگاہ بند پڑی ہوئی تھی ۔ کمرہ جماعتوں کی حالتِ زار اور خستگی دیکھ کر وہ اس شہر کے مکینوں پر سوائے افسوس کے کچھ بھی نہ کر سکا ۔
سکول کھل گیا اور صفائی کا فریضہ بھی اسے خود ہی انجام دینا پڑا مگر ابتدائی چار دن تک گنتی کے چار بچوں کے سوا کسی پانچویں طالبعلم نے سکول آنا ضروری نہ سمجھا۔ یہ چار بچے بھی ہزار منت ترلوں کے بعد سکول آنے پر راضی ہوئے تھے ورنہ پہلے دو دن تو وہ سکول میں اکیلا ہی بیٹھا دروازے کو منتظر آنکھوں سے تکتا رہاکہ اب کوئی بزرگ اپنے بچے کی انگلی تھامے بچے کے اندراج کیلئے سکول میں داخل ہو گا مگر اس کی امیدیں بر نا آئیں اور محسن علی کی تمام تر سوچیں اسی کے اوپر ہی پلٹ آئیں ۔
ایک بار پھر اس نے چند گھروں کے دروازے کھٹکھٹائے مگر لوگوں نے مختلف حیلوں بہانوں سے اسے ٹال کر مایوس لوٹا دیا ۔
اسے حیرت لوگوں کے انکار پر نہیں ہوئی بلکہ سکول کا نام سنتے ہی ان کی آنکھوں میں اچانک در آنے والی حیرت اور خوف دیکھ کر ہوئی
وہ دن بھر انہی چار بچوں کو سبق پڑھانے کے ساتھ چھوٹی چھوٹی مثالوں سے انہیں تعلیم اور سکول کی اہمیت بارے سمجھاتا رہتا ۔ دنیا کے عظیم انسانوں کے کارنامے بتاتا ، انقلابی رہنماؤں کی جدوجہد کی کہانیاں سناتا ۔ بچوں کو ان کے دوستوں کو سکول لانے کیلئے بہلاتا مگر ابھی دس روز بھی نہیں گزرے تھے کہ ایک بچہ پھر سے مستقل غائب ۔
گھر جا کے دریافت کرنے پر معلوم ھوا کہ حاکمِ شہر کے آوارہ بیلوں نے ان کی کھڑی فصل اجاڑ دی ھے ۔
محسن علی کو ایک دکھ بھری کیفیت نے آ گھیرا ۔
” تو پھر آپ نے تھانے رپورٹ کیوں نہیں لکھوائی چاچا ۔۔۔؟ ” مگر چاچا نے تو اس کی بات سنتے ہی دروازہ بند کر دیا اور اسے حیرانگی کے ساتھ واپس پلٹنا پڑا ۔
ابھی زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ اس نے بیچ بازار میں چند نوجوانوں کو ایک عمر رسیدہ شخص کو مارتے ہوئے دیکھا ۔ اسے حیرت کے ساتھ ساتھ نہایت افسوس بھی ہوا کہ لوگ جھگڑا ختم کرانے کیلئے یا بزرگ کی مدد کیلئے آگے تک نا بڑھے ۔ بلکہ محض تماشائی بنے دور دور سے بزرگ کو ان مسٹنڈوں سے مار کھاتے دیکھتے رہے۔
وہ خود کو روک نا پایا اور بزرگ کی مدد کو آگے بڑھا اسی ہاتھا پائی میں ایک ادھ اسے بھی پڑی ۔ وہ مسٹنڈے بزرگ کی دھلائی کر کے چلتے بنے مگر لوگ اسی طرح پتھر کے مجسمے بنے اپنی جگہ کھڑے رھے ۔۔۔
” اندھے ہیں آپ لوگ ۔۔۔؟
نظر نہیں آتا آپ سب کو۔۔ ۔؟
یہاں ایک بزرگ کے ساتھ ظلم ھو رھا تھا مگر آپ سب ھاتھ باندھے تماشا دیکھتے رھے کوئی مدد کو آگے نا بڑھا ۔۔۔ انسانیت مر گئ ھے آپ سب کی ؟؟؟” محسن علی بھرے بازار میں خود کو چیخنے سے روک نا پایا مگر پتھر کے مجسموں میں انسانیت پھر بھی نا جاگی ۔ سب لوگ آپس میں چہ میگوئیاں کرتے گھروں کو لوٹ گئے ۔
