واہگہ!_________عظمی طور

واہگہ !
میں نے تیرا ذکر اس وقت سنا
جب کبھی تیرے سینے پہ سبز پرچم لہرائے
اور سبھی اترائے
تجھے چھونے کو میں آئی تب جب
میری معصوم سہیلیوں کو
اور مجھے کسی بارڈر کسی تقسیم کسی حد بندی کی خبر نہ تھی
مگر اب یہاں آدھی رات کے سناٹے میں
میں تیرے جانب سے آتی آوازوں کو سنتی ہوں
دھمک گولوں کی مجھے افسردہ کرتی ہے
میرے واہگہ
تیری خاطر
میرے بیٹے کھڑے ہیں سخت سردی میں
میرے بدن میں دوڑتی کپکپی بتاتی ہے
وہاں بارڈر پہ بہت سردی ہے ___
(عظمیٰ طور)

فوٹو گرافی:مہوش طالب

کورڈیزائن:صوفیہ کاشف

Advertisements