ناچار اسے بھی دکھ اور افسوس کے ساتھ خاموش ھونا پڑا ۔بوڑھے کو اٹھا کے ڈسپنسری تک لایا اس کی مرہم پٹی کروائی اور جانے لگا
مگر زخم خوردہ بزرگ نے اس کی کلائی سے پکڑا اور سمجھایا
” پتر ۔۔۔ کیوں اپنے دن کھوٹے کرتے ہو تم ۔۔۔ جو ہو رہا ھے ہونے دو ۔ سب کی طرح آنکھیں بند کر لو اور ہونٹ سی لو اپنے ۔ سمجھو یہاں کچھ ہوا ہی نہیں ۔ نا تم نے کچھ دیکھا نا سنا ۔ “
” کیوں تماشائی بن جاؤں میں ۔۔۔؟ میں ظلم کے خلاف آوازِ حق اٹھاؤں گا ۔ مجھے اللہ نے آنکھیں دی ہیں زبان دی ھے ۔ میں ظلم دیکھوں گا تو احتجاج کروں گا ۔
کون تھے یہ لوگ ۔۔۔اور کیوں مار رھے تھے آپ کو ۔۔۔؟ “
” کیونکہ میں بھی تمہاری طرح دیکھ اور بول سکتا ھوں اس لیے۔ “
” لیکن کیوں ۔۔۔ قصور کیا ھے آپ کا ؟ “
وہ بوڑھا محسن علی کا ہاتھ پکڑ کر قبرستان لے آیا ۔ اور اسے اپنا ” قصور ” دکھایا ۔ سامنے بغیر کتبے کے ایک بے نام قبر تھی ۔
حیرت اسے بے نام قبر دیکھ کر نہیں ہوئی تھی حیرت اسے باقی سب قبروں پر کتبے دیکھ کے ہوئی ۔ اگر باقی سب قبروں پر کتبے لگائے گئے تھے تو یہ ایک قبر بے نام کیوں ھے ؟
اس سے پہلے کہ وہ اپنے اندر شور مچاتے سوالوں کو لفظ پہناتا، بوڑھا بول خود بول پڑا
” بیٹا ھر سوال کا گلہ گھونٹ ڈالو اور چپ رھو ۔ ۔۔۔ یہاں رہنا ھے تو یہاں کے دستور بھی ماننا پڑیں گے ۔ چپ چاپ دیکھتے رھو ، کچھ بھی مت بولو یہی اس شہر کا دستور ھے “
بوڑھا اسے سراپا سوال بنا کر چلا گیا مگر محسن علی خود کو اس بے نام قبر کے پاس سے اٹھا نا سکا ۔
بزرگ اس کے سامنے دو راستے رکھ گیا تھا ۔
پہلا راستہ وہی تھا جس کے راہی اندھے شہر کے گونگے لوگ تھے ۔ اس راستے پر چلتے ہوئے اسے صرف اپنی آنکھیں اور زبان بند رکھنی پڑتی اور بس پھر چپ چاپ آنکھیں جھکائے چلتے جانا تھا ۔
دوسرا راستہ سچ کا راستہ تھا جس پر چلتے ہوئے اسے حق کا علم بلند کرنا پڑتا ۔ غلط کو سر عام غلط کہنا پڑتا اور ظلم کے پر شور ریلے کے آگے تن تنہا بند باندھنے پڑتے ۔ حق سچ کا پرچار کرنا پڑتا ۔
پہلا راستہ سہل تھا دوسرا کٹھن ترین ۔ مگر وہ اپنے ضمیر کو خاموش نہیں کرا پایا ۔ اسے رسوائی کے سو سال کی بجائے بہادری اور عزت سے چار دن جینا منظور تھا
فیصلہ آسان ہرگز نہیں تھا کیونکہ وہ جن اندھوں کیلئے لڑنے جا رہا تھا انہیں محسن علی کے زخموں سے واسطہ نہیں تھا
وہ جن گونگوں کو زبانیں عطا کرنے جا رہا تھا وہ اس کے حق میں بولنے سے قاصر تھے ۔
مگر فیصلہ ہو چکا تھا ۔ اندھیرے نے قبرستان پر تاریکی کی چادر پھیلائی تو وہ بے نام قبر چھوڑ کے اٹھ کھڑا ہوا مگر اب اسے کوئی خوف نہیں تھا ۔ وہ اپنے ضمیر کے دکھائے گئے روشن راستے پر اپنا سفر شروع کر چکا تھا ۔
چپ شہر میں اپنے دستور کے مطابق زندگی جاری تھی بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ
اشیاء کے نرخ بھی بڑھا دیئے گئے ، حاکم وقت نے روز مرہ اشیا پر ٹیکس وصول کرنا شر دیئے ۔ فصلوں کی کٹائی میں سے ایک خاص حصہ حاکم کیلیے الگ کیا جاتا۔ورنہ حکم سے رو گردانی پر رات کے اندھیرے میں ان کی کھڑی فصلیں جل جاتیں خدا جانے خدائی آفت آتی یا انسانوں کی شیطانی کارستانی مگر نا تو کوئی سراغ ملتا نا ہی آگ لگانے والے ہاتھ پکڑے جاتے
ہرکارے بازار آتے بھتہ وصول کرتے اور دہشت پھیلا کے چلے جاتے ۔
اندھے شہر کے گونگے لوگ اپنی خون پسینے کی کمائی سے مقررہ حصہ چپ چاپ ہرکاروں کی ہتھیلی پر رکھ دیتے
کوئی مزاحمت کرنے کی جرات ہی نا کرتا ایک دو بار محسن علی رکاوٹ بنا تو بدلے میں اسے بھرے بازار میں ہرکاروں نے دھو ڈالا ۔
معلم صاحب تھانے پہنچ گئے مگر کوتوال کے منہ میں بھی حاکم کے نوالے تھے۔جسم پر وردی سرکار کی تھی مگر منہ میں زبان حاکمِ شہر کی ۔ الٹا چار آٹھ گالیاں سن کے واپس لوٹے ۔۔۔
محسن علی کیلیے خود سے عہد باندھنا مشکل نہیں تھا مگر سالوں سے چپ کے ڈگر پر چلتی بھیڑ کو سچ اور حق کے راستے پر لے آنا پہاڑ سے ندی کھود لانا ثابت ہوا ۔
چپ شہر کے مکینوں کی آنکھوں پر کوئی پٹی نہیں بندھی تھی مگر وہ اندھے تھے انہیں ظلم نظر نہیں آتا تھا ان کے لبوں پر تالے نہیں پڑے ہوئے تھے مگر سچ بات کرتے اور اپنے حق کیلئے بولتے ہوئے ان کی زبانیں کانپتی تھیں ۔
کئی کتابیں کھنگال ڈالیں ۔ دنیا بھر کے انقلابیوں کی زندگی کے ایک ایک باب کا مطالعہ کیا ، بڑے بڑے رہنماؤں کے فلسفوں کو سمجھا اور یہی جانا کہ سوئے ھوئے عوام کو جھنجھوڑنے میں وقت لگتا ھے ، شعور کی بیداری آسان کبھی نہیں ہوتی تبدیلی خراج مانگتی ہے ۔وہ ایک بار پھر اپنا مشن لے کر چل پڑا
محسن علی نے گھر گھر جا کے بھاشن دیئے ، بندے بندے کو پکڑ کر سمجھایا ، انہیں اپنے حقوق کیلیے لڑنے کا درس دیا مگر حاصل کچھ بھی نہیں ہوا
لوگ اس سے کترانے لگے ، راستے میں ملتے تو راستہ بدل لیتے یا منہ پھیر کر ان دیکھا کر دیتے ۔
بوڑھا سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔ محسن علی کو ہزار سمجھایا لاکھ منع کیا ” باز آجاؤ بچے ۔کچھ نا کہو ،چپ رہو ان مورتیوں میں جان نہیں پڑنے والی ۔۔۔۔
تم پردیسی ہو اپنی تعیناتی کے چند دن گزارو مدت پوری کرو یا ابھی تبادلہ کروا کے چلے جاؤ یہاں سے ۔ ورنہ خود پر افسوس کرتے رہو گے کہ کن پتھروں سے سر پھوڑتے اپنی جبیں زخمی کرتا رہا ۔ “
مگر محسن علی اپنے عزم و عہد کا پکا نکلا بولا
” نا چچا ۔۔۔ مجھے میرا ضمیر ملامت کرتا ھے ۔ چند دن گزاروں گا مگر سچ کا نعرہ ہمیشہ میری نوک ِ زباں رہے گا ۔ “
اور پھر جلد ہی سچ کے علمبردار کا بلاوا آ گیا ۔ حاکم شہر نے اسے یاد فرمایا تھا
شہر کے سب سے گنجان چوراہے پر کھلی عدالت قائم ہوئی منصف کی کرسی حاکم وقت نے سنبھالی اور مجرم تھے محسن علی جن پر الزام تھا مسیحائی اور رہنمائی کا ۔
مگر محسن علی جانتے تھے کہ آج کا دن اگر اس کا ہوا تو وہ آنے والے ہر دن کا مالک ھوگا ۔
اس دن وہ بولا نہیں تھا گرجا تھا ۔اپنے لفظوں سے حاکمِ وقت کے بخیے ادھیڑے ۔ اس کے طریق رہنمائی پر لعنت بھیجی اور اس آمرانہ نظام کو پاؤں کی ٹھوکروں پر رکھا ۔
یہ نشتر تھے زبان کے اور چابک تھے لفظوں کے جو دنیا کی ہر سزا سے زیادہ کاری ہوتے ہیں کہ ان کا اثر جسم کی بجائے روح پر ہوتا ھے ۔
یہ گھاؤ بدنی نہیں تھے اس نے بھری عدالت میں مردہ ضمیروں کو جھنجھوڑا تھا ۔۔۔
ہر آنکھ میں حیرانی تھی کہ حاکمِ وقت خاموش کیوں ھیں ؟
آج سردار کی زبان پر تالے کیوں پڑ گئے ہیں۔۔۔ جبکہ ان کے پالتو ہرکاروں کا اشتعال اپنی آخری حدوں کو چھو رہا تھا ۔ سردار کے ایک ابرو کا اشارہ پاتے ہی وہ اس گستاخ کے ٹکڑے کر ڈالتے ۔ مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ۔۔۔
حاکم وقت اپنی منصفی کی کرسی چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے عدالت برخاست ہوئی۔ چپ شہر کے اندھوں کی آنکھیں حیرت سے پھٹی جا رہی تھیں
عوامی عدالت برخواست ہوئی تو ہر کوئی چہ میگوئیاں کرتا واپس گھروں کو پلٹ گیا ۔۔۔
مگر اگلی صبح بوڑھا محسن علی کو ناشتہ پہنچانے گیا تو وہاں محسن علی نہیں تھا اس کا زخم خوردہ ادھڑا ہوا مردہ وجود پڑا تھا ۔ حاکمِ وقت نے رات کے اندھیرے میں اپنی ہزیمت کا بدلہ چکا دیا تھا اس نے محسن علی کی زبان ھمیشہ کیلئے بند کر دی تھی ۔ محسن علی کو اپنے سچ کا صلہ مل گیا تھا اسے جابر آمر نے اپنے حق کی سزا دے دی تھی ۔ نشان عبرت بنا دیا تھا کہ کل کو کوئی اور گونگا نا اٹھ کھڑا ہو کسی اور اندھے کی پٹی نا کھل جائے
اب اس بوڑھے آدمی کی خواری بھی قدرے بڑھ گئ تھی ۔ اب اسے ایک کی بجائے دو بے نام قبروں پر فاتحہ خوانی کرنی پڑتی ۔ ۔ ۔ پانی کا چھڑکاؤ اب دو قبروں پر ہوتا ۔ پرندوں کے چگنے کیلئے دانے بھی اب دو بے نام قبروں پر ڈالے جاتے ۔۔۔۔ بے نام اور بغیر کتبے والی قبروں پر ۔
مگر وہ خوش تھا اس کی جھریوں بھری بوڑھی آنکھوں میں امید کے جگنو روشن تھے کیونکہ شہر کا دستور اب بدل رہا تھا
لوگوں نے جان لیا تھا کہ خوف کا کوئی وجود نہیں ہوتا یہ محض ایک ذہنی کیفیت ہوتی ھے جو وہ خود پر طاری کر لیتے ہیں ۔
بوڑھا قبروں پر پانی چھڑکتے ہوئے خوش تھا کہ گونگے لوگوں کے لبوں پر پڑے قفل ایک ایک کر کے کھل رہے تھے
اندھوں کی آنکھوں پر بندھی پٹیاں اتر رہی تھیں ۔۔۔ اب اندھے شہر کے گونگے لوگوں میں بہت سے محسن علی پیدا ہو چکے تھے۔ اب یہ دونوں قبریں زیادہ دیر بے نام نہیں رہنی تھیں
_______________

کور ڈیزائن:صوفیہ کاشف

Advertisements